زَم زَم

آبِ زَم زَم کی تاریخ:
زَم زَم دراصل مکّہ کے اس چشمے /کنویں کا نام ہے ،جس سے آبِ زَم زَم نکلتا ہے یہ وہ پانی ہے جو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک معجزےکی صورت میں مکہ مکرمہ کےبےآب و گیاہ ریگستان میں جاری ہواجو آج تک جاری ہے۔آبِ زَم زَم مسجد الحرام میں خانۂِ کعبہ کےجنوب مشرق میں تقریباً21میٹر کےفاصلےپر تہ خانے میں واقع ہے۔ آبِ زَم زَم کا سب سےبڑا دہانہ حجرِاَسوَدکےپاس ہےجبکہ اذان کی جگہ کےعلاوہ صفاو مروہ کےمختلف مقامات سےبھی نکلتا ہے۔
آبِ زَم زَم کی ابتداء آج سے تقریباً4ہزارسال قبل سیدنا ذبیح اللہ اسمٰعیل علیہ السلام کی شیرخواری سے شروع ہوتی ہے۔جب بحکم خدا جناب ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ ہاجرہ علیہ السلام اور شیر خوار جناب اسماعیل علیہ السلام کو عرب کے اس بے آب و گیاہ علاقے میں چھوڑ کر شام کی طرف تشریف لے گئے اور بی بی ہاجرہ علیہ
السلام وہیں مقیم ہوئیں۔ جب پانی کا ذخیرہ ختم ہوا تو ننھے اسماعیل علیہ السلام شدت پیاس سے نڈھال ہو گئے۔ تو بی بی ہاجرہ علیہ السلام بے تابی سے پانی تلاش کرنےلگیں اور اسی اضطراب و پریشانی میں وہ دو پہاڑیوں پر بھاگ بھاگ کر چڑھتیں اور واپس اتر کر پھر سے دوسری کی طرف جاتیں۔ اور اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے۔ ( ان کے وہ سات چکر اب سعی کے نام سے رکن عمرہ و حج ہیں)۔ ادہر جناب اسماعیل علیہ السلام شدت پیاس سے بچوں کے فطری انداز میں زمین پر ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔ ساتویں چکر کے بعد جب بی بی علیہ السلام واپس آئیں تو دیکھا کہ جہاں جناب اسماعیل علیہ السلام نے ایڑیاں رگڑیں وہاں ایک چشمہ پھوٹ پڑا ہے۔ تو بچے کے زیرِ قدم یہ نعمت غیر مترقبہ دیکھ کر باغ باغ ہوگئیں۔پھر انہوں نے اس پانی کو روکنے کی خاطر اس کے گرد ریت یا بروایت دیگر پتھروں سے دیوار بنانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی فرمایا زَم زَم یعنی ٹھہر ٹھہر ۔ تب سے یہ پانی آبِ زَم زَم کہلاتا ہے۔ یہ مبارک چشمہ پیاس کی بے تابی میں آپ کی ایڑیاں رگڑنے سے فوارہ کی طرح اس سنگلاخ زمین میں ابلا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں وسمیت زَم زَم لکثیر تھا یقال ماء زَم زَم ای کثیر وقیل لا جتماعھا یعنی اسکا نام زَم زَم اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ بہت ہے اورایسے ہی مقام پر بولا جاتا ہے۔ماہ زَم زَم ای کثیر یعنی یہ پانی بہت بڑی مقدار میں ہے اور اسکے جمع ہونے کی وجہ سے بھی اسے زَم زَم کہا گیا ہے۔
مجاہد نے کہا کہ یہ لفظ ہزمہ سے مشتق ہے۔لفظ ہزمہ کے معنے ہیں ایڑیوں سے زمین میں اشارے کرنا۔چونکہ مشہور ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمین پر  ایڑی رگڑنے سے یہ چشمہ نکلا لہذا اسے زَم زَم کہا گیا۔ واللہ اعلم۔
چند ارباب دانش کے نزدیک یہ مصری زبان کا لفظ ہے اس کا مطلب ٹھہر ٹھہر ہے ۔ اور کچھ ماہرین لسانیات کہتے ہیں کہ یہ عربی زبان کے لفظ زَم زَمہ سے ہے۔ جس کا مطلب چھوٹے چھوٹے گھونٹ سے پانی پینا یا اوک سے پانی پینا ہے۔
توریت میں اس مبارک کنویں کا ذکر ان لفظوں میں ہے: خدا کے فرشتے نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا اور اس سے کہا اے ہاجرہ! تجھ کو کیا ہوا مت ڈر کہ اس لڑکے کی  آواز جہاں وہ پڑا ہے خدا نے سنی، اٹھ اور لڑکے کو اٹھا اور اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ پھر خدا نے اس کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا اور جاکر اپنی مشک کو پانی سے بھرلیا اور لڑکے کو پلالیا۔ ( توریت ، سفر پیدائش، باب: 21 )
کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بعد میں اس کو چار طرف سے کھود کر کنویں کی شکل میں کردیا تھا اور اب زمین کے اونچا ہوتے ہوتے اتنا گہرا ہوگیا۔
پانی زندگی کی علامت ہے اور دنیا کی بیشتر تہذیبیں دریاوں کے کناروں پر پھلی پھولی ہیں۔ چنانچہ بی بی علیہ السلام نے وہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ کچھ عرصہ بعدقبیلہ بنو جرہم کا ایک قافلہ یہاں سے گذرا اور وہ لوگ پانی دیکھ کر وہاں رہنے لگے۔ چشمے کی ملکیت بدستور بی بی علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے پاس رہی۔ یہ مکّہ معظمہ کی پہلی آبادی تھی۔خانۂِ کعبہ کی تعمیر کے بعد اہل فارس بھی ادھر آئے۔ ساسانیوں کے جد امجد ساسان ابن بابق نے بھی اس اس کی زیارت کی۔ اس کا تذکرہ قدیم پارسی شاعری میں ملتا ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد کئی دفعہ ایسا ہوا کہ زَم زَم کا چشمہ خشک ہوگیا جوں جوں یہ خشک ہوتا گیا لوگ اسکوگہراکرتے گئے یہاں تک کہ وہ ایک گہرا کنواں بن گیا۔مدتوں تک خانۂِ کعبہ کی تولیت بنو جرہم کے ہاتھوں میں رہی۔ جب بنو خزاعہ کو اقتدار حاصل ہوااور بنو جرہم یہاں سے کوچ کرنے لگے تو انہوں نے قریش کے مشہور بتوں ایساف اور نائلہ کے ساتھ اپنے خزانے اور حجرِاَسوَد ساتھ میں غلافِ کعبہ کو بھی زَم زَم میں ڈال کر چشمے کو بند کر دیا ۔ مشہور مورخ مسعودی لکھتا ہے یہ خزائن بنو جرہم کے نہ تھے کیونکہ بنوجرہم ایک غریب قبیلہ تھا۔ انہیں تو اہل فارس وہاں لائے تھے ۔ پھر مدتوں تک یہ مبارک چشمہ غائب رہا۔
محّمد حسین ہیکل لکھتا ہے۔ آبِ زَم زَم مضاض بن عمرو جرہمی کے دور میں خشک ہوا۔ لیکن اس کا مقام عربوں کے ذہن میں محفوظ رہا اور اسے دوبارہ کھودنے کی آرزو ان کے دل میں مچلتی رہی۔ حتیٰ کہ رسالت مآب محّمد مصطفےٰ ﷺ کے دادا جناب عبد المطلب نے بحکم الٰہی خواب میں اس کے صحیح مقام کو دیکھ کر اس کنوئیں کوکھودنے کا حکم ہوا ۔
اس کے متعلق عبدالمطلب کا بیان ہے کہ میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں مجھے ایک شخص نے کہا طیبہ کو کھودو۔ میں نے کہا کہ طیبہ کیا چیز ہے؟ وہ شخص بغیر جواب دئیے چلا گیا اور میں بیدار ہوگیا۔ دوسرے دن جب سویا تو خواب میں پھروہی شخص آیا اور کہا کہ مضنونہ کو کھودو۔ میں نے کہا کہ مضنونہ کیا چیز ہے؟ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی اور وہ شخص غائب ہوگیا۔ تیسری رات پھر وہی واقعہ پیش آیا اور اب کی دفعہ اس شخص نے کہا کہ زَم زَم کو کھودو۔ میں نے کہا زَم زَم کیا ہے؟ اس نےکہا تمہارے دادا اسمٰعیل علیہ السلام کا چشمہ ہے۔ اس میں بہت پانی نکلے گا اور کھودنے میں تم کو زیادہ مشقت بھی نہ ہوگی۔ وہ اس جگہ ہے جہاں لوگ قربانیاں کرتےہیں۔ ( عہد جاہلیت میں یہاں بتوں کے نام پر قربانیاں ہوتی تھیں ) وہاں چیونٹیوں کابل ہے۔ تم صبح کو ایک کوا وہاں چونچ سے زمین کریدتا ہوا دیکھو گے۔ صبح ہونے پر عبدالمطلب خود کدال لے کر کھڑے ہوگئے اور کھودنا شروع کردیا۔ساتھ میں ان کے بیٹے حارث نے ان کی مدد کی ۔ تھوڑی ہی دیر میں پانی نمودار ہوگیا۔ جسے دیکھ کر انہوں نے زور سے تکبیر کہی۔ پانی کے ساتھ دو طلائی ہرن اور تلواریں بھی برآمد ہوئیں۔ اس مال کی تقسیم کے لئے تیر اندازی کے ذرعے قرعہ اندازی ہوئی۔ دو تیر قریش ، دو کعبہ اور دو جناب عبدالمطلب کی جانب سے چلائے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ جس کے تیر نشانے پر لگیں وہ مالک ہو گا۔ قریش کے دونوں تیر خطا گئے۔ ہرن کعبے کے اور تلواریں جناب عبدالمطلب کے حصے میں آئے۔ آپ نے تلواریں فرخت کر کے کعبے کا دروازہ تعمیر کیا۔ ہرن اس میں محفوظ کر دئے گئے۔علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ :یہ ہرن ایرانی زائروں نے کعبہ پر چڑھائے تھے۔
آبِ زَم زَم کمی آب کی وجہ سے کئی دفعہ کھودا گیا ہے۔ 223 ھ میں اس کی اکثر دیواریں منہدم ہوگئیں اور اندر بہت سا ملبہ جمع ہوگیاتھا۔ اس وقت طائف کے ایک شخص محّمد بن بشیر نامی نے اس کی مٹی نکالی اور بقدر ضرورت اس کی مرمّت کی کہ پانی بھرپور آنے لگا۔
مشہور مؤرخ ازرقی کہتا ہے کہ:اس وقت میں بھی کنویں کے اندر اترا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس میں تین طرف سے چشمے جاری ہیں۔ ایک حجرِاَسوَد کی جانب سے دوسراجبل ابوقبیس کی طرف سے تیسرا مروہ کی طرف سے، تینوں مل کر کنویں کی گہرائی میں جمع ہوتے رہتے ہیں اور رات دن کتنا ہی کھینچومگر پانی نہیں ٹوٹتا۔
اسی مؤرخ کا قول ہے کہ:میں نے قعر آب کی بھی پیمائش کی تو 40 ہاتھ کنویں کی تعمیر میں اور 26 ہاتھ پہاڑی غار میں، کل 69 ہاتھ پانی تھا۔ ممکن ہے آج کل زیادہ
ہوگیا ہو۔145ھ میں ابو جعفر منصور نے اس پر قبضہ بنایا اور اندر سنگ مرمر کافرش کیا۔  پھر مامون رشید نے آبِ زَم زَم کی مٹی نکلوا کر اس کو گہرا کیا۔
ایک مرتبہ کوئی دیوانہ کنویں کے اندر کود پڑا تھا۔ اس کے نکالنے کے لیے ساحل جدہ سے غواص بلائے گئے۔ بمشکل اس کی نعش ملی اور کنویں کو پاک صاف کرنےکےلیے بہت سا پانی نکالا گیا۔ اس لیے 1020ھ میں سلطان احمد خاں کے حکم سے آبِ زَم زَم کے اندر سطح آب سے سوا تین فٹ نیچے لوہے کا ایک جال ڈال دیا گیا۔ 1039 ھ میں سلطان مراد خاں مرحوم نے جب کعبہ شریف کو از سرنو تعمیر کیا تو آبِ زَم زَم کی بھی نئی بہترین تعمیر کی گئی۔ تہہ آب سے اوپر تک سنگ مرمرسےمزین کردیا اور زمین سے ایک گز اونچی 2 گز عریض منڈیر بنوادی۔ ارد گرد چاروں طرف دو دو گزتک سنگ مرمر کا فرش بناکر اس پر دیواریں اٹھادیں اوران پرچھت پاٹ کر ایک کمرہ بنوادیا جس میں سبز جالیاں لگادیں۔
آبِ زَم زَم کی فضیلت
وقال عبدان أخبرنا عبد الله، أخبرنا یونس، عن الزهری، قال أنس بن مالك كان أبو ذر ـ ؓ ـ یحدث أن رسول الله ﷺقال ‏ ‏فرج سقفی وأنا بمكة، فنزل جبریل ـ علیه السلام ـ ففرج صدری، ثم غسله بماء زَم زَم ، ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمة وإیمانا، فأفرغها فی صدری، ثم أطبقه، ثم أخذ بیدی فعرج إلى السماء الدنیا‏۔‏ قال جبریل لخازن السماء الدنیا افتح‏۔‏ قال من هذا قال جبریل‏ اور عبدان نے کہا کہ مجھ کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، انہوں نےکہاکہ ہمیں یونس نے خبردی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میں مکّہ میں تھاتو میری ( گھر کی ) چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور اسے زَم زَم کے پانی سے دھویا۔ اس کے بعد ایک سونےکاطشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اسے انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر سینہ بند کر دیا۔ اب وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر آسمان دنیا کی طرف لے چلے۔ آسمان دنیا کے داروغہ سے جبریل نے کہا دروازہ کھولو۔ انہوں نے دریافت کیا کون صاحب ہیں؟ کہا جبریل ! ( بخاری حدیث نمبر : 1636)
حدثنا محّمد ـ هو ابن سلام ـ أخبرنا الفزاری، عن عاصم، عن الشعبی، أن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ حدثه قال سقیت رسول الله ﷺمن زَم زَم فشرب وهو قائم‏۔‏ قال عاصم فحلف عكرمة ما كان یومئذ إلا على بعیر‏۔ ہم سے محّمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری
نے خبردی، انہیں عاصم نے اور انہیں شعبی نے کہ حضرت عبد
اللہ بن عباس ؓ نے ان سے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زَم زَم کا پانی پلایا تھا۔ آپ نے پانی کھڑے ہوکر پیا تھا۔ عاصم نے بیان کیا کہ عکرمہ نے قسم کھاکر کہا کہ آنحضور ﷺ اس دن اونٹ پر سوار تھے۔( بخاری حدیث نمبر:1637)
یہ معراج کی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہاں امام بخاری اس کو اس لیے لائے کہ اس سےزَم زَم کے پانی کی فضیلت نکلتی ہے۔ اس لیے کہ آپ کا سینہ اسی پانی سےدھویاگیا۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی احادیث زَم زَم کے پانی کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں مگرحضرت امیر المؤمنین فی الحدیث کی شرط پر یہی حدیث تھی۔ صحیح مسلم میں آبِ زَم زَم کو پانی کے ساتھ خوراک بھی قرار دیا گیا ہے اور بیماروں کے لیے دوا بھی فرمایا گیاہے۔ حدیث ابن عباس ؓ میں مرفوعاً یہ بھی ہے کہ
ماءزَم زَم لما شرب لہ کہ زَم زَم کا پانی جس لیے پیا جائے اللہ وہ دیتا ہے۔
آبِ زَم زَم کا ذائقہ قدرے نمکین ہے۔ دنیا کے پانیوں سے زیادہ بھاری زود ہضم اور شافی امراض ہے۔ حضور اکرم ﷺنے فرمایا جو شخص بیت اللہ کاطواف کرے،مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل پڑہے اور آبِ زَم زَم پئے تو اس کے تمام گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور فرمایا جناب رسول خدا ﷺنے کہ آبِ زَم زَم ہر غرض کے لئےہے۔ یعنی ہر مرض کے لیئے بھی اور اس کو پی کر جو دعا کرو وہ بھی قبول ہوتی ہے۔
ابن قیم جوزیہ ؒ کہتے ہیں :زَم زَم سب پانیوں کا سردار اورسب سے زیادہ شرف و قدروالاہے ، لوگوں کے نفوس کوسب سے زیادہ اچھا اورمرغوب اوربہت ہی قیمتی ہےجوکہ جبریل علیہ السلام کے کھودے ہوۓ چشمہ اوراللہ تعالٰی کی طرف سےاسماعیل علیہ السلام علیہ السلام کی تشنگی دورکرنے والا پانی ہے ۔
صحیح مسلم میں نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے ابوذرؓ کو جب وہ کعبہ کے پردوں پیچھے چالیس دن رات تک مقیم رہے اوران کا کھانا صرف زَم زَم تھا اس وقت فرمایا : نبی ﷺ نے ابوذرؓ سے پوچھا تم کب سے یہاں مقیم ہو ؟ توابوذر ؓ کہتے ہیں میں نے جواب دیا تیس دن رات سے یہیں مقیم ہوں ، تونبی ﷺ فرمانے لگے :تیرے کھانے کا اتنظام کون کرتا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے جواب میں کہا کہ میرے پاس توصرف زَم زَم ہی تھا اس سے میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے پیٹ کے تمام کس بل نکل گۓ ، اورمیری ساری بھوک اورکمزوری جاتی رہی ، نبی ﷺ فرمانے لگے : بلاشبہ زَم زَم بابرکت اورکھانے والے کے لیے کھانے کی حیثیت رکھتا ہے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر2473 )
اورایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ:یہ بیمارکی بیماری کی شفا ہے ۔(مسندالبزار حدیث نمبر 1171 اور 1172 اورمعجم طبرانی الصغیر حدیث نمبر 295 ) ۔
علماء کرام نے اس حدیث پر عمل اورتجربہ بھی کیا ہے عبداللہ بن مبارک ؒ نے جب حج کیا تووہ زَم زَم کے پاس آئے توکہنے لگے اے اللہ مجھے ابن ابی الموالی نے محّمد بن منکدر سے اورانہوں نے جابرؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : زَم زَم اسی چیز کےلیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جآئے ، اورمیں روزقیامت کی تشنگی اورپیاس سے بچنے کےلیے اسے پی رہا ہوں ۔
ابن قیمؒ بیان کرتے ہیں کہ: میں اورمیرے علاوہ دوسروں نے بھی زَم زَم پی کرتجربہ کیا ہے کہ اس سے عجیب وغریب قسم کی بیماریاں جاتی رہتی ہیں اورمجھے زَم زَم کے ساتھ کئ ایک بیماریوں سے شفانصیب ہوئی ہے اورالحمدللہ میں ان سے نجات حاصل کرچکا ہوں
آبِ زَم زَم پینے کا مسنون اور افضل طریقہ
آبِ زَم زَم پینے کا مسنون اور افضل طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف رخ کر کے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر پیں، انسان خواہ سعودی عرب میں رہتاہو یا سعودی عرب سے باہر ہو، آبِ زَم زَم میں جب تک چاہیں دوسرا پانی ملا کر فیض لے سکتے ہیں اور اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ اگرچہ پوری زندگی آبِ زَم زَم میں دوسرا پانی ملا کر پیتا رہے۔واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
آبِ زَم زَم پر لیبارٹریوں میں تحقیق
1971 میں ایک ڈاکٹر نے آبِ زَم زَم کو پینے کے لیے غیر موزوں قرار دیا، اسکی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کعبۃ المشرفہ مکّہ مکرمہ کے درمیان مین سطح سمندر سے نیچے واقع ہے اور عین ممکن ہے کہ زَم زَم کے کنوئیں میں غیر معیاری پانی کی کافی مقدار جمع ہو گئی ہو۔جب یہ خبر شاہ فیصل مرحوم تک پہنچی تو انہوں نےتحقیقات کا حکم دے دیا، اور زَم زَم کے پانی کے نمونے یورپین لیبارٹریز میں بھجوائے گئے۔
کیمیکل انجینیئر محی الدین احمد کہتے ہیں ( جو کہ اس وقت سعودی وزارتِ زراعت و پانی میں کام کر رہے تھے، انہیں نمونے اکٹھے کرنے کے لیے چنا گیا تھا) یہ پہلا موقع تھا جب انہیں کنوئیں کو دیکھنے کا موقع ملا، اس پر یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک چھوٹا تالاب، جس کی لمبائی 18 فٹ سے زیادہ نہیں، اور 14 فٹ چوڑائی کے ساتھ،حضرت
ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے لاکھوں گیلن پانی ہر سال حجاج کرام کو مہیا کررہا ہے۔مختلف مقامات سے اسے جانچا گیا، پانی کی گہرائی دیکھی گئی، لوگوں کے نہانے والی
جگہ سے پانی بند کیا گیا، پھر تالاب میں اترے، جب ان کے کندھوں تک پانی آگیا تو کنوئیں میں ایک جانب سے دوسری جانب حرکت کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ کہیں سے پانی کنوئیں میں تو نہیں آرہا، مگر انہیں کوئی سراغ نہیں ملا،،،،پھر انہیں خیال آیا کہ پانی کے منبع کو دیکھنے کے لیے واٹر سکشن پمپ کے ذریعے پانی کی بڑی مقدارکومحفوظ جگہوں پر ذخیرہ کر کے پانی کی سطح کم کی جا سکتی ہے۔ جب پانی باہر کھینچا جا رہا تھا تو بھی انہیں کوئی ایسی جگہ نہیں نظر آئی جس سے پتہ چل سکے کہ پانی کہاں سے آتا ہے، انہوں نے اپنے ماتحت سے کہا کہ پھر پانی میں جائے، اُس آدمی نے پورے کنوئیں میں چکر لگاتے ہوئے اپنے پیروں کے نیچے ریت کو محسوس کیا، پانی نکالنے کے عمل کے دوران ہی نیا پانی اسی مقدار میں بھرنا شروع ہو گیا، جس مقدارمیں پانی کھینچا جا رہا تھا۔ اس وجہ سے پانی کی سطح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ یہاں پر یورپین لیبارٹریز کو بھیجنے کے لیے کئی نمونے لیے گئے، مکّہ سے جانے سے قبل شہر کے دوسرے کنوؤں کے متعلق پوچھنے پر بتایا گیا کہ اکثر ان میں سے خشک ہوچکےہیں۔
زَم زَم اور مکّہ کے دوسرے پانی میں جو فرق پایا گیا وہ تھا کیلشمیم اور میگنیشیم نمکیات کے تناسب، شاید یہی وجہ ہے کہ تھکے ماندے حاجیوں کو صرف زَم زَم کا پانی ہی چُست اور توانا رکھتا ہے،اور صرف یہی نہیں، زَم زَم میں فلورین کا مرکب پایا جاتا جو کہ مختلف قسم کے بیکٹیریا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے، یورپین لیبارٹریز کے نتیجہ کےمطابق یہ پانی پینے کے لیے موزوں ترین ہے۔
یہ بھی قابلِ توجہ امر ہے کہ سیکڑوں سالوں سے زَم زَم کا کنواں خشک نہیں ہوا اور ہمیشہ حجاج کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی رہا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہےکہ دنیا کے مختلف حصوں سے سالہاسال یہاں آنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، یہی پانی پیتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔ اس قدرتی پانی کو کسی کیمیائی عمل سےنہین گذارا جاتا، نہ کلورین ملائی جاتی ہے، عام کنوؤں میں مختلف قسم کے پودے اُگ آتے ہیں، یا فنجائی جم جاتی ہے جس سے پانی کا ذائقہ اور بو تبدیل ہوجاتےہیں،مگر زَم زَم کے کنوئیں میں کوئی پودا یا فنجائی وغیرہ نہیں لگتی۔
جدید طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آبِ زَم زَم میں ایسے اجزاءمعدنیات اور نمکیات موجود ہیں جو انسان کی غذائی اور طبی ضروریات کو بڑے
اچھےطریقےسےپوراکرتے ہیں حکومت سعودی عرب نے اس بات کا اہتمام کررکھا ہے کہ ہر چار گھنٹے بعد زَم زَم کے پانی کا جدید ترین لیبارٹریوں میں ہر لحاظ سےمعائنہ کیا جاتا ہے۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں آبِ زَم زَم کے بارے میں بے شمار انکشافات ہورہے ہیں۔آبِ زَم زَم کی کیمیائی تحقیقات اور طبی مطالعے سے معلوم ہوا ہےکہ اس میں وہ اجزاءشامل ہیں جو معدہ جگر آنتوں اور گردوں کیلئے بالخصوص مفید ہیں۔
دورِ جدید میں سائنسی ترقی کے بعد اب توآبِ زَم زَم سپلائی کرنے سے قبل اور بھی گہری چھان بین اور جانچ کی جاتی ہے۔ الٹرا وائلٹ شعاؤں سے پانی کوگزاراجاتاہےکہ اگر اس میں جراثیم ہوں تو وہ مر جائیں۔ جو لوگ آبِ زَم زَم انفرادی طورپرفروخت کرتے ہیں غیر قانونی ہے اور وہ پانی ملاوٹی بھی ہو سکتا ہے۔ اس پرسعودی حکومت نے پابندی بھی لگا رکھی ہے۔ آبِ زم زم کی صفائی  کے لئے اس کےپانی کو اسٹین لیس اسٹیل کے پائپوں کے ذریعے کولینگ اسٹیشن بھیجاجاتاہےاوراسکے بعد وہ زائرین کے پینے کے لیے پہنچتا ہے۔ پانی کی صفائی ستھرائی اور اس کے تحفظ پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق قدرتی پانی میں آرسینک کی مقدار دس مائکروگرام فی لیٹر ہوتی ہے۔ اگر یہ مقدار اس سے آگے نکل جائے تو خطرناک ہو جاتی ہے۔ اس سے گردے اور لیورفیل ہو سکتے ہیں اور کینسر بھی ہو سکتا ہے۔ آب زم ز م میں آرسینک کی مقدار اس شرح سے کافی کم ہے۔ زَم زَم کی پاکیزگی اور اس کی صحت کے بارے میں شبہہ نہیں کیاجا سکتا۔ کیونکہ صدیوں سے لوگ اس پانی کو پیتے آئے ہیں اور اس کے پینے سے کسی کے بیمار پڑنے کی کبھی بھی کوئی خبر نہیں آئی۔ بلکہ اس کے مستقل استعمال سےبیماروں کو شفا نصیب ہوئی ہے۔ آبِ زَم زَم کی کوالٹی کے بارے میں ہمیشہ تحقیقات ہوتی رہی ہیں اور یہ نتیجہ نکلتا رہا ہے کہ اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔
اس سے کسی کو کسی قسم کی بیماری نہیں ہو سکتی بلکہ اس میں شفا کے اجزا شامل ہیں۔ اس کو جس بیماری میں شفا کی نیت سے پیا جائے اس سے ویسا ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ یعنی اگر کوئی اس نیت سے زَم زَم پیئے کہ اس کو فلاں بیماری ہے اور
اللہ اس پانی سے اس کو ٹھیک کر دے تو وہ بیماری رفع ہو جاتی ہے۔
جاپان کے ماہر سائنس داں ڈاکٹر مسارو ایمونو نے اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ آبِ زَم زَم میں ایسی خصوصیات ہیں جو دنیا کے کسی دوسرے پانی میں نہیں ہیں۔انہوں نے نینو ٹیکنا لوجی کی مدد سے اس سلسلے میں متعدد تحقیق کی ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ اگر زَم زَم کا ایک قطرہ بھی عام پانی میں ملا دیا جائے تو اس میں بھی وہی خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں جو آبِ زَم زَم میں ہیں۔ آبِ زَم زَم کے خواص کو کسی بھی طرح تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ایک قطرے کا بلور (ایک چمک دار معدنی جوہر) جو انفرادیت رکھتا ہے وہ دوسرے پانی میں نہیں ہے۔سائنس دانوں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ بھی پتہ لگانے سے قاصر رہے۔
مذکورہ جاپانی سائنس داں نے ایک انکشاف اور کیا ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان کھانے پینے سے قبل بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں ۔ او راگر یہی بسم اللہ پانی پر پڑھی جائے تو اس میں عجیب قسم کا تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ خوردبین کے ذریعے بسم اللہ پڑھے گئے پانی کودیکھا گیا تو پتہ چلا کہ:پانی کے قطرے نے اپنی شکل پھول کی طرح بنالی اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ پانی کے قطرے نے کلام الٰہی کا اثر قبول کیا ہے اور شگفتہ انداز میں دکھائی دے رہا ہے جبکہ یہ بھی ریکارڈ کیا گیا کہ جب پانی کےایک قطرے پر شیطانی کلمات پڑھے گئے اور برے الفاظ ادا کرکے اس پر دم کیا گیا توخوردبین کی مدد سے یہ دکھائی دینے لگا کہ پانی کے اس قطرے نے اپنی شکل تبدیل کرلی اور اس کی ہیت انتہائی خراب دکھائی دینے لگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایڈولف ہٹلر چنگیز خان اور مشہور معروف قاتلوں کے نام لینے سے پانی کی ہیئت تبدیل ہوگئی اور اس کی شکل ڈرائونی بن گئی جبکہ اللہ کا نام لینے سے پانی کی خوردبینی شکل انتہائی خوبصورت ڈیزائن یا پھول میں تبدیل ہوگئی۔ اپنی طویل تحقیق میں دنیا کو حیران و ششدر کردینے والے جاپانی سائنسدان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھانا کھانے اور پانی پینے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے اسلام کے حکم کا تحقیق کے بعد پتہ چلا ہے کہ اس کے کتنے روحانی فوائد ہوتے ہیں۔ جاپانی پروفیسرنے حال ہی میں آبِ زَم زَم پر بھی سیر حاصل تحقیق کی ہے اور ان کا استدلال ہے کہ آبِ زَم زَم کی بعض خصوصیات کا پتہ ضرور لگایا گیا ہے لیکن ابھی تک آبِ زَم زَم کی مکمل خاصیت اور بالخصوص ہیت ترکیبی کا پتہ چلانا تحقیق کے مراحل میں ہے۔ پروفیسر مساروا ایموتو ایک تحقیقی انسٹیٹیوٹ چلاتے ہیں اور وہ گزشتہ دو دہائیوں سے پانی کی خصوصیات اور اس پر اثرانداز ہونے والے عوامل بالخصوص قرآنی آیات کی اثر پذیری اور انسانی جنس و روح پر اس کے ہونے والے اثرات کا مطالعہ کررہے ہیں۔ انہوں نے آبِ زَم زَم کے حوالے سے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہ دنیا کا واحد پانی ہے جو اثر پذیری میں بے مثال ہے اور اگر اس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر دم کرلیا جائے تو اس کے اثرات میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر بار کی جانے والی تحقیق میں آبِ زَم زَم اور عام پانی کے حوالے سے نئی باتیں سامنے آئی ہیں جن سے اس بات کا بین اظہارہوتا ہے کہ آبِ زَم زَم دنیا میں اللہ کی جانب سے ایک انعام ہے ایک معجزہ ہےاوراسکاایک قطرہ دنیا میں پائے جانے والے پانی کے ذخیروں کے مقابلے میں انتہائی اہم اور قیمتی ہے۔ دیگر پانی کے کئی گلاسوں کے برابر پانی میں جب آبِ زَم زَم کا ایک قطرہ ملایا تو یہ دیکھ کر انتہائی حیرانی ہوئی کہ آبِ زَم زَم کے اثرات اس سارے پانی میں دکھائی دینے لگے۔ مسارو نے یہ بھی کہا کہ ان کی جانب سے کی جانےوالی عمیق اور مسلسل تحقیق میں اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ ہم عام پانی کی خصوصیات کو تبدیل کرسکتے ہیں لیکن تمام کوششوں کے باوجود آبِ زَم زَم کی خاصیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکا جس پر ان کو بھی حیرانی ہوئی ہے۔
پروفیسر مساروایمو تو کا استدلال ہے کہ پانی میں اللہ نے قوت سماعت گویائی اور یادداشت رکھی ہے جبکہ اس میں ماحول سے متاثر ہونے کی بھی صلاحیت ہے۔انکاکہناہےکہ اگر تحقیق کی جائے تو یقینا یہ بات درست ثابت ہوگی کہ اللہ کے کلام کا پانی پر اثر الگ الگ ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کیلئے الگ شعبہ تحقیق قائم کرناہوگا کیونکہ اس کی وسعت ناقابل بیان ہے۔ پروفیسر ایموتو کا کہنا ہے کہ قدرت کی بنائی ہوئی ہر شے حتیٰ کہ پانی میں بھی ایسی صلاحیت ہے کہ وہ اللہ کاشعوررکھتاہےبلکہ اس کا ذکر بھی کرتا ہے۔ دم والے پانی کے اثرات بھی اسی طرح ہوتے ہیں تب ہی اس کا فائدہ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آبِ زَم زَم اللہ کریم کا ایک زندہ جاوید معجزہ ہے اور اس پر جب بھی اور جتنی بھی تحقیق کی جائے کم ہے کیونکہ ہر مرتبہ انسان پرنئےرازآشکارہوتےہیں اور مزید روشن پہلو انسان کی عقل کو ذخیرہ کرتے ہیں ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: