حضرت زینب ؓ،حضور ﷺکی بڑی بیٹی


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام انسانوں میں سے سب سے زیادہ سخت ابتلا و امتحان اللہ کے رسولوں پر آتاہے ۔ ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا کہ آپکوسب سے زیادہ ستایا گیا ۔ یہ بھی فرمایا کہ انسان کا امتحان اس کے ایمان کے مطابق ہی ہوتاہے ۔ رسول رحمت ﷺنے اپنی زندگی میں بے پناہ مشکلات برداشت کیں ۔ انسان اپنی ذات سے زیادہ اپنی اولاد کی تکالیف و مصائب سے متاثر ہوتاہے ۔ آنحضور ﷺکی بڑی بیٹی حضرت زینب ؓ  جب ہجرت کے لیےنکلیں تودشمنوں نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں ستایا گیا ۔ بدبختوں نے یہ خیال نہ کیا کہ وہ انہی کی قوم کی بیٹی اور بہو ہیں۔
 حضرت زینب کے خاوند لقیط بن ربیع المعروف بابی العاص نے جو خود ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے ، آنحضور ﷺکی ہجرت کے بعد سید ہ زینب کومدینہ روانہ کرنا چاہا لیکن اس وقت یہ ممکن نہ ہو سکا ۔ جنگ ِ بدر میں ابوالعاص کافروں کی فوجوں میں تھے ، وہ شکست کے بعد جنگی قیدی بنے ۔ حضرت زینب نے ان کی رہائی کے لیے مکہ سے اپنے زیورات بھیجے ۔ ان زیورات میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ نے اپنی بیٹی کو عطا فرمایا تھا ۔ آنحضور ﷺاس ہار کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے ۔ آپ نے صحابہ  سے فرمایا کہ یہ بیٹی کے پاس ماں کی یاد گار ہے ۔ اگرتم اجازت دو تو اسے واپس کر دیا جائے ۔ صحابہ نے بخوشی اس تجویزسےاتفاق کیا ۔ آپ نے وہ ہار حضرت زینب کو واپس بھجوا دیا ۔ابوالعاص رہا ہوکر مکے جانے لگے تو آنحضور ﷺنے فرمایاکہ زینب کو مدینہ بھیج دو ۔ انہوں نےوعدہ کیا کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں گے ۔
ایفائے عہد کے لیے واپس جاتے ہی ابوالعاص نے حضرت زینب  کو اپنے بھائی کنانہ بن ربیع کے ساتھ مدینہ روانہ کیا ۔ کافروں کو یہ بات پسند نہ تھی ۔غزوہ بدر میں آنحضور ﷺسے شکست کے بعد ان کی آتش انتقام اور بھی بھڑک چکی تھی۔ انہوں نے بنت رسول کا تعاقب کیا اور وادی ذی طوٰی میں انہیں جا لیا ۔یہ رذالت کی آخری حد تھی کہ ایک شخص کی دشمنی کا بدلہ اس کی بے سہارا بیٹی سے لیا جارہاتھا۔ سیدہ زینب اونٹ پر سوار تھیں اور اس وقت وہ حاملہ بھی تھیں ۔ کنانہ بن ربیع نے اپنی خالہ زاد بہن اور بھابی ،سیدہ زینب کا دفاع کیا مگر اس حملے اور ہل چل میں اونٹ بدکا اور بنتِ رسول نیچے گر گئیں ۔ وہ زخمی بھی ہوئیں اوران کا حمل بھی ضائع ہو گیا۔ یہی درد ناک واقعہ سیدہ کے لیے جاں لیوا ثابت ہوا۔
اس موقع پر ابو سفیان بھی موجود تھے ۔ انہوں نے موقع کی نزاکت کو بھانپ لیا اور بیچ بچاو کی کوشش کی ۔ظاہر ہے کہ کنانہ اس واقعہ سے مشتعل ہو گئے تھے اور حملہ آوروں سے مرنے مارنے پر تل گئے تھے ۔طے یہ پایا کہ اس وقت تو کنانہ اور زینب  مکہ واپس چلے جائیں ۔ پھر کسی وقت خاموشی سے مدینے کی طرف روانہ ہو جائیں ،ان سے کوئی تعارض نہیں کیاجائے گا ۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد حضرت زینب پھر اپنے دیور کنانہ کے ساتھ مکہ سے اس مقدس سفر پر روانہ ہوئیں اورآنحضور ﷺکے منہ بولے بیٹے حضرت زیدبن حارثہ نے طے شدہ مقام پر ان کا استقبال کیا اور انہیں لے کر مدینہ پہنچے۔ آنحضور ﷺ کواس ظالمانہ حملےکابڑادکھ ہوا ۔ بعض روایات کے مطابق حضرت زینب اس کے بعد مسلسل بیمار رہنے لگیں ۔
آنحضور ﷺکی دیگر صاحبزادیوں کی طرح یہ بیٹی بھی بڑی عظیم تھیں ۔ ان کے خاوند ابوالعاص ان کے خالہ زاد بھی تھے ۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ حضرت زینب تو دعوت ِ اسلام سنتے ہی مسلمان ہو گئیں لیکن ان کے خاوند جنگ بدر تک حالت کفر ہی میں رہے ۔ بعض انسانوں میں کچھ خوبیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے ۔ حالت کفر میں ہونےکےباوجودابوالعاص نے آنحضور ﷺکی ہمیشہ تعظیم و تکریم اور عزت و احترام کو ملحوظ رکھا ۔ آنحضور ﷺسے کبھی اونچی آواز میں بات نہ کی اورآپ کی بیٹی کے ساتھ بھی بہترین سلوک کرتے رہے ۔ آنحضور ﷺکی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم آپ کے چچا ابو لہب کے دو بیٹوں سے بیاہی گئی تھیں لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔ اسلام دشمنی میں اپنے باپ کے دباو پر انہوں نے آنحضور ﷺکی بیٹیوں کو طلاق دے دی تھی۔ جناب ابوالعاص پر کفار نے بڑا دباو ڈالا کہ وہ بھی یہ حرکت کریں لیکن وہ انتہائی شریف النفس اور صلہ رحمی کرنے والے انسان تھے ۔ انہوں نے یہ جرم کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔
جیسا کہ پہلے بیان ہوا، ابو العاص جنگ بدر میں کافروں کے ساتھ آئے تھے لیکن خوش دلی کے ساتھ نہیں ۔ اس دوران وہ گرفتار ہوئے مگر قبول اسلام کا اعلان نہ کیا۔ وہ کسی مناسب موقع پر اعلان کر کے داخل اسلام ہونا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ ابوالعاص کے پاس لوگوں کا بہت سا مال تجارت تھا جسے انھوں نے شام کے علاقے میں تجارت کے ذریعے کافی نفع بخش بنا دیا ۔ اتفاق سے شام سے واپسی پر مسلمانوں کے ایک دستے نے اس تجارتی قافلے کو روکا اور سارا سامان قبضے میں لے کر قریشی تاجروں کو گرفتار کر کے مدینہ لے آئے ۔ ابو العاص کی بطور اسیر مدینہ منورہ میں یہ دوسری حاضری تھی ۔ ان کے حسن سلوک کی وجہ سے آنحضور ﷺان کا بدلہ بھی اتارنا چاہتے تھے اور صلہ رحمی کا حق بھی ادا کرنا ضروری سمجھتے تھے لیکن آپ نے خود کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ صحابہ سے مشاورت کے بعد ہی ابو العاص کا سامان انہیں واپس کیا ۔
اس عرصے میں اسلامی احکام کے مطابق ابوالعاص اور حضرت زینب  کے درمیان تفریق ہو چکی تھی ۔ ابو العاص اگرچہ دل سے مسلمان ہو چکے تھے مگر اس کا اظہار باقی تھا ۔ اس کا اظہار کیے بغیر انہیں مسلمان شمار نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ ذہناً وہ اب اس کے لیے تیار تھے ۔ وہ مختلف لوگوں کا مال تجارت لےکر مکہ واپس آئے اور سب کی امانتیں اور رقوم مع منافع ان کو واپس کر دیں پھر انہوں نے تمام قریش سے اپنے بارے میں گواہی لی کہ ان کے ذمے کسی کا کوئی لین دین تو نہیں ۔ سب نے گواہی دی کہ نہیں ۔ان سے کسی کو کچھ لینا نہیں ہے ۔ پھر ان کی امانت ودیانت پر سب نے یک زبان شہادت دی۔ کافروں سے یہ گواہی لینے کے بعد انہوں نے مکے میں مجمع عام میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا اور پھر ہجرت کر کے مکے سے مدینہ آ گئے ۔ یہ صلح
حدیبیہ کے بعد کی بات ہے جب آنحضور ﷺاور قریش کے درمیان معاہدہ ہو چکا تھا ۔ ابو العاص کے مدینہ آنے کے بعد آنحضور ﷺنے تجدید نکاح کی اور سابقہ حق مہر پر ہی اپنی بیٹی کو حضرت ابوالعاص کے ہاں بھیج دیا ۔
ہجرت کے وقت زخمی ہونے کی وجہ سے سیدہ زینب مستقل طور پر علیل رہنے لگیں۔ آنحضور ﷺاپنی بیٹی کی دل جوئی کی پوری کوششیں کرتے مگر انکی صحت بحال نہ ہو سکی ۔ 8 ھ میں ان کاانتقال ہوگیا۔ اپنی صاحبزادی کی وفات پر آنحضور ﷺکو بڑا صدمہ پہنچا ۔ صحابہ  نے اس موقع پر آپ کی آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھے تو وہ بھی بہت مغموم ہوئے ۔ آپ نے فرمایا ” زینب میری سب سے اچھی بیٹی تھی اس نے میری محبت کی وجہ سے اذیتیں برداشت کیں ۔ “آنحضورﷺنے اپنی بیٹی کی وفات پر دو ازواج مطہرات حضرت سودہ  اور حضرت ام سلمہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت ام ایمن کے ساتھ مل کر آپ کی پیاری بیٹی کو غسل دیں ۔ آپ نے انہیں غسل کا طریقہ بھی سمجھایا اور فرمایا جب غسل سے فارغ ہو جاو تو زینب کے جسم پر خوشبو لگاو اور کفن کی  چادریں پہنانے سے پہلے میری یہ چادر میری بیٹی کو پہنا دینا ۔ اپنی اس بیٹی کو قبر میں اتارنے کے لیے اپنے داماد ابو العاص کے ہمراہ آنحضور ﷺخود بھی قبر میں اترے ۔
انسان اپنی اولاد سے زیادہ اولادکی اولاد سے محبت کرتا ہے ۔ پوتے ، پوتیاں اور نواسے نواسیاں دل کا قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں ۔ آنحضور ﷺکے بیٹے تو سبھی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے ، البتہ چاروں بیٹیاں جوانی کی عمر کو پہنچیں ۔ یوں اللہ نے آپ کو اگرچہ پوتوں سے محروم رکھا مگر نواسے اور نواسیاں عطا فرمائے ۔ حضرت زینب کے بیٹے علی بن ابی العاص اور بیٹی امامہ بنت ِ ابی العاص  سے آنحضور ﷺبڑی محبت کرتے تھے ۔ ان کو اکثر اپنے ہاں بلاتے اور خود بھی ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے ۔ فتح مکہ کے وقت ایک منزل کے سفر میں حضرت علی بن ابی العاص  آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔
Advertisements
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: