آپﷺ کیسے تھے؟-5

ہم کپڑے کیسے پہنیں ؟
پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہمیں ایسا لباس پہننا چاہیے جو پوری پوری ستر پوشی کر سکے اور جس سے ہم میں غرور نہ پیدا ہو سکے۔ عورتوں اور مردوں
کے لباس میں فرق ضروری ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ خدا نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں جیسے کپڑے پہنتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت ہے جو مردوں کے لباس کی نقل کرتے ہیں ۔
آپﷺ نے مردوں کے لیے ریشمی کپڑا پہننا حرام قرار دیا ہے۔ آپﷺ کو سفید رنگ کا کپڑا بہت پسند تھا۔ آپﷺ نے فرمایا سفید کپڑا سب سے بہتر ہے۔ اور سرخ کپڑا مردوں کے لئے ناپسند کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ ٹخنوں سے اونچا پایجامہ اور لنگی رکھنے سے انسان ہر طرح کی نجاستوں سے پاک رہتا ہے۔ یعنی راستہ کی گندگی اور دل کی گندگی(غرور)سے بچا رہتا ہے۔
حضورﷺ نے سادہ ، باوقار اور سلیقہ کا لباس پہننے کی ہدایت فرمائی ہے۔ آپﷺ بے ڈھنگے پن کے لباس کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
آپﷺ چھینک اور جمائی کیسے لیتے تھے؟
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ چھینک لیتے تو منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھ لیتے جس سے آواز یا تو بالکل دب جاتی یا بہت کم ہوجاتی ایک اور حدیث میں ہے کہ اونچی جمائی اور بلند چھینک شیطان کی طرف سے ہے، اللہ ان دونوں کو نا پسند فرماتا ہے۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کو آپﷺ کے سامنے چھینک آئی، آپ نے قاعدے کے مطابق یرحمک اللہ کہا۔
ذرا دیر بعد اُسے پھر چھینک آئی تو آپﷺ نے کچھ نہیں کہا بلکہ فرمایا اسے زکام ہے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو دوست رکھتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے(کیونکہ یہ کاہلی اور سستی کی نشانی ہے)جب چھینک آئے تو الحمد للہ کہو،دوسرے کو چھینکتے اور یہ کہتے سنو تو یرحمک اللہ کہو ، پھر چھینکنے والا جواب میں یھد یکم اللہ و یصلح بالکمکہے۔(بخاری)
آپﷺ سلام کرنے میں پہل کرتے
رسول اللہ ﷺ کو سلام کرنے کی عادت بہت پسند تھی۔ آپ سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا تین باتیں جس کسی میں جمع ہوگئیں(سمجھ لو کہ)اس میں ایمان جمع ہو گیا۔
1- اپنے نفس کے ساتھ انصاف کرنا
2- ہر جانے انجانے کو سلام
3- تنگی میں خدا کے نام پر خرچ کرنا۔(بخاری)
آپﷺ کی سنت تھی کہ جب کہیں آپﷺ جاتے سلام کرتے۔ آپﷺ نے فرمایا:
اگر کوئی سلام سے پہلے کچھ پوچھے تو جواب مت دو۔
ایک مرتبہ کچھ لڑکے کھیل رہے تھے ، ان کے پاس سے آپﷺ کا گزر ہوا تو آپﷺ نے ان کو سلام کیا۔(مسلم) آپﷺ سلام کا جواب ہمیشہ زبان سے دیا کرتے تھے۔ ہاتھ یا انگلی کے اشارے یا صرف سر ہلا کر کبھی جواب نہیں دیتے۔ جب کوئی کسی دوسرے کا سلام آکر پہنچاتا تو آپﷺ سلام کرنے والے اور پہنچانے والے دونوں کو جواب دیتے۔ فرماتے علیہ وعلیکم السلام۔
Advertisements
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: