پردہ ضروری کیوں-3؟

فی زمانہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ ،قرآن مجید اوررسول اللہ ﷺ کے رسمی اورزبانی احترام پرمطمئن مشغول اورمحدودکردیاگیاہے اوروہ بھی غیر شرعی انداز سے مثلاً اب ِحمد باری تعالیٰ ،نعت رسول کریم ﷺاورہندوؤں کے بھجن کے انداز ِادائیگی میں بہت کم فرق رہ گیاہے ۔چودہ سوسال قبل کے اسلام سے عدم آگاہی اورنئی تاویلات نے ایک بے ڈھنگی صورت پیداکردی ہے اوراسلام کے معترضین اورجدت پسندوں کو من مانی کرنے کا موقع فراہم کیاہےاس وقت مسلمان کی حالت یہ ہے کہ وہ صحیح عقیدہء توحید جس کی مدد سے دیگرتمام معاملات میں احساسِ ذمہ داری پیداہوتاہے اس سے وہ ناواقف ہے چنانچہ جب ایمان اورعقائدکے حوالے سے بنیادی معلومات نہ ہونگی تو احکامِ ستر وحجاب کی خلاف ورزیوں اوردیگر خرابیوں کاکیارونااوراحکامات پر عمل درآمد کیسے ممکن ہے ۔اگر آپ کسی مسلمان کی دینی علمیت کے ذرائع کے حوالے سے تحقیق کریں تویہ بات سامنے آتی ہے کہ اکثریاتومحض باپ داداکے نقش قدم پر یا پھر علاقے کی مسجد کے امام وخطیب کے مواعظ یابہت ہواتو سودوسوسال پرانے علاقائی علماء کی تألیفات وتصنیفات سے استفادے کی بنیاد پر اپنے دینی معاملات چلاتے ہیں مزید یہ کہ اگر ان کو شریعت کا کوئی حکم قرآن کریم یا اسوہ رسول ﷺکے حوالے سے واضح کرو جو ان کے طورطریقوں سے متصادم ہوتووہ ان کو بہت گراں گزرتاہے اوروہ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ باپ دادا اوراحبارورھبان (علماء وبزگانِ دین )غلط ہوں اوریہ بات اپنی جگہ بڑی دلچسپ ہے کہ ہرنبی نے اپنی امت کو باپ دادا کی پیروی سے روکا اورہر امت نے اپنے نبی کو یہی دلیل دی کہ باپ دادا غلط نہیں ہوسکتے بلکہ بعض نے تویہاں تک کہا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اﷲُ وَ اِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ ٰابَآئَ نَاط اَوَ لَوْ کَانَ ٰابَآؤُہُمْ لااَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لااَا یَہْتَدُوْنَ۔۔۔اورجب ان سے کہاجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جواحکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اوررسول کی طرف رجوع کرو توکہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں (باپ دادا) کو پایا،اگرچہ ان کے بڑے کچھ سمجھ نہ رکھتے ہوں اورنہ ہدایت پر ہوں (المائدہ5آیت 104)
نیز فرمایا:وَ کَذٰلِکَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآلا اِنَّا وَجَدْنَآ ٰابَائَنَآ عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰٓی ٰاثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ۔۔۔ قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُکُمْ بِاَہْداٰای مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْہِ ٰابَآئَکُمْط قَالُوْآ اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ۔۔۔اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک ملت پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں ۔ (نبی نے) کہا کہ اگر چہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پا یا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے انکاری ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے۔ (الزخرف 43آیت 23-24)
اس صورت حال کی بڑی ذمہ داری اُن نام نہاد علماء اورمصلحین پرہے جنہوں نے دین کے بنیادی مواخذسے روگردانی کی یعنی کتاب اللہ اوراسوۃ رسول ﷺ کو پس پشت ڈال کر انسانوں کی مرتب کردہ کتب اورافکارکو اپنی راہ عمل بنایااورلوگوں کو انہی میں مشغول اوردنیااورآخرت کے فائدوں کے لالچ میں رکھا،یقین دہانیاں اورضمانتیں دیتے رہے۔آج چاروں طرف خانقاہیں اوربے شمار خلفائے مجاز ہیں اوراکثرمسلمان اپنے بزرگوں اوراپنے تئیں حضراتِ اقدس کے ملفوظات کو الہامی نکات کا درجہ دیتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ ۔۔۔ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑکر اپنے عالموں اوردرویشوں کو رب بنایا ہے (التوبۃ:9آیت 31)
جھوٹے،شرکیہ اورمافوق الفطرت واقعات پرمبنی کتب ہی ان کا اوڑھنا بچھوناہے اورصرف انہی کومعیارِعمل بناتے ہیں اور قرآن کریم میں ان کا تعاقب یوں کیاگیاہے :مَا لَکُمْوقفۃ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَج۔۔۔ اَمْ لَکُمْ کِتٰبٌ فِیْہِ تَدْرُسُوْنَلا۔۔۔ اِنَّ لَکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَج۔۔۔ اَمْ لَکُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِلا اِنَّ لَکُمْ لَمَا تَحْکُمُوْنَج۔۔۔ سَلْہُمْ اَیُّہُمْ بِذٰلِکَ زَعِیْمٌ ۔۔۔تمہیں
کیا ہوگیا،کیسے فیصلے کررہے ہو کیاتمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں یاتم نے ہم سے کوئی کچھ قسمیں لی ہیں ؟جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لئے وہ سب کچھ ہے جوتم اپنی طرف سے مقرر کرلو ان سے پوچھو توکہ ان میں سے کون اس بات کاذمہ دار(اوردعویدار)ہے ؟(سورۃ القلم68 آیت 36-40-)
دراصل ان نام نہادعلماء اورمصلحین کی ترجیحات کچھ اورہیں ان کے نزدیک اپنی ذاتی وقعت ، معتقدین کا جھمگٹااورعلاقائی گدّی کی بقاء زیادہ اہم ہے ۔ان کا قصور یہ ہے کہ نہ احکامات بتلائے نہ اہمیت واضح کی اورنہ ہی باز پرس کی ۔بے پردگی اسی عمومی تنزلی کی ایک جھلک ہے آج تقریباہر شعبے میں مسلمان قرآن وسنت سے دور ہے۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ لوگوں کی اکثریت آج بھی دینی مصروفیات میں علماء دین کی دی ہوئی ہدایات (Guide Lines) کے مطابق عمل کرتی ہے۔ اگر چہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ علماء کے اپنے قول و فعل میں تضاد کی وجہ سے اس وقعت میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ یہ علماء جس چیز کی اہمیت بڑھا دیں عوام اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور جس چیز سے علماء صرفِ نظر کریں چاہے وہ اچھائی کا حکم ہو یا برائی سے روکنا اس چیز پر عمل یا اجتناب دونوں کے
حوالے سے عوام کا رد عمل غیر اسلامی نظر آتا ہے ۔ مثلاً علما 12ربیع الاول کو بہت اہمیت دیتے ہیں تو عوام کا جوش و خروش واضح ہے۔ لیکن علماء اسی اہمیت کے ساتھ بسنت منانے سے عوام کو نہیں روکتے تو یہی عوام اس موقع پر بھی جوش خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔اسی طرح یہی علماء جب تراویح کی ادائیگی کو اہمیت دے کر بیان کرتے ہیں تو مساجد میں تراویح کا عالیشان اہتمام ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں فرض نمازوں کی اہمیت کو جو کہ تراویح سے بھی زیادہ اہم ہے بیان نہیں کی جاتی تو فرض نمازوں میں مساجد میں لوگ نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔ آخر کیوں ؟؟؟ وجہ یہ ہے کہ علماء اورمصلحین اپنی پسندکے شعبوں میں محنت کرتے رہے اورذاتی افکارکو پروان چڑھاتے رہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم میں احکام ستر وحجاب کے واضح احکامات کے باوجود بے پردگی اس قدر پروان چڑھتی رہی علماء کی کثیر تعدادنے اپنے ارادتمندوں کی بروقت اورمؤثرباز پرس نہ کی۔نہ مقاطعے کی دھمکی دی اورنہ ہی اس پر عمل درآمد کیا بلکہ اپنے تعلقات کو مقدم رکھا اوربوجوہ صرفِ نظرکرتے رہے چنانچہ آج نتیجہ سامنے ہے جو کچھ اسلام کے نام پر آج رائج ہے وہ کچھ اورہی چیزہے یہ صورت حال پندرہ شعبان کی شب اورستائیس رمضان کی شب کے مسلمانوں کے عمومی رویئے کے تقابل سے بھی واضح ہوجا تی ہے آخر مسلمان کس کے کہنے پر پندرہ شعبان کواہمیت دیتے ہیں اوربازاروں سے دوررہتے ہیں اورعورتیں ڈھونڈنے سے بھی نظرنہیں آتیں اوریہی مسلمان رمضان کے آخری عشرے کی عظمت اوراہمیت واضح ہونے کے باوجودبے حس ولاپرواہ رہتے ہیں اوربازار بے پردہ خواتین سے بھرے نظرآتے ہیں اورشیطان کی اندرسبھاکا منظرپیش کرتے ہیں ۔آخرکیوں؟؟؟
اوراس کی ذمہ داری کا تعین کس پر کیاجائے؟یقینا اس قسم کی مذہبی افراط تفریط میں کفار،سیاست دانوں اوردانشوروں کاکوئی ہاتھ نہیں ۔اسی طرح کچھ حضرات اپنی پسند کے امر بالمعروف کی آڑ میں بوجوہ مصروف رہتے ہیں اورنہی عن المنکرکا فریضہ فرقہ واریت کے بڑھنے کے خدشے کے بہانے کے تحت نظرانداز کرتے رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ یہ ستم کیاگیاکہ مختلف معاملات ومسائل حل کیلئے جومسنون اذکار، اوردعائیں شریعت نے بتائی ہیں ان سے مسلمانوں کو دور کرکے تقریباہرایک گروہ نے اپنے طورپر مرتب کردہ اذکاراوردعاؤں کا ایک ایسا متوازی نظام ترتیب دیاہے جو ایک طرف نتیجہ اوروعدہ کے اعتبار سے نہایت پرکشش ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کوعبادات اوردیگر حدود وقیود بشمول پردہ اور اس کے احتساب سے بے فکر کرتاہے مثلاً شریعت میں مسنون دعاؤں اوراذکارکی افادیت اُس وقت ممکن ہے جب انسان پہلے صحیح العقیدہ ہو، عبادات کی مسنون طریقے سے ادائیگی کرے اورمنکرات سے اجتناب کرے مگریہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر مسئلہ کے حل مثلا ً بچہ
پیداہونے سے لیکر اس کی شادی، کاروبار اورموت تک کے تمام معاملات کیلئے اسلام کے برعکس صرف دعاؤں اوراذکار کا ایسا متوازی نظام وضع کیاگیاہے جو ہر لحاظ سے کم خرچ بالا نشین ہے اورمسلمان کو عقائد اور عبادات سے اورگناہوں کے وبال اوراحتساب سے بے فکررکھتاہے قرآن مجید جیسے دستورِ حیات اوراسوۃ رسول ﷺ کو چھوڑکر شخصی نظاموں میں گرفتار اورفلاح تلاش کرنے والوں کاانجام ایسا ہی ہوتاہے کہ اقوامِ عالم میں بے وقعتی اورذلت ان کا نصیب بن جاتی ہے اگرچہ پیسے اوروسائل کے اعتبارسے مسلمان کے پاس بہت کچھ ہے ،مگر عزت ووقار سے محروم ہے خود اپنے دین سے استہزاء اورمن چاہی خلاف ورزی کرنے والوں کو عزت کیسے نصیب ہو سکتی ہے ۔ قرآن کریم میں اس صورتحال کو یوں بیان کیاگیاہے :
سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَکُوْا بِاﷲِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًاج وَ مَاْواٰاہُمُ النَّارُط وَبِئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ۔۔۔ ہم عنقریب انکار کرنے والوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں کی ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اوریہ ان ظالموں کی بری جگہ ہے ۔ (آل عمرن3آیت 151)
مسلمان خود فیصلہ کر لیں کہ آج دنیامیں مرعوب کون ہے اورکونسافریق ذلیل ورسواہے یعنی غیرمسلم یانام کے مسلمان؟ اور کون ساگروہ حق واضح ہوجانے کے باوجودشرک جیسے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے ۔یہ المیہ ہے کہ اس وقت دادادادی اورنانا نانی کی نسل کے لوگ تک متأثراورلاعلم ہیں اور اسلام کے اہم اصولوں سے بے بہرہ ہیں وہ اپنی اولادکی بھی ضروری تربیت نہیں کرسکے تو اس بات کی
کیا توقع کی جائے کہ پوتے پوتی اور نواسے نواسی وغیرہ کو احکا م دین معلوم ہونگے ان سب کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے آج کی نسل زیادہ پریشانی میں مبتلا ہے آج کی پاکستانی نوجوان لڑکیوں کو شائد یہ بات بتائی ہی نہیں گئی کہ چہرہ اوربازو بھی چھپانے کی چیزیں ہیں اور پردے کے ضمن میں آتی ہیں ۔اب مستورات کی اصطلاح عملاًغیرمستعمل ہے کیونکہ اب مستور(باپردہ)خواتین کا وجودڈائنوسارکی طرح معدوم ہوتاجارہاہے ۔ مسجد میں عورتوں کے باپرد آنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جبکہ بازارمیں بے پردگی پر کوئی تنقید یا لازمی فتویٰ نہیں جاری کیاجاتاہے۔یہ اسی بنیادی لا علمی کا نتیجہ ہے کہ لڑکیوں کا ٹخنہ تو کیا پنڈلی بھی کھل گئی اور مرد حضرات چھپانے پر آئے توٹخنہ بھی چھپادیایعنی شلوار ،پینٹ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے کردی اور تفریط کی صورت میں نیکر گھٹنوں سے اوپرہوگئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ثمرات اس پرکامل عمل درآمد کی صورت میں ہی سامنے آئیں گے اورجزوی عمل درآمدیعنی آدھاتیترآدھابٹیروالی صورتِ حال سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا اس حوالے سے اسلام کا نقطہ نظران دوآیات سے واضح ہوجاتاہےارشاد باری تعالیٰ ہے:اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِط وَ مَا اﷲُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔۔۔کیا بعض احکامات پر ایمان رکھتے ہو اوربعض کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ تم میں سے جو بھی ایساکرے اس کی سزا اس کے سوا کیاہوکہ دنیامیں رسوائی اورقیامت کے دن سخت عذاب کی مار اوراللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبرنہیں (البقرۃ 2آیت 85)
نیزارشاد باری تعالیٰ ہے:یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص وَ لااَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌاے ایمان والواسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہاراکھلا دشمن ہے (البقرۃ2آیت208)
چنانچہ ہمیں چاہئے کہ خودکومکمل طورپراسلام میں ڈھالیں اسلام کو خواہشات کے مطابق تبدیل (AdjustاورModify)نہ کریں کیونکہ شریعت کے احکام نہیں بدل سکتے یہ فطرت کے خلاف ہے اوراگر ایسا جواز نکالا گیا تو اس کی کوئی انتہاء نہیں ہوگی۔وہ لوگ جو احکام شریعت پر لب کشائی کرتے ہیں اوربتدیلی کے خواہاں ہیں ان کو چاہئے کہ وہ کم ازکم اِن دوآیات کومدنظررکھیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ ٰاٰیتُنَا بَیِّنٰتٍلا قَالَ الَّذِیْنَ لااَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ہٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُط قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیِٔ نَفْسِیْج اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّج اِنِّیْٓ اَخَافاُا اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۔۔۔اورجب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہے جو بالکل صاف صاف ہیں تویہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امیدنہیں یوں کہتے ہیں کہ اس کے سواکوئی دوسراقرآن لایئے یا اس میں کچھ ترمیم کردیجئے آپ یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردوں بس میں تواسی کا اتباع کروں گا جومیرے پاس وحی کے ذریعہ سے پہنچاہے اگرمیں اپنے رب کی نافرمانی کروں تومیں ایک بڑے دن کے عذاب کااندیشہ رکھتاہوں (سورۃ یونس10 آیت15)
نیز فرمایا:وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآئَہُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِلا اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَاوراگرآپ (محمدﷺ)باوجودیہ کہ آپ کے پاس علم آچکاپھربھی ان کی خواہشوں کی پیچھے لگ جائیں تو یقینا آپ بھی ظالموں میں سے ہوجائیں گے(سورۃالبقرہ2 آیت145)
نیز فرمایا:وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآئَہُمْ بَعْدَ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِلا مَا لَکَ مِنَ اﷲِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لااَا وَاقٍ۔۔۔اگر آپ نے ان کی خواہشوں کی پیروی کرلی اس کے بعدکہ آپ کے پاس علم آچکاہے تو اللہ تعالیٰ (کے عذابوں )سے آپ کوکوئی حمایتی ملے گا اورنہ ہی بچانے والا(سورۃ الرعد13 آیت37)
اورقانونِ شریعت میں عدم تبدیلی کی حکمت بھی اللہ تعالیٰ نے خود بیان کردی:وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَہْوَآئَہُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْہِنَّط بَلْ اَتَیْنہُمْاٰا بِذِکْرِہِمْ فَہُمْ عَنْ ذِکْرِہِمْ مُّعْرِضُوْنَ۔۔۔ اگرحق ہی ان کی خواہشوں کا پیروکارہوجائے توزمین وآسمان اوران کے درمیان کی ہرچیز درہم برہم ہوجائے حق تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچادی ہے لیکن وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں ۔ (سورۃ المومنون آیت:71)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: