پردہ ضروری کیوں-4؟

اصل چیز حیا اور احسا س ہے اورہر برائی کے عمومی ارتکاب کی اصل وجہ حیا یعنی احساسِ زیاں (احساس ِخیروشر) کا ختم ہوناہے۔حیااورپردہ ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں حیا پردے کی روح ہے اور
پردہ احساسِ حیاکومضبوط کرنے کاذریعہ ہے ۔ حیا کے عدم احساس کی وجہ سے انسان مختلف قسم کے گنا ہ کرتاہے جس میں بے پردگی بھی شامل ہے۔ زبردستی اور دکھلا وے کا پردہ دین و دنیا کے لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اسی لئے حضور ﷺنے فرمایا:ترجمہ : جب تجھ میں حیا نہ رہے تو تیرا جو جی چاہے کر(بخاری ) اس ضمن میں ٹیلی ویژن کاکرداربڑاتباہ کن رہاہے مگرالمیہ یہ ہے کہ اب تواچھے اچھے لوگوں نے بھی ٹیلی ویژن کا جواز نکال لیاہے ۔
اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ مرد اور عورت حقوق میں یکساں ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ۔۔۔عورتوں کے ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ2:آیت228)
مزید یہ کہ عورتوں کے لئے انکی طبعی کمزوی اور اہم ذمہ داریوں مثلاً حمل ، ولادت ، رضاعت اور پرورش جیسے کاموں کی وجہ سے مراعات زیادہ اوردیگر ذمہ داریاں کم رکھی گئی ہیں ۔اس کے بر عکس  مردوں کو جسمانی اور اعصابی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے اورتمام بیرونی ذمہ داریاں ان کی سختی اور شدت کی وجہ سے مردوں کے ذمہ لگائی گئی ہیں ۔ مردوں کو صرف انتظامی امور کی انجام دہی اور ذمہ داری(Responsibility) کے تعین ا ور درجہ بندی(Level) کے حوالے سے عورتوں پر با اختیار(Authorize) کیا گیاہے اورفوقیت(Priority) دی گئی ہے اور یہ منطقی طور پر صحیح اور حکمت پر مبنی ہے۔کیونکہ نظام چلانے کے لئے کسی ایک کی اِمارت (Authority) لازمی ہے اور یہ اِمارت اسلام نے مرد کو تفویض کی ہے اور عورت کو اسلامی تحفظات کے ساتھ مرد کے ماتحت رکھا گیا ہے ۔ مگر شیطان نے آزادیٔ نسواں کے نام پرانسانوں کو دھوکے میں ڈالا اور مفاد پرست انسانوں نے برابری اور حقوق کے دھوکے میں عورتوں کو گھر سے نکالنے کا جواز پیدا کیا اور یوں بیرونی کاموں کی نوعیت کے تقاضوں کے تحت بے پردگی کی مجبوری (Compulsion) اور مصالحت (Compromise)کا آغاز ہوا ۔
اسلام نے بیرونی ذمہ داریوں کے تحت عورت کو باہر نکلنے کا مکلف ہی نہیں بنایا۔اسلام نہیں چاہتاکہ عورتیں باہر نکلیں اوران پر بیرونی ذمہ داریوں کاکوئی دباؤ ہو۔ نہ ہی ان کو ستایا جائے اورنہ ہی نقصان پہنچایاجائے ۔ اسلام میں عورت کی ضرورتوں ، سامانِ تفریح ،آرام اورمسائل کا حل غرض ساری امکانی صورتوں کا انتظام گھرکی چار دیواری کے اندراورمردوں کے ذمہ لگایاگیاہے۔چنانچہ اس حوالے سے اسلام کا نقطۂ نظر واضح اور دو ٹوک ہے ۔عورتیں حتی الامکان طورپر گھر میں ہی رہیں اوربلا ضرورت گھرسے نہ نکلیں ۔عبادات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں ۔
اپنے شوہر اور اولاد کے حقوق کے حوالے سے گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف رہیں ۔فارغ وقت کی مصروفیت کے حوالے سے وہ قرآن کریم کا ترجمہ و تلاوت اور تدبرّ میں مصروف رہیں ۔اس لیے کہ قرآن کریم تمام ضروری علوم کامنبع ہے ۔گھرسے باہرنکلنے کی صورت میں احکام ستروحجاب پر عمل درآمدکریں ۔
انتہائی مجبوری اوراستثنائی صورتوں میں اگر غیر مرد سے معاملہ ہو تو وہ بھی حجاب میں رہتے ہوئے اوربات کرنے کے انداز میں نسبتاً سختی کے ساتھ نہ کہ نرمی اورلگاوٹ کے انداز میں ۔غریب یا مجبور عورت کے گھرسے باہر نکلنے کی ذمہ داری ریاست پر آتی ہے کیونکہ یتیموں ،بیواؤں ،معذوروں اورضعیفوں کی کفالت ریاست پر ہے ۔کیونکہ فی زمانہ ایک مکمل اسلامی ریاست کا نمونہ عدم دستیاب ہےاس لئے معاشرے میں کچھ پیچیدگیاں نظرآتی ہے اوربعض عورتیں مجبورہوجاتی ہے کہ وہ روزی کی تلاش یاعلاج معالجے کیلئے گھرسے باہرنکلیں مگر وہ عورت جو ملازمت کی مجبوری کے نام پرگھر سےبناؤ سنگھار کرکے نکلتی ہے اوردفتروں میں مردوں کے سامنے انداز دکھاکر نرمی سے باتیں کرتی ہے وہ توواضح طورپر دین کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
جہاد کے موقع پر خواتین کا باہر نکلناجو لوگ ابتدائی دورکے غزوات میں خواتین کے کردارکے حوالے سے خواتین کے باہر نکلنے کوجواز بناتے ہیں توان کو معلوم ہوناچاہئے کہ جنگ ایک انتہائی استثنائی معاملہ ہے اوراس میں بھی احکات ستروحجاب کالحاظ رکھاجاتاتھا۔ وہ صحابیات آج کے نام نہاد مسلمانوں کی طرح بے پرد انداز سے نہیں نکلتی تھیں ۔آج کے زبانی شیر مسلمان عورت تو کیا مرد بھی جنگ کے موقع پر مٹی کے مادھو ثابت ہونگے یہ تاریخ کاسبق ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اپنی دینی اقدارکو فراموش کیا وہ ناکام ہوئے اوردشمنوں کیلئے ترنوالہ ثابت ہوئے ۔تاریخ کے اس سبق کو دشمنانِ اسلام خوب یاد رکھتے ہیں اوروقتا فوقتابے شرمی اوربے حیائی کے طریقوں کو اپنے حربے کے طورپر استعمال کرکے مسلمانوں کی ایمانی کیفیت کو کمزورکرتے رہتے ہیں ۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اپنے مقاصد کیلئے کے حصول کیلئے مگرالمیہ ہے کہ جب مسلمان خیرخواہی کے حوالے سے آپس میں نصیحت کرتے ہیں تومسلمانوں ہی کے رہنمااوردانشورچراغ پا ہوجاتے ہیں گویا درپردہ وہ دشمن کے ایجنٹ کاہی کام کرتے ہیں!
یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب اسلام کے ذیلی نظاموں مثلاً نظامِ معیشت ،نظامِ عدل ،نظامِ حکومت،نظامِ اخلاقیات کا مکمل اوربیک وقت اطلاق ہوگا تووہ مختلف پیچیدگیاں جن کے اثرات کے تحت عورتوں کے باہرنکلنے کا جوا ز بنایاجاتاہے ان میں سے اکثرپیچیدگیاں پیداہی نہیں ہونگی مثلاً گھرچلانے کی ذمہ داریاں وغیرہ۔ اسلام پیچیدگیوں پرکنٹرول لاتاہے تاکہ باہرآنے کی ضرورت ہی نہ آئے مزیدیہ کہ اسلام کا بنیادی تقاضایہ ہے کہ سادگی کے ساتھ دنیاکی زندگی گزاردی جائے اورمقصدِ حیات اس دنیاکے متعلقات پر محنت نہیں بلکہ آخرت کی زندگی کیلئے ہو یہ نکتہ بھی مختلف قسم کی ان پیچیدگیوں کوزائل کرنے میں مدددیتاہے جن کو گھرسے باہرنکلنے کا جوازبنایاجاتاہے۔
چنانچہ اگر مندرجہ بالا اصولوں کا اطلاق ہوگا تو عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کی شرح میں لازمی کمی آئے گی اور یوں ستر و حجاب کی خلاف ورزی سے متعلق مسائل بھی کم سے کم ہوں گے ۔
اصل ذمہ داری مردوں کی ہے مردوں کی افراط وتفریط نے اسلام کے اس اعلیٰ اورزریں اصول کی افادیت کو غیرموثرکردیا۔پردے کے ثمرات اس وقت تک سامنے نہیں آئیں گے جب تک اس کےاحکامات پر کامل عمل درآمدنہیں ہوگا ۔ مثلاًغض بصر(نگاہ نیچی رکھنے ) کا حکم مردوعورت دونوں کیلئے ہے اوربنی آدم کے لفظ میں مرد وعورت دونوں شامل ہیں ۔بے مقصد گھر سے نکلنامرداورعورت دونوں کیلئے منع ہے ۔ مردوں کے لئے بھی بیوٹی پارلروں کا استعمال، بالوں کی تزئین وآرائش ، تنگ وچست لباس ،نیکروں کااستعمال اورگریبان کھلا رکھنا وغیرہ سب ممنوع ہیں ۔چنانچہ مرد حضرات بھی ستر وحجاب کے احکامات سے کسی طور پر مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ ان کی ذمہ داریاں ازخود عمل کے حوالے سے زیادہ ہیں ۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کسی معاشرے میں مرد با حیا ہوں اوروہاں کی عورتیں بے حیا اور بے پردہ رہیں ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: