رکھ لو بھّیا اب تو داڑھی

قبر کی کچھ کر لو تیاری
رکھ لو بھّیا اب تو داڑھی
سامنا جب آقا کا ہو
جھکے نہ گردن شرم کے مارے
شکل نبیﷺ کی جو اپنائے گا
رب کا پیارا وہ بن جائے گا
برسے گی اس پر رحمتِ باری
رکھ لو بھّیا اب تو داڑھی
جس نے نبیﷺ کے دل کو دکھایا
اللہ کو گویا اس نے ستایا
حشر میں ہو گی اس کی خواری
رکھ لو بھّیا اب تو داڑھی
للہ دارڑھی اب نہ منڈوانا
اپنے نبی ﷺ کا دل نہ دکھانا
سنت ان کی ہے یہ پیاری
رکھ لو بھّیا اب تو داڑھی
قبر میں جب تم کل جاؤ گے
آقا کو کیا منہ دکھلاؤ گے
عقل میں آئی یہ بات تمہاری
رکھ لو بھّیا اب تو داڑھی
جس نے سنت کو اپنایا
اس نے بڑا نفع کمایا
گواہی دیں گے نبیﷺ تمہاری
رکھ لو بھّیا اب تو داڑھی
Advertisements
12 comments
  1. آپ داڑھی رکھنے کی تلقین رکھنے کی تلقین کر رہی ہیں یہ بہت اچھی بات ہے، مگر برائے کرم داڈھی کو سنت نہ کہیں داڑھی ہرگز ہرگز سنت نہیں ہے۔ اسکی تفصیل میں اپنے بلاگ پر لکھہ چکا ہوں، کسی کے پاس دلیل ہے تو جواب دلیل سے لے کر آئے۔

    • آپ کے نقطۂ نظر کوکیا کہوں
      یہ تو وہی بات ہو گئی کہ جیسے بریلوی میلاد رسول ﷺ کو قرآن سے ثابت کر دیں
      کسی بھی بات کو اپنی نطر سے نہ دیکھیں
      اصحاب رسولﷺ ہر معاملے کی دلیل ہین

      اور ہم اسی کو سنت سمجھتے ہیں کہ جسے صحابہؓنے جاری رکھا

      آپ کو اللہ راہ دکھائی اتنے عرصے بعد آپ کو الہام ہوا کہ اسے سنت نہ کہا جائے
      مسلمانان عالم نبیﷺ کے بعد دھوکے میں تھے یہ آپ کو خبر ہوئی کہ اسلام میں داڑھی سنت نہیں ہے

      اور آپ کے سے کئی جدید علماء اسے جائز بھی کہتے ہیں
      اللہ ہمیں صحابہ کا سا اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
      اور آپ کو فکر پاکستان سے بجائے فکراسلام عطا فرمائے

      آمین

      • نمعلوم ان صاحب نے کیسے ثابت کر دیا کہ داڑھی سُنت نہیں ۔ اگر اپنی تحریر کا ربط دے دیتے تو پڑھ لیتے ۔ شاید انہیں سنت کی تعریف کا پتہ نہیں کہ وہ کام جو رسول اللہ ﷺ نے کیا وہ سنت ہے ۔ مجھے تو یہ اعتراض ہے کہ قبر کی تیاری کیلئے داڑھی کیوں بطور سنت پہلے کیوں نہیں ؟ قبر کی تیاری کیلئے تو بہت سے زیادہ اہم عوامل یا افعال کی ضرورت ہے

  2. پہلے بھی عرض کیا تھا ایک بار پھر آپکی خدمت میں عرض ہے کہ اختلاف اس بات پر ہرگز نہیں ہے کہ داڑھی صحابہ اکرام رضی اللہ عنہہ نے رکھی ہے یا نہیں، اس حقیقت سے کوئی بھی انکاری نہیں ہے رکھی ہے بلکل رکھی ہے، یہ ایک فطری چیز ہے اللہ نے مرد کی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے عورت کو نہیں ہوتی داڑھی لیکن مرد کو ہوتی ہے اسلئیے اسے رکھنی چاہئیے، اختلاف اس بات پر ھے کہ داڑھی سنت ہے یا نہیں؟ کسی چیز کو سنت قرار دینے کا مطلب ہے آپ اسے دین بنا رہے ہیں جبکہ داڑھی دین نہیں ہے۔

    سنت کیوں کے پیور دین ہے، یا تو قران میں دین ہے یا سنت میں ہے اسکے علاوہ کسی چیز میں دین نہیں ہے، تو اب کوئی اگر کسی چیز کو سنت قرار دیتا ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ چیز دین ہے۔ یا اس چیز کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور دین جاری فرمایا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا تھا پھر عرض ہے کہ دین اسلام چار چیزوں کا احاطہ کرتا ہے، ایک۔ تطہیر بدن، دو۔ تطہیر خورد و نوش، تین۔ تطہرِ نفس، چار۔ عبادات۔ آپ دین کا کوئی بھی حکم اٹھا کر دیکھہ لیں وہ آپکو ان چار چیزوں سے باہر نہیں ملے گا۔

    داڑھی ان چاروں چیزوں میں نہیں آتی، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی تطہر بدن کی چیز ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی تطہیر نفس کی چیز ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی تطہیر خورد و نوش میں آتی ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی عبادات میں آتی ہے؟۔

    اور جس حدیث کی بنیاد پر لوگ اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ حدیث آپ نے بھی پڑھہ رکھی ہے سب جانتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجوسوں، اہل کتاب، اور مشرکوں سے مخالف وضع اپنایا کرو، داڑھیاں بڑی اور مونچھیں رکھا کرو اور مونچھوں کو تراش لیا کرو۔

    اگر آپ اس حدیث سے یہ اخذ کرتی ہیں کے اس سے داڑھی کی حرمت قائم ہوگئی ہے اور یہ سنت کے درجے پر فائز ہوگئی ہے تو پھر آپکو بخاری شریف کی اس حدیث کو بھی ماننا ہوگا اور بال رنگنے کا بھی سنت ماننا ہوگا جس میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، تم اہل کتاب سے مختلف وضع اپنایا کرو وہ اپنے بال نہیں رنگتے مگر تم رنگ لیا کرو۔

    ان دونوں احدیث کا مغز ایک ہی ہے کہ اہل کتاب، مشرکوں اور مجوسوں سے مختلف وضع اپنایا کرو، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حدیث میں دئے گئے بیغام کو ہم سنت مان رہے ہیں اور دوسری حدیث میں دئیے گئے پیغام کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے اور بالوں کے رنگنے کو سنت قرار نہیں دے رہے؟
    اس بات کا جواب دے دیں برائے مہربانی۔

    • جس چیز کا علم ترک کردینے پر وعید ہو
      کہ جیسے داڑھی منڈوانے پر احادیث آئییں ایسی وعید بال نہ رنگنے پر کیوں نہ آئیں؟
      جن جن احکامات پر وعید ہوئیں مسلمانِ اسلام انہیں پر زور دیا کرتے ہیں

      پھر بھی لوگ نہیں رکھتے تو ان کے قتل کافتویٰ پھر بھی نہیں
      جب کہ
      جن احکامات پر اختیاری حکم ہے ان میں بال رنگنا شامل ہے کہ تم چاہو تو ایسا کر سکتے ہو

      صحابہؓکو یہ بات سمجھ آئی 1400 تلک سب کو سمجھ آئی
      آج لوگ فتنوں میں پڑ گئے شیطان نے انہیں نئی راہ سجھائی
      انہوں نے سنت کو عملِ اختیاری بنا دیا

      بھئی شائد کسی گمراہ کی بات دماغ سے چپک گئی ایسے کہ جیسے قادیانیوں کو بروزی نبی والی چپک جاتی ہے
      اور ہمیں ہنسی آتی ہے
      کہ ان کی عقلوں کو کیا ہوا
      ایسے ہی آپ کے جانے کس عقلی خانے میں سنت اور اختیاری فعل کے حوالے سے غط تشریح فٹ ہو گئی

      آج کے نئے فتوں سے بچیئے اور صحابہ سے قریب ترین علماکرام کی کتب کا مطالعہ کیجئے
      انہں صحابہ کی رائے کو سمجھنے میں کم دقت ہوئی
      آج تو دور ہی فتنوں کا ہے

      آللہ آپ پر رحم فرمائے
      آمین

  3. افتخار اجمل صاحب، میں بھی بچپن سے یہ ہی سنتا آیا ہوں کے ہر وہ عمل جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ سنت ہے۔ لیکن جب سننے کے بجائے بڑھنے کو ترجیح دی تو پتہ چلا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی عمل کو سنت قرار دینے کے لئیے سب سے پہلا اصول ہی یہ ہے کہ اسکا دین ہونا لازمی ہے، کیوں کہ قرآن سے پتہ چلتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم دین دینے کے لئیے ہی دنیا میں تشریف لائے تھے۔ اسلئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف وہ عمل ہی سنت قرار پائے گا جسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ سنت جاری فرمایا ہو، یوں تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے چوروں کے ہاتھہ بھی کٹوائے ہیں، مجرموں کو کوڑے بھی لگوائے ہیں، کیا کبھی کسی سے سنا ہے کہ ہاتھہ کاٹنا سنت ہے؟ یا کوڑے لگوانے سنت ہے؟، یہ خالص قرآن کے احکامات ہیں، انکا سنت سے کیا تعلق؟ گو کے یہ عمل حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے لیکن یہ سنت نہیں قرآن کے احکامات ہیں یہ سنت کے زمرے میں نہیں آسکتے۔

    یوں تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ازدواجی زندگی بھی گزاری ہے، معاشرتی زندگی بھی گزاری ہے رشتے داری بھی نبھائی ہے دوستی تعلق بھی نبھائے ہیں، اماں عائشہ رضی اللہ عنہہ کے ساتھہ میدان میں دوڑ بھی لگائی ہے، ملاکھڑا بھی دیکھانے لے جاتے تھے آپ اماں عائشہ رضی اللہ عنہہ کو، تو اگر یہ سب عمل سنت ہیں تو اسے سنت کے طور پر ادا کرنے کے لئیے آج تک کتنے عالم حضرات نے اپنی اپنی بیگمات کے ساتھہ میدان میں دوڑ لگائی ہے؟ یا کتنے لوگ سنت ادا کرنے کی نیت سے ملاکھڑا دکھانے لے کر گئے ہیں اپنے بیگمات کو؟۔ حضرت ان سب چیزوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ معاشرتی زندگی ہے جو ہر انسان گزارتا ہے ہاں اس میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ضرور ملتا ہے اسے اپنانا چاہئیے کہ وہ بہترین طریقہ ہے۔ اسوہ حسنہ اور سنت میں بہت بڑا فرق ہے اسوہ حسنہ کو سنت نہیں بنا سکتے۔

    رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے تیر، تلوار اور اسطرح کے دوسرے اسلح استعمال کئیے ہیں، انٹوں پر سفر کیا ہے، مسجد بنوائی ہے تو اسکی چھت کھجور کے پتوں سے بنائی ہے، اپنے تمدن کے لحاظ سے بعض کھانے کھائے ہیں اور ان میں سے کسی کو پسند اور کسی کو نا پسند کیا ہے، ایک خاص وضع قطع کا لباس پہنا ہے جو عرب میں اس وقت پہنا جاتا تھا اور جسکے انتخاب میں آپکے شخصی ذوق کا بھی دخل تھا، لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز سنت نہیں ہے اور نہ کوئی صاحبِ علم اسے سنت کہنے کے لئیے تیار ہوسکتا ہے۔

    نبی صلی علیہ وسلم نے خود یہ بات اسطرح سے واضع فرمائی ہے: میں بھی ایک انسان ہی ہوں، جب میں تہمارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور جب میں اپنی رائے سے کچھہ کہوں تو میری حیثیت بھی اس سے زیادہ کچھہ نہیں کہ میں ایک انسان ہوں۔۔۔۔ میں نے اندازے سے ایک بات کہی تھی تم اسطرح کی باتوں پر مجھے جواب دہ نہ ٹھراو جو گمان اور رائے پر مبنی ہوں۔ ہاں میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھہ کہوں تو اسے لے لو، اسلئیے کہ میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہ باندھوں گا۔۔۔۔ تم اپنے دنیوی معاملات کو بہتر سمجھتے ہو۔ صحیح مسلم، ٦١٢٦، ٦١٢٧، ٦١٢٨

    مزید تفصیل کے لئیے میرے بلاگ پر http://fikrepakistan.wordpress.com/2013/03/20/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%DA%A9-%D8%B5%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D9%88%D8%B3%D9%84%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D8%B1-%D8%B9%D9%85/#comments

  4. جس چیز کا علم ترک کردینے پر وعید ہو
    کہ جیسے داڑھی منڈوانے پر احادیث آئییں ایسی وعید بال نہ رنگنے پر کیوں نہ آئیں؟
    جن جن احکامات پر وعید ہوئیں مسلمانِ اسلام انہیں پر زور دیا کرتے ہیں

    پھر بھی لوگ نہیں رکھتے تو ان کے قتل کافتویٰ پھر بھی نہیں
    جب کہ
    جن احکامات پر اختیاری حکم ہے ان میں بال رنگنا شامل ہے کہ تم چاہو تو ایسا کر سکتے۔

    یہ آپ نے دلیل دی ہے، پورے دین کے ذخیرے سے داڑھی نہ رکھنے پر وعید کی ایک بھی حدیث لا کر دکھا دیں میں آپکی بات مان لونگا۔ پورے دین کے ذخیرے میں داڑھی نہ رکھنے پر کوئی بھی وعید نہیں ہے۔ ھاں البتہ مونچھیں نہ تراشوانے پر ضرور ہے حدیث، جو مونچھیں نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں۔
    تو خود ہی اپنا دماغ استعمال کرلیں کے جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مونچھیں نہ ترشوارنے پر اتنی بڑی وعید دے سکتے ہیں تو اگر داڑھی اتنی ہی اہم چیز یا دین کا حصہ ہوتی تو داڑھی نہ رکھنے پر کوئی وعید نہیں دے سکتے تھے؟

    • پہلی بات مونچھیں اور داڑھی کی بات ایک ہی ساتھ ہی ہوئی ہے دھیان دیجئے
      عن ابن عمر ؓ قال: قال النبی ا خالفوا المشرکین اوفروا اللحی واحفوا الشوارب‘ وفی روایة: انہکوا الشوارب واعفوا اللحی متفق علیہ“۔ (مشکوٰة‘ ص:۳۸۰(
      یعنی مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں پست کرو (چھوٹی کرو) اور داڑھی کو معاف رکھو (یعنی اسے نہ کاٹو(

      داڑھی رکھنے کا حکم یہاں ہے:
      عن ابن عباسؓ عن النبی ا انہ ”لعن المتشبہات من النساء بالرجال والمتشبہین من الرجال بالنساء“۔ (ابوداود: ج:۲‘ص:۲۱۲(
      نبی کریم ا نے عورتوں میں سے ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور مردوں میں سے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں‘ لعنت فرمائی ہے۔

      عن ابن عباسؓ قال: لعن رسول اللہ ا المخنثین من الرجال والمترجلات من النساء وقال اخرجوہم من بیوتکم“۔ (مشکوٰة:۳۸۰(
      حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : رسول ا لعنت کرتے ہیں ان مردوں پر (جوداڑھی منڈاکر یا زنانہ لباس پہن کر) عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔

      مرد عورتوں سے داڑھی رکھ کر ہی مشابہت دور کر سکتے ہیں آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

      ابن عمر(رض) اللہ کے رسول کا حکم نقل کرتے ہیں کہ ” مونچھوں کو اچھی طرح کاٹو اور داڑھیوں کو معاف کرو (چھوڑ دو) ۔ ”
      (بخاری :٥٨٩٣ ، نسائی : ٥٠٦١ ، احمد : ٢ / ٥٣ ، ١٥٦ )

      بخاری ، نسائی اور امام احمد اسے حکم دیتے ہیں
      آپ کس کی بات کو لیتے ہیں کچھ یہ بھی بتایئے؟

      اپنی عقل کو؟

  5. افسوس کے ساتھہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ نے حدیث کو ہی بدل دیا، پوری حدیث میں کہیں داڑھی کا ذکر تو کیا شائبہ تک نہیں ہے اور آپ نے بریکٹ میں اپنے پاس سے ہی داڑھی کو ازیوم کرلیا، مشابہت تو ایک ہزار چیزوں سے ہوسکتی ہے، بالوں کے ناخنوں سے، آئی برو سے، میک اپ سے، لباس سے، یہاں تک کے اندازِ گفتگو سے، لیکن آپ نے اپنے پاس سے داڑھی طے کرلیا جبکہ حدیث میں داڑھی کا کہیں ذکر تک نہیں ہے، اور میں نے جو آپکو حدیث دی تھی وہ بھی مشکوت شریف کی ہی حدیث ہے جس میں واضع الفاظوں میں مونچھیں نہ تراشوانے والے کے لئیے وعید کے، جو مونچھیں نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں۔ یہ ہے وہ حدیث اسکا اس حدیث سے کوئی تعلق نہیں جو آپ نے بیان کی ہے، میرا سوال اب بھی آپ سے وہ ہی ہے کہ داڑھی نہ رکھنے پر وعید کی کوئی حدیث لا دیں میں آپکی بات مان لوں گا۔

    ایک بات اپنے ذہن میں بہت اچھی طرح بٹھا لیں کہ اللہ کے رسول جب کسی چیز کو دین بناتے ہیں تو بہت ہی واضع الفاظوں میں اسکے بارے میں کوئی قانون سازی کرتے ہیں بہت کھول کھول کر اسے بتاتے ہیں ایسے مبہم انداز میں نہیں کہ زبردستی بریکٹ لگا کر داڑھی کو گھسانا پڑے حدیث میں۔

    ایک بار پھر آپکی خدمت میں عرض ہے کہ میں داڑھی کے خلاف نہیں ہوں داڑھی مسلمانوں کے رکھنی چاہئیے کہ یہ فطری چیز ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمائی ہے خود رکھی بھی ہے، بس یہیں تک ہے بات۔ اس سے آگے بڑھہ کر اگر اسے کوئی دین بناتا ہے یا سنت کے درجے پر فائز کرتا ہے تو اسے پھر واضع احکامات لانے ہونگے، جیسے کہ مونچھیں ترشوانے کے بارے میں واضع احکامات ہیں کے جو مونچھیں نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں۔ اگر داڑھی سنت ہوتی یا دین کا حصہ ہوتی تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم تو آئے ہی دین دینے ہیں وہ دین کے بارے میں کبھی مبہم بات نہیں فرماتے، جسے دین قرار دیتے ہیں تو پھر اسکے بارے میں بہت واضع طریقے سے بیان فرماتے ہیں۔ داڑھی کیوں کے سنت نہیں ہے اسلئئیے اسکے بارے میں کوئی وعید نہیں دی گئی نہ ہی کوئی قانون سازی کی گئی ہے۔ آپ پورے دین کا ذخیرہ نکال لیں آپکو داڑھی سے متعلق ایک بھی وعید نہیں ملے گی۔

    پھر عرض کرتا ہوں کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو بھی دین قرار دیتے ہیں اسکے بنیاد اصلاً قرآن میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے، لیکن داڑھی کے بارے میں پورا قرآن کھنگال کر دیکھہ لیں خالی ہے قرآن اس بات سے کہیں کوئی حکم نہیں ملے گا آپکو۔
    آپ سے عرض کیا ہے کہ دین میں کوئی بھی چیز بغیر لوجک کے نہیں ہے، دین چار چیزوں کا احاطہ کرتا ہے،
    تطہیر بدن، تطہیر خورد و نوش، تطہیر نفس، اور عبادات۔ پورے دین کا جائزہ لے لیں ایک بھی حکم ان چار چیزوں سے باہر نہیں ملے گا آپکو۔ داڑھی ان چاروں چیزوں میں سے کسی ایک کا بھی احاطہ نہیں کرتی۔ کیوں کے داڑھی دین نہیں ہے۔ امید ہے کچھہ بات سمجھہ آ گئی ہوگی آپکو۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: