حضرت زیدؓاور حضرت سعيدؓبن زیدؓ

ايک سعادت مندباپ اور عظيم بيٹا عرب ميں جس وقت شرک،بت پرستی،قتل وغارت گری، قبائلی تعصب کا عفريت عربوں کا خون بہار ہا تھا۔ جہالت کا کینسر لڑکیوں کو زندہ دفن کرار ہا تھا۔اس وقت بھی چند ایسے نفوس موجود تھے،جوملت ابراہیمی کے دين حنیف پر قائم تھے اور توحید کے قائل تھے۔

یہ داستان بھی ایک ایسے ہی پاک نفس کی ہے ۔حضرت زید ؓان سعادت مند بزرگوں میں تھے،جنہوں نے اسلام سے پہلے ہی توحید کی مٹھاس اپنے قلب ميں محسوس کر لی تھی اور اپنے زمانے کے تمام فسق و فجور اور جاہلانہ رسموں سے نفرت کر تے تھے۔ یہا ں تک کہ و ہ مشرکین کے ذبیح سے بھی بچتے تھے۔
اسلام سے پہلے ایک دفعہ آنحضرت ﷺا سے وادی بلدح میں حضرت زید ؓکی ملاقا ت ہوئی۔(یہ تنعیم کے راستے میں ایک مقام کا نام تھا) وہاں کے لوگوں نے آنحضرت ﷺاکے سامنے کھانا پیش کیا۔آپ ﷺنے مشرکین کے اس کھانے سے انکار کیا تو حضرت زید ؓنے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ میں تمہارے بتو ں کا چڑھایا ہوا ذبیحہ نہیں کھاتا۔کفر و شرک سے نفرت کرنے والایہ دل راہ حق سے دور تھا۔ ان کا توحید تک کا سفر دلچسپ اور سبق آموزہے۔حق کی تلاش میں انہوں نے عرب سے چل کر کئی ملکوں کی خاک چھانی۔شام پہنچ کر ایک یہودی سے اپنا مقصد بیان کیا۔اس نے کہا کہ اگر اللہ کے غضب سے حصہ لینا ہے تو ہمارا مذہب حاضر ہے ۔حضرت زید ؓنے کہا :میں اسی سے تو بھاگا ہوں ۔پھر اس میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔البتہ اگر کوئی دوسرا مذہب بتا سکتے ہو تو بتاو ۔اس نے کہا :ایسا مذہب دین حنیف ہے۔انہوں نے پوچھا:د ين حنیف کیا ہے؟اس نے بتایا کہ د ين حنیف حضرت ابراہیم کا مذہب ہے،جو نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی،بلکہ صرف خدائے واحد کی پرستش کرتے تھے ۔ یہاں سے روانہ ہوئے تو ايک عیسا ئی عالم سے رہنمائی چاہی۔اس نے کہا اگر اللہ کی لعنت کا طوق چاہتے ہوتو ہمارا مذہب موجود ہے۔ حضرت زید ؓنے کہا خدارا! کوئی ایسا مذہب بتاؤ جس میں
نہ اللہ کا غضب ہو، نہ لعنت۔ ميں ان دونو ں سے بھاگتا ہوں ۔ بولا ميرے خیال ميں ایسا مذہب صر ف دين حنیف ہے ۔
غرض جب ہر طرف سے دین ابراہیم کی طرف رہنمائی ہوئی تو وہ شام سے واپس ہوئے۔اور دونوں ہاتھ اٹھا کرکہا خدایا!میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اب میں دین حنیف کا پیروکار ہوں ۔
یہا ں قدرے حيرت کے ساتھ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زید ؓکے سوال کے جواب ميں یہودی اور عیسا ئی دونوں عالموں نے اپنے اپنے مذہب کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت کا سبب بتایا۔ ایک سوال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے مذہب کے بارے ميں یہ کھلا سچ کیوں کہہ دیا۔اور ان کو اپنے مذہب کی طرف دعوت کیوں نہ دی؟غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام سے کچھ پہلے کا زمانہ ہے ۔یہودیوں اور عیسا ئیوں کی کتابوں میں ایک آخری رسول کے آنے کی خبريں دی گئی تھيں ۔ یہ دونوں عالم اس رسول کے آنے کے منتظر تھے۔ ان کا خيال تھا کہ وہ رسول بھی بنی اسرائیل سے ہوگا۔اور دين کی طرف دعو ت دے گا۔اس لیے انہوں نے حضرت زید ؓکو اسی دين کی طرف رہنمائی کی ،جس کی طرف وہ خود بھی جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
ليکن ان لوگوں کے گمان کے برعکس جب وہ رسول بنی اسرائیل کے بجائے عرب ميں مبعوث ہوا تو محض نسبی تعصب کی بنا پر اس رسول کی نبوت سے انکار کر دیا۔
حضرت زيد ؓکو اس کفرستان عرب ميں اپنے موحد ہونے پرنہایت فخر تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓکی صاحبزادی حضرت اسما ء ؓکا بیان ہے کہ ميں نے ايک دفعہ زيد ؓکو دیکھا کہ(بعثت سے پہلے) وہ کعبہ سے پشت لگا کر کہہ رہے تھے:
اے گروہ قريش!خدا کی قسم میرے سوا تم ميں کوئی بھی دین ابراہیم پر قائم نہیں ہے ۔ان کی عا دت تھی کہ جاہلیت ميں جب عرب اپنی لڑکيوں کو زندہ دفن کرديتے تھے تواس اللہ لا شريک کے بندے کو ان لڑکيوں کو بچانے ميں خاص لطف محسوس ہو تا تھا۔جب کوئی ظالم باپ اپنی لڑکی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس لڑکی کی کفالت اپنے ذمے لے ليتے تھے۔اور جب وہ جوان ہوجاتی تواس کے باپ سے کہتے جی چا ہے لے لویا میری ہی کفالت ميں رہنے دو(بخاری)
يہ تو ايک سعادت مند باپ کی داستان تھی۔اب ان کے عظیم بيٹے کا حال سنيے۔ان کا يہ عظيم بيٹا کون ہے؟يہ حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکی ذات مبارک ہے۔کون سعيدؓبن زيد ؓؓ؟وہی جو حضرت عمرؓکے
بہنوی تھے۔ ا ور جب حضرت عمر ؓآنحضرت ﷺکے قتل کے ارادے سے نکلے تو راستے ميں کسی نے کہا کہ پہلے اپنی بہن کی خبر لو۔ اورحضرت عمرؓنے اپنی بہن اور ا س بہنو ی ؓپرسختياں کیں اور دونوں کو لہولہان کر ديا۔ ان دونوں کی غير معمولی استقامت ہی نے عمربن خطاب کو فاروق اعظم ؓبنا دیا۔
حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکے فضائل اور کارنامے عام طور پر منظر عام پر نہیں آئے۔ ظاہر ہے کہ وہ سابقين اولين ميں سے ہيں ۔مہاجرين اولين کے ساتھ مدينہ منورہ ہجرت کی۔سن 2 ہجری ميں قريش مکہ کا وہ قافلہ جو شام سے سامان جنگ لے کر واپس آرہا تھا۔جو بعد ميں غزوه بدر کا پيش خيمہ ثابت ہوا۔ اس قافلہ کے تفصيلی حالات معلوم کر نے کے ليے آنحضرت ﷺنے ان کو اور حضرت طلحہ ؓکو جاسوسی کی مہم پر روانہ فرمايا۔ یہ لوگ حدود شام ميں داخل ہو کر کسی واقف کار کے مہمان ہوئے۔جب قريش کا قافلہ شام سے روانہ ہوا تو یہ دونوں تمام حالات سے باخبر ہوکر قافلے سے نظر بچاکر تيزی سے مدينہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔لیکن قافلے کو کچھ گن سن لگ گئی اور انہوں نے راستہ بدل لیا ۔ ادھر رسول اللہ ﷺکو ان دونوں کے پہنچنے سے پہلے ہی واقعہ کی خبر مل چکی تھی اور آپ نے جنگ بدر کی تیاری شروع کردی۔ یہی وہ غزوہ ہے جس نے اسلام کو ہميشہ کے ليے سر بلند کر ديا۔
جس وقت حضرت سعيدؓبن زيدؓمدينہ منورہ پہنچے تو اس وقت اسلام کے غازی فاتحانہ سُرور کے ساتھ مدينہ منورہ ميں داخل ہورہے تھے۔ يہا ں بھی حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکو اعزاز حاصل ہوا کہ آنحضرت ﷺنے ان کو بدر کے مالِ غنيمت ميں حصہ عطا فرمايا۔کیونکہ وہ بھی اس سلسلے کی ايک مہم پر تھے۔ اور بشارت دی کہ ان کو بھی بدر ميں جہاد کا ثواب ملے گا۔ان کے ليے جنت کی پیش گوئی ہے۔
غزوۂ بدر ميں بذات خود شريک نہ ہونے کے علاوہ تمام غزوات ميں مردانگی اور شجاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺاکے ساتھ شريک رہے۔ حضرت سعيدؓبن زيد ؓؓکے تفصيلی حالات کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا دل دنیاوی جاہ وحشمت،مال ودولت اورشہرت وغیرہ سے مستغنی تھا۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیجئے کہ عہد فاروقی ؓمیں شام پر باقاعدہ فوج کشی ہوئی تو حضرت عبيدہ ؓکی سرکردگی میں نہایت جانبازی سے مختلف محاذوں پر کامیابی کے کا رنامے انجام دئے۔ اسی دوران حضرت عبيدہ ؓنے ان کو شام کی گورنری کا منصب عطا کیا۔ کچھ ہی عرصہ میں شوق جہاد نے ان کو اس منصب سے بیزارکردیا۔ انہوں نے حضرت عبيدہ ؓکو لکھا کہ میں ایسا ایثار نہیں کر سکتا کہ آپ لوگ جہاد کريں اور ميں اس سے محروم رہوں ۔ اس ليے اس خط کے ملتے ہی کسی کو ميری جگہ بھیج ديجيے۔ ميں عنقریب آپ کے پاس پہنچتاہوں ۔مجبورہوکرحضرت عبيدہ ؓنے یزید بن ابی سفیان کو ان کی جگہ مقرر کيااور حضرت سعيدؓؓپھر ميدان کا ر زار ميں پہنچ گئے۔
حضرت اميرمعاویہ ؓکے عہد ميں ايک عورت اروی نامی نے مدينہ کے عامل مروان بن حکم سے شکایت کی کہ حضرت سعيدؓنے اس کی کچھ زمين دبالی ہے۔ اس کی جاگير حضرت سعيدؓکی زمين سے ملی ہوئی تھی۔ تحقيقات کے ليے دو آدمی متعین ہوئے۔ان کو خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ جو اپنے مال کے آگے(حفاظت ميں )قتل ہو ،وہ شہيد ہے۔ مروان بن حکم کو زمين دبانے والے کے ليے وعيد کی حديث سنائی۔ اس نے قسم کھانے کو کہاتو يہ دستبر دار ہوگئے۔(روایت حديث ميں احتیاط کی وجہ سے قسم نہيں کھائی)۔ليکن اس عورت کے حق ميں بددعا کی کہ وہ اندھی ہو کر مرے۔ اور اس کے گھر کا کنواں خود اس کی قبربنے۔دعا قبول ہوئی،وہ عورت جلد ہی بصارت سے محروم ہوئی اور گھر کے کنويں ميں ڈوب کر مری۔
ايک دفعہ کوفے کے گورنر مغيرہ بن شعبہ ؓکے پاس آئے۔اسی دوران ايک اور آدمی اندر آیا اور حضرت علی ؓکی شان ميں غیر مہذب کلمات استعمال کر نے لگا۔ حضرت سعيدؓؓسے ضبط نہ ہوسکا۔فرمایا۔مغيرہ!مغيرہ! لوگ تمہارے سامنے رسو ل اللہ ﷺکے جان نثاروں کو گالياں ديتے ہيں اور تم منع نہيں کرتے؟ اس کے بعد حضرت سعيدؓنے عشرہ مبشرہ(دس صحابہ جن کو زندگی ميں جنت کی بشارت دی گئی)ميں شامل آٹھ صحابہ کے نام ليے اور فرمايا کہ رسو ل اللہ ﷺنے ان کو جنت کی بشارت دی ہے۔اور اگر چاہو تو ميں نويں آدمی کانام بھی لے سکتا ہوں ۔لوگوں نے اصرار کيا کہ نويں آدمی کانام بھی بتاديں ۔جواب ميں فرمایا۔نواں ميں ہوں ۔گویا حضرت سعيدؓؓعشرہ مبشرہ ميں سے ہيں ۔
آپ نے اپنی بقیہ زندگی سکون و خاموشی ميں گزاری۔ مدينہ کے قريب مقام عقيق ميں آپ کا مستقل مسکن تھا۔ وہيں 70برس کی عمر ميں وفات پائی۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے نماز جنازہ پڑھائی۔اور مدينہ لا کر (بقيع ميں ) سپر دخاک کيا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: