خَتمِ نبَّوت پر حملے:-6

127 ہجری میں صالح بن طریف :

یہ ایک یہودی تھا اندلس میں پرورش پائی وحشی قبیلے سے تعلق تھا۔شعبدے باز تھا۔شمالی افریقہ کے علاقے پر حکومت قائم کی 47سال اپنے مذہب کی تبلیغ کی پھراپنےبیٹے کو الیاس کو جانشین بنا کر خود گوشہ نشین ہو گیا اپنے بیٹوں کو دین میں ترقی کرنے کو کہا تھا اس کے جانشین پانچویں صدی عیسوی تک حکومت کرتےرہے۔اسلا بیٹا الیاس 50سال حکومت کرنے کے بعد224ہجری میں مرا۔اس کے بعد الیاس کا بیٹا یونس 44سال حکومت کرنے کے بعد368میں ہلاک ہوا۔یونس کا بیٹا ابو غفیر محمد بن معاذ 29سال حکومت کر کے اپنی موت مرا۔پھر اس کا بیٹاابوالانصار44ساک حکومت کر کے اپنی موت مرا۔اس کا بیٹا ابو منصور عیسٰی 22سال کی عمر میں تخت نشین ہوا جو ایک لڑائی میں مارا گیاتب جا کر اس خاندان کا خاتمہ ہوا یہ پورا خاندان نبوت کا دعوےدار تھا۔اس خاندان کو ختم کرکے451ہجری میں مرابطون نے اہل سنت و الجماعت کی حکومت قائم کی۔
اسحاق اخرس:
شمالی افریقہ کا رہنے والا تھا 135 ہجری میں نبوت کا دعویٰ کیا اس وقت ابو جعفر منصور کا دور تھا اور اس نے اصفہان میں نبوت کا دعوا اور اپنا مدرسہ قائم کیاتھا۔10سال مصنوعی گونگا بنا رہا پھر ایک دن نبوت کی دعوے داری کے ساتھ بولنے کی ابتدا کر دی اسے معجزہ قرار دیا۔ایک روغن تیار کیا ملنے سےنورانی حسن پیداہوتا تھا کہ کوئی دیکھنے کی تاب نہ لا سکتا تھا۔شہر کے قاضی ،عالم وزراء سب پر اس کا جادو چل چکا تھا۔قادیانی کی طرح ظلی اور بروزی نبوت کا دعوے دار تھا۔ابوجعفر منصور کی خلافت پر قبضے کا منصوبہ بنا کر حملہ کیا اور جنگ میں مارا گیا۔
استادسیس خراسانی:
خراسان کے علاقے میں نبوت کا دعوے دار تھا 3لاکھ کی فوج بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ابو جعفر منصور ہی ا س وقت خلیفہ تھا ۔اس کی حکومت ہتیانے کا خواب دیکھنے لگا تو ابو جعفر منصور نے اس کا سدباب کے لئے فوج بھیجی جس کا سپہ سالار کازم بن خزیمہ تھا 40ہزار سپاہیوں کے ساتھ استادسیس کے17ہزار آدمی قتل 14ہزار گرفتار ہوئےجبکہ استادسیس 30ہزار لوگوں کے ساتھ فرار ہوا ،پہاڑوں پر جا چھپا وہا پیچھا کیا گیا اور پھر گرفتار ہوا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اس پر تاریخ خاموش ہے امید ت ویہی ہے دیگر کذابوں کی طرح اسے بھی جہنم واصل کیا گیا ہوگا۔
249 ہجری میں علی بن محمد خارجی:

رے شہر کے مضافات میں پیدا ہوا خوارج کے فرقہ ازراقہ سے تعلق تھا ۔پہلے خلیفہ جعفر عباس کا ھاشیہ نفیس تھا ۔بغدار سے بحرین جا کر نبوت کا اعلان کیا ۔فوج بناکربصرہ کی جانب روانہ ہوا۔254 ہجری میں بصرہ آیایہاں کے حاکم محمد بن رجا کے خلاف کام کیا۔جواب میں حاکم نے اس کو گرفتار کرنے کے لئےسپاہی بھیجے اہل خانہ گرفتار یہ وہاں سے فرار ہو کر بغدار آیا اور پھر یہاں مقیم ہوا بصرہ میں بغاوت ہوئی اور محمد بن رجا کی حکومت ختم ہوئی تو رمضان255 ہجری میں واپس بصرہ آگیا۔تمام زنگی غلاموں کو بغاوت کروا کر اپنے پاس جمع کر کے لشکر بنایا۔پھر انہیں غلاموں سے ان کے آقاؤں کو سزائیں دلوائیں۔252ہجری میں گورنر ایلہ عبداللہ کی فوج کو ہلاک کر کے پورا شہر ہی جلا دیا۔اس کے بعد شہر رہواز کی باری آئی عامل ابراہیم کو گرفتار بنا کر لوٹ مار مچا دی تب خلیفہ معتمد نے اس کا قلع قمع کرنےکےلئے فوج روانہ کی جس کا سالار جعفر بن منصور خیاط تھا۔مگر اس کی اس فتنہ کے آگے  کوئی دال نہ گلی شکست کھا کر جعفر بن منصور واپس حرین آگیا۔257ہجری میں زنگیوں کی مدد سےعلی بن محمد خارجی نے بصرہ کو فتح کر کے شہر میں قتل و گارت گری کا بازار گرم کر دیا۔خلیفہ نے پھر سپہ سالار محمد معروف بہ حولد کو بصرہ روانہ کیا لشکر نے شب خون مارا رات سے صبح پھر مغرب تک لڑائی جاری رہی مگر اسلامی لشکر کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے بعد 9سال تاک زنگیوں کا قبضہ قائم رہا۔تنگ آکر خلیفہ نے اپنے بھتیجے ابو العباس(بعد میں  خلیدہ معتمد باللہ بنا ) کو 366ہجری میں 10ہزار کےعظیم لشکر کے ساتھ مہم پر روانہ کیا۔ابوالعباس کا جاسوسی کا نظام اچھا تھابروقت درست خبر ملتی رہی زنگیوں کو شکست ہوئی پر وہ فرار ہوئے اس طرح تقریباً12سال اسلامی لشکر کو فتح حاصل ہوئی۔علی خارجی فرار تھا ۔ابو العباس لشکر کے پیچھے دیر سے روانہ ہوا اس دوران میں زنگی سپاہیوں نے بڑے  کنیوں کھود کر اسے  جال کے طور پر گھاس پھونس سے ڈھانپ کروہاں سے بھی فرار ہو چکے تھے کافی اسلامی لشکر کنوؤں میں جا گرا ابو العباس نے راستہ بدل کر باقیوں کی جانیں بچائیں۔
اس دوران مزید فوج زنگیوں نے جمع کی ادھر ابو العباس کا باپ موفق بھی اس سے آملا۔پھر دونوں باپ بیٹوں نے مل کر اس علی بن محمد خارجی کا اتنا پیچھا کیا کہ اسےراہ فرار پر فرار ڈھنڈنا پڑی حتٰی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنے گدھوں اور پھر خود اپنے جیسے انسانوں کو ہی کھانے لگے۔آخر کار شہر سیفانی میں یکم صفر  670ہجری کو اسے مارا گیا اس کا سر نیزے پر چڑھا کر اس فتنے کا 14سال4ماہ بعد خاتمہ ہوااب جگہ کی اور وقت کی کمی کے باعث چند بڑے فتنہ سازوں کے نام پر ہی اکتفا کیجئے۔حمدان بن اشعث قرمطی، 303ہجری میں علی بن فضل یمنی، حامیم بن من للہ عبد العزیز باسندی، ابو طیب احمد بن حسین ،ابو القاسم احمد بن تسی ، عبدالھق مرسی ، با یزید روشن جالندھری ، میر محمد حسین مشہدی ان میں فتنہ قادیانیت وہ فتنہ ہے جو دور حاظر میں اب بھی سب سے بڑا فتنہ ہے ہم اس کے بارے میں تفصیل سے ذکر کریں گے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: