خَتمِ نبَّوت پر حملے:-4

12ہجری میں مسیلمہ کذاب
اس کا نام مسیلمہ بن ثمالہ تھا یہ جھوٹا نبی بنو حنیفہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا ۔ اختلافِ روایت سن نو ہجری یا دس ہجری میں نجد کے وفد بنو حنیفہ کے ساتھ یہ بھی مدینہ آیا۔ اس کے سوا تمام ارکان وفد نے حاضر دربارِ رسالت ہوکر اسلام قبول کرلیا مگر یہ محروم رہا۔ دوسری روایت کے مطابق مسیلمہ بن حبیب کذاب، جرجان بن عنہم ،طلق بن علی،سلمان بن حنظلہ شامل تھے ان لوگوں نے مدینہ میں پہنچ کر اسلام قبول کیا، پندرہ روز ٹھہرے رہے اورابی بن کعب سے قرآن مجید سیکھتے رہے،اس وفدکے اورلوگ تو اکثر خدمت میں حاضر ہوتے تھے ،مگر مسیلمہ باجازت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جائے قیام پر اسباب کی حفاظت کے لئے رہتا تھا، اسی سال دس یا زیادہ آدمیوں کا وفد بنو کندہ کا آیا،اسی زمانے میں کنانہ کے وفد کے ساتھ حضرت موت کا بھی وفد آیا، ان سبھوں نے بطیب خاطر اسلام قبول کیا،اسی زمانے میں وائل بن حجر خدمت نبوی میں حاضر ہوکر مسلمان ہوئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے داخلِ اسلام ہونے سے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اورمعاویہ بن ابو سفیان کو حکم دیاکہ وائل بن حجر کو لے جاکر ٹھہرائیں ،وائل بن حجر سوار تھے اور معاویہؓ پیادہ،معاویہ نے اثنائے راہ میں کہا کہ تم مجھے اپنی جوتیاں دےدو،میرے پاؤں زمین کی گرمی سےجلے جاتے ہیں،وائل نے کہا میں تم کو نہیں دوں گا کیونکہ میں ان کو پہن چکا ہوں ،معاویہ نے کہا اچھا تم اپنے پیچھے مجھ کو بٹھالو، وائل نے جواب دیا کہ تم بادشاہوں کے ساتھ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے،معاویہؓ نے کہا کہ میرے تو پاؤں جلے جاتے ہیں وائل نے کہا کہ تمہارے لئے کافی ہے کہ میرے ناقہ کے سائے میں چلو،یہی وائل زمانہ خلافت معاویہؓ میں ان کے پاس وفد ہوکر گئے تو انہوں نے ان کی بڑی عزت کی تھی،اسی سال محارب کے تین آدمیوں کا اورمذ حج کے پندرہ آدمیوں کا وفد آیا،ان لوگوں نے قرآن پڑھا اور فرائضِ اسلام کی تعلیم سے واقف ہوکر اپنی قوم میں واپس گئے۔ایک روایت کے مطابق حضورﷺنےاسکےلئےارشادفرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ رہا تو حق تعالیٰ تجھے ہلاک فرمائے گا۔واپس جا کر اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے اپنی قوم (یمامہ میں)کواپناہمنوابنالیا۔اور رسول اللہ ﷺ کی طرف خط لکھامجھے اس کارِ نبوت میں آپ کا شریک کر دیا گیا ہے۔ آدھی حکومت ہمارے لیے ہے اور آدھی قریش کےلیے ۔
رسول اللہ ﷺنے اس صورت حال میں اس کی طرف ایک خط بھیجنے کا فیصلہ کیا جس میں آپ ﷺاس کو اس کی حماقتوں سے منع کرنا چاہتے تھے ۔رسول اللہ ﷺ نے جواب میں لکھا تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کی طرف ! سلام اسی شخص کے لیے ہے جو ہدایت کی پیروی اختیا ر کر لے۔
سن لو کہ ! زمین تو اللہ تعالیٰ کی ہے ، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ لیکن اچھا انجام ڈر جانے والوں کا ہی ہو گااس مقصدکےلیےرسول اللہ ﷺکی نگاہ انتخاب حضرت حبیب بن زید مازنی انصاری رضی اللہ عنہ پر پڑی کہ آپؓ یہ مکتوب مسیلمہ تک پہنچائیں ۔ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے تیز قدمی سےسفر شروع کر دیا تا کہ اس مہم کو بخوشی سر کریں جو رسول اللہ ﷺنے اس نیت سے ان کو سونپی تھی کہ مسیلمہ کا دل حق کی طرف رہنمائی پا لے ۔
جناب حبیب بن زید رضی اللہ عنہ نے مطلوبہ مقام پر پہنچ کر خط مسیلمہ کے حوالے کردیا ۔ مسیلمہ کذاب نے خط کھولا تو خط نو رو ضیا ء نے اس کی آنکھیں اندھی کردیں اور غرور و ضلالت میں اور بڑھ گیا ۔ ادھر دین عظیم یعنی اسلام کے معیارات اور پیمانوں نے چاہا کہ عظمت و بطولت کے وہ دروس جو اس نے مکمل طورپرانسانیت کے سامنے پیش کر دیے ہیں ان کے اندر ایک نیا درس شامل کر دے جس کا موضوع اور استاد اس بار جناب حبیب بن زید رضی اللہ عنہ ہوںمسیلمہ
ایک شعبدہ باز سے زیادہ کچھ نہ تھا ۔ وہ جگہ جگہ شعبدہ بازی کرنے والوں کی تمام تر عادات و خصائل اپنے اندر رکھتا تھا ۔ اس طرح اس کے اندر کوئی مروت تھی نہ عرب نسلیت اور نہ کوئی آدمیت جو اس کو اس پیغام رساں کے قتل سے باز رکھتی ۔ جس کا عرب بڑا احترام کرتے اور مقدس جانتے تھے ۔
مسیلمہ کذاب نے اپنی قوم کو ایک روز اکٹھے ہونے کا کہا پھر رسول اللہ ﷺکے پیغام رساں جناب حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کو لایا گیا جن کے اوپر اس تشددسےتعذیب کے آثار دکھائی دے رہے تھے جو مجرموں نے ان کے اوپر توڑے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ جناب حبیب رضی اللہ عنہ کی روح شجاعت کو سلب کر لیں گے اور آپؓ لوگوں کے سامنے آئیں گے تو مطیع ہو چکے ہوں گے اور جب مسیلمہ پر ایمان لانے کے لیے کہا جائے گا تو فوراً ایمان لے آئیں گے ۔ کذاب اور مکار اس طریقے سے ذہن میں تیار کیا ہوا معجزہ اپنے فریب خوردہ پیرو کاروں کے سامنے دکھانا چاہتا تھا ۔
مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب رضی اللہ عنہ سے پوچھااتشھد اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہ ؟
’’کیا تو شہادت دیتا ہے کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ؟ ‘‘
حضرت حبیب نے جواب دیا :’’ہاں میں محمد ﷺ کو سچا رسو ل اور نبی برحق مانتا ہوں ‘‘۔
تو مسیلمہ کذاب کہنے لگا : اَتَشْھَدُ أَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ؟
’’کیا تو اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ‘‘
تو خَتمِ نبَّوت کے پروانے نے جواب دیا: أَنَا أَصَمُّ لَا أَسْمَعُ ۔
’’میں بہرا ہوں ،تمہاری یہ جھوٹی بات سننے سے میرے کان قاصر ہیں۔ ‘‘
تو اس کذاب نے جلاّدوںکو حکم دیا کہ اس کا ایک ایک جوڑ جسم سے کاٹتے جاؤ اور میری رسالت کی گواہی لو ۔میری اگر رسالت کی گواہی دےتواسےچھوڑدواوراگرمحمدﷺ کو آخری نبی مانے تو اس کی بوٹی بوٹی نوچ ڈالو ۔ چنانچہ جلادوں نے اسی طرح کیا۔ لیکن حضرت حبیب جن کے دل و دماغ کےاندررچ بس گیا تھا، مسیلمہ کذّاب کی رسالت کی گواہی کے لیے تیار نہ ہوئے بلکہ جواب میں یہ فرماتے رہے۔
أَنَا أصَمُّ لَا أَسْمَعُ
۔
’’میں بہرا ہوں ، کچھ نہیں سنتا۔‘‘
آخرکار جلادوں نے آپ کے جسم مبارک کے سارے جوڑ علیحدہ علیحدہ کر دیے۔ (الاستیعاب فی اسماء الاصحاب)
اس طرح حضرت حبیب رضی اللہ عنہ خَتمِ نبَّوت کے سب سے پہلے شہید قرار پائے ۔
اگر حضرت حبیب رضی اللہ عنہ جان بچانے کی خاطر دل سے ایمان پر قائم رہتے ہوئے مسیلمہ کذاب کی ہم نوائی کر لیتے تو ان کے ایمان میں کوئی نقص واقع نہ ہوتااور نہ ان کے اسلام کو کوئی نقصان پہنچتا ۔ مگر یہ شخص جو اپنے والد ، والدہ ، بھائی اور خالہ کے ہمراہ بیعت عقبہ میں حاضر ہوا تھا اور جس نے ان مبارک اور فیصلہ کن لمحات سے ہی اپنی بیعت اور بے نقص ایمان کامل کی ذمہ داری اٹھا رکھی تھی اس کے نزدیک یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی اور آغاز اسلام کے درمیان ایک لمحے کا بھی موازنہ کرتا اور زندگی کو اہم سمجھ کر اس کو بچانے کی راہ اختیار کرتا ۔
لہٰذا ان کے پیش نظر یہ بات نہیں تھی کہ وہ اس واحد موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی کو بچا لیتے جس موقع پر ان کے ایمان کی تمام داستا ن ، ثبات وعظمت،قربانی وبطولت اور راہ حق و ہدایت میں جان قربان کر کے مرتبہ شہادت پا لینے کے ایسے نمونے میں ڈھل گئی کہ قریب تھا کہ وہ اپنی حلاوت و دلکشی میں ہرکامیابی اور فتح و نصرت سے آگے نکل جاتی ۔
سرکوبی
ادھر اللہ کے رسول صلی الہ علیہ وسلم کو اپنے معزز پیغام رساں کی شہادت کا علم ہوا۔ آپ ﷺنے اپنے رب کے فیصلے پر صبر کیا کیونکہ آپ ﷺاللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نور بصیرت کی روشنی میں مسیلمہ کذاب کا انجام دیکھ رہے تھے اور ممکن تھا کہ آپ ﷺاس قتل کو اپنے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ فرماتے ۔

خلیفہ رسول اللہ ﷺنے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں نے چوبیس ہزار کا ایک لشکر کی اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ جھوٹا مسیلمہ چالیس ہزارکےلشکر جرار کے ساتھ مقابلے پر آیا یمامہ کی طرف جانے والے لشکر اسلام کو تیا ر کیا۔ اسی لشکر میں حضور ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاتل وحشی بھی شامل تھا جو اب مسلمان ہو چکے تھا۔
اسلام لانے کے بعد حضرت وحشی ؓسے حضور ﷺ نے انہیں اپنے سامنے آنے سے منع فرما دیا تھا کہ انہیں اپنے عزیز چچا حضرت حمزہ ؓ کی یاد آتی تھی خود حضرت وحشی ؓبھی چاہتے تھے کہ حالت کفر میں انہوں نے اسلام کی بہترین ترین شخصیت کو شہید کیا اب حالت اسلام میں کسی بد ترین شخص کو قتل کر کے دل کا بوجھ ہلکاکرسکیں حضرت وحشی ؓ نے اس جنگ میں اپنی پوری توجہ مسلیمہ کذاب پر رکھی اور پھر آخر کار انہیں دیکھ کر اپنا مشہور نیزہ پوری قوت سے مسلیمہ کی جانب پھینکا جس کی ضرب سے وہ شدید زخمی حالت میں زمین پر گرا اور پھر ایک انصاری نے اس کا سر کاٹ کر نیزے پر چڑھا لیا ۔اس عظیم جہاد میں بارہ سو صحابہ و تابعین نےاٹھائیس ہزار منکرین خَتمِ نبَّوت کو جہنم رسیدکیا۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: