چودہواں سجدہ

کَلَّا ط لاَ تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ العلق 96:19)، ہرگز نہیں، اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو۔
شانِ نزول کے حساب سے یہ پہلی آیت سجدہ ہے لیکن ترتیب کے حساب سے آخری۔ نبی پاکﷺ پر وحی کا آغاز غارِحرا میں حضرت جبرئیل ؑ کے ذریعے سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیات کی صورت میں ہوا تھا۔ اس کے بعد کی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب رسولﷺ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے خانہ کعبہ میں نماز پڑھنا شروع کی اور ابوجہل کو یہ بات ناگوار گزری اور اس نے نبی پاکﷺ کو منع کرنا چاہا۔ اس لیے سورۂ علق کی آیت چھے سے آخر (19) تک آیات میں اللہ پاک نے اس کافر کے ردعمل کا جواب دیا:
ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے (حالانکہ) پلٹنا یقیناًتیرے رب ہی کی طرف ہے۔ تم نے دیکھا اُس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتاہے، جب کہ وہ نماز پڑھتا ہو؟ تمھارا کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہِ راست پر ہو یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو؟ تمھارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟ ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے کھینچیں گے، اس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطاکار ہے۔ وہ بلالےاپنے حامیوں کی ٹولی کو،ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ ہرگز نہیں، اس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو ۔
 حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے پوچھا: کیا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تمھارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹکاتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: لات اورعُزّیٰ کی قسم، اگر میں نے ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا ۔ پھر ایسا ہوا کہ حضوﷺکونمازپڑھتےدیکھ کر وہ آگے بڑھا تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھے، مگر یکایک لوگوں نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھےکیاہوگیا؟ اس نے کہا: میرے اور اُن کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پَر تھے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو ملائکہ اس کے چیتھڑے اُڑا دیتے۔ (احمد،مسلم، نسائی)
ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺمقامِ ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا: اے محمدﷺ! کیا میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیاتھا؟اوراس نے آپﷺ کو دھمکیاں دینی شروع کیں۔ جواب میں رسول ﷺ اللہ نے اس کو سختی سے جھڑک دیا۔ اس پر اس نے کہا: اے محمدﷺ! تم کس بل پرمجھےڈراتےہو۔خداکی قسم! اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں (احمد، ترمذی)
چنانچہ ان آیات کے ذریعے آپﷺ کو تسلی دینے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک بار پھر آپﷺ کو حکم دیا کہ تم اس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو۔

(یہاں)سجدہ کرنے سے مراد نماز ہے، یعنی اے نبیﷺ! تم بے خوف اُسی طرح نماز پڑھتے رہو جس طرح پڑھتے ہو، اور اس کے ذریعے سے اپنے رب کا قرب حاصل کرو۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ بندہ سب سے زیادہ اپنے رب سے اس وقت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے اور مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت بھی آئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺیہ آیت پڑھتے تھے تو سجدۂ تلاوت ادا فرماتے تھے۔

Advertisements
1 comment
  1. kauserbaig said:

    بہت زبردست شیئرنگ ،جزاک اللہ خیر

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: