تاریخِ قرآن ڈاکٹر حمید اللہؒ کی زبانی-7:

مختلف آیات کی شان نزول
قرآن کا پہلا نسخہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے خلیفہ بننے کے چند مہینے بعد ہی کا واقعہ ہے۔ یہ 11ھ کے اواخر کا زمانہ ہو گا۔ یعنی مسلیمہ کذاب سے جو جنگ ہوئی تھی اس جنگ کے فوراً بعد کا ذکر ہے۔غالباً صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ شان نزول کے متعلق ہی نہیں اور چیزوں کے متعلق بھی اگر احادیث میں اختلاف پایا جاتا ہے تو جس طرح ہم ان کو حل کرتے ہیں اسی طرح اس کو بھی حل کیا جاسکے گا۔ اولاً ہم دیکھیں گے کہ یہ روایت صحیح ہے یا وہ روایت صحیح ہے۔ اس کے راوی زیادہ قابل اعتماد ہیں یا اس کے راوی زیادہ قابل اعتماد ہیں ۔ احادیث کے تمام اختلافات رفع کرنے کا یہ طریقہ اس کے متعلق بھی استعمال کیا جائے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ شان نزول کے متعلق جو اختلاف ہیں انہیں کوئی بڑی اہمیت بھی حاصل نہیں ہے۔ ان معنوں میں فرض کیجئے ایک راوی یہ کہتا ہے کہ (اقرا باسم ربک الذی خلق) کے بعد سب سے پہلے سورہ "الم” نازل ہوئ۔ دوسرے راوی یہ کہتے ہیں کہ نہیں فلاں سورت نازل ہوئی تو اس اختلاف کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس سے صحابہ کی واقفیت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ انہیں جیسا یاد رہا انہوں نے ویسا ہی بیان کر دیا۔ اس کے متعلق میں نے حقیقتاً غور نہیں کیا، کبھی مطالعہ نہیں کیا۔ اس لیے اس وقت اس پر اکتفا کرتا ہوں ۔
اُمِ ورقہ ؓ
حضرت امورقہ ؓ ایک انصاری عورت تھیں جو بہت پہلے ایمان لائی تھیں چنانچہ ان کے متعلق لکھا ہے کہ جنگ بدر (2ھ) میں رسول اللہ ﷺ مدینے سے روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں ۔ میں اسلام کے دشمنوں سے جنگ کرنا چاہتی ہوں ۔ ان کے متعلق ایک اور روایت ہے جو اس سے بھی زیادہ عملی یا علمی دشواریاں پیدا کرے گی وہ یہ کہ حضرت ام ورقہ ؓ کو رسول اللہ نے ان کے محلے "اہل دارہا” نہ کہ "اہل بیتھا” کی مسجد کا امام مامور فرمایا تھا جیسا کہ سنن ابی داؤد اور مسند احمد بن حنبل میں ہے اور یہ بھی کہ ان کے پیچھے مرد بھی نماز پڑھتے تھے اور یہ کہ ان کا مؤذن ایک مرد تھا۔ ظاہر ہے کہ مؤذن بھی بطور مقتدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہو گا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورت کو امام بنایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اس حدیث کے متعلق یہ گمان ہوسکتا ہے کہ یہ شاید ابتدائے اسلام کی بات ہو اور بعد میں رسول اللہ ﷺ نے اس کو منسوخ کر دیا ہو لیکن اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ام ورقہ ؓ حضرت عمر ؓ کے زمانے تک زندہ رہیں اور اپنے فرائض سر انجام دیتی رہیں ۔ اس لیے ہمیں سوچنا پڑے گا۔ ایک چیز جو میرے ذہن میں آئی ہے وہ عرض کرتا ہوں کہ بعض اوقات عام قاعدے میں استثناء کی ضرورت پیش آتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے استثنائی ضرورتوں کے لیے یہ استثنائی تقرر فرمایا ہو گا۔ چنانچہ میں اپنے ذاتی تجربے کی ایک چیز بیان کرتا ہوں ۔ پیرس میں چند سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک افغان لڑکی طالب علم کے طور پر آئی تھی۔ ہالینڈ کا ایک طالب علم جو اس کا ہم جماعت تھا، اس پر عاشق ہو گیا۔ عشق اتنا شدید تھا کہ اس نے اپنا دین بدل کر اسلام قبول کر لیا۔ ان دونوں کا نکاح ہوا۔ اگلے دن وہ لڑکی میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ بھائی صاحب میرا شوہر مسلمان ہو گیا ہے اور وہ اسلام پر عمل بھی کرنا چاہتا ہے لیکن اسے نماز نہیں آتی اور اسے اصرار ہے کہ میں خود امام بن کر نماز پڑھاؤں ۔ کیا وہ میری اقتدا میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ میں نے اسے جواب دیا کہ اگر آپ کسی عام مولوی صاحب سے پوچھیں گی تو وہ کہے گا کہ یہ جائز نہیں لیکن میرے ذہن میں رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل کا ایک واقعہ حضرت امام ورقہ ؓ کا ہے۔ اس لیے استثنائی طور پر تم امام بن کر نماز پڑھاؤ۔ تمہارے شوہر کو چاہیے کہ مقتدی بن کر تمہارے پیچھے نماز پڑھے اور جلد از جلد قرآن کی ان سورتوں کو یاد کرے جو نماز میں کام آتی ہیں ۔ کم از کم تین سورتیں یاد کرے اور تشہد وغیرہ یاد کرے۔ پھر اس کے بعد وہ تمہارا امام بنے اور تم اس کے پیچھے نماز پڑھا کرو۔ دوسرے الفاظ میں ایسی استثنائی صورتیں جو کبھی کبھار امت کو پیش آسکتی تھیں ۔ ان کی پیش بندی میں رسول اللہ ﷺ نے یہ انتخاب فرمایا تھا۔ ہمارے دوست سوال کرتے ہیں کہ کیا اور عورتیں بھی حافظہ تھیں ؟ مجھے اس کا علم نہیں ، ان معنوں میں کہ حافظ ہونے کا صراحت کے ساتھ اگر کسی کے بارے میں ذکر ملتا ہے تو صرف انہیں کے متعلق۔ حضرت عائشہ ؓ یا ام سلمہ ؓ وغیرہ کے متعلق میں نے کبھی کوئی روایت نہیں پڑھی کہ وہ حافظہ تھیں ۔ انہیں کچھ سورتیں یقیناً یاد ہوں گی اور ممکن ہے کہ بہت سی سورتیں یاد ہوں لیکن ان کے حافظہ قرآن ہونے کی صراحت مجھے کہیں نہیں ملی، اس کے سوا اور میں کچھ عرض نہیں کروں گا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: