قرآن سے فائدہ اٹھانےکی شرائط:

 ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔
۱   نیت کی پاکیزگی:
سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اسکےکچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔
قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی کے اندر ہدایت کی طلب رکھ دی ہے، اگر اسی طلب کے تحت آدمی قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس سے اپنی کوشش اور اللہ کی توفیق کے مطابق فیض پاتا ہے ، لیکن اگر وہ کسی اور خواہش کے تحت قرآن مجید کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو وہ وہی چیزپاتاہےجس کا وہ طلب گار ہوتا ہے۔قرآن مجید کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بہت سےلوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوںکو ہدایت دیتا ہے۔اور یہ اصول بیان فرمانے کے ساتھ ہی یہ بات واضح کردی کہ گمراہ ان لوگوں کو کرتا ہے جو فاسق ہوتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اپنی اَغراض کے ایسے بندے ہوتے ہیں کہ وہ ہدایت سے بھی گمراہی ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ وہی چیز دیتا ہے جس کے وہ بھوکے ہوتے ہیں۔ جو لوگ نیت اور ارادہ درست کرکے ہدایت کے حصول کے لئے اس کی طرف بڑھتے ہیں قرآن مجید فوراً ایسے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کواپنی تربیت میں لیتا ہے۔
۲   قرآن مجید کو ایک برتر کلام مانا جائے:
دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن مجید کو ایک اعلیٰ اور بر تر کلام مان کر اسی حیثیت سے اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر دل میں قرآن کریم کی پوری عظمت و اہمیت نہ ہو تو آدمی اس کو سمجھنے اور اس کے حقائق و معارف کے دریافت کرنے پر وہ محنت نہیں کرسکتا جو اس کے خزانۂ حکمت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے۔ قرآن مجید اپنے  پیچھے ایک عظیم تاریخ رکھتا ہے، ذہنوں اور  دماغوں کی تبدیلی میں اس کتاب نے جو معجزہ دکھا یا ہے آج تک کسی بھی کتاب نے یہ
معجزہ نہیں دکھایا ہے۔
آدمی اس کو سمجھنے کا حق اسی وقت ادا کرسکتا ہے، جب اس کی یہ عظمت واہمیت اس کے پیش نظر ہو۔ اگر کسی رقبۂ زمین کے متعلق یہ علم ہو کہ کسی زمانے میں وہاں سے کافی سونا نکلا ہے تو توقع یہی کی جاتی ہے کہ اگر کھدائی کی جائے تو وہاں سے سونا ہی نکلے گا اور پھر اس کی اسی حیثیت کو پیش نظر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کا سامان کیا جاتا ہے اور اس پر محنت کی جاتی ہے لیکن اگر ایک جگہ کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ اگر محنت کی جائے تو زیادہ سے زیادہ یہاں سے کوئلہ یا چونا فراہم ہوگا تو اس پر یا تو کوئی سرے سے اپنا وقت ہی ضائع نہیں کرے گا یا اگر کوئی ارادہ کرلے تو صرف اتنا جس سے اس کو کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع ہوگی۔
یہ تنبیہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ بہت سے لوگ قرآن کو محض حلال و حرام بتانے کا ایک ضابطہ سمجھتے ہیں اور فقہ کے احکام علیحدہ مرتب ہوجانے کے بعد ان کی نگاہوں میں اگر اس کی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے تو وہ صرف تبرک کے نکتۂ نظر سے ہی ہے۔اربابِ تصوف اس کو محض ظاہر کا صحیفہ سمجھتے ہیں۔ علم باطن کے اسرار و حقائق ان کے نزدیک کشف سے حاصل ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کو بس اچھی اچھی نصیحتوں کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں، وہ اس کے اندر کسی گہری حکمت یا کسی بلند فلسفہ کی کوئی توقع نہیں رکھتے۔اس طرح کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے مسلمانوں کے لئے ناممکن ہے کہ وہ قرآن سے وہ فائدہ اٹھاسکیں جس کے لئے وہ در اصل نازل ہوا ہے ۔ وہ اس کو انہی حقیر اغراض کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جن کے لئے ان کے خیال میں یہ اتر رہا ہے۔ ان لوگوں کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص کو توپ دی جائے کہ وہ اس کے ذریعہ دشمنوں کے قلعہ کو مسمار کردے لیکن وہ اس کو مچھر مارنے کی ایک مشین سمجھ بیٹھے اور اسی حقیر مقصد کے لئے اس کو استعمال کرنا شروع کردے۔
۳   قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق بدلنے کا عزم:
قرآن حکیم سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق اپنے ظاہر و باطن کو بدلنے کا مضبوط ارادہ موجود ہو۔ ایک شخص جب قرآنِ مجید کو گہری نگاہ سے پڑھتا ہے تو وہ ہر قدم پر یہ محسوس کرتا ہے کہ قرآن کریم کے تقاضے اور مطالبے اس کی اپنی خواہشوں اور چاہتوں سے بالکل مختلف ہیں، وہ دیکھتا ہے کہ اس کے تصورات و نظریات، معاملات و تعلقات، ظاہر و باطن سبھی قرآن مجید کی مقرر کردہ حدود سے بالکل ہٹے ہوئے ہیں، اس فرق و اختلاف کو محسوس کرکے ایک حق طلب آدمی تو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خواہ کچھ ہو میں اپنے آپ کو قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق بنا کر رہوں گا اور وہ ہر قسم کی قربانیاں دےکر، ہر طرح کے مصائب جھیل کر اپنے آپ کو قرآن مجید کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے آپ کو قرآن مجید کے سانچے میں ڈھال ہی لیتا ہے لیکن جو شخص صاحبِ عزم نہیں ہوتا یا اس کے اندر حق شناسی اور حق طلبی کا سچا جذبہ نہیں ہوتا اور وہ اس خلیج کو پاٹنے کی ہمت نہیں کرسکتا جو وہ اپنے اور قرآن مجید کے درمیان حائل پاتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر میں اپنے عقائد و اعمال کو قرآن مجید کے مطابق بنانے کی کوشش کرونگاتو مجھے فکری اور عملی حیثیت سے نیا جنم لینا پڑے گا۔ میرا ماحول میرے لئے بالکل اجنبی بن کر رہ جائے گا۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اگر میں اپنے وسائلِ معاش کو قرآن مجید کےضابطۂ حلال و حرام کی کسوٹی پر پرکھوں تو آج جو عیش مجھے حاصل ہے اس سے محروم ہوکر شاید اپنی دال روٹی کیلئے بھی فکرمند ہونا پڑے۔ان خطروں کے مقابلے میں ڈٹ
جانا اور ان سے مقابلہ کرنے کے لئے کمرِ ہمت باندھ لینا ہر شخص کا کام نہیں ہے، صرف مردانِ کار ہی ان گھاٹیوں کو پار کرسکتے ہیں۔ معمولی ہمت و ارادہ کے لوگ یہیں سے اپنا رُخ بدل لیتے ہیں۔ بعض اکھڑ قسم کے لوگ جو اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے زیادہ خواہش مند نہیں ہوتے وہ تو یہ کہتے ہوئے  اپنے نفس کی خواہشوں کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں کہ قرآن مجید کا راستہ تو بالکل صحیح !۔۔۔ لیکن ہمارے لئے اس پر چلنا نہایت مشکل ہے !۔۔۔۔ اس لئے ہم اسی راہ پر چلیں گے جس پر ہمارا نفس لئے جارہا ہے۔ لیکن جو لوگ اپنی کمزوریوں کو عزیمت اور اپنے نفاق کو ایمان کے روپ میں پیش کرنے کا جذبه رکھتے ہیں وہ اپنا یہ شوق مختلف تدبیروں سے پورا کرتے ہیں۔ ۔۔۔بعض مجبوریوں کے بہانوں سے اپنے لئے ناجائز کو جائز اور حرام کو حلال بناتے ہیں۔۔۔۔
بعض لایعنی تاویلات کے ذریعے باطل پر حق کا مُلمع چڑھاتے ہیں۔۔۔۔ بعض وقت کے تقاضوں اور مصلحتوں کی آڑ تلاش کرکے ان کے پیچھے چھپتے ہیں۔۔۔۔ بعض قرآن مجید میں اس قسم کی تبدیلیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس قسم کی تحریفات یہود نے تورات میں کی تھیں۔ بعض قرآن مجید کے جس حصہ کو اپنی خواہشوں کے مطابق پاتے ہیں اسے قبول کرلیتے ہیں اور جس حصہ کو اپنی خواہشات کے مطابق نہیں پاتے اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔
یہ ساری راہیں شیطان کی نکالی ہوئی ہیں اور ان میں سے جس راہ کو بھی آدمی اختیار کرے گا وہ اس کو سیدھی ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتے هيں آدمی اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اس کے لئےسعادت کی راہیں کھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اگر ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن حکیم نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے:
وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا    ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ  اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گےیقیناً
اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے ۔(العنکبوت:69)
۴تدبر:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔(ص:29)
محض  تبرک کے طور پر الفاظ کی تلاوت کرلینا اور قرآن کے معانی کی طرف دھیان نہ کرنا قرآن پڑھنے کا طریقہ نہیں ہے۔یہ طریقہ تو اس وقت سے رائج ہوا ہے جب لوگوں نے قرآن مجید کو ایک کتاب ہدایت و معرفت اور ایک خزانہ علم و حکمت سمجھنے کی بجائے محض حصول برکت کی ایک کتاب سمجھنا شروع کردیا۔ جب زندگی کے مسائل سے قرآن کا تعلق صرف اس قدر رہ گیا کہ موت کے بعد اس کے ذریعے جان کنی کی سختیوں کو آسان کیا جائے اور مرنے کے بعد اس کے ذریعے میت کو ایصال ثواب کیا جائے۔ جب زندگی کے نشیب و فراز میں راہنما ہونے کے بجائے اس کا استعمال صرف یہ رہ گیا کہ ہم جس گمراہی کا بھی ارتکاب کریں، اس کے ذریعے سے اس کا افتتاح کریں تاکہ یہ  برکت دے کر اس گمراہی کو ہدایت بنادیا کرے۔
دنیا کی شاید ہی کوئی کتاب ہو جس نے قرآن سے زیادہ اس بات پر زور دیا ہو کہ اس کا حقیقی فائدہ صرف تب حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس کو پورے غور و تدبر کے ساتھ پڑھا جائے لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں یہی کتاب ہے جو ہمیشہ آنکھیں بند کرکے پڑھی جاتی ہے۔ معمولی سی چیز بھی آدمی پڑھتا ہے تو اس کے لئے پہلے اپنے دماغ کو حاضر کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کو سمجھ سکے لیکن قرآن کے ساتھ لوگوں کا یہ عجیب معاملہ ہے کہ اس کو پڑھنے سے پہلے اپنے دل و دماغ پر پٹی باندھ لیتے ہیں کہ کہیں اس کے کسی لفظ کا مفہوم دماغ کو چھو نہ جائے۔
تاہم تدبر کا طریقہ یہی نہیں کہ انسان عربی کے چند الفاظ جان لینے کے بعد قرآن مجید سے نئے نئے مطالب نکالنا شروع کردے۔تفاسیر کا ذخیرہ امت کے بہترین دماغوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، جو صدیوں سے قرآن مجید کو سمجھنے میں وہ کرتے چلے آرہے ہیں، ان کو چھوڑ کر قرآن مجید کا مطالعہ کرنا بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ پچھلی صدیوں میں سائنس نے جو کچھ دریافتیں کی ہیں ان سب کو چھوڑ کر میں نئے سرے سے کائنات پر غور کرونگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید کے مطالعہ کے لئے تفسیر اور روایات کے ذخیرے سے مدد لیں۔ عام آدمی کے لئے تو لازم ہے کہ وہ مستند علماء کے ترجمہ و تفسیر کی روشنی میں ہی غور و فکر کرے۔
۵   اللہ کے حوالے کرنا:
قرآن مجید سے صحیح فائدہ اٹھانے کے لئے پانچویں شرط یہ ہے کہ اس راہ میں جو مشکلات پیش آئیں آدمی ان سے بد دل اور مایوس ہونے یا ان کے سبب سے قرآن مجید سے بدگمان یا اس پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنی الجھن کو اللہ کے سامنے پیش کرے اور اس سے مدداور راہنمائی طلب کرے۔ قرآن مجید میں بعض اوقات ایسی علمی و عقلی مشکلیں پیش آجاتی ہیں جن کا حل کچھ سمجھ نہیں آتا اور اس سے دین کے معاملے میں شکوک وشبہات پیدا ہونے لگتے ہیں یا کسی حکم پر عمل کرنادشوارمحسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کی علمی و عملی مشکلوں سے نکلنے کا صحیح اور آزمودہ راستہ یہ ہے کہ آدمی اپنی مشکل اپنے ربّ کے سامنے پیش کرے اور اسی سے ہدایت کا طالب ہو۔ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے برابر دعا اور قرآن مجید پر برابر غور کرتا رہے۔ اگر قرآن یاد ہو تو رات کی نمازوں میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھے۔ ان شاء اللہ اس کی ساری الجھنیں دور اور ساری مشکلیں حل ہوجائیں گئ اور ان مشکلوں کے حل ہونے سے اس پر عمل و حکمت کے جو دروازے کھلیں گے وہ دروازے کسی اور طرح اس پر ہرگز نہ کھلتے۔ شرط یہ ہے کہ آدمی صبر کے ساتھ اپنے رب سے مدد مانگے۔ مندرجہ ذیل دعا بھی اس طرح کے حالات میں پڑھتے رہنا نہایت مفید
ہے۔ نبی ﷺ نے اس دعا کو سیکھنے اور یاد کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور  فکر و غم دور کرنے کا ذریعہ بتا یا ہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَآؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ  َفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهٗ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيْعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِيْ، وَجَلَآءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، اے اللہ ! میں تیرا بندہ، تیرے  بندے کا بیٹا اور تیری بندی کابیٹاہوں۔ میری پیشانی تیری مٹھی میں ہے، مجھ پر تیرا حکم جاری ہے۔میرے بارے میں تیرا فیصلہ حق ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے جو تیرا ہے، جس سے تونے اپنے آپ کو پکارا ہے یا جس کو تونے اپنی کتاب میں اتارا ہے، یا جس کو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو نے اپنے پاس اپنے خزانۂ غیب میں اسے پوشیدہ ہی رہنے دیا ہے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا مداوا اور میری فکر و پریشانی کا علاج بنادے۔(مسند احمد)
ان شرائط پر عمل کے بعد بھی کسی شخص کو بہت توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ پورا قرآن سمجھ لے گا۔ اس معاملہ کا تمام تر انحصار صرف اللہ کی توفیق و ہدایت پر ہے اور وہی راہیں کھولتا اور مشکلات میں راہنمائی کرتا ہے۔ پس طالبِ قرآن  مجید کا دل ہمیشہ اسی کے سامنے جھکا رہنا چاہئے جو کچھ مل جائے اس کے لئے شکر گزار ہو اور
جو نہ ملے اس کے لئے امیدوار رہے۔ نہ تو فخر کرے، نہ کبھی مایوس ہو اور تجارت اور حصولِ شہرت کا ذریعہ تو قرآن مجید کو ہرگز نہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
Advertisements
2 comments
  1. Nauman faisal said:

    Jazakallah

    • نعمان
      آپ کو پسند آیا اسکا شکریہ
      آتے رہا کیجئے امید ہے کافی بہتر تحریرین آپ کی منتظر ہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: