پاکستان زندہ باد

اخلاق احمد دہلوی آل انڈیا ریڈیو میں  اناؤنسر ہو چکےتھے اور ۳!جون ۱۹۴۷ء کی شام قائدِ اعظم قیام پاکستان کا اعلان فرمانے  دلی ریڈیو اسٹیشن اسٹوڈیو میں  تشریف فرما ہوئے۔  تقریریں  تو اس شام لارڈ ماؤنٹ بیٹن، پنڈت جواہر لال نہرو اور بلدیو سنگھ کی بھی تھیں  لیکن سب سے  زیادہ اہمیت قائدِ اعظم کی تقریر کو حاصل تھی کیوں  کہ اسی تقریر پر اس کا دار و مدار تھا کہ ہندوستان میں  مسلمانوں  کی جیت ہوئی یا ہار۔ سب مقرر یعنی لارڈ ماؤنٹ بیٹن،پنڈت جواہر لال نہرو، سردار بلدیو سنگھ مع سردار ولبھ بھائی پٹیل جو اس وقت کی مسلم لیگ اور کانگریس کی ملی جلی عارضی حکومت کے  وزیر اطلاعات و نشریات اور وزیر داخلہ تھے اور  مولانا ابو الکلام آزاد بھی مقررہ وقت سے  آدھ گھنٹہ پہلے  آل انڈیا ریڈیو دلی
کے  اسٹوڈیو میں  پہنچ گئے  لیکن قائدِ اعظم کا دور دور تک پتہ نہ تھا اور سب ان کی آمد کے  منتظر تھے۔ جوں  جوں  وقت گزرتا جا رہا تھا، اس وقت کے  آل انڈیا ریڈیو کے  ڈائریکٹر جنرل لکشمن اور ڈائریکٹر آف نیوز بھنوٹ کا اضطراب و اضطرار بڑھتا جاتا تھا اور پہلی تقریر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے  نشر کرنی شروع بھی کر دی تو بھنوٹ صاحب نے  عالم بدحواسی میں
۱۰ اورنگ زیب روڈ نئی دلی یعنی قائد اعظم کی کوٹھی پر ٹیلی فون کر دیا۔ وہاں  جب قائدِ اعظم بولے  توآل انڈیا ریڈیو کے  ڈائریکٹر آف نیوز کے  ہاتھ سے  ٹیلی فون کا رسیورچھوٹ گیا۔ قائدِ اعظم ٹیلی فون پر اپنا نام ’’ مسٹر جناح ‘‘لیتے  تھے اور  ان کی آواز میں  وہ رعب اور دبدبہ اور گرج تھی کہ اچھے  اچھوں  کے  چھکے  چھوٹ جاتے۔ چنانچہ بھنوٹ صاحب کے  ہاتھ سے  ریسیور چھوٹ جانا کوئی اچنبھے  کی بات نہ تھی۔ دوبارہ ٹیلی فون کیا تو ان کے  سکریٹری نے  بتایا کہ قائدِ اعظم ابھی تیار ہو رہے  ہیں۔ غرضیکہ ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کے  بعد پنڈت جواہر لال نہرو کی تقریر شروع ہو گئی جس کے  بعد قائدِ اعظم کی تقریر تھی لیکن ان کے  وہاں  پہنچنے  کے  کہیں  آثار نہ تھے
جب جواہر لال کی آدھی تقریر ہو چکی تو قائدِ اعظم کی گاڑی گیٹ میں  داخل ہوتی ہوئی نظر آئی لیکن اس گاڑی میں  ان کے  سکریٹری تھے اور  یہ معلوم کرنے  آئے  تھے  کہ قائد اعظم کی گاڑی پارک کہاں  ہو گی؟ یعنی ان کے  حسبِ منصب جگہ موٹر کھڑی کرنے  کی ہے  یا نہیں ؟
لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور سردار ولبھ بھائی پٹیل بھاگے  ہوئے  سٹوڈیو سے  باہر آئے اور  اس وقت کے  وائسرائے  لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے  کے  ایچ خورشید کو بتایا کہ ’’ ان کی گاڑی میرے  کار کے  برابر پارک ہو گی۔ ‘‘ تب دوسرے  گیٹ سے  کے  ایچ خورشید صاحب باہر چلے  گئے اور  قریب دو منٹ بعد دو گاڑیاں  اندر آئیں۔ ایک میں  قائدِ اعظم اورمحترمہ فاطمہ جناح اور ان کے  ڈرائیور آزاد اور دوسری میں  پروفیسر احمد شاہ بخاری جو آل انڈیا ریڈیو کے  ڈائریکٹر جنرل کے  عہدے  سے  فارغ ہو کر واپس گورنمنٹ کالج
لاہور اپنی پروفیسری کی پوسٹ پر جا چکے  تھے۔ کے  ایچ خورشید صاحب قائد اعظم کے  سکریٹری، بڑے  بخاری صاحب ( یعنی احمد شاہ بخاری) نے  پیچھے  کی کار سے  اتر کر قائد اعظم کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور قائدِ اعظم، محترمہ فاطمہ جناح کے  ساتھ اپنی کار سے  باہر تشریف لائے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور پٹیل نے  ان کا استقبال کیا۔ وقت کا ایسا کمال کا حساب رکھا تھا کہ جیسے  ہی قائدِ اعظم اسٹوڈیو میں  داخل ہوئے  لاؤڈ اسپیکر پر جواہر لعل کی تقریر کے  آخری الفاظ نشر ہو رہے  تھے۔ ’’ جے  ہند‘‘ جواہر لعل کے  منھ سے  جے  ہند کا نعرہ سن کر قائدِ اعظم کے  چہرے  کا رنگ متغیر ہو گیا اور جو سامنے  آیا اور اس وقت اتفاق سے  سامنے  آنے  والا یہ خاکسار تھا، قائدِ اعظم نے  مخاطب فرما کر خاصے  غصے  میں  ارشاد کیا۔ ’’ سینڈ ماؤنٹ بیٹن‘‘ اور میں  نے  سارا پروٹوکول بالائے  طاق رکھ کر ماؤنٹ بیٹن سے  کہا۔ ’’ یور ایکسی لینسی مسٹر جناح وانٹس یو۔ ‘‘ اور ماؤنٹ بیٹن صاحب یہ سنتے  ہی بھاگے، قائدِ اعظم کے  اسٹوڈیو کی طرف۔ بعد میں  معلوم ہوا کہ جے  ہند کا نعرہ جواہر لعل نہرو صاحب کے  مسودے  میں  نہیں  تھا، یہ انھوں  نے  جوشِ خطابت میں  اپنی طرف سے  لگا دیا تھا جس پر قائدِ اعظم برافروختہ ہو گئے اور  ماؤنٹ بیٹن نے  قائدِ اعظم کو بھی مسودے  سے  باہر بولنے  کی اجازت دے  دی لیکن قائدِ اعظم نے  ایک فقرہ اپنی تقریر کے  شروع میں  بھی بڑھا دیا اور وہ فقرہ یہ تھا۔ ’’ مجھے  یہ پہلا موقع ملا ہے  کہ میں  اپنی قوم کو اس میڈیم کے  ذریعے  مخاطب کر سکوں۔ ‘‘ اس پر ہندو پریس نے
بہت لے  دے  کی کہ مسودے  میں  جو کچھ تحریر تھا، اس کے  علاوہ مسٹر جناح کیا بولے۔ قائدِ اعظم نے  جو آخر میں  ’’ پاکستان زندہ باد‘‘ کہا، وہ بھی مسودے  میں  نہیں  تھا لیکن یہ جواہر لعل نہرو کے  ’’جے  ہند ‘‘ کا جواب تھا۔
Advertisements
8 comments
  1. ارے آپ وہاں تھیں ؟
    بی بی جی ۔ راقم الحروف کا نام تو لکھ دیا ہوتا
    میں انجنئرنگ کالج لاہور میں پہلے سال میں پڑھتا تھا جب میری ملاقات جناب بخاری صاحب سے ہوئی تھی ۔ بہت دلچسپ آدمی تھے

      • گو میں بچہ تھا لیکن مجھے کچھ کچھ یاد پڑتا ہے کہ 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات 12 بجے سے ایک دو منٹ قبل ریڈیو نے کہا تھا ”یہ ریڈیو پاکستان ؒلاہور ہے“۔ پھر قائداعظم کی تقریر شروع ہوئی تھی

        • جی ہاں وہ واقعہ بھی میری نگاہ میں سے گزرا ہے(پڑھتے ہوئے(
          وہ آذادی کے دن کا تھا
          13 جون کو جو فیصلہ سنایا گیا کہ کون کون سے علاقہ جات پاکستان میں شامل ہوئے
          یہ اس تقریر کی بات ہو رہی ہے

  2. ناصر کاظمی کا دو شعر نہائت حسبَ حال ہے۔

    خبر نہیں وہ مرے ہمسفر کہاں پہنچے
    کہ رہگزر تو مرے ساتھ ہی پلٹ آئی

    کہاں سے لاؤ گے ناصر وہ چاند سی صورت
    گر اتفاق سے وہ رات بھی پلٹ آئی

    آجکل جو رہنمائی کے نام پہ پاکستان کی قسمت کے مالک ہیں وہ تو قائد کے گرد پا کو بھی پہنچتے۔ وہ بااصول رہنماء اب کہیں نطر نہیں آتا ۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم لوگ ایک دائرے کے مسافر ہیں۔

    • بھائی مجھے سیاست سے چنداں دلچسپی نہیں
      پر سیاست ہر شہری پر اثرانداز ہوتی ہے
      اس لئے بچتے کتنا بھی رہو سیاسی گفتگو ہو ہی جاتی ہے
      اللہ ہمیں اور ہمارے ملک کی حفاظف فرمائے

      اسلامی جمہوریہ کو اسلامی قوانین نصیب فرمائے
      آمین

  3. یعنی گرد پا کو بھی نہیں پہنچتے

    • اگر ہر گھر میں اسلامی اطوار نافذ کیئ جائیں
      اسلامی اطوار پر زندگی پروان چڑھے تو
      امید ہے کہ آج نہیں تو کل پاکستان کا مستقبل بھی اچھا ہی ہوگا

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: