ایجاد

وہ دنیا کے بڑے آدمیوں کی فہرست پر نگاہ ڈالیں تو آپ کو ایسی بہت سی ہستیاں نظر آئیں گی کہ جنہیں  تضادات   کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے۔ آپ کو ان کی سرشت میں شیطانیت نظر آئے گی، مگر ان کے اقوال سے  رحمانیت  ظاہر ہوگی۔ انہیں دو دھاری تلوار کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ جس کی ایک دھار میں زخم اور دوسری میں مرہم ملے گا۔ابھی ہم جس شخص کا ذکر کرنے والے ہیں وہ بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔
تھا۔Plywood Manufacturer سوئیڈن میں پیدا ہونے والے اس شخص کے باپ کا نام عمانیول تھا، جو پیشے کے اعتبار سے ایک
Gunpowderیہ اس زمانے کی بات ہو رہی ہے کہ جب بارود کی صرف ایک ہی شکل محفوظ سمجھی جاتی تھی اور وہ تھی
یہ ایک رقیق تیل جیسا بارود تھا۔جسےکہا جاتا ہے۔Nitro Glycerinاسے 1846میں ایک شخص سوبری روSobrero نے ایجاد کیا تھا۔
اس میں ایک بہت بڑی خامی تھی کہ کسی اشتباہ کے بغیر بھی پھٹ جاتا تھا۔
ایجاد کیا جس میں اس نے Detonating Capیہاں سے وہ شخص داخل ہوتا ہے کہ جس کی ہم بات کرنا چاہ رہے ہیں، اس نے سب سے پہلے ایک
سے یہ فائدہ ہوا کہ نائٹرو گلیسرین جو بلا کسی اشارے کے پھٹ جایا کرتی تھی، قابو میں آگئی۔Cap استعمال کیا ۔اس Mercury Fulminate
استعمال کی جاتی ہے۔)CAPاب آدمی اپنی مرضی سے دھماکہ کر سکتا تھا۔ (تب سےآج تک کنٹرول دھماکوں کے لئے اسی کی بنائی ہوئی
مگر اب بھی اس کے پھٹنے کے خطرات پوری طرح درپیش ہتے تھے ۔ اس شخص نے نائیٹرو گلیسرین کو کاغذ ،اینٹوں، گرد وغیرہ میں جذب کرنے کا تجربہ کیا ۔ اس طرح یہ مادہ کہیں بھی بغیر کسی خطرے کے لایا لے جایا سکتا تھا۔
کی ایک قسم میں یہ مادہ عمدگی سے جذب ہو جاتا ہے۔Silicaاس تجربے کے دوران اس پر انکشاف ہوا کہ خشک
کا استعمال کیا جاتا۔یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔CAPصرف یہی نہیں بلکہ دھماکہ اس وقت ہو سکتا تھا جب
کا تحفہ ملا۔ یہ 1866 کی بات ہے۔DYNAMITE دنیا کو اس وقت پہلی بار
ایجاد کی ۔ GELIGNITE بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس نے اس ایجاد سے آگے ایک اور طاقت ور چیز ناٹروگلیسرین اور گن کاٹن کے استعمال سے
اس نے اپنی ان ایجادات سے بے پناہ دولت کمائی۔ اب اس کی اعلٰی ظرفی دیکھئے :
چونکہ سوبری رو وہ آدمی تھا کہ جس نے گن پاؤڈر ایجاد کیا تھا اور اس کو بنیاد بنا کر اس نے ڈائنامائٹ بنایا تھا لہٰذا اس نے سوبری کو بلایا اور اپنے ہاں تا حیات ملازمت دے دی۔
اس نے  بوفوس  سٹیل مل کو خرید کر اسے سویڈن کی فوجی جنگی سامان تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی میں تبدیل کر دیا ۔ مصنوعی تیار کئے گئے عنصر   نوبلیئم  کا نام بھی اس کے نام پر رکھا گیا ہے ۔
ہماری اس دنیا میں ہر سال دیئے جانے والے ان انعامات سے تو اچھی طرح واقف ہی ہیں جو بہت سے شعبوں کے اعلٰی اذہان کو دیئے جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے۔اس کی بنیاد اسی شخص نے رکھی تھی جس کا آپ ذکر پڑھ رہے ہیں۔Noble Prizeجنہیں
ان انعامات کا منبع وہی دولت ہے کہ جو اس نے اپنی ان برباد کن ایجادات سے حاصل کی تھی۔اپنی وصیت میں اس نے اپنی بے شمار دولت کا ایک بڑا حصہ نوبل انعام دینے کے لئے اور اس دنیا کی تعمیر کے لئے وقف کر دیا تھا ۔
سویڈن کا یہ کیمیادان ، انجینیئر ، دنیا کو نئے خیالات سے روشناش کروانے والا ، فوجی جنگی ساز و سامان تیار اور ڈیزائن کرنے والا اور حیرت انگیز ایجاد
ڈائنامائیٹ کے اس موجد کا نام تھا ” الفریڈ برنارڈ نوبل”
نوبل انعام دنیا کا اعلیٰ ترین علمی انعام سمجھا جاتا ہے جو ہر سال نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے کیمسٹری، فزکس، میڈیسن، اکنامکس، ادب اور امن کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے حامل افراد کو دیا جاتا ہے۔ انعام عطا کرنے کے لیے ہر سال 10 دسمبر کو تقریب منعقد ہوتی ہے۔نوبل ایوارڈ کی بنیاد 1900میں رکھی گئی ہے۔
الفریڈ نوبل  جو ایک کیمیکل انجینئر تھا ،عمانوئیل نوبل اور آندریتےاہیلسل نوبل کا تیسرا بیٹا تھا اور 21 اکتوبر 1833ء ميں سٹاک ہوم ، سویڈن میں پیدا ہوا ۔ بعد میں یہ اپنے خاندان کے ساتھ سینٹ پیٹرز برگ ، روس چلا گیا ۔ یہاں اس کے والد نے تارپیڈو بنانے کا کام شروع کیا ، پلائی وڈ بھی اس کے والد کی ایجاد تھی ۔ الفریڈ نوبل نے پروفیسر نکولائی نکولائیوچ زینن سے کیمسٹری پڑھی اور 18 سال کی عمر میں 4 سال کے لئے کیمسٹری پڑھنے امریکا چلا گیا ۔ یہاں اس نے کچھ عرصے کے لئے جان ایریکسن کے پاس بھی کام کیا ۔ 1859ء میں اسکے والد کی فیکٹری اس کے دوسرے بھائی لودویک نوبل کی نگرانی میں چلی گئی ، جس نے اس فیکٹری کو بہت وسعت دی ۔ اپنے خاندانی کاروبار کے دیوالیہ ہونے کے بعد الفرید اپنے والد کے ساتھ سویڈن واپس چلا گیا اور خود کو دھماکا خیز مواد کے مطالعے کے لئے وقف کر دیا ، خاص طور پر اس کی محفوظ تیاری کے لئے ۔ 3 ستمبر 1864ء میں ان کی فیکٹری میں بہت بڑا دھماکا ہوا جس میں اس کے چھوٹے بھائی ایمل سمیت 5 لوگ مارے گئے ۔ الفرید نوبل نے 1895ء میں نوبل انعام کی بنیاد رکھی اپنی وصیت لکھتے وقت رکھی اور اس انعام کو چلانے کے لئے اپنی دولت کا بڑا حصہ وقف کیا ۔ 1896ء میں الفریڈ نوبل کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق کیمسٹری، فزکس، میڈیسن، ادب اور امن کے میدانوں میں گرانقدر تحقیق کرنے والے اور کار ہائے نمایاں انجام دینے والے افراد کے لیے نوبل انعام کے اجرا کا فیصلہ کیا گیا۔نوبل انعام 1901ء سے فزکس ، کیمسٹری ، طب ، ادب اور امن کے شعبوں میں نمایاں خدمات دینے والے مردوں اور عورتوں کو دیا جانا شروع ہوا ۔1967میں اکنامکس کے شعبہ کو بھی نوبل ایوارڈ میں شامل کر لیا گیا۔
 الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق انعام یافتہ شخص کے لیے   اسکینڈے نیوین   ہونا ضروری نہیں ہے۔ (سویڈن، ناروے، ڈنمارک اور فن لینڈ اسکینڈے نیوین ممالک کہلاتے ہیں) اسکینڈے نیوین کی شرط نہ رکھنے پر الفریڈ نوبل کو اس کے ہم وطنوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خیال میں نوبل انعام کے حق دار صرف اور صرف اسکینڈے نیوین باشندے ہی ہونے چاہییں تھے۔ نوبل انعام کے لیے دنیا بھر سے افراد کی نامزدگی   نوبل فاؤنڈیشن انعام ایوارڈنگ باڈی   کرتی ہے۔ فزکس اور کیمسٹری میں گرانقدر خدمات انجام دینے والوں کو   رائل سویڈش اکیڈمی   نامزد کرتی ہے۔
اپنی زمینوں اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث 1896ء میں اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔
موت سے قبل اس نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبیعات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔
اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کر دیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ 1968ء سے نوبل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نوبل فنڈ کے بورڈ کے 6 ڈائریکٹر ہیں جو دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان کا تعلق سویڈن یا ناروے کے علاوہ کسی اور ملک سے نہیں ہو سکتا۔
نوبل فنڈ میں ہر سال منافع میں اضافے کے ساتھ ساتھ انعام کی رقم بھی بڑھ رہی ہے۔ 1948ء میں انعام یافتگان کو فی کس 32 ہزار ڈالر ملے تھے، جب کہ 1997 میں یہی رقم بڑھ کر 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
نوبل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10 دسمبر 1901ء کو منعقد ہوئی تھی۔ تب سے یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو ہوتی ہے۔
علمی شہرت کے ساتھ نوبل ایوارڈ مالی حوالے سے بھی ایک پرکشش انعام سمجھا جاتا ہے۔ نوبل ایوارڈ کا کیش انعام 40١ ملین ڈالر (تقریباً 12کروڑ روپے) ہے۔
الفریڈ نوبل سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔ اگرچہ الفریڈ ساری عمر غیر شادی شدہ رہا لیکن اس کے سوانح نگار کم از کم اس کے تین معاشقے لکھتے ہیں ۔ الفرید کا پہلا معاشقہ روس میں ایک روسی لڑکی الیگزینڈرا کے ساتھ تھا ، جس نے اس کے شادی کے پیغام کو رد کر دیا ۔ 1876ء
میں بیروتھا کنسکی اس کی سیکٹری بنی ، لیکن کچھ عرصے بعد اس نے اس کو چھوڑ کر  بارن آرتھر گونڈاکار شٹنز  کے ساتھ شادی کر لی ۔ اگرچہ اس کا الفریڈ کے
ساتھ تعلق بہت کم عرصے رہا لیکن اسنے الفریڈ کے ساتھ خط و کتابت 1896ء میں اسکی موت تک رکھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنی وصیت میں امن کا نوبل انعام رکھنے کا فیصلہ بھی اسنے بیروتھا کے مشورے سے کیا تھا ۔ 1906ء کا امن نوبل انعام بیروتھا وان شٹنز کو اسکی امن کے لئے کوششوں پر دیا گیا ۔

الفرید کی تیسری اور سب سے زیادہ عرصے تک 18 سال تک قائم رہنے والی محبت ویانا کی ایک پھول بیچنے والی لڑکی صوفیہ کے ساتھ تھی ۔ اپنے بہت سارے خطوط میں الفرید نے اس کو  میڈم صوفیہ نوبل بھی لکھا ہے ۔

امتیازی خصوصیات
زمرہ
رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے طبیعیات کے شعبے میں اہم ترین دریافت یا ایجاد کی ہو
طبیعیات کا نوبل انعام
رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے طبیعیات کے شعبے میں اہم ترین دریافت یا بہتری کی ہو
کیمیا کا نوبل انعام
کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے طب کے شعبے میں اہم ترین دریافت کی ہو
نوبل انعام برائے طب
سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے ادب کے شعبے میں نمایاں کام کیاہو
ادب کا نوبل انعام
نارویجیئن نوبل کمیٹی کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے اقوام کے درمیان دوستی، افواج کےخاتمے یا کمی اور امن عمل تشکیل دینے یا اس میں اضافہ کرنے کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔
امن کا نوبل انعام
اسے باضابطہ طور پر الفریڈ نوبل یادگاری The Sveriges Riksbank Prize کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی سفارش نوبل نے نہیں کی تھی۔ یہ انعام "رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز” دیتی ہے
اقتصادیات کا نوبل انعام
دنیا میں سب سے زیادہ نوبل انعام مجموعی طور امریکی شہریوں نے حاصل کیے ہیں۔ جبکہ انٹرنیشنل ریڈکراس تنظیم نے امن کے تین نوبل انعام حاصل کیے ہیں۔
 دنیا میں پہلی نوبل انعام یافتہ خاتون مادام کیوری تھیں، جنھیں 1903میں فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔
 جنوبی ایشیا میں ادب کا پہلا نوبل انعام بنگالی زبان کے معروف شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کو   گیتا نجلی   پر دیا گیا۔ 1979میں پاکستان نژاد سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام (قادیانی)کو فزکس میں نوبل انعام دیا گیا۔
پاکستان کا واحد نوبل انعام فزکس کے میدان میں1979میں  مرحوم ڈاکٹر عبدالسلام کو ملا۔ڈاکٹر عبدالسلام  پنجاب کے شہر جھنگ میں 1926 میں پیدا ہوۓ اور اکتوبر 1996 میں وفات پائی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے 14 سال کی عمر میں پورے پنجاب میں میٹرک میں پہلی پوزیشن لی،گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹر ڈگری اور 1949 میں کیمبرج یونیورسٹی سے ریاضیاور فزکس میں گریجویشن کی۔ نظریاتی فزکس میں 1951میں کیمبرج یونیورسٹی سے ایچ ڈی کی۔گورمنٹ کالج لاہور میں1951 سے 1954 تک ریاضی کے پروفیسر رہے اور پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے لیئے بھی کام کیا۔Carl Gustav XVIمعروف پاکستانی ماہرِ طبیعات ڈاکٹر عبدالسلام نے دس دسمبر 1979ءکو سویڈن کے بادشاہ کارل گستاوکے ہاتھوں فزکس میں نوبل انعام کی جو سند وصول کی تھی وہ اٹلی میں ڈاکٹر سلام کے قائم کردہ سائنسی تعلیم کے بین الاقوامی مرکز میں تھی۔ اس مرکز کا نامہے۔Abdul Salam International Centre for Theoretical Physicsاس مرکز سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ سائنسدان فیض یاب ہو چکے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق ترقی پذیر ملکوں سے تھا۔اس ادارے نے ڈاکٹر عبدالسلام کی جس پاکستانی کالج میں ابتدائی تعلیم مکمل ہوئی اور جس کالج میں وہ 1951ءسے1954ءتک ریاضی کے پروفیسر رہے، اس کالج کو خراج عقیدت کے طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کا نوبل انعام سرٹیفیکٹ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کوعطیے کے طور پر 2007میں دیا۔ڈاکٹر عبدالسلام کو گورنمنٹ کالج لاہور سے اپنی وابستگی پر ہمیشہ فخر رہا اور اب ان کو دیے گئے نوبل انعام کی سند اسی ادارے کی لائبریری کے میوزیم میں آویزاں ہوگئی ہے۔
مارچ 2004کو ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں معروف شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے نوبل تمغے اور اعزازی سرٹیفکیٹ سمیت ان کی گھڑی، سونے کی انگوٹھی، قیمتی پینٹنگز اور مزید چند چیزیں چوری ہوگئی ہیں۔ٹیگور کو نوبل انعام انکی شاعرانہ تخلیق گیتا نجلی کے لئے1913 میں دیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق یہ تمغہ اور سرٹیفکیٹ اس عمارت سے چوری ہوئے ہیں جہاں بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور رہا کرتے تھے۔ شانتی نکیتن کے قصبہ میں اتریان نامی کمپلکس میں جہاں ٹیگور کا گھر تھا اور اب وشوا بھارتی یونیورسٹی بھی قائم ہے، ایک عجائب گھر قائم کیا گیا تھا۔
مئی 2005میں سویڈن نے ہندوستان کو رابندرناتھ ٹیگور کے نوبل انعام کی دونقول پیش کر دی ہیں۔ہندوستان میں سویڈن کے سفیر نے یہ تمغہ وزیرخارجہ نٹور سنگھ کو وشوبھارتی یونیورسٹی کی ایک تقریب میں پیش کیا۔ مشہور ادیب، مصور و دانشور رابندر ناتھ ٹیگور کا تمغہ گزشتہ برس یونیورسٹی کے عجائب گھر سے چوری ہوگیا تھا۔
اکثر یہ سوال بھی پوچھا جاتا ہے کہ علامہ اقبال اور مہاتما گاندھی کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا؟
معروف ڈرامہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر عارف وقار نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے :علامہ اقبال کے مداحوں کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اوّلین نوبل انعام کا اعزاز اقبال کی بجائے ٹیگور کو حاصل ہوا۔ شاید اس  زیادتی  کی تلافی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں میں اقبال کو بھی اس انعام کا مستحق قرار دے دیا جاتا لیکن 1913 سے 1938 تک کے 25 برسوں میں ایک بار بھی نوبل کمیٹی کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔
چونکہ نوبل کمیٹی کی تمام دستاویزات اور خط و کتابت پر پچاس برس تک اِخفاء کی پابندی رہتی ہے اس لیے سن ساٹھ کے عشرے تک یہ محض ایک راز تھا اور اس
پر ہر طرح کی چہ می گوئیاں ہوتی تھیں۔اسےایک سوچی سمجھی سازش بھی قرار دیا جاتا تھا ۔علامہ اقبال کو نوبل انعام سے کیوں محروم رکھا گیا تھا۔
1963میں پرانے دستاویزات کے سامنے آنے پر کھُلا کہ کمیٹی نے کوئی سازش نہیں کی تھی اور نہ ہی علامہ اقبال کی نامزدگی کا جھگڑا کبھی پیدا ہوا تھا۔لیکن اگر بنگال کے شاعر رابندر ناتھ کا نام کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تو اقبال کی نامزدگی میں کیا قباحت تھی؟ پرانے دستاویزات اس سلسلے میں کوئی واضح رہنمائی نہیں کرتے۔
1914 کےاوائل میں تیار ہونے والی ایک رپورٹ میں نوبل کمیٹی کے چئر مین ہیرلڈ ہئیارن نے جِن خیالات کا اظہار کیا ہے اُس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں چھڑنےوالی جنگ کی ممکنہ تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے کمیٹی سوچ رہی تھی کہ نوبل انعام ایسے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیئے جو جنگ اور تباہی کے پرچارک ہوں۔
ہیرلڈ ہئیارن نے مختلف ماہرین کی آراء پیش کرنے کے بعد رپورٹ میں خیال ظاہر کیا کہ ادب کا نوبل انعام دیتے وقت اس امر کو بطور خاص مدِّ نظر رکھنا چاہیئے کے یہ انعام کسی قوم پرستانہ مصنف کو نہ چلا جائے یعنی کسی ایسے قلم کار کو جو ایک مخصوص قوم کے ملّی جذبات کو ابھار کر دنیا پرچھا جانے کی ترغیب دے رہا ہو۔
اگرچہ پہلی جنگِ عظیم سے قبل بھی یورپ کے سلسلے میں اقبال کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھے لیکن جنگ کے بعد یورپ کے بارے میں اُن کی تلخی مزید بڑھ گئی۔
1907کی ایک غزل میں اقبال نے کہا تھا:
دیارِ مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے                          کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہی زرِ کم عیار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا               سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی                  جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا،ناپائیدارہوگا
1914کی ایک رپورٹ میں نوبل کمیٹی کے چیئرمین خیال ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی اتھل پتھل ایک عارضی مرحلہ ہے، ادب کو اِن وقتی مصلحتوں سے ماوراء ہوکر عالمی اور دائمی اقدار کا دامن تھامنا چاہیئے۔
کم و بیش یہی وہ خیالات تھے جن کی بنیاد پر مہاتما گاندھی کے نوبل انعام کا راستہ بھی عرصہ دراز تک رُکا رہا لیکن گاندھی کےکیس میں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام کمیٹی کے سامنے آیا اور اس پر خاصی بحث بھی ہوئی بلکہ نئی تحقیق کے مطابق تو 1948 میں انھیں انعام ملنے ہی والا تھا کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہوگئی۔
علامہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ 1913 میں ٹیگور کو انعام ملنے کے ربع صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے لیکن نوبل کمیٹی نے کبھی اُن کے نام پر غور نہیں کیا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصف النہار پر تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب اقبال کو حکومتِ برطانیہ نے ٰ سر ٰ کا خطاب عطا کیا تھا، اگرچہ یہاں بھی ٹیگور انہیں مات دے گئے کیونکہ ٹیگور کو سر کا خطاب سات برس پہلے 1915 ہی میں مِل گیا تھا۔
 آپ نے شاید کبھی یہ نہ سنا ہو کہ نوبل انعام پانے والوں کو ہتھکڑیاں بھی لگی ہیں۔ جی 2003میں ایسا ہوا ہے۔
واشنگٹن میں جنگ کے خلاف مظاہرے میں دو نوبل انعام یافتہ افراد اور دو پادریوں کو پولیس نے اس وقت گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دیں جب مظاہرین نے پولیس کی طرف سے متعین کردہ حد کو پار کرنے کی کوشش کی۔
مے ریڈ کوریگن میگوایر جن کو 1976میں نوبل انعام دیا گیا تھا اور جوڈی ولیمز جن کو 1997میں نوبل انعام دیا گیا تھا ۔

Advertisements
10 comments
  1. احمر said:

    رابندر ناتھ ٹیگور کو نوبل انعام ملنے کی خاص وجہ یہ تھی کہ ان کے کلام کا ترجمہ انگریزی زبان میں موجود تھا
    یہ ترجمہ ڈبلیو ای ژیلیلڈ نے کیا تھا
    بتایا جاتا ہے کہ یہ ترجمہ اس خوبصورتی سے کیا گیا تھا کہ اصل سے بھی بڑھ گیا تھا

    وللہ اعلم

  2. بی بی ۔ آپ بارود خانے میں کیسے چلی گئیں ؟ میرا سارا مضمون پڑھ کر کافی محظوظ ہوا ۔ بات اتنی سادہ نہیں ہے ۔ پاکستان مین ناٹرو گلسرین کا پلانٹ جن دو انجیئرز نے لگایا تھا اُن میں سے ایک میرے بہنوئی ہیں ۔ بوفورز کا نام کئی دہائیاں قبل نوبل رکھ دیا گیا تھا ۔ اس کی ایک شاخ پچھلی آدھی صدی سے پاکستان میں قائم ہے جسے شروع دن سے پاکستانی چلا رہے ہیں ۔ آجکل اس کے ایم ڈی سیّد نسیم رضا ہیں جو میرے ملازمت کے ساتھی کے بڑے بیٹے ہیں اور 1976ء میں میرے ماتحت بطور اسسٹنٹ منیجر ٹرینی تربیت حاصل کی تھی

    • بس جی ایک فلم دیکھی تھی ڈاکومنتری
      پھر نوبل انعام پر کچھ پڑھنے کا سوچا اور پھر سوچا مواد اکھٹا کیا جائے
      انٹرنیٹ کی مدد لی اور مختلف سائٹس سے مواد ملتا گیا اور اسے ترتیب دیتی رہی
      جو اب آپ کے سامنے موجود ہے

  3. kauserbaig said:

    بہت خوب

  4. نور said:

    محترمہ ،
    آپ کے اس بلاگ پر ایک چیز کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔ اور وہ ہے حوالہ ۔
    کیا یہ تمام مضامین آپ کی اپنی تحقیق و تخلیق ہیں ؟
    اگر ایسا ہے تو آپ کی اجازت سے اس میں سے کچھ موضوعات لینا چاہوں گا بمعہ حوالہ ۔ خواہ آپ کی اس سائٹ کا ہو یا اس ماخذ کا جہاں سے آپ نے یہ مواد لیا ہے ۔
    کیا فرماتی ہيں ۔ ؟

    • اوپر جواب دے چکی ہو دیکھ لیا ہوگا؟
      جن سائتس سے مواد لیا اس کا ترجمہ اور دیگر اخبارات کے تراشون سے بھی مدد لی
      باقی آپ جو بہتر سمجھیں

      • نور said:

        یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ آپ کی محنت ہے ۔ ۔
        آپ نے وکی پیڈیا انگریزی کا مطالعہ عرق ریزی سے کر کے یہ مضمون بنایا ہے تو
        لگے ہاتھوں اردو کی خدمت کے جذبے کے تحت اردو کی پیڈیا پر بھی یہ مضمون اپنے ہاتھ سے ڈال دیں ۔
        http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%B1%DB%8C%DA%88_%D9%86%D9%88%D8%A8%D9%84

        • میرا مضمون آپ ہی ڈال دیجئے کہ یہ کھلا مصدر ہے اور مجھے وکی پیڈیا استعمال کرنا نہیں آتا
          مجھے خوشی ہو گی کوئی اسے دوسروں تک پہنچائے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: