بارہواں سجدہ

فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْاجھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ۔(النجم 53:62)
یہ وہ مشہور آیت سجدہ ہے جس پر جب آپ نے بیت اللہ شریف میں سجدہ کیا تو آپ کے ساتھ مسلم و کافر سب سجدے میں گر گئے۔ اس سے پہلے کی آیات میں مکہ کے کفار کےغلط طرزِعمل پر ان کو ٹوکا گیا تھا کہ تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو؟ اور گابجا کر انھیں ٹالتے ہو؟ (53:61
یعنی قرآن سن کر اس کا مذاق اُڑاتے ہو اور لوگوں کی توجہ قرآن سے ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کر دیتے ہو، جب کہ صحیح طرزِعمل یہ ہے کہ تم جھک جاؤ اللہ کے آگے اوربندگی بجا لاؤ ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، ابن عباسؓ اور مُطَّلِب بن ابی وداعہؓ کی متفق علیہ روایات ہیں کہ حضوﷺر نے جب پہلی مرتبہ حرمِ پاک میں یہ سورت تلاوت فرمائی تو آپ نے سجدہ کیااور آپ کے ساتھ مسلم و کافر سب سجدے میں گرگئے۔ (بخاری)
سیرت النبیﷺ کی مشہور کتاب الرحیق المختوم میں یہ واقعہ یوں رقم ہے:
ہجرتِ حبشہ اوّل کے بعد، اسی سال رمضان شریف میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نبیﷺ ایک بار حرم تشریف لےگئے۔ وہاں قریش کا بہت بڑا مجمع تھا۔ ان کے سردار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ آپﷺ نے ایک دم اچانک کھڑے ہوکر سورۂ نجم کی تلاوت شروع کر دی۔ ان کفار نے اس سےپہلے عموماً قرآن سنا نہ تھااور ان کے کانوں میں ایک ناقابلِ بیان رعنائی و دل کشی اور عظمت لیے ہوئے کلامِ الٰہی کی آواز پڑی تو انھیں کچھ ہوش نہ رہا۔ سب کے سب گوش برآوازہوگئے۔ کسی کے دل میں کوئی اور خیال ہی نہیں آیا۔ یہاں تک کہ جب آپﷺ نے سورہ کے اواخر میں دل دہلا دینے والی آیات تلاوت فرما کر اللہ کا یہ حکم سنایا کہ فَاسْجُدُوْا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا اور سب کے سب سجدے میں گرپڑے بعد میں جب انھیں احساس ہوا کہ کلامِ الٰہی کے جلال نے ان کی لگام موڑ دی اور وہ ٹھیک وہی کام  کربیٹھے جسے مٹانے اور ختم کرنے کے لیے انھوں نے ایڑی سے چوٹی تک زورلگارکھاتھا۔اوراس کے ساتھ ہی اس واقعے میں غیرموجود مشرکین نے ان پر ہر طرف سے عتاب اور ملامت کی بوچھاڑ شروع کی تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے اور انھوں نے اپنی جان چھڑانےکے لیے رسولﷺ اللہ پر یہ افتراپردازی کی اور یہ جھوٹ گھڑا کہ آپﷺ نے ان کے بتوں کا ذکرعزت و احترام سے کرکے کہا تھا کہ تِلْکَ العَزَانِیْنُیہ بلندپایہ دیویاں ہیں،اور ان کی شفاعت کی اُمید کی جاتی ہے ۔ حالانکہ یہ صریح جھوٹ تھا جو محض اس لیے گھڑ لیا گیا تاکہ نبیﷺ کے ساتھ سجدہ کرنے کی جو ’غلطی‘ ہوگئی ہے اس کے لیے ایک ’معقول‘ عذر پیش کیا جاسکے۔بہرحال مشرکین کے سجدہ کرنے کے اس واقعے کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو بھی اس طرح پہنچی کہ قریش  مسلمان ہوگئے ہیں چنانچہ انھوں نے ماہِ شوا ل میں مکہ واپسی کی راہ لی، لیکن جب قریب پہنچے تو حقیقت حال آشکار ہوئی۔
Advertisements
1 comment
  1. حاجى جاود خان said:

    براے مہربانی مجھے سب سجدوں کی مالومات ایمیل کر سکتے ہو اللە اپ کو جزاے خیر عطا فرماے

    Please email me all topic on Sajda
    Javaid.khan@hotmail.co.uk

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: