ام الفضل حضرت لبابہ بِنتِ حارث ؓ

نبی اکرم ﷺ کو اپنے چچا حضرت عباس بِن عبدالمطلب ؓسے بڑی محبت بھی تھی اور ان کا بے حد احترام بھی کرتے تھے۔وہ آنحضورﷺ کے لیے بمنزلہ باپ تھے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے ” عباس عمی وصنو ابی” کہ عباس میرے چچا ہیں اور میرے لیے باپ کا درجہ رکھتے ہیں۔
حضرت عباس کا اپنا بھی بلند مقام تھا۔قبیلہ قریش میں اہم مناصب اور ذمہ داریوں کی جو تقسیم تھی اس کے مطابق حضرت عباس ؓچشمہ زم زم کے ناظم و نگران تھے ۔حضرت عباس ؓکے فضائل بلاشبہ ذاتی تھے لیکن اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انہیں ان کی اہلیہ لبابہ بِنتِ حارث (المعروف ام الفضل ) کا شوہر ہونے کی وجہ سے بھی بڑامقام حاصل ہواتھا۔انسان کے مقام و مرتبہ کو گھٹانےاور بڑھانے میں خاتون خانہ کا کردار ہوتاہے۔ام الفضل ؓ کے بارے میں کہا گیاہے کہ ان جیسی عورتیں شاذو نادرہی جنم لیاکرتی ہیں۔حضرت ام الفضل آنحضورﷺ کی زوجہ ام المومنین میمونہ ؓ کی حقیقی بہن تھیں۔ان کی ایک اور بہن حضرت سلمیٰ ؓ شیرخداحضرت حمزہ بِن عبدالمطلب ؓکی اہلیہ تھیں جبکہ ان کی ماں شریک بہن سیدہ اسماءبِنتِ عمیس حضرت جعفر طیار ؓکی نامور زوجہ تھیں۔ یہ چاروں بہنیں نہ صرف درجہ صحابیت پر فائز ہوئیں بلکہ امت کے اعلیٰ ترین افرادکےگھروں میں ملکہ بِن کر آئیں۔لوگ ان کے والدین پر رشک کیا کرتےتھے ۔
حضرت عباس ؓشروع سے آنحضورﷺ سے مانوس بھی تھے اوردل سے اسلام کے قدردان بھی لیکن قبول اسلام کا اعلان فتح مکہ سے کچھ عرصہ قبل ہی کر سکے ۔ جنگ بدر میں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کافروں کے اصرار پر لشکر قریش میں شامل ہوئے اورجنگ کے بعدجنگی قیدی بنا لیےگئے۔حضرت ام الفضل ؓ بالکل ابتدائی ایام میں مسلمان ہو گئیں۔اگرچہ ان کے شوہر نام دارنےاسلام قبول کرنےمیں کافی تاخیر کی لیکن چونکہ وہ اسلام کےبارے میں نرم گوشہ رکھتے تھےاس لیےام الفضل کو اپنے قبول اسلام کی وجہ سے گھر میں کبھی کوئی مشکل اوردقت پیش نہ آئی ۔
حضرت عباس ؓنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا تو حضرت ام الفضل ؓ نے اصرار کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کر لیا۔وہ جانتی تھیں کہ فتح سے قبل ہی ہجرت کا مقام اور درجہ ہے۔آنحضورﷺ مدینہ منورہ میں اپنے چچا کے گھراکثر تشریف لے جاتے تھےاوردوپہر کو قیلولہ بھی وہیں کرتےاور کھانا بھی آل عباس کے ساتھ تناول فرماتے۔ایسے مواقع پرحضرت ام الفضل ؓ بہت خوش ہوا کرتی تھیں۔مکے میں حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ ان کی بڑی دوستی تھی اورحضرت خدیجہ ؓ کے ذریعے ہی وہ حلقہ بگوش اسلام ہوئی تھیں۔یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آنحضورﷺ اپنی اس چچی سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے۔ام الفضل ؓ کی کنیت ان کے بیٹے فضل بِن عباس کی نسبت سے ہے۔
حضرت ام فضل ؓنے آنحضورﷺ کے نواسےحضرت حسین ؓکودودھ پلایا تھا اور اکثر وبیش تر انہیں اپنے گھر رکھا کرتی تھیں۔حضرت حسین کو دیکھنے کے لیے بھی آنحضورﷺان کے ہاں اکثرتشریف لے جاتی تھیں۔حضرت ام الفضل بڑی جرات مندخاتون تھیں ۔ مکے میں ہونے اور ابتدائی ایام میں ہجرت سے محروم رہنے کی وجہ سے وہ اگرچہ جنگوں میں شریک نہ ہو سکیں مگرمکےمیں رہتے ہوئے بھی انہوں نے جرات کے کارنامے سرانجام دیے۔جنگ بدر میں ان کے خاوند کافروں کی طرف سےشریک تھےاوروہ گرفتار بھی ہوگئے لیکن انہوں نے مکے میں فتح کی خوشخبری سنی تو بہت مسرور ہوئیں ۔
حضرت عباس کے زیر کفالت ایک کمزور مسلمان ابورافع مکے میں مقیم تھے ۔ وہ نیزے سیدھے کرنے کا کام کرتے تھے اور حضرت عبا س کے لیے وہ اس حرفت میں بڑے ممد تھے۔ جنگ بدر کے حالات بنو ہاشم کےفردابو سفیان بِن حارث کی زبانی اہل مکہ کے سامنے پہنچےتوان کالب لباب یہ تھاکہ :مسلمانوں نے ہمیں گاجرمولی کی طرح کاٹا اور بھیڑ بکریوں کی طرح باندھ لیا۔ہمارے مدمقابل جولوگ لڑ رہے تھےان کےساتھ ہم نےعجیب قسم کی مخلوق دیکھی۔یہ سرخ وسفید رنگ کے نوجوان ابلق گھوڑوں پر سوار زمین وآسمان کے درمیان معلق نظرآ رہے تھے ۔
ابو لہب اپنے بھتیجے کی زبانی یہ رپورٹ سن کرپریشان ہوگیا۔ابھی اس نے کوئی تبصرہ نھیں کیا تھاکہ چاہ زم زم کے قریب ایک حجرے میں بیٹھے ابو رافع پردہ سرکا کر بولے ”خداکی قسم یہ عجیب مخلوق اللہ کے فرشتے تھے۔“ابو لہب نےان کی زبانی یہ بات سنی توبپھرگیا۔ان پرجھپٹا اور انہیں گرا کر ان کے سینے پر چڑھ بیٹھا۔حضرت ام الفضل نے یہ منظر دیکھاتودوڑ کر آئیں اور ابو لہب کے سر پر ایک چوب دے ماری اور اسےسخت الفاظ میں ڈانٹتے ہوئے کہا ” اس مسکین پر کیوں ظلم ڈھاتےہو،اس کا کیا قصور ہے ۔
ابو لہب کاحوصلہ توپہلےہی پست ہوچکا تھااورفطری طور پر تھا بھی بزدل آدمی۔اس ضرب کاری نے رہی سہی کسربھی نکال دی۔اس واقعہ کے تھوڑے عرصےبعدابولہب ذلت و رسوائی کے ساتھ موت کی وادی میں اتر گیا ۔اس واقعے سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت ام الفضل ؓ کےاندرجرات بھی تھی اور غیرت ایمانی بھی۔خاندانی عصبیت کے بت پاش پاش کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن انہوں نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔
آنحضورﷺ کے سفر حجۃ الوداع اور جملہ مناسک کی تفصیلات حدیث میں ملتی ہیں۔اس میں ایک بہت دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے کہ عرفہ کےدن لوگوں کو خیال ہواکہ شاید آنحضورﷺنے روزہ رکھاہواہے۔عرفہ کےدن کاروزہ بلاشبہ بڑی فضیلت رکھتاہے لیکن فی الحقیقت آنحضورﷺنےاس دن روزہ نہیں رکھاتھا۔اس میں حکمت یہ تھی کہ حج شدیدگرم موسم میں بھی آتا ہےاورایسے موسم میں عرفہ کا دن خاصاسخت اورلمبا ہوتاہے۔اگر یہ مشہور ہو جاتا کہ آپ نے روزہ رکھا ہواہےتوبعدمیں بھی اکثرلوگ اس کا اہتمام کرتے اور انہیں خاصی زائد مشقت اٹھانا پڑتی۔حضرت ام الفضل ؓنے اسی حکمت کے تحت اس روز آنحضورﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جسے آپ نے لوگوں کے سامنےنوش فرمایا۔یوں لوگوں کا شک دور ہو گیا۔
حضرت عباس ؓکے چھے بیٹے اور ایک بیٹی ام الفضل سےپیداہوئی اوراللہ کی رحمت سے یہ سبھی شہرت و بلندی کے آسمان پر ستارے بِن کر چمکے۔حضرت ام الفضل کے بیٹے اکثر آنحضورﷺ کے ساتھ سفر کے دوران آپ کی سواری کے پیچھے بیٹھےدیکھےگئے۔حجۃ الوداع میں فضل بِن عباس آپ کے پیچھےسوارتھے۔ان میں سب سے زیادہ معروف تو عبداللہ بِن عباس رضی اللہ عنہما ہیں لیکن باقی یعنی عبیداللہ ، عبدالرحمن،قثم اور معبدبھی شہرت کی بلندیوں پر فائز تھے۔بیٹی ام حبیبہ بھی صحابیہ ہیں۔
حضرت ام الفضل ؓ مدینہ میں مقیم ہوگئی تھیں۔اگرچہ مکےمیں بھی ا ن کاگھرموجود تھامگران کا دل مدینہ ہی میں لگتاتھا۔ مدینہ ہی میں ان کی وفات ہوئی۔وہ مدینۃالنبی سے دور رہنا پسند نہیں کرتی تھیں ۔ حضرت عباس ؓا ن کی وفات کے وقت زندہ تھے۔خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی ؓنے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں وہ آسودہ خاک ہوئیں ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: