آپﷺ کیسے تھے؟-1

آپﷺ گفتگو کیسے کرتے تھے؟
رسول اللہ ﷺ اپنا وقت فالتو باتوں میں برباد نہیں کرتے تھے۔ آپﷺ زیادہ تر خاموش رہتے۔ ایسا معلوم ہوتا جیسے کچھ سوچ رہے ہوں ۔ آپﷺ اسی وقت گفتگو فرماتے جب بولنے کی ضرورت ہوتی۔ آپﷺ جلدی جلدی اور کٹے کٹے لفظ نہیں بولتے تھے۔ آپﷺ کی گفتگو بہت صاف اور واضح ہوتی۔ نہ آپ ضرورت سے زیادہ لمبی بات کرتے اور نہ اتنی مختصر ہوتی کہ سمجھ میں نہ آتی۔ آپ کے جملے بہت نپے تلے ہوتے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ٹھیر ٹھیر کر بولتے۔ ایک ایک فقرہ اس طرح واضح ہوتا کہ سننے والے کو پوری تقریر یاد ہوجاتی۔ آپﷺ کی آواز بلند تھی اور اچھی طرح سنی جا سکتی تھی۔آپﷺ کسی کی بات بیچ سے کاٹتے نہ تھے بلکہ پوری بات کہنے کا موقع دیتے اور توجہ سے سنتے تھے۔آپﷺ مسکراتے ہوئے نرم لہجہ میں بات کرتے تھے۔ کسی کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی یا چاپلوسی کی باتیں زبان سے نہیں نکالتے تھے۔ آپﷺ ہمیشہ انصاف کی بات کہتے تھے اور منہ دیکھی بات پسند
نہیں کرتے تھے۔ آپﷺ کٹ حجتی سے پرہیز کرتے تھے۔دشمن کو بھی نہ تلخ جواب آپ ﷺ نے دیا۔
آپﷺ ہمیشہ سچ بولتے تھے
رسول ﷺ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور جھوٹ کے پاس بھی کبھی نہ پھٹکتے تھے۔ آپ کی زبانِ مبارک سے کبھی کوئی غلط بات سننے میں نہیں آئی یہاں تک کہ مذاق میں  بھی کوئی جھوٹی بات آپﷺ کی زبان سے نہیں نکلتی  تھی۔ آپﷺ کے دشمنوں نے آپﷺ پر طرح طرح کے الزامات لگائے مگر آپ کو جھوٹا کہنے کی ہمت نہ کر سکے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ابو جہل آپ کا کتنا بڑا دشمن تھا۔ وہ بھی کہا کرتا تھا:محمّدﷺ ! میں تم کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیوں کہ تم نے کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں ، البتہ جو باتیں تم کہتے ہو ان کو میں ٹھیک نہیں سمجھتا۔
 یاد کیجئے اُس واقعہ کو جب حضورﷺ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش والوں سے یہ سوال کیا تھا: اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟
 سب نے ایک زبان ہوکر جو جواب دیا تھا وہ آپ کے صادق القول ہونے کی دلیل ہے۔ بولے ہاں ! ہم ضرور یقین کریں گے کیوں کہ تم کو ہمیشہ سے ہم نے سچ ہی بولتے دیکھا ہے۔
آپﷺ وعدے کے پکے تھے
پیارے نبی ﷺ بات کے دھنی تھے۔جو وعدہ فرما لیتے تھے اسے پورا کر کے رہتے تھے۔ آپ کی پوری زندگی سے کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں پیش کیا جا سکتا جس سے عہد شکنی ثابت کی جا سکے۔ دوست تو  دوست دشمن بھی آپ کے اس وصف کا اعتراف کرتے تھے۔
تاریخ کو دیکھیے۔ قیصرِ روم ابو سفیان سے دریافت کرتا ہے کیا محمّد نے کبھی بد عہدی بھی کی ہے؟ ابو سفیان کا جواب نفی میں سن کر وہ کسی خیال میں کھوجاتاہے۔
صلح نامۂ حُدیبیہ کی ایک شرط تھی کوئی مکہ والا مسلمان ہوکر مدینہ جائے گا تو واپس کردیا جائے گا۔ ٹھیک اسی وقت جب یہ عہد نامہ تحریر کیا جا رہا تھا ابو جندل ؓ زنجیروں میں جکڑے ہوئے اہل مکہ کی قید سے بھاگ کر مدینہ آجاتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو اپنی حالتِ زار دکھا کر فریادی ہوتے ہیں ۔ یہ منظر بہت ہی درد انگیزاورجذباتی تھا۔ تمام مسلمان تڑپ اٹھتے ہیں اور سفارش کرتے ہیں ، لیکن حضورﷺ نہایت اطمینان اور پُر وقار انداز میں مخاطب ہوتے ہیں ۔ ابو جندل ! تم کو واپس جانا ہوگا ،میں بد عہدی نہیں کرسکتا۔ الفاظ کرب و الم میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ابو جندل ؓ آپ کو حسرت بھری نظر سے دیکھتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں ۔
آپﷺ بدزبانی سے پرہیز کرتےتھے
بد زبانی ایسی بری عادت ہے کہ جس میں یہ عادت پائی جاتی ہے لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں ، وہ شخص دوسروں کی نظر سے گر جاتا ہے ، سب اُس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔ بد زبان آدمی سے لوگ ملنا پسند نہیں کرتے۔ ایسے شخص کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خدا کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بُرا شخص وہ ہوگا جس کی بد زبانی کے ڈر سے لوگ اس کو چھوڑ دیں ۔ بد زبانی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے حالانکہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔
بد زبانی ہی کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں اور نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے جبکہ حضورﷺ نے صاف صاف فرمایا ہے کہ(مسلمان کا)مسلمان کو برا بھلا کہنا فِسق ہے اور اس کے ساتھ لڑنا کفر ہے۔
ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجے۔ صحابہ رضی نے حیرت سے پوچھا ، یہ کیسے ممکن ہے؟
آپﷺ نے فرمایا ‘اس طرح کہ جب کوئی کسی کے باپ کو برا کہے گا تو جواب میں وہ اُن کے ماں باپ کو برا کہے گا۔
 اللہ تعالیٰ ہمیں بد زبانی سے بچنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: