خَتمِ نبَّوت پر حملے:-3

11ہجری میں  اسود عنسی
اس کا اصل نام عیلہ تھا۔ عنس بن قد حج کی نسبت کی وجہ سے عنسی مشہور ہوا۔ یہ ایک چرب زبان کاہن تھا۔ اس نے اپنی چرب زبانی اور کہانت کے زور پر بہت سےضعیف الاعتقاد لوگوں کو اپنا گرویدہ اور پیروکار بنالیا۔ اسو دعنسی نے یمن  کے لوگوں پر اس نے پورا قابو پالیا تو نبوت کا دعویٰ کردیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے۔ جو فرشتہ لاتا ہے وہ گدھے پر سوار ہوتا ہے۔اسی وجہ سے اسے ”ذو الحمار” یعنی گدھے والا کہا جاتا ہے۔ اس کی پیشگوئیوں سےمتاثرہوکرلوگوں نے بلا لیت و لعل اسے نبی مان لیا۔ اس کے خروج کی اطلاع حضرت فردہؓ بن مسیک نے مدینہ بھیجی، اس نے حضور ﷺ کے مقرر کردہ عامل شہر بن باذان کو قبیلہ مذحج کے تعاون سے شہید کر دیا اور صنعاء پر قابض ہو گیا، حضور ﷺ کے مقرر کردہ عامل حضرت خالد بن ولیدؓ بن سعید بن عاص کو نکال باہر کیا ، حضرت فردہؓ نےاطراف کے عاملوں حضرت معاذ ؓبن جبل اور حضرت اور ابو موسیٰؓ اشعری کو ساتھ لے کر حضر موت پر حملہ کر دیا، آنحضرت ﷺ نے انہیں لکھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو اسود کے فتنہ کو رفع کریں۔
سرکوبی
  اس نے اپنے پیروکاروں پر مشتمل لشکر تیار کرکے یمن کے دارالسلطنت صنعاء پر دھاوا بول دیا۔ یہ دورِ رسالت کی بات ہے۔ اس وقت صنعاءپرحضورﷺکےمقررکردہ شہر بن باذان حاکم تھے جو مقابلے میں شہید ہوگئے اور اسود صنعاء کا حاکم بن گیا اور ان کی بیوہ مرزبانہ کو جبراً اپنے عقد میں لےلیا۔جب حضور ﷺکو خبر ہوئی تو آپ ﷺنے حضرت ابوموسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جو یمن کے دیگر علاقوں کے حاکم تھے، اس جابر و ملعون مدعی نبوت کی سرکوبی کے لیے متعین فرمایا۔
  ان دونوں حضرات نے مرزبانہ سے رابطہ کرکے اسود عنسی کے قتل کا منصوبہ ترتیب دیا۔ ایک رات مرزبانہ نے اسود کو کافی مقدار میں خالص شراب پلا کر مدہوش کردیا اور مرزبانہ کے چچازاد بھائی حضرت فیروز دیلمی اپنے ساتھیوں کی مدد سے مکان میں نقب لگا کر اندر داخل ہوگئے اور ملعون کا کام تمام کردیا۔ پہرے داروں نےملعون کی خوفناک آواز سنی تو گھبرا کر دوڑے لیکن مرزبانہ نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے انہیں روک دیا کہ خاموش رہو تمہارے نبی پر وحی اتر رہی ہے۔ چنانچہ وہ خاموشی سے چلے گئے۔
  جب اذانِ فجر میں موذن نے ایک شہادت کا اضافہ کرکے کہا ”اشھد ان عیلۃ کذاب” تو سب کو قتل کی اطلاع ہوگئی اور اس کے پیروکار میں سے بہت سے مارے گئے اور بہت سے مشرف باسلام ہوگئے۔
  فوراً یہ خوشخبری مدینہ بھیجی گئی مگر جب تک حضور ﷺکا وصال ہوچکا تھا۔ رحلت سے ایک رات پہلے بذریعہ وحی الٰہی آپ ﷺنے ارشاد فرمادیا تھا کہ آج رات اسودعنسی مارا گیا ہے اور ایک مردِ مبارک نے اسے مارا ہے، اس کا نام فیروز ہے۔ پھر فرمایا ”فاز فیروز” کہ فیروز کامیاب ہوگیا۔ اس طرح یہ ناپاک مدعی نبوت انجام کوپہنچا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: