پردہ ضروری کیوں-1؟

اسلامی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے پردگی اوربے باکی اس وقت ایک سنگین مسئلہ ہے غیر اسلامی معاشروں میں بھی بے حیائی کے حوالے سے وہاں کا سنجیدہ طبقہ تشویش میں مبتلا ہے۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں تبدیلی وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے وگرنہ اخلاقی انحطاط کا سیلاب سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ اس حوالے سے لوگوں کے چار گروہ پائے جاتے ہیں پہلاوہ گروہ جو ان تمام غیرمسلموں پر مشتمل ہے جو اسلام میں دل چسپی رکھتے ہیں مگراسلام کے نظام ستروحجاب کو جابرانہ اور تکلیف دہ سمجھتے ہیں اور نہ صرف مخالف پروپیگنڈہ سے متاثرہیں بلکہ مسلمانوں کی افراط وتفریط کی وجہ سے بھی متذبذب ہیں ۔ دوسرا وہ مسلمان گروہ جو احکام ِ سترو حجاب پر جزوی طورپراوررسماً عمل کرتاہے اوربے پرد لوگوں کے طور طریقوں پربڑاشاکی اور فکرمند رہتاہے۔ تیسرا وہ مسلمان گروہ جو احکاماتِ سترو حجاب کا تارک ہے اورعملاً لاعلم ہے ۔چوتھا وہ گروہ جو احکام سترو حجاب کا سخت مخالف ہے اوراس کے خلاف سازشیں کرتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔
یہ تحریرچار قسم لوگوں کیلئے لکھی گئی ہے :
1-وہ غیرمسلم جن کاذکر اوپر کیاگیاہے اورجن کیلئے اسلام کے نظامِ ستروحجاب کادفاع ہم پر فرض ہے ۔
2-وہ مسلمان جو حالات میں تبدیلی چاہتے ہیں مگربنیادی وجوہات سے لاعلم اوران کی اہمیت سے بے خبرہیں ۔یہ تحریراصل وجوہات کے ادراک اورآگے کیلئے لائحہ عمل مہیاکرتی ہے ۔
3-وہ نوجوان مسلمان مرد و خواتین ہیں جو واقعتا لا علمی کی بنیاد پر احکامِ سترو حجاب کے تارک ہیں ۔ یہ لوگ زیادہ حساس اور سمجھ دار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس ساری بحث کو غیرجانبداری اور سنجیدگی سے لیں گے اور حقائق کی بنیاد پر معاملہ کو جانچیں گے۔زندگی کے دیگر معاملات میں جستجو ،لگن اور محنت کی طرح وہ اس مسئلہ پر بھی بھرپور توجہ دیں گے اور قائل ہوں گے یا قائل کریں گے کے اصول(Convince r Be Convinced) کے تحت ایک حتمی نتیجہ اخذ کریں گے ۔
4-چوتھا گروہ ان نام نہاد مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دین کے احکام کے باغی اور سخت مخالف ہیں ۔ ان کے لئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ اغیار کی ہمنوائی میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا اتنا بھاری بوجھ نہ اٹھائیں جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ ہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْہُج وَ اِنْ یُّہْلِکُوْنَ اِلَّاآ اَنْفُسَہُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَاوریہ لوگ اس سے دوسروں کوبھی روکتے ہیں اورخودبھی اس سےدوررہتے ہیں اوریہ لوگ اپنے آپ ہی کو تباہ کررہے ہیں اورکچھ خبرنہیں رکھتے (الانعام6 آیت26)
چنانچہ ہم ایسے لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ وسیع القلبی اور ایک نئی سوچ کے ساتھ اس پورے معاملے پر اپنی معلومات مکمل کریں اور اپنے لئے ایسا راستہ اختیار کریں جو انکی دنیا و آخرت
کو محفوظ کردے۔
احکام سترو حجاب کے حوالے سے اولین نکتہ یہ ہے کہ عورت ساری کی ساری چھپانے کی چیزہے۔اس کی ضرورتوں کوپوراکرنے ،مسائل کو حل کرنے اوردیگر حقوق کی ادائیگی مردوں کے ذمہ ہے۔بنیادی طورپر گھریلو معاملات کی ذمہ دار ہے چنانچہ گھرکے اند رہنے کی چیز ہے انتہائی ضرورتوں ،مجبوریوں یا طے شدہ صورتوں میں وہ گھرسے باہرآسکتی ہے مگر تحفظات (Reservations & Concern)کے ساتھ دراصل ان تحفظات کادوسرانام ہی اسلام کانظام ِستروحجاب ہے۔
بے پردگی کے مسئلے کو مجموعی تناظرمیں لیناضروری ہے یہ غیرفطری بات ہے کہ کسی انسان کو احکام ستروحجاب پر قائل کیاجاسکے یااس کو عمل درآمد پرراضی کیاجائے جب تک دیگرتخریبی عوامل اپنامنفی
اثرجاری رکھیں ان تخریبی عوامل میں سب سے زیادہ نقصان دہ ارتکابِ شرک کی وہ عملی صورتیں ہیں جن میں آج اکثرمسلمان ملوث ہیں یعنی عقیدئہ توحید کے اطلاقی مطالبوں سے لاعلم مسلمان کیلئے شریعت پر مبنی اسلامی نظام کی سمجھ اورعمل درآمد ناممکن ہے اوراس حوالے سے نظام ستروحجاب پر بحث ثانوی حیثیت رکھتی ہے اصل اوراولین مرحلہ اتباعِ دین کیلئے ذہن سازی ہے چنانچہ اس تحریر کا فائدہ صرف اُس مسلمان کو ہوسکتاہے جو مسلمان عقیدہ توحید سے پوری طرح باخبرہو یعنی صرف اللہ تعالیٰ کو خالق ،مالک ،رب ،عبادت کے لائق اورتمام معاملات کا مختار ِکل مانتاہومحمد ﷺ کا سو فیصد
پیروکارہواوراس کی ڈور انسانوں کے ہاتھ میں نہ ہو جن کے ہاتھوں و ہ پو ری عمرپتلی تماشا بن کر زندگی گزارتاہواور اس کے علاوہ وہ موت،مراحلِ قبر، روز ِآخرت ، اللہ تعالی سے ملاقات ، احتساب اورمابعد احتساب ہمیشہ کے ٹھکانے یعنی جنت کی اہمیت اور جہنم کی سنگینی جیسے معاملات پر عملی یقین رکھتاہو کہ یہ سب حق ہیں اورجلد یا بدیر ان مراحل سے گزرناہے ۔
اس تحریرمیں خیرکی ہر بات صرف اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی وجہ سے ہے اورممکنہ طورپر غلط یا کمزور بات ہماری کم علمی یا کوتاہی کی وجہ سے ہے جس کیلئے ہم اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گارہیں ۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں  کہ وہ ہمیں حق واضح طورپردکھادے اوراس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اورباطل بھی دکھادے اوراس سے دوررہنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔آمین۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ شیطان نے حضرت آدم وحواعلیہما السلام کو جنت سے نکالنے کے لئے کیا حربہ استعمال کیا یعنی ایک ایسی غلطی اور جرم سرزد کروایا جو انہیں بے لباس کردے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نتیجہ ہمیں معلوم ہے یعنی:وَ یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ فَکُلااَا مِنْ حَیْثاُا شِئْتُمَا وَ لااَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔۔۔ فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْٰاتِہِمَا وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْن۔۔۔ وَ قَاسَمَہُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ۔۔۔لا فَدَلّٰہُمَا بِغُرُوْرٍج فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْٰاتُہُمَا
وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّ
ۃِط وَ نَاداٰاہُمَا رَبُّہُمَآ اَلَمْ اَنْہَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَ اَقُلْ لَّکُمَآ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔۔۔ ا ور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ اور اس درخت کے پاس مت جاؤ کہ کہیں ان لوگوں کے شمار میں آجاؤجن سے نامناسب کام ہوجاتاہے ۔پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کاپردہ بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبروبے پردہ کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔اور ان دونوں کے روبروقسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں ۔سو ان دونوں کو فریب سےزیرکرلیا پس ان دونوں نے جب درخت کوچکھادونوں کا پردہ بدن ایک دوسرے کے روبرو بے پردہ ہوگیا اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑجوڑکر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کوپکارا کیامیں تم  دونوں کو اس درخت سے ممانعت نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا تھا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے ۔ ( اعراف آیت :19-22)
اور یہ آیت تو اس پورے معاملے  کا خلاصہ اور آئندہ کیلئے اصول فراہم کرتی ہے یعنی:ٰیبَنِیْٓ ٰادَمَ لااَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْٰاتِہِمَاط اِنَّہٗ یَرٰکُمْ ہُوَ وَ قَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثاُا لااَا تَرَوْنَہُمْط اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآئَ لِلَّذِیْنَ لااَایُؤْمِنُوْن ۔۔۔] اے اولاد آدم ! شیطان تم کو کسی فتنہ میں نہ ڈال دے جیساکہ اس نے تمہارے دادا دادی کو جنت سےباہرکرادیا اس طرح کہ ان کا لباس بھی اتروادیا تاکہ وہ ان کو ان کا پردہ بدن دکھائے۔وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتاہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو ۔ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا رفیق بنایاہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ (سورۃ اعراف آیت :27)
ان آیات کے حوالے سے یہ اہم نکات واضح ہوتے ہیں کہ :
بے لباسی جنت سے دوری کا سبب ہے۔                                                
لباس لازمی ہے تاکہ بے پردگی کے گناہ اور جرم سے بچا جاسکے۔                 
بے پردگی شیطان کا ہتھیار ہے ۔
آدم سے لے کر قیامت سے پہلے پیداہونے والے آخری انسان غرض دنیا کے تمام انسانوں خواہ ان کا تعلق کسی بھی رنگ ، قوم،نسل، امت، علاقے، زمانے سے ہو بنی آدم ہونے کے ناطے سب کامشترکہ دشمن ایک ہی ہے اور وہ ابلیس ہے اسی نے آدم علیہ السلام کو لالچ دے کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروائی اور وہی مستقلاً بنی آدم کو مختلف قسم کے لالچ دے کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرواتا ہے تاکہ جس طرح آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلوایا اسی طرح بنی آدم کو بھی جنت سے محروم کر دیا جائے۔ یا یوں کہہ لیں کہ جس کی وجہ سے وہ خود جنت سے نکالاگیا اس کو بھی جنت سے نکلوادے !چنانچہ اگرسارے انسان اس نکتے کوعملی طورپرسمجھ لیں کہ ہر خرابی کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہے اوروہ ہر برائی کا منصوبہ ساز(Master mind)ہے اورا گر انسانوں کی ساری کوششیں اپنے اس مشترکہ دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کیلئے صرف ہوں تو دنیاایک پرسکون جگہ بن سکتی ہے ۔اس سلسلہ میں آخری بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ اصل دشمن کو فراموش کرکے انسانوں کی آپس میں محاذ آرائی اورافتراق بے معنی بلکہ نقصان دہ ہے اورمسلمانوں کے باہمی اختلاف کو باعثِ رحمت قرار دینے والے کوؤں سے بھی زیادہ بے عقل ہیں کیونکہ کوّے بھی اتحادواتفاق کی اہمیت وبرکت کو سمجھتے ہیں اورکم ازکم بحران اورمشکل کے وقت ایک ہوجاتے ہیں ۔
اب ایک اہم سوال یہ پیداہوتاہے  کہ جب ہمارے جد امجدایک بالواسطہ (indirect)غلطی کے تحت بے لباسی کی حالت وکیفیت کی وجہ سے جنت سے نکالے گئے یا یوں کہئے کہ بے لباسی جنت سے دوری کا سبب بنی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آج کوئی شخص (مرد ہویا عورت)بے پردگی بے حیائی اوربے لباسی کا مرتکب ہو اور جنت کی امید رکھے؟مندرجہ ذیل بحث اسی اہم سوال کے جواب کے ضمن میں ہے ۔(یعنی بے پردگی جنت سے دوری کا ایک ممکنہ سبب بن سکتی ہے۔)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: