مکّہ مُکرّمہ-4

جبل صفا

’’جبل صفا‘‘ یعنی صفا کی پہاڑی وہ مقا م ہے جہاں سے حاجی سعی کی ابتدا کرتے ہیں ۔ یہ پہاڑی اب مسجد الحرام کی تو سیع کے بعد مسجد کی عالیشان عمارت کے اندر آگئی ہے ۔ مسجد کی جدیدتعمیر کے بعد اب پہاڑی تو تقریباً ختم ہو چکی ہے البتہ نشانی کے طور پر ایک پہاڑی نما ٹیلہ ضرور موجود ہے جس کے سنگلا خ پتھر حجاج اور ذائرین کے مسلسل چلنے کی وجہ سےچکنےاورہموارہوگئے ہیں۔ یہ وہی تاریخی مقام ہے جہاں رسول ﷺ نے کفار مکہ کے سامنے دین اسلام کی ابتدا ئی دعوت دی او ر اسی پہاڑی پر کھڑے ہو کر آپ ؐ نے جب کفار سے یہ کہا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے دشمن کی فوجیں موجود ہیں تو کیا تم لوگ یقین کر لو گے۔کفار جو رسول ﷺ کی صداقت کے معترف تھے بولے ’’ یقیناً ‘‘ کیونکہ آپ تو صادق ہیں تب رسول ﷺ نے دین اسالم کی ابتدا ئی تبلیغ کا آغاز فرمایا اور کفار مکہ کو ایک اﷲ کی عبادت کی دعوت دی۔ صفا ہی وہ متبرک پہاڑی ہے جہاں سے بی بی حاجرہ نےاپنےشیرخوارفرزندکومکے کی گرم ریگستانی زمین پر لٹا کر پانی کی تلاش کی سعی شروع کی تھی اس پہاڑی سے آج بھی کعبۃ اﷲ صاف نظر آتا ہے۔ جہاں اس وقت شیرخوار سیدنا اسماعیل ؑ لیٹےہوئے تھے اور پیاس کی شدت سے سخت بے چین تھے۔ زائرین عمرہ اور حجاج اسی پہاڑی سے سعی کی ابتدا ء کرتے ہیں ۔ یہ پہاڑاسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم متبرک پہاڑ ہے۔مسجدالحرام میں اگر ’’باب صفا ‘‘ جو مسجد الحرام کے پانچ مرکزی دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔داخل ہوں تو داہنے ہاتھ پر مسجد شریف کی بالائی منزل پر جانے کے لیے لفٹیں لگی ہوئی ہیں اور وہیں معذوروں اور بو ڑھے کے لیے وہیل چیئرز کھڑی نظر آتی ہیں جو کرایہ پر (اس کا کرایہ چالیس ریال ہے اور یہ صفا اور مروا کی سعی کے لیے ) حاصل کی جا سکتی ہے۔
جبل مروا
جبل مروا یعنی مروا کی پہاڑی صفا کی پہاڑی کے مخالف سمت میں واقع ہے۔ اس پہاڑی پر بھی جبل صفا کی طرح اب چند ہی پہا ڑی پتھر بطور نشانی باقی رہ گئے ہیں اور بقیہ پوری چٹان خوبصورت تراش خراش کے بعد نہایت دلفریب چکور ٹائلوں سے مزین کر دی گئی ہے۔ حج اور عمرے کی سعی کے مسنون سات چکروں کا اختتام اسی پہاڑی پر ہو تا ہے جہاں زائرین رو رو کر دعائیں کرتے ہیں۔
مروا کی پہاڑی کے باہر جو سفید ٹائلوں سے مزین فرش ہے یہی دراصل وہ مقدس جگہ ہے جو مکہ میں رسول ﷺ کا محلہ یا علاقہ تھا۔ یہیں کچھ فاصلے پر آپ کی جائے پیدائش بھی تھی ۔ایک بات اور نہایت ضروری ہے کہ زائرین کی کثرت کے باعث مسجد الحرام کی بالائی منزل پر بھی صفا اور مروا کی سعی کی جاتی ہے۔ تاہم پہاڑی کے ٹیلے اور باب المروہ سے باہر نکلنے کا راستہ صرف زمینی منزل پر موجود ہے۔ کوشش کرنی چاہیئے کہ زمینی منزل پر سعی کریں تاہم بالائی منزل پر بھی سعی کرنا جائز ہے اور اجر وثواب میں کوئی کمی نہیں۔
میلین اخضرین
ایسے تو جبل صفا اور جبل مروا کا درمیانی راستہ جسے ’’ مسعیٰ ‘‘ کہتے کو میلن اخضرین کہتے ہیں۔ بی بی حاجرہ جب پانی کی تلاش میں صفا اور مروا کے درمیان دیوانہ وار دوڑ رہی تھیں یہ مقام جیسےمیلن اخضرین کہتے ہیں اس وقت نہایت نشیبی تھا۔ لہذا آپ جب یہاں پہنچیں تو کعبۃ اﷲ شریف کے سامنے زمین پر لیٹے آپ کے فرزند سیدنا اسماعیل ؑ آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جاتےتھے۔حالت بے قراری میں آپ اس نشیبی حصہ میں تیزی سے دوڑنے لگتیں۔بے تابی اور شفقت مادری کی یہ تڑپ خالق کائنات کو اس قدر پسند آئی کہ آپ نے رہتی دنیا تک ہر سعی کرنے والے شخص پر لازم قرار دے دیا کہ وہ اس چند میڑ کے فاصلے کو سید حاجرہ کی سنت پوری کرتے ہوئے دوڑ کر عبور کرے۔تاہم خواتین کے لیے حکم ہے کہ وہ دوڑنے کی بجائےقدرے تیز چلیں۔ لیکن مردوں کو اس مقام پر دوڑ لگانی چاہیے۔حکومت سعودی عرب نے ’’مسعیٰ ‘‘ میں اس مقام کی نشاندہی کی خاطر چھت اور اطراف کی دیواروں پر سبز ٹیوب لائٹ لائٹس لگا دی ہیں۔ ان سبز ٹیوب لائٹس کے بدولت اب حجاج اور زائرین دور سے ہی اس متبرک مقام کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ میلن اخضرین کا مقام بجلی مروا کی نسبت جبل صفاسےقدرےنذدیک ہے ۔ یہ دعاؤں کی قبولیت کی جگہ ہے۔ اس مقام پر سعی کرنے والے نہایت روحانی جذبے کے ساتھ بی بی حاجرہ کی سنت پوری کرتا نظر آتا ہے۔ اس مقام کا تاریخی پس منظرسامنے رکھتے ہوئے اگر یہاں سے گذرا جائے تو سعی کی عبادت کا مزا دوبا لا ہو جاتا ہے۔ ویسے تو ’’مسعیٰ ‘‘ اور ’’میلن اخضرین ‘‘ میں ایک حاجی جو۔۔۔۔جائز حاجت اﷲ سے مانگ سکتاہے لیکن ایک دعا آقائے نامدار سیدنا محمد ﷺ سے منسوب ہے جو آپ میلن اخضرین میں سے گزرتے ہوئے مانگا کرتے تھے۔ اس دعا مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں۔
’’ اے اﷲ تو بخش دے اور رحم فرما ۔ بے شک تو سب سے زیادہ غالب کرم کرنے والاہے۔‘‘
دار ارقم
دارارقم رسول ﷺ کے ایک صحابی سیدنا ارقمؓ کا مکا ن تھا۔ رسول ﷺ نبوت کے انتہائی ابتدائی دور یہ مکان اسلام کی تبلیغ اور دین کی ترویح کے لیے استعمال کیا کرتے تھے ابھی مسلمان اس قدر طاقتور نہیں ہوئے تھے کہ وہ کھلم کھلا اسلام کی تبلیغ کرتے یہ کعبۃ اﷲ شریف میں جا کر اﷲ واحد کی عبادت کرتے ۔ لیکن یہ دار ارقم ہی تھا جہاں سے اسلام کی سر بلندی کا سورج بلند ہوا اور اسی حقیقت کے باعث اس مقام کو تایخ اسلام میں ایک خاص مرتبہ اور فضیلت حاصل ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی ابتدائی دعوت پر 39افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ دارارقم وہ تاریخی مقام ہے جہاں عمر بن خطابؓ نے رسول اﷲ ﷺ کے ہاتھوں پر بیعت کی اور حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔پہلے پہل دارارقم مسجد الحرام کے باہر جبل صفا کی جانب تھالیکن مسجد الحرام کی توسیع تعمیر کے بعد یہ مسجد شریف کی حدود میں آگیا ہے۔ زائرین سعی کے دوران کوہ صفا سے مروہ کی جانب نکلنے والی چوتھے دروازے پر ’’باب ارقم‘‘ لکھا ہے۔ یہی وہ تاریخی مقام ہےجہاں کبھی سیدنا ارقمؓ کا مکان اور جہاں سیدنا عمرؓ نے اسلام قبول کیا تھا۔زائرین دوران سعی سات مرتبہ اس مقام کے قریب سے گذرتے ہیں چند لمحات یہاں رک کر اس مقام کی ضرور زیارت کر نی چاہیے کیونکہ یہ کرۂ ارض کا وہ مقدس مقام ہے جہاں سے دین اسلام کی شاندار ابتدا ہوئی ۔ بڑی فضیلت کا مقام ہے۔ اﷲ رب العزت سب کو اس مقام پاک کی زیارت کاموقع عطا فرمائے۔
مسجد الحرام کے دروازے
مسجد الحرام کی جدید توسیع کے بعد اس کے داخلی اور خارجی دروازوں کی تعداد 95 ہو گئی ہے اور زائرین اور حجاج کرام جس دروازے سے چاہیں حرم پاک میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ تاہم رسول پاک سیدنا ﷺ کی سنت ہے کہ آپ عمرہ کی غرض سے جس مقام سے حرم کعبہ میں داخل ہوئے تھے وہاں آج کل حرم کا مشہور دروازہ ’’ باب العمرہ ‘‘ قائم ہے اور اسی واقعہ کی مناسبت سے اس دروازے کا نام ’’ باب العمرہ‘‘ رکھا گیا ہے۔ مسجد الحرام کے کم وبیش تمام داخلی دروازے کسی نہ کسی نا م سے موسوم ہیں اور ان دروازوں پر جلی حروف میں ان کا نام اور نمبر درج ہیں ان 5دروازوں میں سے 5دروازے مرکزی گیٹ کی حیثیت رکھتے ہیں جو اپنی کشادگی کے اعتبار سے دیگر دروازوں سے بڑے اور وسیع ہیں۔ انہی مرکزی دروازوں کے اوپر بلند اور پر شکوہ مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو دور سے داخل ہونا چاہیے ۔ یہ افضل ہے لیکن ضروری نہیں ۔رش کے زمانے میں اگر ہر حاجی یا زائر اس دروازے سے بیت اﷲ شریف (حرم) میں داخل ہونے کی  کوشش کرے گا تو یہ نہایت مشکل بلکہ ناممکن امر ہوگا لہذا حاجیوں کی جہاں رہائش ہو ان کو اسی جانب موجود دروازوں سے حرم میں داخل ہو جانا چاہیے۔
  باب ملک العزیز
یہ حرم پاک کا پہلا مرکزی دروازہ ہے اس دروازے کا مقام موجودہ ہے جہاں سے رسول ﷺ نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔
باب صفاء
یہ جبل صفاء کی جانب حرم پاک کا دروازہ ہے اس دروازے سے اگر حرم پاک میں داخل ہوا جائے تو مسعی ٰ کا مقام نہایت نزدیک ہے اور بالائی منزل پر جانے کے لیے لفٹس لگی ہوئی ہیں۔اس باب یعنی دروازے کی شناخت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ تمام مرکزی دروازوں پر دو دو بلند مینار بنائے گئے ہیں لیکن باب صفا ء پر صرف ایک مینار ہے جس سے اس کی انفرادیت اوربڑھ جاتی ہے۔
باب فتح
حرم شریف کے اس دروازے کا نام باب فتح اس للیے رکھا گیا ہے کہ باہر انتہائی نزدیک وہ مقام یا جگہ موجود ہے جہاں فتح مکہ کے موقع پر رسول ﷺ نے فتح کا جھنڈا نصب کیا تھا اور غسل فرمایا تھا۔ یہ دروازہ جھنڈا نصب کرنے کی جگہ مسجد الرائیہ کے قریب ہے عربی میں رائیہ جھنڈے کو کہتے ہیں۔
باب فہد
شاہ فہد کے حکم سے مسجد الحرام کی جدید تو سیع کے بعد جو نیا دروازہ بنایا گیا ہے اسے باب فہد کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دروازہ حرم پاک کے دروازے باب عبدالعزیز کے بائیں جانب نہایت قریب ہے۔ باب فہد سے مسجد الحرام میں داخل ہونے کے بعد ذائرین اپنے آپ کو حرم پاک کے جدید حصے میں پاتے ہیں۔ حرم کا یہ حصہ جدید تعمیر کا شاہکار ہے۔ بڑے بڑے فانوس اور ائیر کنڈیشننگ نظام نے اس حصہ کو نہایت پر کشش بنا دیا ہے۔
Advertisements
1 comment
  1. از راہِ کرم عبارت ایک بار پڑھ کر کتابت کی تصحیح کر لیجئے ۔ دیگر یا میرا حافظہ کمزور ہے یا جس کی یہ تحریر ہے کا کیونکہ مجھے جو یاد ہے کچھ حصہ اس کے مطابق نہیں ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: