حضرت اُمِ سلمہؓ

نام و نسب:۔
ہند نام، ام سلمہ کنیت، قریش کے خاندان مخزوم سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت ابی امیہ سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم، والدہ بنو فراص سے تھیں اور انکا سلسلہ نسب یہ ہے، عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن جذل الطعان ابن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ،ابو امیہ(حضرت ام سلمہ ؓ کے والد) مکہ کے مشہور مخیر اور فیاض تھے، سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے تھے اسی لیے زاد الراکب کے لقب سے مشہور تھے۔(اصابہ ج8ص240) حضرت ام سلمہ ؓ نے انہی کی آغوش تربیت میں نہایت نازونعمت سے پرورش پائی۔
نکاح:۔
عبداللہ بن عبدالاسد سے جو زیادہ تر ابوسملہ ؓ کے نام سے مشہور ہیں، اور جو ام سلمہ ؓ کے چچا زاد بھائی اور آنحضرت ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، نکاح ہوا،
اسلام:۔
آغاز نبوت میں اپنے شوہر کے ساتھ ایمان لائیں،
ہجرت حبشہ:۔
اور ان ہی کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی، حبشہ میں کچھ زمانہ تک قیام کر کے مکہ واپس آئیں اور یہاں سے مدینہ ہجرت کی، ہجرت میں انکو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اہل سیر کے نزدیک وہ پہلی عورت ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔
ہجرت مدینہ:۔
ہجرت کا واقعہ نہایت عبرت انگیز ہے، حضرت ام سملہ ؓ اپنے شوہر کے ہمراہ ہجرت کرنا چاہتی تھیں(انکا بچہ سلمہ بھی ساتھ تھا)لیکن (حضرت ام سلمہ ؓ کے) قبیلہ نے مزاحمت کی تھی، اس لیے حضرت ابو سلمہ ؓ انکو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تھے، اور یہ اپنے گھر واپس آ گئیں تھیں(ادھر سلمہ ؓ کو ابو سلمہ ؓ کے خاندان والے حضرت ام سملہ ؓ سے چھین لے گئے) اس لیے ام سلمہ ؓ کو اور بھی تکلیف تھی،چنانچہ روزانہ گھبرا کر گھر سے نکل جاتیں اور ابطح میں بیٹھ کر رویا کرتیں۔ سات آٹھ دن تک یہی حالت رہی اور خاندان کے لوگوں کو احساس تک نہ ہوا۔ ایکدن ابطح سے انکے خاندان کا ایک شخص نکلا اور ام شلمہ ؓ کو روتے دیکھا تو اسکا دل بھر آیا گھر آکر لوگوں سے کہا کہ  اس غریب پر ظلم کیوں کرتے ہو، اسکو جانے دو اور اسکا بچہ اسکے حوالے کردو،  روانگی کی اجازت ملی تو بچے کو گود میں لیکراونٹ پر سوار ہو گئیں اور مدینہ کا راستہ لیا، چونکہ وہ بالکل تنہا تھیں، یعنی کوئی مرد ساتھ نہ تھا، تنعیم میں عثمان بن طلحہ(کلید بردار کعبہ) کی نظر پڑی، بولا کدھر کا قصد ہے؟ کہا مدینے کا پوچھا کوئی ساتھ بھی ہے، کہا خدا اور یہ بچہ،  عثمان نے کہا یہ نہیں ہو سکتا تم تنہا کبھی نہیں جا سکتیں یہ کہکر اونٹ کی مہار پکڑی اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں جب کہیں ٹھہرتا تو اونٹ کو بٹھا کر کسی درخت کے نیچے چلا جاتا، اور حضرت ام سلمہ ؓ اتر پڑتیں، روانگی کا وقت آتا تو اونٹ پر کجادہ رکھ کر پرے ہٹ جاتا اور ام سلمہ ؓ سے کہتا کہ سوار ہو جاؤ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا شریف آدمی کبھی
نہیں دیکھا، غرض مختلف منزلوں پر قیام کرتا ہوا۔ مدینہ لایا، قبا کی آبادی پر نظر پڑی تو بولا اب تم اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ، وہ یہیں مقیم ہیں  یہ ادھر روانہ ہوئیں، اور عثمان نے مکہ کا راستہ
لیا،(زرقانی ج3ص272،273)قبا پہنچیں تو لوگ انکا حال پوچھتے تھے اور جب یہ اپنے باپ کا نام بتاتیں تو انکو یقین نہیں آتا تھا(یہ حیرت انکے تنہا سفر کرنے پر تھی، شرفا کی عورتیں اسطرح باہر نکلنے کی جرأت نہیں کرتی تھیں) اور حضرت ام سلمہ ؓ مجبوراً خاموش ہوتی تھیں، لیکن جب کچھ لوگ حج کے ارادہ سے مکہ روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر رقعہ بھجوایا تو اس وقت لوگوں کو یقین ہوا کہ وہ واقعی ابوامیہ کی بیٹی ہیں، ابو امیہ قریش کے چونکہ نہایت مشہور اور معزز شخص تھے، اسلیےحضرت ام سلمہ ؓ بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھی گئیں۔(مسند ابن حنبل ج6ص307)
وفات:
ابوسلمہ ؓ ، نکاح ثانی اور خانگی حالات:۔کچھ زمانہ تک شوہر کا ساتھ رہا، حضرت ابوسلمہ ؓ بڑے شہہ سوار تھے، بدر اور احد میں شریک ہوئے، غزوہ احد میں چند زخم کھائے، جنکے صدمہ سے جانبر نہ ہوسکے،جمادی الثانی سن چار ہجری میں انکا زخم پھٹا اور اسی صدمہ سے وفات پائی۔(زرقانی ج3ص273) حضرت ام سلمہ ؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچیں اور وفات کی خبر سنائی، اور آنحضرت ﷺ خود انکےمکان پر تشریف لائے، گھر میں کہرام مچا تھا، حضرت ام سلمہ ؓ کہتی تھیں،  ہائے غربت میں یہ کیسی موت ہوئی  آنحضرت ﷺ نے فرمایا صبر کرو، انکی مغفرت کی دعا مانگو، اور یہ کہوکہ  خداوندا! ان سے بہتر انکا جانشین عطا کر  اسکے بعد ابو سلمہ ؓ کی لاش پر تشریف لائےاور جنازہ کی نماز نہایت اہتمام کے ساتھ پڑھائی گئی، آنحضرت ﷺ نے نو تکبیریں کہیں، لوگوں نےنمازکےبعدپوچھا، یا رسول اللہ ﷺ آپکو سہو تو نہیں ہوا؟ فرمایا یہ ہزار تکبیروں کے مستحق تھے، وفات کے وقت ابوسلمہ ؓ کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، آنحضرتﷺ نے خود دست مبارک سےآنکھیں بندکیں، اور انکی مغفرت کی دعا مانگی،ابوسلمہ ؓ کی وفات کے بعد ام سلمہ ؓ حاملہ تھیں، وضع حمل کے بعد عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے نکاح کا پیغام دیا، لیکن حضرت ام سلمہ ؓ نےانکارکردیا،انکے بعد حضرت عمر ؓ آنحضرت ﷺ کا پیغام لیکر پہنچے، حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا مجھے چند عذر ہیں
(1)میں سخت غیور ہوں
(2)صاحب عیال ہوں
(3) میرا سن زیادہ ہے، آنحضرت ﷺ نے ان زخمتوں کو گوارہ فرمایا، حضرت ام سلمہ ؓ کو اب عذر کیا ہو سکتا تھا؟اپنے لڑکے سے (جنکا نام عمر تھا) کہا اٹھو رسول اللہ ﷺ سے میرا نکاح  کراؤ۔(سنن نسائی ص511) شوال سن چار ہجری کی اخیر تاریخوں میں یہ تقریب انجام پائی، حضرت ام سلمہ ؓ کو حضرت ابو سلمہ ؓ کی موت سے جو شدید صدمہ ہوا تھا، خداوند تعالی نے اسکو ابدی مسرت میں تبدیل کر دیا، سنن ابن ماجہ میں ہے، جب ابوسلمہ ؓ نے وفات پائی تو میں نے وہ حدیث یاد کی جسکو وہ مجھ سے بیان کیا کرتے تھے تو میں نے دعا شروع کی اور جب میں یہ کہنا چاہتی کہ خداوندا! مجھے ابوسلمہ ؓ سے بہتر کون مل سکتا ہے لیکن میں نے دعا کو پڑھنا شروع کیا تو ابوسلمہ ؓ کے جانشین آنحضرت ﷺ ہوئے)آنحضرت ﷺ نے انکو دو چکیاں، گھڑا، اور چمڑے کا تکیہ جس میں
خرمے کی چھال بھری تھی، عنایت فرمایا، یہی سامان اور بیبیوں کو بھی عنایت ہوا تھا،(مسندج6ص295
)بہت حیادار تھیں، ابتدا جب آنحضرت ﷺ مکان پر تشریف لاتے تو حضرت ام سلمہ فرط غیرت سے لڑکی (زینب) کو گود میں بٹھا لیتیں، آپ یہ دیکھ کر واپس جاتے، حضرت عمار بن یاسر ؓ کو جو حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، معلوم ہوا تو بہت ناراض ہوئے، اور لڑکی کو چھین لےگئے،(ایضاً)لیکن بعد میں یہ بات ختم ہو گئی، اور جسطرح دوسری بیبیاں رہتی تھیں وہ بھی رہنے لگیں، نکاح سے قبل آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے انکا ذکر کیا تو حضرت عائشہ ؓ کو بڑا رشک ہوا، ابن سعد میں ان سے جو روایت منقول ہے اس میں یہ فقرہ بھی ہے یعنی مجھکو سخت غم ہوا، (ج8ص24)
آنحضرت ﷺ کو ان سے بےحد محبت تھی، یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر جب تمام ازواج مطہرات ؓ ن کو (سوا حضرت عائشہؓ کے) حضور ﷺ کی خدمت میں کچھ عرض کرنا تھا، تو انہوں نےحضرت ام سلمہ کو ہی اپنا سفیر بنا کر حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا، صحیح بخاری میں ہے کہ ازواج مطہرات ؓ ن کے دو گروہ تھے، ایک میں حضرت عائشہ، حفصہ، صفیہ، سودہ ؓ  شامل تھیں،دوسرے میں حضرت ام سلمہ ؓ اور باقی ازواج مطہرات ؓ ن تھیں۔ چونکہ آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ ؓ کو زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ اس لیے لوگ ان ہی کی باری میں ہدیہ بھیجتے تھے، حضرت ام سلمہ کی جماعت نے ان سے کہا، حضرت عائشہ ؓ کی طرح ہم بھی سب کی بھلائی کی خواہاں ہیں، اس بنا پر رسول ﷺ جسکے بھی مکان میں ہوں۔ لوگوں کو ہدیہ بھیجنا چاہیے، حضرت ام سلمہ ؓ نے آپ سے یہ شکایت کی تو آپ نے دو مرتبہ اعراض فرمایا، تیسری مرتبہ کہا ام سلمہ ؓ ! عائشہ ؓ کے معاملے میں مجھے اذیت نہ پہنچاؤ، کیونکہ انکے سوا تم میں کوئی بیوی ایسی نہیں ہے، جسکے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو،(صحیح بخاری ج1ص532) حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا میں آپ ﷺ کے اذیت پہنچانے سے پناہ مانگتی ہوں۔
حضرت سلمہ ؓ کے گھر میں آنحضرت ﷺ شب باش ہوتے تو انکا بچھونا حضور ﷺ کی جانماز کے سامنے بچھتا تھا(آنحضرت ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سامنے ہوتی تھیں۔)(مسندج6ص322)
آنحضرت ﷺ کے خیال کا بہت خیال رکھتی تھیں، حجرت سفینہ ؓ جو آنحضرت ﷺ کے مشہور غلام ہیں، دراصل حضرت ام سلمہ ؓ کے غلام تھے، انکو آزاد کیا تو اس شرط پر کہ جب تک آنحضرت ﷺ زندہ ہیں تم پر انکی خدمت لازمی ہوگی(ایضاًص316)
عام حالات:۔
حضرت ام سلمہ ؓ کے مشہور واقعات زندگی یہ ہیں، غزوہ خندق میں اگرچہ وہ شریک نہ تھیں، تاہم اس قدر قریب تھیں کہ آنحضرت ﷺ کی گفتگو اسطرح سنتی تھیں فرماتی ہیں کہ مجھے وہ وقت خودیادہے کہ جب سینۂ مبارک غبار سے اٹا ہوا تھا اور آپ لوگوں کو اینٹیں اٹھا اٹھا کر دیتے اور اشعار پڑھ رہے تھے کہ دفعتہً عمار بن یاسر پر نظر پڑی فرمایا (افسوس) ابن سمیہ! تجھکو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، (ایضاًص289)
محاصرہ بنو قریظہ سن پانچ ہجری میں یہود سے گفتگو کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ نے حضرت ابولبابہ ؓ کو بھیجا تھا، اثنائے مشورہ میں ابولبابہ ؓ نے ہاتھ کے اشارے سے بتلایا کہ تم لوگ قتل ہوجاؤگے،لیکن بعد میں اسکو افشائے راز سمجھ کر اس قدر نادم ہوئےکہ مسجد کے ستون سے اپنے آپکو باندھ لیا، چند دنوں تک یہی حالت رہی پھر توبہ قبول ہوئی، آنحضرت ﷺ حضرت ام سلمہ ؓ کےمکان میں تشریف فرما تھے کہ صبح کو مسکراتے ہوئے اٹھے تو بولیں خدا آپکو ہمیشہ ہنسائے، اس وقت ہنسنے کا کیا سبب ہے؟ فرمایا ابولبابہ ؓ کی توبہ قبول ہو گئی  عرض کی  تو کیا میں انکو یہ مژدہ سنا دوں فرمایا ہاں اگر چاہو حضرت ام سلمہ اپنے حجرہ کے دروازہ پر کھڑی ہوئیں اور پکار کر کہا ابولبابہ مبارک ہو تمھاری توبہ قبول ہو گئی،اس آواز کا کانوں میں پڑنا تھا کہ تمام مدینہ امنڈ آیا۔(زرقانی ج2ص153وابن سعدج2ق1ص54)
اسی سن میں آیت حجاب نازل ہوئی اس سے پیشتر ازواج مطہرات ؓ  بعض دور کے اعزہ و اقارب کے سامنے آیا کرتی تھیں، اب خاص خاص اعزہ کے سوا سب سے پردہ کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت ابن ام کمتوم قبیلہ قریش کے ایک معزز صحابی اور بارگاہ نبوی کے مؤذن تھے اور چونکہ نابینا تھے، اس لیے ازواج مطہرات ؓ ن کے حجروں میں آیا کرتے تھے، ایکدن آئے تو آنحضرت ﷺ نے حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ ؓ ما سے فرمایا، ان سے فرمایا، ان سے پردہ کرو بولیں وہ تو نابینا ہیں  فرمایا تم تو نابینا نہیں ہو، تم تو انہیں دیکھتی ہو (مسندج6ص296)
صلح حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھیں، صلح کے بعد آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ لوگ حدیبیہ میں قربانی کریں، لیکن لوگ اس قدر دل شکستہ تھے کہ ایک شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے، تین دفعہ بار بار کہنے پر بھی ایک شخص بھی آمادہ نہ ہوا، (چونکہ معاہدہ کی تمام شرطیں بظاہر مسلمانوں کے سخت خلاف تھیں اس لیے تمام لوگ رنجیدہ اور غصہ سےبیتاب تھے)آنحضرت ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور حضرت ام سلمہ ؓ سے شکایت کی، انہوں نے عرض کی آپ کسی سے کچھ نہ فرمائیں بلکہ باہر نکل کر خود قربانی کریں اور احرام اتارنےکےلیے بال منڈوائیں آپ نے باہر آکر قربانی کی اور بال منڈوائے اب جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اس فیصلہ میں تبدیلی نہیں ہو سکتی تو سب نے قربانیاں کیں اور احرام اتارا، ہجوم کا یہ حال تھا کہ ایکدوسرے پر ٹوٹا پڑتا تھا اور عجلت اس قدر تھی کہ ہر شخص حجامت بنانے کی خدمت انجام دے رہا تھا،(صحیح بخاری ج6ص380)
حضرت ام سلمہ ؓ کا یہ خیال علم النفس کے ایک بڑے مسئلہ کو حل کرتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہور کی فطرت شناسی میں انکو کس درجہ کمال حاصل تھا، امام الحرمین فرمایا کرتے تھے کہ صنف نازک کی پوری تاریخ اصابت رائے کی ایسی عظیم الشان مثال نہیں پیش کر سکتی۔(زرقانی ج3ص272)
غزوہ خیبر میں شریک تھیں، مرحب کے دانتوں پر جب تلوار پڑی تو کرکراہٹ کی آواز انکے کانوں میں آئی تھی،(استیعاب ج2ص803)
سن نو ہجری میں ایلاء کا واقعہ پیش آیا، حضرت عمر ؓ نے حضرت حفصہ ؓ کو تنبیہہ کی تو حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس بھی آئے وہ انکی عزیز ہوتی تھیں، ان سے بھی گفتگو کی، حضرت ام سلمہ ؓ نے جواب دیا،(صحیح بخاری ج2ص730)
 عمرؓ تم ہر معاملہ میں دخل دینے لگے یہاں تک کہ اب رسول اللہ ﷺ اور انکی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیتے ہو۔چونکہ جواب نہایت خشک تھا، اس لیے حضرت عمر ؓ چپ ہو گئے اوراٹھ کر چلے آئے، رات کو یہ خبر مشہور ہوئی کہ آنحضرت ﷺ نے ازواج کو طلاق دے دی صبح کو جب حضرت عمر ؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور تمام واقعہ بیان کیا جب حضرت ام سلمہ ؓ کا قول نقل کیا تو آپ مسکرائے،حجة الوداع میں جو سن دس ہجری میں ہوا۔ اگرچہ ام سلمہ ؓ علیل تھیں، تاہم ساتھ آئیں، نبہا(غلام) اونٹ کی مہار تھامے تھا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب غلام کے پاس اس قدر مال موجود ہو کہ وہ اسکو ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہو تو اس سے پردہ ضروری ہو جاتا ہے،(مسندج6ص308وص289)
طواف کے متعلق فرمایا کہ جب نماز فجر ہو، تم اونٹ پر سوا ہو کر طواف کرو چنانچہ حضرت ام سلمہ ؓ نے ایسا ہی کیا،(صحیح بخاری ج1ص219،220)
سن 11ہجری میں آنحضرت ﷺ علیل ہوئے، مرض نے طول کھینچا تو آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے مکان میں منتقل ہو گئے، حضرت ام سلمہ ؓ اکثر آپکو دیکھنے کے لیے جایا کرتی تھیں، ایکدن طبیعت زیادہ علیل ہوئی تو ام سلمہ ؓ چیخ اٹھیں آنحضرت ﷺ نے منع کیا کہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں،(طبقات ج2ق2ص13) ایکدن مرض میں اشتداد ہوا تو ازواج نے دوا پلانی چاہی، چونکہ گوارہ نہ تھی، آپ نے انکار فرمایا، لیکن جب غشی طاری ہو گئی تو حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت اسماء ؓ بنت عمیس نے دوا پلا دی(صیح بخاری ج2ص641وطبقات ج2ق2ص32)(بعض روائتوں میں ہے کہ ان دونوں نے اسکا مشورہ دیا تھا) اسی زمانہ میں ایک روز حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ ؓ ما نے جو حبشہ ہو آئی تھیں، وہاں کے عیسائی معبدوں کا(جو غالبا رومن کیتھولک گرجے ہونگے) اور انکے مجسموں اور تصویروں کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا۔ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرتا ہے تو اسکے مقبرہ کو عبادت گاہ بنا لیتے ہیں، اور اسکا بت بنا کر اس میں کھڑا کرتے ہیں ، قیامت کے روز خدائے عزوجل کی نگاہ میں یہ لوگ بدترین مخلوق ہونگے،(صحیح بخاری وصحیح مسلم)
وفات سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ سے باتیں کی تھیں، حضرت عائشہ ؓ اسی وقت بےتابانہ پوچھنے لگیں، لیکن حضرت ام سلمہ ؓ نے توقف کیا اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعدپوچھا،(طبقات ج2ق2ص40)
سن61ہجری میں حضرت حسین ؓ نے شہادت پائی، حضرت ام سلمہ ؓ نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ تشریف لائے ہیں، سر اور ریش مبارک غبار آلود ہے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا حال ہے، ارشاد ہوا، حسین ؓ  کے مقتل سے واپس آ رہا ہوں حضرت ام سلمہ ؓ بیدار ہوئیں تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے(صحیح ترمذی ص224) اسی حالت میں زبان سے نکلا اہل عراق نے حسین ؓ کو قتل کیا، خدا انکو قتل کرے اور حسین ؓ کو ذلیل کیا خدا ان لوگوں پر لعنت کرے،(مسند ج6ص98)
سن63ہجری میں واقعہ حرہ کے بعد شامی لشکر مکہ گیا، جہاں ابن زبیر ؓ پناہ گزیں تھے، چونکہ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں ایسے لشکر کا تذکرہ فرمایا تھا، بعض کو شبہہ ہوا، اور حضرت ام سلمہ ؓ سے دریافت کیا بولیں آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ ایک شخص مکہ میں پناہ لے گا، اسکے مقابلہ میں جو لشکر آئے گا بیاباں میں وہیں دھنس جائے گا۔ ام سلمہ ؓ سے پوچھا جو لوگ جبراً شریک کیئے گئے ہوں گے وہ بھی ؟فرمایا ہاں وہ بھی لیکن قیامت میں انکی نیتوں کے مطابق اٹھیں گے(حضرت ابوجعفر ؓ ) فرماتے تھے کہ یہ واقعہ مدینہ کے میدان میں پیش آئے گا،(صحیح بخاری ج2ص493،494)
وفات:۔
جس سال حرہ کا واقعہ ہوا(یعنی سن 63 ہجری) اسی سال حضرت ام سلمہ ؓ نے انتقال فرمایا اس وقت 84 برس کا سن تھا، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نماز جنازہ پڑھی اور بقیع میں دفن کیا(زرقانی ج3ص276) اس زمانہ میں ولید بن عتبہ(ابوسفیان ؓ کا پوتا) مدینہ کا گورنر تھا، چونکہ حضرت ام سلمہ ؓ نے وصیت کی تھی کہ وہ میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھائے، اس لیے وہ جنگل کی طرف نکل گیا اور اپنے بجائے ابوہریرہ ؓ کو بھیج دیا۔(طبری کبیرج3ص2443)
اولاد:۔
حضرت ام سلمہ ؓ کے پہلے شوہر سے جو اولاد ہوئی اسکے نام یہ ہیں۔
سلمہ ؓ ، حبشہ میں پیدا ہوئے، آنحضرت ﷺ نے انکا نکاح حضرت حمزہ ؓ کی لڑکی امامہ سے کیا تھا۔
عمر ؓ ، آنحضرت ﷺ سے حضرت ام سلمہ ؓ کا نکاح انہوں نے ہی کیا تھا، حضرت علی ؓ کے زمانہ خلافت میں فارس و بحرین کے حاکم تھے،
دُرّہ، انکا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے، حضرت ام حبیبہ ؓ نے جو کہ ازواج مطہرات میں داخل تھیں، آنحضرت ﷺ سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ درہ سےنکاح کرنا چاہتے ہیں؟ فرمایا یہ کیسے ہو سکتا ہے، اگر میں نے اسکو پرورش نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ کسی طرح میرے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔(صحیح بخاری ج2ص764)
زینب ؓ پہلے برہ نام تھا، لیکن آنحضرت ﷺ نے زینب رکھا۔(زرقانی ج3ص272)
حلیہ:۔
اصابہ میں ہے، یعنی حضرت ام سلمہ ؓ نہایت حسین تھیں۔ابن سعد(ابن سعدج8ص66) نے روایت کی ہے کہ جب حضرت عائشہ ؓ کو انکے حسن کا حال معلوم ہوا تو سخت پریشان ہوئیں، مگر یہ واقدی کی روایت ہے جو چنداں قابل اعتبار نہیں،حضرت ام سلمہ ؓ کے بال نہایت گھنے تھے۔(مسندج6ص389)
فضل و کمال:۔
علمی حیثیت اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ ؓ ما کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،(طبقات ابن سعدج6ص317)
 آنحضرت ﷺ کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ ؓ ما کا ان میں کوئی حریف مقابل نہ تھا۔مروان بن حکم ان سے مسائل دریافت کرتا اور اعلانیہ کہتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی ازواج کے ہوتے ہوئے ہم دوسروں سے کیوں پوچھیں، (مسندج6ص317)
حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس ؓ ما دریائے علم ہونے کے باوجود انکے دریائے فیض سے مستغنی نہ تھے،(ایضاًص312)
تابعین کرام کا ایک بڑا گروہ انکے آستانہ فضل پر سربر تھا۔قرآن اچھا پڑھتیں اور آنحضرت ﷺ کے طرز پر پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا آنحضرت ﷺ کیونکر قرأت کرتے تھے؟ بولیں ایک ایک آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے اسکے بعد خود پڑھ کر بتلا دیا۔(ایضاًص300،301)
حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کے سوا انکا کوئی حریف نہ تھا، ان سے 378 روائتیں مروی ہیں۔ اس بنا پر وہ محدثین صحابہ ؓ م کے تیسرے طبقہ میں شامل ہیں۔حدیث سننے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن بال گوندوارہی تھیں کہ آنحضرت ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے زبان مبارک سے ایھاالناس(لوگو!) کا لفظ نکلا تو فوراً بال باندھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں، اور کھڑے ہو کر پورا خطبہ سنا،(ایضاًص301)
مجتہد تھیں، صاحب اصابہ نے انکے تذکرہ میں لکھا ہے، یعنی وہ کامل العقل اور صاحب الرائے تھیں۔ (اصابہ ج8ص241)
علامہ ابن قیم نےلکھا ہے کہ ان کے فتاویٰ اگر جمع کیئے جائیں تو ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے،(اعلام الموقین ج1ص13)
انکے فتاوی کی  ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ وہ عموما متفق علیہ ہیں اور یہ انکی دقیقہ رسی اور نقطہ سنجی کا کرشمہ ہے،انکی نکتہ سنجی پر ذیل کے واقعات شاہد ہیں۔حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، مروان نے پوچھا آپ یہ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ بولے آنحضرت ﷺ بھی پڑھتے تھے، چونکہ انہوں نے یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ کے سلسلہ سے سنی تھی، مروان نے انکے پاس تصدیق کےلیے آدمی بھیجا، انہوں نے کہا مجھکو ام سلمہ ؓ سے یہ حدیث پہنچی ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس آدمی گیا اور انکو یہ قول نقل کیا تو بولیں، یعنی خدا عائشہؓ  کی مغفرت کرے انہوں نے بات نہیں سمجھی، (مسند احمد ج6ص299، یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے ج2ص239)
 کیا میں نے ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے انکے پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ (مسنداحمدج6ص303)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کا خیال تھا کہ رمضان میں جنابت کا غسل فورا صبح اٹھ کر کرنا چاہیے، ورنہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ایک شخص نے جا کر حضرت ام سلمہ و حضرت عائشہ ؓ ما سے جا کر پوچھا دونوں نے کہا کہ خود آنحضرت ﷺ جنابت کی حالت میں صائم ہوتے تھے، حضرت ابوہریرہ ؓ نے سنا تو رنگ فق ہو گیا، اسی خیال سے رجوع کیا اور کہا کہ میں کیا کروں فضل بن عباس ؓ نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا تھا، لیکن ظاہر ہے کہ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ ؓ ما کو زیادہ علم ہے۔(مسنداحمدج6ص306،307)(اسکے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنا فتوی واپس لے لیا)(ایضاًص306)
ایک مرتبہ چند صحابہ ؓ م نے دریافت کیا کہ آنحضرت ﷺ کی اندرونی زندگی کے متعلق کچھ ارشاد کیجیئے، فرمایا آپ کا ظاہروباطن یکساں تھا۔  آنحضرت ﷺ تشریف لائےتو آپ سے واقعہ بیان کیا،فرمایا تم نے بہت اچھا کیا،(ایضاًص309)
حضرت ام سلمہ ؓ جواب صاف دیتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ سائل کی تشفی ہو جائے، ایک دفعہ کسی شخص کو مسئلہ بتایا، وہ انکے پاس سے اٹھ کر دوسری ازواج کے پاس گیا۔ سب نے ایک ہی جواب دیا، واپس آ کے حضرت ام سلمہ ؓ کو یہ خبر سنائی تو بولیں، نعم واشفیک! ذرا ٹھہرو میں تمھاری تشفی کرنا چاہتی ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسکے متعلق یہ حدیث سنی ہے،(ایضاًص297)
حضرت ام سلمہ ؓ کو حدیث و فقہ کے علاوہ اسرار کا بھی علم تھا، اور یہ وہ فن تھا جسکے حضرت حذیفہ ؓ عالم خصوصی تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ انکے پاس آئے تو بولیں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ بعض صحابی ایسے ہیں جنکو نہ میں اپنے انتقال کے بعد دیکھونگا نہ وہ مجھکو دیکھیں گے، حضرت عبدالرحمن ؓ گھبرا کر حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے یہ حدیث بیان کی،حضرت عمر ؓ ، حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور کہا،  خدا کی قسم! سچ سچ کہنا کیا میں انہی میں ہوں۔ حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا نہیں، لیکن تمھارے علاوہ میں کسی کو مستثنیٰ نہیں  کرونگی،(مسنداحمدص307ج6)
حضرت ام سلمہ ؓ سے جن لوگوں نے علم حدیث حاصل کیا انکی ایک بڑی جماعت ہے ہم صرف چند ناموں پر اکتفا کرتے ہیں۔عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ ، اسامہ بن زید ؓ ، ہندؓ بنت الحارث الفراسیہ، صفیہ ؓ بنت شیبہ، عمرؓ ، زینبؓ (اولاد حضرت ام سلمہؓ ) مصعب ؓ بن عبداللہ(برادرزادہ) نبہان (غلام مکاتب) عبداللہ بن رافع، نافع ؓ ، شعبہ، پسر شعبہ ؓ ، ابوبکر ؓ ، خیرة والدۂ حسن بصری، سلیمان ؓ بن یسار، ابو عثمان ؓ الہندی، حمید ؓ ، ابوسلمہ ؓ ، سعید بن مسیب، ابووائل، صفیہ بنت محصی، شعبی، عبدالرحمان، ابن حارث بن ہشام، عکرمہ، ابوبکر بن عبدالرحمان، عثمان بن عبداللہ ابن موہب، عروہ بن زبیر، کریب مولیٰ ابن عباس ؓ ، قبیصہ بن زویب ؓ ، نافع مولا ابن عمر یعلےٰ بن مالک،
اخلاق و عادات:۔
حضرت ام سلمہ ؓ نہایت زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک ہار پہنا جس میں سونے کا کچھ حصہ شامل تھا، آنحضرت ﷺ نے اعراض کیا تو اسکو توڑ ڈالا۔(ایضاًج6ص319،323) ہرمہینےمیں تین دن(دو شنبہ، جمعرات اور جمعہ) روزہ رکھتی تھیں،(ایضاًص389) ثواب کی متلاشی رہتیں، انکے پہلے شوہر کی اولاد انکے ساھ تھی، اور وہ نہایت عمدگی سے انکی پرورش کرتی تھیں، اس بناپرآنحضرت ﷺ کو پوچھا کہ مجھکو اسکا کچھ ثواب بھی ملے گا۔ اپ نے فرمایا ہاں (صحیح بخاری ج1ص1198)
اچھے کاموں میں شریک ہوتی تھیں، آیت تطہیر انہی کے گھر میں نازل ہوئی تھی،آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسین ؓ کو بلا کر کمبل اڑھایا اور کہا خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر اور انہیں پاک کر  حضرت ام سلمہ ؓ نے یہ دعا سنی تو بولیں یا رسول اللہﷺ میں بھی انکے ساتھ شریک ہوں ارشاد ہوا۔ تم اپنی جگہ پر ہو اور اچھی ہوں۔(صحیح ترمذی ص530)
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پابند تھیں، نماز کے اوقات میں بعض امراء نے تغیر و تبدل کیا یعنی مستحب اوقات چھوڑ دیئے تو حضرت ام سلمہ ؓ نے انکو تنبیہہ کی اور فرمایا کہ آنحضرت ﷺ ظہر جلد پڑھا کرتے تھے اور تم عصر جلد پڑھتے ہو۔(مسندج6ص289)
ایک دن انکے بھتیجے نے دو رکعت نماز پڑھی، چونکہ سجدہ گاہ غبار آلود تھی، وہ سجدہ کرتے عقت مٹی جھاڑتے تھے، حضرت ام سلمہ ؓ نے روکا کہ یہ فعل آنحضرت ﷺ کی روش کے خلاف ہے،آنحضرت ﷺ کے ایک غلام نے ایک دفعہ ایسا کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا، ترب وجھک اللہ! یعنی تیرا چہرہ خدا کی راہ میں غبار آلود ہو۔(ایضاًج6ص301)
فیاض تھیں، اور دوسروں کو بھی فیاضی کی طرف مائل کرتی تھیں۔ایک دفعہ حضرت عبدالرحمان بن عوف نے آکر کہا اماں! میرے پاس اس قدر مال جمع ہو گیا ہے کہ اب بربادی کا خوف ہے، فرمایا بیٹا! اسکو خرچ کرو، آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ بہت سے صحابہ ایسے ہیں کہ جو مجھکو میری موت کے بعد پھر نہ دیکھیں گے!(ایضاًص290)
ایک مرتبہ چند فقراء جن میں عورتیں بھی تھیں، انکے گھر آئے اور نہایت الحاح سے سوال کیا، ام الحسن بیٹھی تھیں، انہوں نے ڈانٹا لیکن حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا ہمکو اسکا حکم نہیں ہے۔اسکےبعدلونڈی کو کہا کہ انکو کچھ دیکر رخصت کرو۔ کچھ نہ ہو تو ایک ایک چھوہارا انکے ہاتھ پر رکھ دو،(استیعابج2ص803)
آنحضرت ﷺ سے انکو جو محبت تھی اسکا یہ اثر تھا کہ آپکے موئے مبارک تبرکاً رکھ چھوڑے تھے۔ جنکی وہ لوگوں کو زیارت کراتی تھیں،(مسند احمدج6ص296)
آنحضرت ﷺ کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اسکا کیا سبب ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں۔ تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی
 ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات (ایضاًص301)
مناقب:۔
ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ ؓ آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھی تھیں، حضرت جبرئیل آئے اور باتیں کرتے رہے، انکے جانے کے بعد آپ نے پوچھا۔ انکو جانتی ہو؟  بولیں وحیہ ؓ تھے، لیکن جب اپ نے اس واقعہ کواور لوگوں سے بیان کیا تو اس وقت معلوم ہوا کہ وہ جبرئیل تھے،(صحیح مسلم ج2ص241مطبوعہ مصر)(غالبا یہ نزول حجاب سے قبل کا واقعہ ہے۔)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: