آپﷺ کیسے تھے؟-3

آپﷺ مذاق بھی کرتے تھے
 پیارے نبی ﷺ مذاق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن اس میں بھی آپ(صلی اللہ ولیہ وسلم)کبھی غلط بات زبان سے نہیں نکالتے تھے۔
ایک بار ایک بوڑھی عورت آپﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ آپ میرےلیے دعا کیجئے اللہ مجھے جنت عطا فرمائے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا مائی مجھے افسوس
ہے کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ یہ سن کر وہ بڑھیا زار و قطار رونے لگی۔ آپﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا بے شک کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جانے پائے گی البتہ اللہ تعالیٰ ان کو جوان بنا دے گا پھر وہ جنت میں جائیں گی۔ یہ سنتے ہی بڑھیا کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
 ایک شخص نے حضورﷺ سے سواری کے لیے اونٹ مانگا۔ آپﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ہم تمہیں اونٹنی کا ایک بچہ دیں گے۔ اس نے حیرت سے کہا میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ مجھے تو سواری کے لئے ایک اونٹ چاہئے۔ آپﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔ سب ہنس پڑے۔
 ایک دفعہ کھجوریں کھائی جا رہی تھیں ۔ حضورﷺ مذاق کے طور پر اپنی گٹھیاں حضرت علی ؓ کے سامنے ڈالتے رہے۔ آخر میں فرمایا کہ علی نے سب سے زیادہ
کھجوریں کھائی ہیں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ آپ نے تو گٹھلیوں سمیت کھائی ہیں ۔
آپﷺ کس طرح کھاتے پیتے تھے؟
 کھانے پینے کا سلسلے میں آپﷺ کا یہ معمول تھا کہ جو چیز سامنے رکھ دی جاتی ، آپ ﷺ ہنسی خوشی تناول فرما لیتے ، بشرطیکہ وہ پاک و حلال ہو۔ اگر طبیعت
کراہت محسوس کرتی تو ہاتھ روک لیتے مگر دسترخوان پر کھانے کی برائی نہ فرماتے۔
 ہاتھ دھو کر کھانا شروع کرتے اور پلیٹ کے کنارے سے کھاتے۔ بیچ میں ہاتھ نہ ڈالتے۔ اگر پلیٹ میں کچھ بچ جاتا تو آپ اسے پی لیتے یا انگلی سے چاٹ لیتے۔
کھانے سے فارغ ہوکر آپﷺ انگلیاں چاٹتے اور پھر ہاتھ دھو لیتے۔ ٹیک لگا کر کھانے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ پانی ہمیشہ بیٹھ کر پیتے۔ آپﷺ نے فرمایا پانی پیوں تو چوس کر پیو ، برتن میں سانس مت لو بلکہ برتن ہٹا کر سانس لے لو۔ ایک ہی سانس میں پانی نہ پیو ، دو یا تین دفعہ کر کے پیو۔ اس طرح پینا مفید ہے۔
 آپﷺ بسم اللہ کہہ کر کھانا پینا شروع فرماتے۔ جب کھا پی چکتے تو الحمد اللہ فرماتے یا پھر یہ دعا پڑھتے: الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمینساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمانوں میں سے بنایا۔
آپﷺ بہت شرمیلے تھے
شرم و حیا انسان کی قدرتی خا صیت ہے۔ یہی وہ صفت ہے جس سے ہم میں بہت سی خوبیاں پیدا ہوتی ہیں اور پرورش پاتی ہیں اور ہم بہت سی برائیوں سے بچے رہتے ہیں ۔ اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ جس میں شرم و حیا نہیں وہ ایماندار نہیں ۔
 پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ ننگے ہونے سے بچو کیوں کہ تمہارے ساتھ ہر وقت اللہ کے فرشتے رہتے ہیں البتہ جب تم پیشاب پاخانے کو جاتے ہوتو وہ الگ ہوجاتے
ہیں تو تم ان سے شرم کرو اور ان کا خیال رکھو۔
 آپ کو رسول ﷺ کے بچپن کا واقعہ تو یاد ہوگا جب کعبہ کی دیوار کی مرمت ہو رہی تھی۔ بڑوں کے ساتھ بچے بھی پتھر کندھوں پر رکھ کر لا رہے تھے۔ پیارے
نبیﷺ بھی ان میں شریک تھے۔ جب کندھے دکھنے لگے تو لڑکوں نے تہبند کھول کر کندھوں پر رکھ لیے۔ حضورﷺ کے چچا نے آپﷺ سے ایسا ہی کرنے کو کہا۔ جب بہت اصرار کیا تو مجبوری کی حالت میں آپﷺ نے تہبند کھولنا چاہا تو مارے شرم کے بے ہوش ہوگئے۔ جب چچا نے یہ دیکھا تو منع کردیا ۔۔ دیکھا آپ نے ہمارے نبیﷺ کتنے حیا دار تھے۔ آئیے ہم بھی بے شرمی کی باتوں سے بچیں تاکہ ہمارا اللہ ہم سے خوش ہو۔
Advertisements
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: