حضرت سودہ ؓ

نام و نسب:۔
سودہ نام تھا، قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں، جو قریش کا ایک نامور قبیلہ تھا، سلسلہ نسب یہ ہے، سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدودبن نصربن مالک بن حسل بن عامر ابن لوی، ما کا نام شموس تھا، یہ مدینہ کے خاندان بنو نجار سے تھیں، انکا پورا نام و نسب یہ ہے، سشموس بنت قیس بن زیدبن عمرو بن لبید بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجا۔
نکاح:۔
سکران ؓ بن عمرو سے جو انکے والس کے ابن عم تھے، شادی ہوئی،
قبول اسلام:۔
ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہوئیں، انکے ساتھ انکے شوہر بھی اسلام لائے۔ اس بنا پر انکو قدیم السلام ہونے کا شرف حاصل ہے، حبشہ کی پہلی  ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ ؓ اورانکےشوہر مکہ ہی میں مقیم رہے، لیکن جب مشرکین کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لیے آمادہ ہوئی تو ان میں حضرت سودہ ؓ اور انکےشوہر بھی شامل ہو گئے۔کئی برس حبشہ میں رہ کر مکہ کو واپس آئیں، اور سکران ؓ نے کچھ دن کے بعد وفات پائی۔
حضرت سودہ ؓ حرم نبوت بنتی ہیں:۔
حضرت سودہ ؓ کو تمام ازواج مطہرات میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد سب سے پہلے وہی آنحضرت ﷺ کے عقد نکاح میں آئیں، حضرت خدیجہ ؓ کے انتقال سے حضور ﷺ نہایت پریشان و غمگین تھے، یہ حالت دیکھ کر خولہ ؓ بنت حکیم (عثمان بن مظعون کی بیوی) نے عرض کی کہ آپ کو ایک مونس و رفیق کی ضرورت ہے، آپ نے فرمایا ہاں، گھر بار بال بچوں کا انتظام سب خدیجہ ؓکے متعلق تھا، آپکے ایماء سے وہ حضرت سودہ ؓ کے والد کے پاس گئیں، اور جاہلیت کے طریقہ پر اسلام کیا، انعم صباحا، پھر نکاح کا پیغام سنایا، انہوں نے کہا ہاں محمّدﷺ شریف کفو ہیں، لیکن سودہ ؓ سے بھی تو دریافت کرو، غرض سب مراتب طے ہو گئے تو آنحضرت ﷺ خود تشریف لے گئے اور سودہ ؓ کے والد نے نکاح پڑھایا، چار سو درہم مہر قرار پایا، نکاح کے بعد عبداللہ بن
زمع(حضرت سودہ ؓ کے بھائی) جو اس وقت کافر تھے، آئے اور انکو یہ حال معلوم ہوا تو سر پر خاک ڈال لی کہ کیا غضب ہو گیا، چنانچہ اسلام لانے کے بعد اپنی اس حماقت و نادانی پر ہمیشہ انکو افسوس آتا تھا،(زرقانی ج3ص261)
حضرت سودہ ؓ کا نکاح رمضان سن دس نبوی میں ہوا، اور چونکہ انکے اور حضرت عائشہ ؓ کے نکاح کا زمانہ قریب قریب ہے، اسلیئے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے، ابن اسحاق کی روایت ہے کہ سودہ ؓ کو تقدم ہے اور عبداللہ بن محمّد بن عقیل حضرت عائشہ ؓ کو مقدم سمجھتے ہیں۔(طبقات ابن سعد ج8ص36۔37۔38۔39وزرقانی ج3ص360)
بعض روائتوں میں ہے کہ حضرت سودہ ؓ نے اپنے پہلے شوہر کی زندگی میں ایک خواب دیکھا تھا، ان سے بیان کیا تو بولے کہ شائد میری موت کا زمانہ قریب ہے، اور تمھارا نکاح رسول اللہ ﷺ سے ہو گا، چنانچہ یہ خواب حرف بہ حرف پورا ہوا،(زرقانی ج3ص260وطبقات ابن سعدج8ص38،39۔)
عام حالات:۔
نبوت کے تیرہویں سال جب آپ نے مدینہ منورہ میں ہجرت کی تو حضرت زیدؓ بن حارثہ کو مکہ بھیجا کہ حجرت سودہ ؓ وغیرہ کو لیکر آئیں، چنانچہ وہ اور حضرت فاطمہ زہراؓ حضرت زید ؓ کے ہمراہ مدینہ آئیں،ن 10ہجری میں جب آنحجرت ﷺ نے حج کیا تو حضرت سودہ ؓ بھی ساتھ تھیں، چونکہ وہ بلند و بالا و فربہ اندام تھیں اور اس وجہ سے تیزی کے ساتھ چل پھر نہیں سکتی تھیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے اجازت دی کہ اور لوگوں کے مزدلفہ سے روانہ ہونے کے قبل انکو چلا جانا چاہیے، کیونکہ انکو بھیڑ بھاڑ میں چلنے سے تکلیف ہو گی،(صحیح بخارج1ص22)
وفات:۔
ایک دفعہ ازواج مطہرات ؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھیں، انہوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے سب سے پہلے کون مرے گا، فرمایا کہ جسکا ہاتھ سب سے بڑا ہے، لوگوں نے ظاہرہ معنی سمجھے، ہاتھ ناپے گئے تو سب سے بڑا ہاتھ حضرت سودہ ؓ کا تھا،(طبقات ج8ص37)لیکن جب سب سے پہلے حضرت زینب ؓ کا انتقال ہوا۔ تو معلوم ہوا کہ ہاتھ کی بڑائی سے آپ کا مقصد سخاوت و فیاضی تھی، بہرحال واقدی نے حضرت سودہ ؓ کا سال وفات 54 ہجری بتایا ہے،(طبقات ابن سعدج8ص37،39) لیکن ثقات کی روایت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ کے اخیر زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔(اسدالغابہ واستیعاب و خلاصہ تہذیب حالات سودہ ؓ)
حضرت عمر ؓ نے سن 23 ہجری میں وفات پائی ہے اس لیے حضرت سودہ ؓ کی وفات کا سال 22 ہجری ہو گا خمیس میں یہی روایت ہےاور سب س ےزیادہ صحیح ہے،(زرقانی ج3ص262) اور اسکو امام بخاری، ذہبی، جزری ابن عبدالبر اور خزرجی نے اختیار کیا ہے۔
اولاد:۔
آنحضرت ﷺ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، پہلے شوہر(حضرت سکران ؓ ) نے ایک لڑکا یادگار چھوڑا تھا، جسکا نام عبدالرحمن تھا، انہوں نے جنگ جلولاء (فارس) میں شہادت حاصل کی۔(زرقانی ج2ص260)
حلیہ:۔
ازواج مطہرات ؓ میں حضرت سودہ ؓ سے زیادہ کوئی بلند بالا نہ تھا، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ جس نے انکو دیکھ لیا، اس سے وہ چھپ نہیں سکتی تھیں۔(صحیح بخاری ج3ص707) زرقانی میں ہے کہ انکا ڈیل لانبا تھا،(زرقانی ض3ص459۔)
فضل و کمال:۔
حضرت سودہ ؓ سے صرف پانچ حدیثیں مروی ہیں، جن میں سے بخاری میں صرف ایک ہے، صحابہ ؓ میں حضرت ابن عباس ؓ ، ابن زبیر ؓ اور یحی بن عبدالرحمن(بن اسعد بن زرارہ) نے ان سے روایت کی ہے،
اخلاق:۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔(طبقات ج8ص37) سودہ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اسکے قالب میں میری روح ہوتی۔اطاعت و فرمانبرداری میں وہ تمام ازواج مطہرات ؓ سے ممتاز تھیں، آپ نے حجة الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا،(زرقانی ج3ص291) چنانچہ حضرت سودہ ؓ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں، فرماتی تھیں کہ میں حج و عمرہ دونوں کر چکی ہوں، اور اب خدا کے حکم کےمطابق گھر میں بیٹھونگی،(طبقات ج 8ص3سخاوت و فیاضی بھی انکا ایک اور نمایاں وصف تھا، اور حضرت عائشہ ؓ کے سوا وہ اس وصف میں بھی سب سے ممتاز تھیں، ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے انکی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی، لانے والے سے پوچھا، اس میں کیا ہے؟ بولا درہم، بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر اسی وقت سبکو تقسیم کر دیا،(اصابہ ج 8 ص 11 وہ طائف کی کھالیں بناتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی، اسکو نہایت آزادی کے ساتھ نیک کاموں میں   صرف کرتی تھیں،(ایضاً ص 65 حالات خیسہ)
ایثار میں بھی وہ ممتاز حیثیت رکھتی تھیں، وہ اور حضرت عائشہ ؓ آگے پیچھے نکاح میں آئیں تھیں لیکن چونکہ انکا سن بہت زیادہ تھا۔ اس لیے جب بوڑھی ہو گئیں توانکوسوءظن ہوا کہ شاید آنحضرت ﷺ طلاق دے دیں، اور شرف صحبت سے محروم ہو جائیں، اس بنا پر انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو دے دی اور انہوں نے خوشی سے قبول کر لی،( صحیح بخاری و مسلم(کتاب النکاح جواز ہبتہ نوبہتا لصرنتہا)
مزاج تیز تھا، حضرت عائشہ ؓ انکی بےحد معترف تھیں، لیکن کہتی ہیں کہ وہ بہت جلد غصہ سے بھڑک اٹھتی تھیں، ایک مرتبہ قضائے حاجت کے لیے صحرا کو جا رہی تھیں، راستے میں حضرت عمر ؓ مل گئے، چونکہ حضرت سودہ ؓ کا قد نمایاں تھا، انہوں نے پہچان لیا، حضرت عمر کو ازواج مطہرات ؓ کا باہر نکلنا ناگوار تھا اور وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پردہ کی تحریک کر چکے تھے، اس لیے بولے سودہ ؓ تمکو ہم نے پہچان لیا۔ حضرت سودہ ؓ کو سخت ناگوار ہوا۔آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچیں اور حضرت عمر ؓ کی شکایت کی، اسی واقعہ کے بعد آیتِ حجاب نازل ہوئی۔(صحیح بخاری ج1ص26)
باایں ہمہ ظرافت اس قدر تھی کہ کبھی کبھی اس انداز سے چلتی تھیں، کہ آپ ہنس پڑتے تھے ایک مرتبہ کہنے لگیں کہ کل رات کو میں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، آپ نے (اس قدر دیر تک) رکوع کیا کہ مجھکو نکسیر پھوٹنے کا شبہہ ہو گیا، اس لیے میں دیر تک ناک پکڑے رہی، آپ اس جملہ کو سن کر مسکرااٹھے،(سعدج8ص37)
دجال سے بہت ڈرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ کے پاس آ رہی تھیں دونوں نے مذاق کے لہجہ میں کہا تم نے کچھ سنا؟ بولیں کیا؟ کہا دجال نے خروج کیا، حضرت سودہ ؓ یہ سنکر گھبرا گئیں، ایک خیمہ جس میں کچھ آدمی آگ سلگا رہے تھے، قریب تھا، فورا اسکے اندر داخل ہو گئیں، حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ہنستی ہوئی آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچیں، اور آپکو اس مذاق کی خبر کی، آپ تشریف لائے اور خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ابھی دجال نہیں نکلا ہے، یہ سن کر حضرت سودہ ؓ باہر آئیں۔ تو مکڑی کا جالا بدن میں لگا ہوا تھا، اسکو باہر آ کر صاف کیا،(اصابہ ج8ص65)یہ روایت مشکوک اور سنداً ضعیف ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: