تاریخِ قرآن ڈاکٹر حمید اللہؒ کی زبانی-5:

حروف مقطعات:
قرآن مجید میں بعض جگہ الفاظ نہیں ہیں بلکہ حروف ہیں مثلاً الم، حم، عسق، وغیرہ۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے خود ان الفاظ کی کبھی تشریح نہیں فرمائی۔ اگر رسول اللہ ﷺ نے خود تشریح فرما دی ہوتی تو بعد میں کسی کو جرات نہ ہوتی کہ اس کے خلاف کوئی رائے دے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کم از کم ساٹھ ستر آراء پائی جاتی ہیں ۔ الف صاحب یہ بیان کرتے ہیں ۔ ب صاحب وہ بیان کرتے ہیں اور یہ چودہ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔ اس کا قصہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی لوگ نئی نئی رائے دے رہے ہیں ۔ لطیفے کے طور پر میں عرض کرتا ہوں ۔ 1933ء کی بات ہے۔ میں پیرس یونیورسٹی میں تھا، تو ایک عیسائی ہم جماعت نے ایک دن مجھ سے کہا کہ مسلمان ابھی تک حروف مقطعات کو نہیں سمجھ سکے۔ میں بتاتا ہوں کہ یہ کیا چیز ہے؟ وہ موسیقی کا ماہر تھا، کہنے لگا کہ یہ گانے کی جو لے اور دھن وغیرہ ہوتی ہے ان کی طرف اشارہ ہے۔ کہنے کا منشا یہ ہے کہ لوگ حروف مقطعات کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اپنی حد تک میں کہہ سکتا ہوں مجھے اس کے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔ سوائے ایک چیز کے اور وہ یہ ہے کہ ایک حدیث میں کچھ اشارہ ملتا ہے کہ ایک دن کچھ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور پوچھا کہ تمہارا دین کب تک رہے گا؟ کم و بیش اسی مفہوم کے الفاظ انہوں نے ادا کیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؟ "الم” تو انہوں نے کہا اچھا تمہارا دین الف (1) ل(3۰) اور م(٤۰) یعنی اکہتر سال رہے گا الحمد للہ اکہتر سال بعد تمہارا دین ختم ہو جائے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر "الر” اور "المر” بھی نازل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا الر 231 سال المرا 27 سال۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مجھ پر فلاں فلاں لفظ بھی نازل ہوا ہے مثلاً لحم عسق وغیرہ۔ یہاں تک کہ یہودیوں نے کہا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا اور چلے گئے ہوسکتا ہے کہ انہیں پریشان کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ایسا جواب دیا ہو۔ لیکن اس میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے کہ حروف کی گویا عددی قیمت ہے۔ جس طرح لوگ واقف ہیں کہ الف کے ایک، ب کے دو، ج کے تین اور د کے چار عدد مقرر ہیں اسی طرح عربی زبان میں اٹھائیس حروف ہیں ۔ ان سے بہت ہی مکمل طریقے سے ایک ہزار تک لکھ سکتے ہیں تاکہ ہندسہ لکھنے میں اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو حروف کے ذریعے اسے دور کیا جاسکے۔ میں نے سنا ہے کہ سنسکرت میں بھی یہ طریقہ موجود ہے لیکن سنسکرت میں حروف تہجی 28 سے کہیں زیادہ ہیں اور اس میں ایک سو مہاسنکھ تک لکھ سکتے ہیں ۔ بہر حال ایک ہزار ہماری ضرورتوں کے لیے کافی ہے۔ یہ تھا حروف مقطعات کے متعلق میری معلومات کا خلاصہ۔ میں معذرت چاہتا ہوں کہ اس سے زیادہ میں آپ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کرسکتا۔
Advertisements
2 comments
  1. Sarwat AJ said:

    What about your daughter ? Hows she now?

    • اب تو کافی بہتر ہے بھائی
      دعاؤں کی اپیل ہے
      بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: