اُستاد اور شاگرد کے باہمی حقوق:قرآنِ کریم اور احادیثِ طیبہ کی روشنی میں-2

اُستاد پر شاگرد کے حقوق
نرمی و نوازش کا سلوک کیجیے: اُستاد کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے نبیٔ کریمﷺکی سیرت کو اُسوہ بنا کر اپنے شاگردوں سے نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺکو مخاطب کرتےہوئےفرمایا: ﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لیے نرم ہوگئے اوراگر آپ درشت اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے بکھر جاتے۔
لہٰذا اُستاد شاگردوں کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرے، اورنبیٔ کریمﷺ کے اس ارشاد مبارک کو بھی پیش نظر رکھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا وَلَمْ یُوَقِّرْ کَبِیرَنَا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر و تعظیم نہ کرے۔
اس بنا پر اُستاد کو چاہیے کہ اپنے شاگردوں کے سر پر شفقت کاہاتھ رکھے، اگر ان سے کوئی نامناسب حرکت ہوجائے تو درگزر کر ے، ان سے وقار اور بردباری کے ساتھ پیش آئے۔زبان کی حفاظت کیجیے: اُستاد کی ذمہ دار یوں میں سے ایک اہم ذمہ داری زبان کی حفاظت ہے۔زبان کی حفاظت نہایت ضروری ہے۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ زبان کی حفاظت کرے اور اسے ناجائز اورنامناسب باتوں سے بچائے رکھے۔ نبیٔ کریم نے فرمایا: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الاْخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ بھلائی اور خیر کی بات کہے، ورنہ خاموش رہے۔
چونکہ اُستاد اپنے شاگردوں کے لیے نمونہ ہوتاہے، اس لیے اسے چاہیے کہ اپنی گفتگو کو محتاط اور متوازن بنائے، لچرپن اوربے ہودگی سے بوجھل الفاظ سے پرہیز کرے۔ ایک حدیث میں نبیٔ کریمﷺ نے زبان کی بے اِعتدالی کے نقصانات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: إن العبد لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا یَتَبَیَّنُ فِیهَا یَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ یقینا بندہ ایک بات کرتا ہے، اس پر غور و فکر نہیں کرتا۔ وہ اس بات کی وجہ سے مشرق و مغرب کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ جہنم کی آگ کی طرف گر جاتاہے۔
بعض دفعہ انسان کی زبان سے ایسا کلمۂ شر اَدا ہو جاتا ہے کہ اسے اس کی تباہ کاری کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ کبھی اس کی کوئی بات کسی کی دل آزاری یا گمراہی یا ظلم و معصیت کا سبب بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ انسان تباہی کے گڑھے میں گر جاتاہے۔لہٰذااُستاد وشاگرددونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زبان کی حفاظت کریں اور زبان کے ذریعے سے جن گناہوں کا ارتکاب کیاجاتاہے، ان سے اپنے دامنِ تعلیم و تعلّم کو بچائیں۔
سچ کی تعلیم دیجیے اور جھوٹ سے نفرت سکھائیے:
جھوٹ ایسا معاشرتی ناسور ہے جو بہت سے گناہوں کا پیش خیمہ ہے،لہٰذا معلّم و متعلّم اس سے بچیں۔ سچائی کی صفت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، لیکن معلم کے لیے بے حد ضر و ری ہے۔ جس طرح زندہ انسان کے لیے غذا کے بغیر گزارہ مشکل ہے، اسی طرح استاد سچائی کے بغیر ایک لمحہ بھی اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتا۔اگر اُستاد جھوٹ کا سہارا لے گا تو سب سے بڑا نقصان تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے گا۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ شاگردوں کے دلوں میں استاد اور اس کے بیان کردہ یا تحریر کردہ مضمون کی وقعت ختم یا کم ہو جائے گی۔ اس سے پوری اُمت کو اجتماعی نقصان پہنچتا ہے۔ بعض اوقات شاگرد کا دل اس طرح ٹوٹ جاتا ہے کہ وہ دوسرے اساتذہ سے بھی بدظن ہوجاتاہے۔
استاد کو بدزبانی سے بھی محتاط رہنا چاہیے۔ درس گاہ میں اور درس گاہ سے باہر بھی طالبانِ علم سے گفتگو کرتے ہوئے شائستہ لہجہ اختیارکرنا چاہیے۔ بعض اساتذہ اپنے شاگردوں کو او موٹے! اےچشمےوالے! اے زلفوں والے اور اوئے کالے وغیرہ جیسے الفاظ سے پکارتے ہیں۔اس طرح اُس کا مذاق اڑاتے ہیں، یہ نہایت مذموم طریقہ ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس عمل سے منع فرمایا ہے:
ۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾ اے ایما ن والو! کوئی قوم کسی قوم کا تمسخر نہ اڑائے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کا مذاق اُڑائے،ہوسکتاہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور اپنے آپ پر عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارو۔ایمان کے بعد فسق کے نام سے ملقب کرنا برا ہے۔ اور جس نے توبہ نہ کی تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
اس سلسلے میں یہی طریقہ مفید ہے کہ پڑھائی کے دوران استاد اپنے شاگرد کو اس کے نام یا کنیت سے مخاطب کرے۔ طلبہ کو نام سے مخاطب کرنے سے ان میں سبق کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ صحابۂ کرام کو جو آپ ﷺ کے اوّلین شاگرد تھے، نام لے کر مخاطب فرماتے تھے۔ ایک دفعہ نبیٔ کریمﷺ نے ابو سعید خدری﷜ کو مخاطب کرکے فرمایا: یَا أَبَاسَعِیدٍ!مَنْ رَضِيَ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ اے ابو سعید ! جو شخص اللہ کے ربّ ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد(ﷺ) کے نبی ہونے پر راضی ہو تو اس کے لیے جنت واجب ہے۔
اسی طرح غیبت اور زبان کے دوسرے گناہوں سے بھی اجتناب کیا جائے۔علم سے آراستہ کرنے کا جذبہ پیدا کیجیے: استاد پر لازم ہے کہ وہ طالبانِ علم کو علم سے آگاہ کرنے میں بخل سے کام نہ لے، علم و دانائی کے بارے میں کچھ پوچھا جائے تو ضرور بتائے ورنہ گناہ گار ہوگا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَه ثُمَّ کَتَمَه أُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ جس سے اس علم کےبارےمیں پوچھا جائے جو اسے حاص ہے، پھر وہ اسے چھپائے (اور نہ بتائے) قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔
علم رسانی کے سلسلے میں صرف جذبہ کافی نہیں بلکہ اس کے لیے چند مزید بنیادی باتیں ضروری ہیں۔ اُستاد کے لیے ضروری ہے کہ اسے جو سبق اور جو مضمون پڑھانا ہو، اس پر اسے کامل عبورحاصل ہو، اس کے بارے میں طالبِ علم کے ذہن میں جو بھی اشکال یا سوال آسکتا ہو، اس کا حل اس کے پاس موجود ہو۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب معلّم نے متعلقہ مضمون کابھرپورمطالعہ اور تیاری کی ہو۔ طالب ِعلم استاد کے پاس امانت ہیں، لہٰذا مضمون کی بھر پور تیاری نہ کرنا امانت میں خیانت ہے۔ بخوبی مطالعہ کے بعد اُستاد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اسےاظہار مافی الضمیر اور مناسب اندازِ تعبیر پر قدرت حاصل ہو، یعنی جس مضمون کا اس نے مطالعہ کیا ہے، اُسے خوبصورت اسلوب اور دل نشین انداز میں طلبہ کے سامنے بیان کرسکے۔اظہارمافی الضمیر کی صلاحیت سے مراد خطیبانہ انداز قطعاً نہیں ہے جو وعظ کی محفلوں، جلسوں اور جمعہ کے خطبوں میں اختیار کیا جاتا ہے، نہ اس سے ادیبانہ اُسلوب مراد ہے جس میں مترادفات، تکرار اور تشبیہات کی بھر مار ہوتی ہے بلکہ اس سے مراد وہ عام فہم اُسلوب ہے جو علمی مضامین کی تفہیم میں بروئے کار آتا ہے۔اسی طرح عمدہ تدریس کے لیے نظم و ترتیب بھی بہت ضروری ہے۔مطلب یہ کہ آپ اپنا حاصل مطالعہ کیسے مرتب اور متوازن انداز میں پیش کریں جس سے سامع اور شاگرد کو فائدہ پہنچے۔ علاوہ ازیں شاگردوں کے
معیاراورذہنی سطح کی رعایت بھی بہت ضروری ہے۔
اُستاد کو چاہیے کہ سبق پڑھاتے وقت ایسی تقریر نہ کرے جو طالبِ علم کے فہم اور استعداد سے بالاتر ہو۔
سیدنا علی ؓفرماتے ہیں:
حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُونَ، أَتُرِیدُونَ أَنْ یُّکَذَّبَ الله وَرَسُولُه؟ لوگوں سے ان کی سمجھ اوراستعداد کے مطابق حدیثیں بیان کرو، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اوراسکےرسول() کی تکذیب کردی جائے؟طالب علم کی حوصلہ افزائی فرمائیے: اُستاد کو چاہیے کہ اچھی تعلیمی کارگزاری اور درست جوابات دینے پر اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرے اور ان کی ہمت بڑھائے۔
ایک دفعہ نبیﷺ نے اُبی بن کعب﷜ سے پوچھا: کیا تجھے معلوم ہے کہ کتاب اللہ کی سب سے عظیم آیت کونسی ہے؟ اُبی بن کعب ﷜ نے جواب دیا: آیت الکرسی۔ نبی نے خوش ہو کراُن کے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: لِیَهْنِكَ الْعِلْمُ، أَبَا الْمنْذِرِ ابومنذر! تجھے علم مبارک ہو۔
اُستاد کو طالب علم کے حق میں دعا کرنی چاہیے:اُستاد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کے حق میں خیروبرکت اور توفیق ودانائی کی دعا کرتا رہے۔
عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبیﷺ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاگئے۔میں نے آپﷺ کے لئے وضو کا پانی لا کر رکھ دیا۔جب آپﷺ واپس تشریف لائےتودریافت فرمایا: پانی کس نے رکھا ہے؟ جب آپ کو بتایا گیا توآپ نے دعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ فَقِّههُ فِي الدِّینِ، اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْکِتَابَ اے اللہ اسے دین کی گہری سمجھ دے۔ اللہ! اسے کتاب (قرآن) کا علم عطا کردے۔
طالب علم جواب نہ دے سکے تو استادکو بتادینا چاہیے: جب اُستاد کلاس روم میں شاگردوں سے سوالات پوچھے اور طالب علم درست جوابات دیں تو ان کی حوصلہ افزائی کر ے اور شاباش دے۔ اگر وہ جواب نہ دے سکیں تو پھر اُستاد خودصحیح جواب بتادے۔
عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے صحابہ﷢ سے پوچھا کہ درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے، وہ درخت کو نسا ہے؟ اس سوال پر لوگ جنگل کے مختلف درختوں(کی بحث) میں پڑگئے، جب کوئی جواب بن نہ پڑا توانہوں نےنبیﷺسے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہی ہمیں بتادیں۔ آپ نے فرمایا: وہ کھجورکا درخت ہے۔اس حدیث مبارکہ کی رو سے اساتذۂ کرام کو بھی طلبائے عزیز کے صحیح جواب نہ دینے کی صورت میں از خود صحیح بات بتا دینی چاہیے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: