حضرت اِشموئیل علیہ السلام-2

طالوت كو ن تھے؟
طالوت ایك بلند قامت اور خوبصورت مرد تھے۔ وہ مضبوط اور قوى اعصاب كے مالك تھے۔روحانى طور پر بھى بہت زیرك،دانشمند اورصاحب تدبیر تھے۔بعض لوگوں نے ان كے نام”طالوت”كو بھى  ان كے طولانى قد كا سبب قرار دیا ہے۔ان تمام صفات كے باوجود وہ مشہور نہیں تھے۔ اپنے والد كے ساتھ دریاكے كنارے ایك بستى میں رہتے تھے۔والد كے چوپایوں كو چراتے اور زراعت كرتےتھے۔ایك دن كچھ جانور بیابان میں گم ہوگئے۔طالوت اپنے ایك دوست كے ساتھ ان كى تلاش میں كئی دن تك سرگرداں رہے۔ انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ شہر”صوف”كے قریب پہنچ گئے۔ان كے دوست نے كہا:”ہم تو اِشموئیل علیہ السلام كے شہر صوف میں آپہنچے ہیں ۔ آیئےن كے پاس چلتے ہیں ۔ شاید وحى كے سائے میں اور ان كى رائے كى روشنى میں ہمیں كچھ پتہ چل سكے۔شہر میں داخل ہوئے تو حضرت اِشموئیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی۔ جب اِشموئیل علیہ السلام اور طالوت نے ایك دوسرے كو دیكھا تو گویا دل مل گئے۔اِشموئیل علیہ السلام نے اسى لمحےطالوت كو پہچان لیا۔وہ جان گئے كہ یہ وہى نوجوان ہے جسے خدا نے ان لوگوں كى قیادت كے لئے منتخب كیا ہے۔طالوت نے اپنى كہانى سنائی تو اِشموئیل علیہ السلام كہنے لگے:وہ چوپائے تو اس وقت تمہارى بستى كى راہ پر ہیں اور تمہارے باپ كے باغ كى طرف جارہے ہیں ۔ ان كے بارے میں فكرنہ كرو۔ میں تمہیں اس سے كہیں بڑے كام كے لئے دعوت دیتا ہوں ۔خدا نے تمہیں بنى اسرائیل كى نجات  كے لئے مامور كیا ہے۔
طالوت پہلے تو اس پروگرام پر حیران ہوئے اور پھر اسے سعادت سمجھتے ہوئے قبول كرلیا۔ اِشموئیل علیہ السلام نے اپنى قوم سے كہا: خدا نے طالوت كو تمہارى قیادت سوپى ہے لہذا ضرورى ہے كہ تم سب اس كى پیروى كرو۔اب اپنے تئیں دشمن سے مقابلے كے لئے تیار ى كرلو۔ بنى اسرائیل كے نزدیك تو حسب و نسب اور ثروت كے حوالے سے كئی خصوصیات فرمانروا كے لئے ضرورى تھیں اوران میں سے كوئی چیز بھى طالوت میں دكھائی نہ دیتى تھى اس انتخاب و تقرر پر وہ بہت حیران و پریشان ہوگئے۔ انہوں نے دیكھا كہ ان كے عقیدے كے برخلاف وہ نہ تو ”لاوی” كى اولاد میں سےتھے جن میں سے نبى ہوتے تھے۔ نہ یوسف اور یہود ا كے خاندان سے تھے جو گذشتہ زمانے میں حكمرانى كرتے تھے بلكہ ان كا تعلق تو بنیامین كے گمنام خاندان سے تھا اور پھر وہ مالى طور پر بھى تہى دست تھے۔ انہوں نے اعتراض كیا:”وہ كیسے حكومت كرسكتا ہے جب كہ ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں ”۔ اِشموئیل علیہ السلام كہتے تھے كہ یہ بہت اشتباہ كررہے ہیں ،كہنے لگے:”انہیں خدانے تم پر امیر مقرر كیا ہے، نیز قیادت كے لئے ان كى اہلیت اور لیاقت كى دلیل یہ ہے كہ وہ جسمانى طور پر زیادہ طاقتور ہیں اور روحانى طاقت میں بھى سب سے بڑھ كر ہیں ۔اس لحاظ سے وہ تم سب پربرترى ركھتے ہیں ۔ بنى اسرائیل نے خدا كى طرف سے اس كے تقرر كے لئے كسى نشانى یا علامت كا مطالبہ كردیا۔اس پر اِشموئیل علیہ السلام بولے: انبیاء بنى اسرائیل كى یادگار;تابوت(صندوق عہد)جوجنگ میں تمہارے لئے اطمینان اور ولولے كا باعث تھا تمہارے پاس لوٹ آئے گا او راسے تمہارے آگے آگے چند فرشتوں نے اٹھا ركھا ہوگا”۔ تھوڑى ہى دیر گزرى تھى كہ صندوق عہدانكے سامنے آگیا۔ یہ نشانى دیكھ كر انہوں نے طالوت كى سر براہى قبول كرلی۔
طالوت نے ملك كى باگ ڈور سنبھال لی
طالوت نے لشكر كى قیادت كا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے تھوڑى ہى مدت میں امور سلطنت كى انجام دہى اور فوج كى تنظیم نو كے سلسلے میں اپنى صلاحیتوں كا لوہا منوالیا۔ پھر آپ نے فوج كو دشمن سےمقابلے كى دعوت دی۔ دشمن نے ان كى ہر چیز كو خطرے سے دوچار كر ركھا تھا۔طالوت نے تاكید كرتے ہوئے كہا: ”میرے ساتھ وہ لوگ چلیں جن كى سارى توجہ جہاد پر مركوز رہ سكے۔ جنكى صحت ناقص ہو اور جو درمیان ہى میں ہمت ہار بیٹھنے والے ہوں ،اس جنگ میں شركت نہ كریں ”۔بہت جلد ظاہراًایك كثیر تعداداور طاقتور فوج جمع ہوگئی اور وہ دشمن كى طرف چل پڑے۔سورج كى
تپش تھی۔ گرمى میں چلتے چلتے انہیں سخت پیاس لگ گئی۔ طالوت خدا كے حكم سے انہیں آزماناچاہتے تھے اوران كى تطہیر بھى كرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے كہا:”جلد تمہارے راستے میں ایك نہرآئےگی۔ اس كے ذریعے خدا تمہارا امتحان لے گا۔جو لوگ اس میں سے سیر ہوكر پانى پئیں گے ان كا مجھ سے كوئی تعلق نہیں البتہ جو تھوڑا سا پانى پئیں گے وہ میرے ساتھى ہیں ”۔ان كى نظر نہر پر پڑى تووہ بہت خوش ہوئے۔جلدى سے وہاں پہنچے۔خوب سیر ہوكر پانى پیا ۔تھوڑے سے فوجى اپنے عہد وپیمان پر قائم رہے۔
طالوت نے اپنى فوج كو چھانٹا
طالوت نے دیكھا كہ ان كى فوج كى اكثریت بے ارادہ اور كمزور عہد و پیمان كى حامل ہے اور اس میں تھوڑے سے صاحب ایمان افراد موجود ہیں ۔انہوں نے بے قاعدہ اور نافرمان اكثریت كو چھوڑ دیا اور انہى كم تعداد صاحب ایمان كو ساتھ لیا اور شہر سے گزر كر میدان جہاد كى طرف پیش قدمى جارى ركھی۔طالوت كى فوج نے اپنى كم تعداد دیكھى تو پریشان اور وحشت زدہ ہوئی۔فوجیوں نے ان سے كہا:”ہم میں تو اس طاقتور فوج كا مقابلہ كرنے كى سكت نہیں ہے۔ لیكن كچھ ایسے بھى تھے جن كا دل خدا كى محبت سے معمور تھا وہ دشمن كى فوجى كثرت و قوت اور اپنى تھوڑى تعداد پر ہراساں نہ ہوئے اور كمال شجاعت سے طالوت  سے كہنے لگے:آپ جو مصلحت سمجھتے ہیں حكم دیجیے۔ہم ہر مقام پر آپ كا ساتھ دیں گے اور انشاء اللہ كم تعداد كے باوجود دشمن سے جہاد كریں گے كیونكہ یہ تو كئی مرتبہ ہوچكا ہے كہ كم تعداد خدا كے ارادہ و مشیت كے سہارے كثیر تعداد پر غالب آئی ہے اور خدا استقامت و پامردى دكھانے والوں كے ساتھ ہے ”۔
داؤد نے جالوت كو مار ڈالا
طالوت ان كم تعداد اہل ایمان مجاہدین كے ساتھ آمادہ كارزار ہوئے ۔ ان  لوگوں نے درگاہ الہى سے شكیبائی اور كامیابى كى دعا كی۔جنگ كى آگ بھڑك اٹھی۔جالوت اپنا لشكر لے كر باہر نكلا۔لشكروں كے مابین مبارز طلبى ہوئی۔اس كى بارعب پكار نے دلوں كو لرزا دیا۔ میدان میں جانے كى جرا ت كسى میں نہ رہی۔ داؤد ایك كم سن نوجوان تھا۔ شاید وہ جنگ كے لئے بھى میدان میں نہ آیا تھا بلكہ اپنے جنگجو بڑے بھائیوں اور باپ كى خدمت كے لئے چلا آیا تھا لیكن چالاك و چوبند اور قوى تھا۔ ”خلد خن” اس كے ہاتھ میں تھى اس كے ذریعے اس نے پتھر ایسے ماہرانہ انداز میں پھینكے كہ ٹھیك جالوت كى پیشانى اور سر میں پیوست ہوگئے۔ اس كے سپاہیوں پر وحشت اور تعجب كا عالم طارى تھا۔وہ ان كے درمیان گرا اور مرگیا۔جالوت كى موت سے اس كى فوج میں عجیب خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ جالوت كا لشكر بھاگ كھڑا ہوا اور بنى اسرائیل كامیاب ہوگئے۔
تابوت كیا ہے؟
”تابوت”كا لغوى معنى ہے وہ صندوق جسے لكڑى سے بنایا جائے۔جنازے كے صندوق كو بھى اسى لئے تابوت كہتے ہیں ۔ لیكن تابوت مردوں سے مخصوص نہیں بلكہ ہر قسم كے لكڑى كے صندوق كےلئے مستعمل ہے۔بنى اسرائیل كا تابوت یا صندوق عہد كیا تھا،وہ كس كے ہاتھ سے بنا تھااوراس میں كیا چیز یں موجود تھیں ۔اس سلسلے میں ہمارى روایات و تفاسیر میں اوراسى طرح”عہد  قدیم”(توریت)میں بہت كچھ كہا گیا ہے،سب سے زیادہ واضح چیز جو احادیث اہل بیت علیہ السلام اور بعض مفسرین مثلاًابن عباس سے منقول ہے یہ كہ یہ” تابوت” وہى صندوق تھا جس میں حضرت موسى علیہ السلام كى والدہ نے انہیں لپٹاكر دریا میں پھینكا تھا۔ فرعون كے كارندوں نے اسے دریامیں سے پكڑ لیا۔ حضرت موسى علیہ السلام كو اس میں سے نكال لیاگیااور صندوق جوں كا توں فرعون كے پاس محفوظ كرلیا گیا۔بعد ازاں وہ بنى اسرائیل كے ہاتھ آیا تو وہ اس عجیب صندوق كو محترم شماركرنے لگے اور اسے متبرك سمجھنے لگے”۔حضرت موسى علیہ السلام نے اپنى زندگى كے آخرى دنو ں میں وہ الواح مقدسہ جن پراحكام خدا لكھے ہوئے تھے اس میں ركھ دیں ۔ نیز اپنى زرہ اور دوسرى یادگار چیزوں كا بھى اس میں اضافہ كردیا۔صندوق آپ علیہ السلام نے اپنے وصى حضرت ”یوشع علیہ السلام بن نوع” كے سپرد كردیا۔یوں صندوق كى اہمیت بنى اسرائیل كى نگاہ میں اور بڑھ گئی۔لہذا وہ دشمنوں كے ساتھ جنگوں میں اسے ہمراہ لے جاتے اور اس كا ان پر نفسیاتى اور روحانى طور پر بہت اثر ہوتا۔اسى لئے كہا جاتا ہے كہ جب تك وہ دل انگیز صندوق ان مقدس چیزوں كے سمیت ان كے ساتھ رہا وہ سر بلند رہے اور آبرومندانہ زندگى بسر كرتے رہے لیكن رفتہ رفتہ ان كى دینى بنیادیں كمزور پڑگئیں اور دشمن ان پر غلبہ حاصل كرتے رہے۔ وہ صندوق بھى ان سے چھن گیا۔جیسا كہ قرآن كہتاہے:”صندوق عہد تمہارى طرف آئے گا ۔(وہى صندوق كہ)جس میں آل موسى اور آل ہارون كى یادگاریں ہیں جب كہ فرشتوں نے اسے اٹھاركھا ہوگا”۔اس سے معلوم ہوتا ہے كہ ”صندوق عہد وہ ایسے تبركات تھے جو حوادث كے موقع پر بنى اسرائیل كے لئے اطمینان بخش تھے اور معنوى و نفسیاتى اثرات كے حامل تھے۔دوسرى بات یہ ہے كہ بعد ازاں حضرت موسى علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام كے خاندان كى كچھ یادگاریں بھى اس میں ركھ دى گئی تھیں ”۔( سورہ بقر آیت 248 )
حضرت اِشموئیل علیہ السلام نے بنى اسرائیل كو یہ بات دل نشین كرائی كہ صندوق عہد دوبارہ انہیں مل جائے گا اور جو سكون اور اطمینان وہ كھو بیٹھے ہیں دوبارہ حاصل كرلیں گے۔معنوى و تاریخى پہلو كے حامل اس صندوق كى اہمیت در اصل بنى اسرائیل كے لئے ایك پرچم اور شعار سے بڑھ كر تھی۔ اسے دیكھ كے ان كى نظروں میں اپنى عظمت رفتہ كى یاد تازہ ہو جاتى تھی۔حضرت اِشموئیل علیہ السلام نے خبر دى كہ وہ صندوق لوٹ آئے گافطرى امر ہے كہ یہ بنى اسرائیل كے لئے ایك بہت بڑى بشارت تھی۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: