معراج کا تحفہ

نبوت کے12سال ہوچکے تھے ،بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیاتھا ،اسلام اورمسلمانوں کے لیے مکہ کی زمین گویا بنجر ہوچکی تھی ،ہر طرح سے ستایاگیا ،لیکن آپ ﷺکام میں لگے رہے ،پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ ﷺکی چہیتی بیوی خدیجہ ؓاور آپ کے چچا ابوطالب ؓدونوں دنیا سے چل بسے ۔ یہ سال اللہ کے رسولﷺ کے لیے اتنا کربناک تھا کہ غم کا سال کہلایا۔
مکہ کے لوگوں کی شرارت اور زیادہ ہونے لگی ۔طائف گئے اس امید سے کہ وہا ں کے لوگ اسلام قبول کرلیں گے تو سہارا بن سکتے ہیں ،لیکن طائف والوں نے آپ ﷺپر پتھر برسایا اور لہولہان کردیا ،بالآخر گرگئے، پہاڑوں کے فرشتے نے اجازت مانگی کہ اگر آپ ﷺکا حکم ہوتو ان کمبختوں کو دو پہاڑوں کے بیچ پیس دیاجائے ۔لیکن قربان جائیے اللہ کے رسول ﷺکے رحم وکرم پر کہ آپ ﷺنے جواب دیا :نہیں ایسا مت کرو،مجھے امید ہے کہ اللہ پاک ان سے ایسی نسل نکالے گا جو اللہ کی عبادت کرنے والی ہوگی ۔
جب مکہ کا رخ کیا تو مکہ میں جان کا خطرہ ہے ۔بالآخر مطعم بن عدی کی پناہ میں آکر مکہ میں داخل ہوپا رہے ہیں ….ایسے وقت اللہ پاک نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلایا ۔مکہ سے رات کے ایک حصے میں مسجد اقصی کی سیر کرائی ۔اس کے بعد اسی رات آپ کو بیت المقدس سے آسمان دنیا پھر وہاں سے یکے بعد دیگرے ساتوں آسمان پر لے جایاگیا ،اس کے بعد آپ ﷺسدرة المنتہی تک لے جائے گئے، پھر آپ ﷺکے لیے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا۔
اس کے بعد اللہ تعالی سے پردے کی اوٹ میں ملاقات ہوئی ۔یہیں پر اللہ تعالی نے آپ ﷺکو نہایت اہم تحفہ دیا ۔یعنی 50وقت کی نمازیں فرض کیں ۔موسی علیہ السلام کے مشورے سے اللہ کے رسول ﷺنے ان میں تخفیف کرایا ۔یہاں تک کہ اللہ پاک نے 5نمازیں باقی رکھیں ۔ اس کے بعد پکار ا گیا :
اے محمد ﷺ! میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی ، ان 5نمازوں کا ثواب 50نمازوں کے برابر ہے ۔
اسرا ومعراج کے اس واقعے میں سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے ۔ زمین والوں نے جب اپنے نبی ﷺکے ساتھ بدسلوکی کی تو اللہ پاک نے اپنے پاس بلالیا اور انسانوں کو یہ سبق دیا کہ تم نے اپنے حبیب ﷺکی قدر نہیں پہچانی ۔تم کیا ہو ….اِن کا وہ مقام ہے کہ ان کا استقبال تو آسمان والے کرتے ہیں۔
دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ اسلام ساری انسانیت کے لیے آیا ہوا مذہب ہے ، تب ہی تو اللہ پاک نے سارے انبیاءکرام کو اکٹھا کرکے آپ کی امامت میں ان کو نمازپڑھوائی ،اس سے آپ کی سارے انبیاءپر افضیلت بھی ثابت ہوئی اوریہ بھی ظاہر ہوا کہ اب دین محمدی ہی غالب رہے گا۔
اسی طرح آپ ﷺکو جنت اور جہنم کا سیر کرایا گیا ….جنت وجہنم کے نظارے دکھائے گئے ،اور سدرة المنتہی کی زیارت کرائی گئی ….یہ سب اس لیے تاکہ آپ ﷺغیبی امور کو اپنی پیشانی کی آنکھوں سے دیکھ لیں اورآپ ﷺکو علم الیقین حاصل ہوجائے ۔

نبوت کے12سال ہوچکے تھے ،بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیاتھا ،اسلام اورمسلمانوں کے لیے مکہ کی زمین گویا بنجر ہوچکی تھی ،ہر طرح سے ستایاگیا ،لیکن آپ ﷺکام میں لگے رہے ،پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ ﷺکی چہیتی بیوی خدیجہ ؓاور آپ کے چچا ابوطالب ؓدونوں دنیا سے چل بسے ۔ یہ سال اللہ کے رسولﷺ کے لیے اتنا کربناک تھا کہ غم کا سال کہلایا۔
مکہ کے لوگوں کی شرارت اور زیادہ ہونے لگی ۔طائف گئے اس امید سے کہ وہا ں کے لوگ اسلام قبول کرلیں گے تو سہارا بن سکتے ہیں ،لیکن طائف والوں نے آپ ﷺپر پتھر برسایا اور لہولہان کردیا ،بالآخر گرگئے، پہاڑوں کے فرشتے نے اجازت مانگی کہ اگر آپ ﷺکا حکم ہوتو ان کمبختوں کو دو پہاڑوں کے بیچ پیس دیاجائے ۔لیکن قربان جائیے اللہ کے رسول ﷺکے رحم وکرم پر کہ آپ ﷺنے جواب دیا :نہیں ایسا مت کرو،مجھے امید ہے کہ اللہ پاک ان سے ایسی نسل نکالے گا جو اللہ کی عبادت کرنے والی ہوگی ۔
جب مکہ کا رخ کیا تو مکہ میں جان کا خطرہ ہے ۔بالآخر مطعم بن عدی کی پناہ میں آکر مکہ میں داخل ہوپا رہے ہیں ….ایسے وقت اللہ پاک نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلایا ۔مکہ سے رات کے ایک حصے میں مسجد اقصی کی سیر کرائی ۔اس کے بعد اسی رات آپ کو بیت المقدس سے آسمان دنیا پھر وہاں سے یکے بعد دیگرے ساتوں آسمان پر لے جایاگیا ،اس کے بعد آپ ﷺسدرة المنتہی تک لے جائے گئے، پھر آپ ﷺکے لیے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا۔
اس کے بعد اللہ تعالی سے پردے کی اوٹ میں ملاقات ہوئی ۔یہیں پر اللہ تعالی نے آپ ﷺکو نہایت اہم تحفہ دیا ۔یعنی 50وقت کی نمازیں فرض کیں ۔موسی علیہ السلام کے مشورے سے اللہ کے رسول ﷺنے ان میں تخفیف کرایا ۔یہاں تک کہ اللہ پاک نے 5نمازیں باقی رکھیں ۔ اس کے بعد پکار ا گیا :
اے محمد ﷺ! میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی ، ان 5نمازوں کا ثواب 50نمازوں کے برابر ہے ۔
اسرا ومعراج کے اس واقعے میں سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے ۔ زمین والوں نے جب اپنے نبی ﷺکے ساتھ بدسلوکی کی تو اللہ پاک نے اپنے پاس بلالیا اور انسانوں کو یہ سبق دیا کہ تم نے اپنے حبیب ﷺکی قدر نہیں پہچانی ۔تم کیا ہو ….اِن کا وہ مقام ہے کہ ان کا استقبال تو آسمان والے کرتے ہیں۔
دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ اسلام ساری انسانیت کے لیے آیا ہوا مذہب ہے ، تب ہی تو اللہ پاک نے سارے انبیاءکرام کو اکٹھا کرکے آپ کی امامت میں ان کو نمازپڑھوائی ،اس سے آپ کی سارے انبیاءپر افضیلت بھی ثابت ہوئی اوریہ بھی ظاہر ہوا کہ اب دین محمدی ہی غالب رہے گا۔
اسی طرح آپ ﷺکو جنت اور جہنم کا سیر کرایا گیا ….جنت وجہنم کے نظارے دکھائے گئے ،اور سدرة المنتہی کی زیارت کرائی گئی ….یہ سب اس لیے تاکہ آپ ﷺغیبی امور کو اپنی پیشانی کی آنکھوں سے دیکھ لیں اورآپ ﷺکو علم الیقین حاصل ہوجائے ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: