سورۃ الفاتحہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُلِله تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں :
یعنی اے اللہ کے بندو! تم کہو الحمد للہ  , اور ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالى کا فرمان ہے اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ [العلق : 1] (اپنےاس رب کے نام سے پڑھیئے جس نے پیدا فرمایا ہے ) اور  قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى [النمل : 59] ( کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اورسلامتی اللہ کے چنیدہ بندوں پر 
رَبِّ الْعَالَمِينَ جہانوں کا رب  :
 جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے اور انکے رزق کے اسباب پیدا کیے ہیں , اللہ تعالى کا فرمان ہے قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَاداً ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ۔ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاء لِّلسَّائِلِينَ [فصلت : 9,۱۰]   کہہ دیجیئے کیا تم اس ذات کا کفر کرتے ہو اور اسکے شریک بناتے ہو ؟ جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا ہے وہ رب العالمین ہے ! ۔ اور اس نے چار دنوں میں اس (زمین) میں اسکےاوپرسےپہاڑ بنا دیے اور اس میں برکت ڈالی اور اس میں رزق رکھ دیا , ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر  ۔
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  بڑا مہربان ,نہایت رحم کرنیوالا  :
وہی ذات باری اپنے بندوں کی تخلیق فرما کر , انہیں ایمان کی ہدایت دے کر, اور دنیوی و اخروی خوش بختی کے اسباب مہیا فرما کر رحمت کی برکھا برسانے والی ہے ۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں : الرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (2) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (3) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ[الرحمن] , رحمان , اس نے قرآن سکھایا, انسان کو پیدا کیا , اور قوت بیان عطاء کی ۔
نیز فرمایا : هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الأحزاب :43) وہ اور اسکے فرشتے تم پر درود بھیجتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور وہ مؤمنوں پر نہایت رحم کرنیوالا ہے ۔ اور شاید یہ دنوں لفظ (یعنی رحمن اور رحیم ) مترادف ہیں ۔
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ فیصلہ کے دن کا مالک ہے :
وہ قیامت کا دن ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے : وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ (17) ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ (18) يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ (19) [المطففین] اور آپکو کیا پتہ فیصلہ کا دن کیا ہے ۔ پھر آپکو کیا علم کہ فیصلہ کا دن کیا ہے ۔ جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے ذرہ بھی مالک نہ ہوگی , اور اس دن ہمہ قسم معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں :
ہر اس کام میں جس میں تو اخلاص کا حقدار ہے خواہ وہ خالص عبادت ہو یا کامل محبت , تجھے ہی یکتا رکھتے ہیں ۔کیونکہ فرمان الہی ہے : وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ [البینہ :۵] اور انہیں صرف اسی کام کا حکم دیا گیا کہ اللہ کے لیے یکسو ہوکر , اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے اسکی عبادت کرو ۔
 اور اللہ تعالى کا فرمان ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ [البقرہ : ۱۶۵] اور اہل ایمان محبت کے اعتبار سے اللہ کے لیے انتہائی پرجوش ہیں ۔
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔
یعنی جو امور صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ان میں ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں , کیونکہ اللہ کا فرمان ہے  وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ (79) وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (80) وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ (81) وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ (82)  وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفاء بخشتا ہے ۔ اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا ۔ اور وہی ہے کہ میں جس کے بارہ میں طمع کرتاہوں کہ وہ فیصلہ کے دن میری خطائیں معاف فرما دے ۔
نیز فرمایا : يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (49) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا [الشورى] جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتاہےاورجسےچاہتاہےبیٹے  عطاء کرتا ہے ۔ یا بیٹیاں اور بیٹے ملا کر دے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے ۔
نیز فرمایا : أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم:۳۷] کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالى جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتاہےاورجسکےلیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے ۔
 نيز فرمايا : وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ [الشورى :۲۸] وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش نازل کرتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے۔اور وہ امور جو بندوں کے مقدور میں ہیں ان میں بندوں سے مدد لینا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى [ المائدہ : ۲] اور نیکی اور تقوى کے کاموں ایکدوسرے سے تعاون کرو ۔
Advertisements
1 comment
  1. Sarwattauseef said:

    A to Z tamam umoor Allah taalah wasubhanhu k ikhtiar main hain wo mukhtare kulhai.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: