دسواں سجدہ

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِِلٰی نِعَاجِہِ ط وَاِِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیْلٌ مَّا ھُمْط وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاکِعًا وَّاَنَابَداؤد ؑ نے جواب دیا: اِس شخص نے اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری دُنبی ملا لینے کا مطالبہ کرکے یقیناًتجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں ۔ (یہ بات کہتے کہتے) داؤد ؑ سمجھ گیا کہ یہ تو
ہم نے دراصل اس کی آزمایش کی ہے، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کرلیا۔(آ
38:24)
یہاں پر یہ ممکن نہیں کہ اس واقعے کی تفصیل میں جایا جائے جو حضرت داؤد ؑ کے ساتھ پیش آیا اور قرآن میں مذکور ہے۔ اس کے لیے تفاسیر سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ہمارےلیےاتناکافی ہے کہ حضرت داؤد ؑ سے کوئی قصور سرزد نہیں ہوا تھا جو دُنبیوں والے واقعے سے مماثلت رکھتا تھا۔ اسی لیے فیصلہ سناتے ہوئے معاً ان کو یہ خیال آیا کہ یہ میری آزمایش ہوئی ہےلیکن اس قصور کی نوعیت ایسی شدید نہ تھی کہ اسے معاف نہ کیا جاتا۔ جب انھوں نے سجدے میں گر کر توبہ کی تو [نہ صرف] یہ کہ انھیں معاف کردیا گیا بلکہ دنیا اور آخرت میں ان کو جوبلندمقام
حاصل تھا اس میں بھی کوئی فرق نہ آیا۔
اس امر میں اختلاف ہے کہ اس مقام پر سجدۂ تلاوت واجب ہے یا نہیں۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ یہاں سجدہ واجب نہیں بلکہ یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔ اور امام ابوحنیفہ وجوب کے قائل ہیں۔
اس سلسلے میں حضرت ابن عباسؓ سے تین روایتیں محدثین نقل کی ہیں۔
عکرمہؓ کی روایت یہ ہے کہ ابن عباسؓ نے فرمایا: یہ ان آیات میں سے نہیں ہے جن پر سجدہ لازم ہے مگرمَیں نے اس مقام پر نبیﷺ کو سجدہ کرتے دیکھا ہے (بخاری)….
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ سورۂ صٓ میں نبی ﷺنے سجدہ کیا اور فرمایا: داؤد ؑ نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں ۔ (نسائی)
حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان یہ ہے کہ نبی ﷺنے ایک مرتبہ خطبے میں سورۂ صٓ پڑھی اور جب آپﷺ اس آیت پر پہنچے تو آپﷺ نے منبر سے اُتر کر سجدہ کیا اور آپﷺ کے ساتھ سب حاضرین نے بھی کیا(ابوداؤد)
ان روایات سے اگرچہ وجوبِ سجدہ کی قطعی دلیل تو نہیں ملتی لیکن کم از کم اتنی بات تو ضرور ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺنے اس مقام پر اکثر سجدہ فرمایا ہے، اور سجدہ نہ کرنے کی بہ نسبت یہاں سجدہ کرنا بہرحال افضل ہے ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: