الٹی اور دست

کھانا انسان کی فطری ضروت ہے۔ کھانے کی نالی منہ سے شروع ہوتی ہےاور بڑی آنت کے آخری حصے پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ منہ کو کھانے کی نالی کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔اللہ تعالٰی نے منہ میں جانے والی غذا کی کوالٹی کا چیکنگ سسٹم ایسا عمدہ بنا یا ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔یہ سسٹم آنکھ کی چیک پوسٹ سے شروع کر ہر پیٹ میں بڑی آنت کے آخری حصے پر جا کر ختم ہوجاتاہے۔
آپ سوچیں گے کہ آنکھ سے اس کا کیا تعلق ہے؟
کھانے کی کوئی بھی چیز جب سامنےآتی ہے  تو ہمیں آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے کہ یہ چیز کیسی ہے، مثلاً اگر کوئی پھل گلا سڑا ہو، کوئی سبزی باسی ہو، یا کسی چیز میں کیڑا لگا ہو تو آنکھ دیکھ کر پہچان لیتی ہے کہ یہ پھل کھانے کے قابل نہیں ہے۔یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے چیزوں میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ اگر خراب ہو جائیں تو اپنی شکل یا رنگ تبدیل کر لیتے ہیں، تاکہ ہم دیکھ کرسمجھ جائیں کہ وہ نقصان دہ چیز ہے اسے نہیں کھانا۔جس چیز کو آنکھ کی چیک پوسٹ Clear کر دے اس کو ہم منہ میں لے جانے کے قابل سمجھتے ہیں اور جسے Clear نہ کرے وہ ہم چھوڑدیتےہیں  اس طرح ہم نقصان دہ چیز کھانے سے بچ جاتے ہیں۔
آنکھ کہ بعد دوسری چیک پوسٹ ہماری ناک ہوتی ہے۔یہ سونگھ کر بتاتی ہے کہ چیز ہمارے لئے نقصان دہ ہے یا فائدہ مند، مثلاً ایسی اشیاء جن میں جراثیم زیادہ ہوں یا گل سڑ رہی ہو یا بدبو دینا شروع کر دیتی ہو ان میں ایک خاص قسم کی بُوSmell آنا شروع ہو جاتی ہے، ناک میں موجود Censorہمیں بتاتے ہیں کہ یہ چیز نہ کھاؤ کہ اس میں جراثیم ہیں۔اس کے علاوہ ناک کوئی پھل یا کھانا سونگھ کر بتا دیتی ہے کہ یہ مزےدار ہے،اس کی خوشبو پیاری ہےیا کہ یہ تازہ ہے تو انسان کا دل خودبخود اس کو کھانے کے لئے بےتاب ہو جاتا ہے۔ناک کی چیک پوسٹ کھانے کی چیزوں کوClearکردیتی ہے تو اہم اس کو منہ میں ڈالنے کے قابل سمجھتے ہیں۔
ناک کے بعد تیسری چیک پوسٹ ہماری زبان ہے۔جب ہم غذا کو منہ میں ڈالتے ہیں تو زبان میں موجود ذائقے کے Receptorاس غذا کی کوالٹی کو چیک کرتے ہیں۔یہ Receptorزبان کےاوپراورنیچے منہ میں حلق تک ہوتے ہیں ۔اگر غذا میں کوئی نقصان دہ جراثیم ہوں تو غذا کا ذائقہ بدل جاتا ہے، اور ہماری زبان ذائقے کی اس تبدیلی کو محصوص کرکے ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کھانا صحیح نہیں ہے۔اور ہمارے لئے نقصان دہ  ہم اس کو حلق سے نیچے نہیں اتارتے اور جراثیم پیٹ میں جانے سے بچ جاتے ہیں۔ اگر کھانے میں مرچیں تیز ہوں یا نمک زیادہ ہویا کھّٹایا کڑوا ہو تو بھی ہمیں زبان خبردار کردیتی ہے اور ہم ایسا کھانا نہیں کھاتے،تاکہ یہ ہمیں نقصان نہ دی سکے۔زبان جب کھانے کو Clearکردیتی ہے تو ہم کھانا حلق سے نیچے اتارتے ہیں جو ہماری غذا کی نالی سے ہوتاہواچیک پوسٹ معدہ تک پہنچتا ہے۔
جو غذا ہم حلق سے نیچے اتارتے ہیں وہ دانتوں کے ذریعے چبتی ہوئی اور تھوک میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے جو ہمارےمعدے تک پہنچتی ہے ۔معدے میں غذا پہنچنے کے بعد معدے کی دیواروں سےغذاکوہضم کرنے والے Juicesاور نمک کا تیزاب نکلنا شروع ہو جاتا ہےاور معدہ غذا کو پیسنا شروع کردیتا ہے۔اور غذا میں کیمیائی عمل شروع ہو جاتا ہے، جو یہ چیک کرتا ہے کہ ہماری غذا میں مزید کوئی نقصان دہ عناصر یا جراثیم تو نہیں؟
اگر نقصان دہ عناصر ہو تو معدہ ، دماغ کو اطلاع کرتا ہے ، دماغ ہمارے اندر متلی کا احساس پیدا کرتا ہے اور سمجھاتا ہے کہ مزید کچھ نہ کھائیں پیئں ، معدے میں کوئی گڑبڑ والی چیز پہنچ گئی ہے۔پھردماغ ،پیٹ اور معدے کےMusclesکو سگنل دیتا ہے ۔معدے اور پیٹ کے Musclesاتنا پریشر بناتے ہیں کہ وہ نقصان دہ  غذاہ معدے سے الٹی کی شکل میں ہمارے منہ سے خارج ہوجاتی ہے۔اس کے بعد جس غذاکو معد ہ Clearکردیتا ہے وہ آخری چیک پوسٹ آنت میں پہنچ جاتی ہے۔
غذا جب آنت کے پہلے حصے میں داخل ہوتی ہے تو لبلبہ، جگر اور پتے سے Juicesغذا میں شامل ہوتے ہیں ، یہ آنتوں میں آنے والے جوس الکلی ہوتے ہیں، جو معدے کی تیزابیت کو زائل کردیتےہیں۔یہاں پر ان Juicesاور الکلی کے Reactionکے بعد غذا کے چند پہلو ایسے سامنے آتے ہیں جو Infectionظاہر کردیتے ہیں۔آنتیں اس Infection کو دھونے کے لئے بڑی مقدارمیں پانی پھینکتی ہیں اور تیز رفتاری کے ساتھ اسے جسم سے باہر پھینکتی ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں مروڑ محسوس ہوتی ہے۔بیکٹیریا یا جراثیم اور وائرس ہماری آنتوں سے Lose Motionیا دستوں کی شکل
میں خارج ہونے لگتے ہیں۔اگر ان دستوں کو روکنے کی کوشش کی جائے تو اس میں موجود جراثیم ہمارے جسم میں جذب ہو کر دماغ تک پہنچ سکتے ہیں اور ہمارے جسم کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں،اس لئے انہیں روکنے کے بجائے بڑ ی مقدار میں نمکول اور پانی کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کی جو کمی دستوں کے ذریعے پیدا ہو گئی ہےوہ پوری ہو جائے اور کمزوری دور ہوسکے۔اس پورے عمل سے ہمیں اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ الٹی اور دست  اللہ کی کتنی بڑٖی رحمت ہیں، جس کا ہمیں احساس نہیں۔
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ہمارے جسم میں پانی پھینک کر صفائی کرنے کا نظام ہے،نظام ہضم میں بھی بڑی مقدار میں پانی صفائی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔تقریباً 8گلاس پانی ہم روزانہ پیتےہیں،اس کے علاوہ تقریباً 7 لیٹر پانی نظام ہضم کی نالی میں آتا ہے جو آنتوں کی دیواروں میں موجود چشموں کے علاوہ منہ کے چشموں ،معدہ،جگر،لبلبہ،پتے کے چشموں سے آتا ہے۔یہ پانی ایک طرف کھانے کی نالی کی اندرو نی دیواروں کے اندرونی حصے کی حفاظت کرتا ہے، معدہ کو السر سے بچاتا ہےاور غذا کے ساتھ شامل ہو کر ایسا محلول تیار کرتا ہے جو آنتوں میں جذب ہو جائے تاکہ ہماری غذا جسم کاحصہ بن سکے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہاضمے کا نظام اپنی پانی کی زیاد ہ تر ضرورت اپنے ہی پانی کے چشموں سے پوری کرتا ہے۔ہم اگر کھانے کے ساتھ یا بعد میں پانی نہ پیئں تو بھی غذا کے ہضم ہونے میں  کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔یہ اللہ کی ہی قدرت ہے کہ اس نے ہماری Solidغذا کو محلول کی شکل میں تیار کرنے کے لئے نظام ہضم کی نالی میں جگہ جگہ پانی کے چشمے بنائے ہیں۔ ہمیں علم بھی نہیں ہوتا اوریہ چشمے 24گھنٹے نظام ہضم کے لئے پانی مہیا کرتے رہتے ہیں۔ یہ پانی جو آنتوں سے آتا ہے ، جراثیم سے پاک ہوتا ہے۔
اب ہماری کیا ذمہ داری ہے؟
جو تھوڑا سا پانی ہم سارے دن میں پیتے ہیں وہ جراثیم سے پاک ہو ، پانی ابال کر پیئں تاکہ ہم بیماریوں سے بچ سکیں۔ کھانے کی نالی تقریباً آدھا کپ پانی ہضم نہیں کرتے اور یہ غیر ہضم شدہ حصے کے ساتھ بڑی آنت میں چلا جاتا ہے اور فضلے کی شکل میں خارج ہو جاتا ہے۔آنتوں کی باقاعدہ Movementکے لئے ضروری ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پانی پیئں ،اس طرح ہمارا نظام ہضم درست رہے گا اور ہمیں قبض کی شکایت بھی نہیں ہوگی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی کی ان رحمتوں اور نعمتوں کو سمجھنے کے بعد شکر کا جو جذبہ ہمارے دل میں پیدا ہوتا ہے اس کا عملی اظہار کیا ہو؟کیونکہ ان تمام معلومات کے حصول کا اصل فائدہ تب ہی ہو گا کہ جب ہم ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں ۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارا جسم تو اللہ کے بنائے نظام کے تحت چل رہا ہو ، مگر ہم خود اس کی خلاف ورزی کرکے بیماریوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہو جائیں۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم وہ غذا کھائیں جو ہماری صحت کے لئے نقصان دہ نہ ہو۔قرآن نے جگہ جگہ پاک اور طیب چیزں کھانے کی ہدایت کی ہے، ان میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو ہمارے لئے فائدہ مند ہیں ۔اس کےعلاوہ ایس تازہ سبزیاں اور تازہ پھل جن پر کیمکل چھڑکا گیا ہو ،استعمال نہکریں۔اگر کریں تو اچھی طرح دھو لیں۔ اُس جانور کا گوشت کھائیں ، جو اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو، بیمار یا بوڑھے کا گوشت نہ کھائیں۔ پان گٹگا ، مضر صحت چھالیہ، ٹافیاں ،سگریٹ ، نشہ آور اشیاء،اس کے علاوہ پیک شدہ اشیاء  چاہے وہ دودھ ہو یا بسکٹ،پاپڑ ،Juices،Cold Drink, Ice Cream۔۔۔ان سب میں پیکنگ کے دوران چیزوں کو تازہ  رکھنے کے لئے ان پر ایسے کیمکل Preservativeشامل کئے جاتے ہیں  ہیں جو ان کھانوخی اشیاء کو زہر آلود کردیتے ہیں،جوہمارےلئےبہت زیادہ نقصان دہ ہیں۔یہ چیزیں بظاہر صاف ستھری اور خوبصورت نظر آتی ہیں ، مگر ہماری صحت کو تباہ کرنے والی ہیں۔اس کے علاوہ بازار میں بکنے والی ، تلی ہوئی اشیاءیاپکےہوئےکھانے،کھانےسےپرہیزکریں۔ گھر کی صاف ستھری چیزیں کھائیں جو جراثیم سے پاک ہوں۔نبی کریم ﷺ شورنے والا کھانا پسند فرماتے تھے۔ یہ سنت بھی ہے اور ہماری آنتوں کےلئےمفید بھی ۔اس لئے بھنے ہوئے کھانے کے بجائے شوربے والا زیادہ کھانا زیادہ استعمال کریں۔
Advertisements
8 comments
  1. Ajaz said:

    You couldn’t resist mixing a good article with Islam. Har cheez mein islam ka tadka lazmee nahin hai.

    • کچھ برداشت کرلیں ہماری بھی
      اب ہم بھی تو آپ کی الٹی سیدھی باتیں برداشت ہی کر رہے ہیں
      حقوق العباد کے نام پر ہی سہی

  2. آخری بند نے مُشکل میں ڈال دیا ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ خالص تازہ دودھ حاصل کرنے کا ہے اور بیمار ہونے کا سب سے زیادہ خدشہ دودھ سے ہوتا ہے ۔

    • اب یہ مشکلات ہماری ہی پیدا کردہ ہیں
      اسلام میں ملاوٹ کتنا بڑا گناہ ہے اس کے باوجود
      ہم ملاوٹ کے بغیر کاروبار ادھورا سمجھتے ہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: