حضرت خدیجہ ؓ

نام و نسب:۔
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر انکا خاندان رسول ﷺ کے خاندان سے مل جاتاہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا، اور لوری بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصیٰ کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل حضرت خدیجہ اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں،(طبقات ابن سعدج8و) سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ(اصابہ ج8ص60) کے لقب سے مشہور ہوئیں،
نکاح:۔
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابوہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہو گیا۔(استیعاب ج2ص37 ابوہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں، اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں حضرت خدیجہ ؓ کے باپ لڑائی کےلیےنکلےاورمارےگئے(طبقات ج8صفحہ9) یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔(ایضاًص81ج1ق1)
تجارت:۔
باپ اور شوہر کے مرنے سے حضرت خدیجہ ؓ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جسکا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقت مال کی روانگی کا وقت آیا تو ابو طالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ تمکو خدیجہ( ؓ ) سے جا کر ملنا چاہیے، انکا مال شام جائے گا۔ بہتر ہےکہ تم بھی ساتھ لےجاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خودتمھارےلیےسرمایہ مہیا کر دیتا۔ رسول اللہ ﷺ کی شہرت امین کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپکے حسن معاملت،راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، حضرت خدیجہ ؓ کو اس گفتگو کی خبرملی تو فورا پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لیکر شام جائیں،جومعاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپکو اسکا مضاعف دونگی۔ آنحضرت ﷺ نے قبول فرمالیا اور مالِ تجارت لیکر میسرہ(غلام خدیجہ ؓ ) کےہمراہ بصری تشریف لےگئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،(طبقات ج اق اص81)
حضرت خدیجہ ؓ آنحضرت ﷺ کے عقد نکاح میں آتی ہیں:۔
حضرت خدیجہ ؓ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا، اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑچکی تھی، آنحضرت مال تجارت لیکر شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ ؓ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ(یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی،آپ ﷺ نے منظور فرمایا،(ایضاً ص84)
اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، حضرت خدیجہ ؓ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم انکے چچا عمروبن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خودگفتگوکرسکتی تھیں، اسی بناء پر حضرت خدیجہ ؓ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کئے، تاریخ معین پر ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ ؓ بھی تھے،حضرت خدیجہ ؓ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ ؓ حرم نبوت ہو کر ام المومنین نے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت آنحضرت ﷺ پچیس سال کے تھے اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے،(اصابہ ج8ص60)
اسلام:۔
پندرہ برس کے بعد جب آنحضرت ﷺ پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے حضرت خدیجہ ؓ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے مومن تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ ﷺ کےصدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، صحیح بخاری باب بدۤالوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے، حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کی ابتدارویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔ ۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اسکے بعد آپ ﷺ خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لیکر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھکو چھوڑ دیا، اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
پڑھ تیرا خدا کریم ہے، آنحضرت ﷺ گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے کہا مجھکو کپڑا اڑھاؤ، مجھکو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر حضرت خدیجہ ؓ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا مجھکو ڈر ہے حضرت خدیجہ ؓ نے کہا آپ ﷺ متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بےکسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپکو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مذہباً نصرانی تھے عبرانی زبان جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے(آنحضرت ﷺ ) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ آنحضرت ﷺ نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسی پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپکی قوم آپکو شہر بدر کرے گی، آنحضرت ﷺ نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دینگے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اسکی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کرونگا۔ اسکے بعد ورقہ کا بہت جلدانتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی،(صحیح بخاری ج اص2، 3 ) اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی آنحضرت ﷺ نوافل پڑھا کرتے تھے حضرت خدیجہ ؓ بھی آپکے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں(طبقات ج8ص10)
آنحضرت ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کیئے۔ عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے، اور حضرت عباس ؓ کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکدن کعبہ کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور آسمان کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اسکے داہنی طرف کھڑاہوا،پھرایک عورت دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے حضرت عباس ؓ سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنےوالاہے،حضرت عباس ؓ نے جواب دیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمّد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمّد کی بیوی(خدیجہ ؓ)ہے،میرےبھتیجے کا خیال ہے کہ اسکامذہب پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اسکے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھ کو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں،(ایضاًص10،11)
عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اسکے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اسکے ثبوت کے متعدد طریق ہیں محدث ابن سعد نے اسکو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اسکو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اسکو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اسکو صحیح کہا ہے۔ حضرت خدیجہ ؓ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز اسلام میں آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، آنحضرت ﷺ کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ اس میں بڑی حد تک حضرت خدیجہ ؓ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپرگزرچکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ مجھکو ڈر ہے تو انہوں نے کہا آپ متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپکو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو ضحرت خدیجہ ؓ نے آپکو تسلی اور تشفی دی، استیعاب میں ہے،(طبقات ج 2ص740)
آنحضرت ﷺ کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو کچھ صدمہ پہنچتا، حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آکر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپکی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپکے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں، سن 7 نبوی میں جب قریش نے اسلام کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ تدبیر سوچی کہ آنحضرت ﷺ اور آپکے خاندان کو ایک گھاٹی میں محصور کیا جائے، چنانچہ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان ہاشم کے ساتھ شعب ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے، حضرت خدیجہ ؓ بھی ساتھ آئیں، سیرت ابن ہشام میں ہے۔(سیرت ابن ہشام ج اص192) اور وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ شعب ابوطالب میں تھیں، تین سال تک بنو ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ طلح کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حجرت خدیجہ ؓ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن حکیم بن حزام نے جو حضرت خدیجہ ؓ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ ؓ کے پاس بھیجے، راہ میں ابوجہل نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابوالبختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اسکو رحم آیا، ابوجہل سے کہا ایک شخص اپنی پھوپھی کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہے تو کیوں روکتا ہے،(ایضاً)
وفات:۔
حضرت خدیجہ ؓ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سن 10 نبوی(ہجرت سے تین سال قبل(بخاری ج اص ا55)) انتقال کیا، اس وقت انکی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اسلیئے انکی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی، آنحضرت ﷺ خود انکی قبر میں اترے، اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، حضرت خدیجہ ؓ کی قبر حجون میں ہے،(طبقات ابن سعد ج8ص11)اور زیارت گاہ خلائق ہے، حضرت خدیجہ ؓ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود آنحضرت ﷺ اس سال کو عام الحزن(سال غم) فرمایا کرتے تھے کیونکہ انکے اٹھ جانے کے بعد قریش کوکسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا، اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے آنحضرت ﷺ کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔
اولاد:۔
حضرت خدیجہ ؓ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو انکے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جنکے نام ہالہ و ہند تھے، دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اسکا نام بھی ہند تھا۔آنحضرت ﷺ سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں! نام حسب ذیل ہیں،(زرقانی جلد3ص221)
(1)حضرت قاسم ؓ ،آنحضرت ﷺ کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغرسنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں چلنے لگے تھے
(2) حضرت زینب ؓ آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں
(3) حضرت عبد اللہ نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے
(4) حضرت رقیہ
(5)حضرت ام کلثوم
(6)حضرت فاطمہ زہرا، اس سب میں ایک ایک سال کا چھٹاپا بڑاپا تھا، حضرت خدیجہ ؓ اپنی اولاد کو بہت چاہتی تھیں، اور چونکہ دنیا نے بھی ساتھ دیا یعنی صاحب ثروت تھیں، اس لیے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا تھا، وہ انکو کھلاتی و دودھ پلاتی تھیں۔
ازواج مطہرات ؓ میں حضرت خدیجہ ؓ کو بعض خاص خصوصیتیں حاصل ہیں، وہ آنحضرت ﷺ کی پہلی بیوی ہیں، وہ جب عقد نکاح میں آئیں تو انکی عمر چالیس برس کے قریب تھی، لیکن آنحضرت ﷺ نے انکی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوا آنحضرت ﷺ کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔
فضائل و مناقب:۔
ام المومنین حضرت خدیجہ طاہرہ ؓ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپکی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، وادی عرفات، جبل فاران غرض تمام جزیرة العرب آپکی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ ؓ کے قلب مبارک سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا، حضرت خدیجہ ؓ وہ مقدس خاتون ہیں، جنہوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی ترک کر دی تھی، چنانچہ مسند ابن حنبل میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا، بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کرونگا انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیئے، عزی کو جانے دیجیئے، یعنی انکا ذکر نہ کیجیئے۔ آنحضرت ﷺ اور اسلام کو انکی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت بنوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے، ابن ہشام میں ہے، وہ اسلام کے متعلق آنحضرت ﷺ کی سچی مشیر کار تھیں۔ آنحضرت ﷺ سے انکو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی آنحضرت ﷺ کی خدمت خود کرتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی کہ خدیجہ ؓ برتن میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ انکو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیئے،(صحیح بخاری ج اص539) آنحضرت ﷺ کو حضرت زید بن حارثہ ؓ سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، حضرت خدیجہ ؓ نے انکو آزاد کرایا، اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالتﷺ کے غلام تھے، آنحضرت ﷺ کو بھی حضرت خدیجہ ؓ سے بےپناہ محبت تھی آپ نے انکی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، انکی وفات کے بعد آپکا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ گو میں نے حضرت خدیجہ ؓ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھکو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ ہمیشہ انکا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپکو رنجیدہ کیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھکو انکی محبت دی ہے،(صحیح مسلم ج2ص333،)
ایک دفعہ حضرت خدیجہ ؓ کے انتقال کے بعد انکی بہن ہالہ آنحضرت ﷺ سے ملنے آئیں اور استیذان کے قاعدے سے اندر آنے کی اجازت مانگی، انکی آواز حضرت خدیجہ ؓ سے ملتی تھی آپکے کانوں میں آواز پڑی تو حضرت خدیجہ یاد آ گئیں اور آپ جھجھک اٹھے، اور فرمایا کہ ہالہ ہونگی۔ حضرت عائشہ بھی موجود تھیں انکو نہایت رشک ہوا، بولیں کہ آپ کیا ایک بڑھیا کی یاد کیا کرتے ہیں، جو مر چکیں، اور خدا نے ان سے اچھی بیویاں آپکو دیں، صحیح بخاری میں یہ روایت یہیں تک ہے، لیکن استیعاب میں ہے کہ اسکے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو انہوں نے تصدیق کی، جب لوگ کافر تھے تو وہ اسلام لائیں، جب میرا کوئی نہ تھا تو انہوں نے میری مدد کی، اور میری اولاد ان ہی سے ہوئی۔ حضرت خدیجہ ؓ کے مناقب میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں، صحیح بخاری و مسلم میں ہے، عورتوں میں بہترین مریم بنت عمران ہے اور پھر عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد ہیں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، خدیجہ آئیں تو فرمایا۔ انکو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجیئے جو موتی کا ہو گا اور جس میں شوروغل اور محنت و مشقت نہ ہو گی۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: