حضرت موسى علیہ السلام -آخری حصہ

كاش ہم بھى قارون جیسے ہوتے
جیسا كہ دنیا كا معمول ہے قارون كى جاہ و حشمت كو دیكھ كر لوگوں  كے دوگروہ ہوگئے۔دنیا پرست كثریت نے جب اس خیرہ كن منظر كو دیكھا تو ان كے دل میں  تمنائیں  مچلنے لگیں ۔ انھوں  نےٹھنڈى آہ بھرى اور كہنے لگے كہ كاش وہ بھى قارون جیسى دولت كے مالك ہوتے۔ خود ایك دن،ایك ساعت یا ایك لمحے ہى كے لئے یہ شكوہ نصیب ہوتا۔آہاس كى كیسى شیریں ،جذاب ،نشاط انگیز اور لذت بخش زندگى ہے
چنانچہ قرآن میں  فرمایا گیا ہے:”جو لوگ دنیاوى زندگى كے طلب گار تھے۔انھوں  نے كہا كہ كاش ہمارے پاس بھى اتنى دولت ہوتى جتنى قارون كے پاس ہے”۔( سورہ قصص آیت 79)
حقیقت میں  اس كے پاس تو دولت كا فراواں  حصہ ہے۔ آفرین ہے قارون پر اور اس كى بے پناہ دولت پر،واہ اس كا كیا جاہ و جلال ہے،اور كتنے خادم اور نوكر چاكر ہیں ،تاریخ میں  اس جیسا كوئی شخص نہیں  ہے۔ یہ عظمت اسے خدا نے عن آیت كى ہے۔ غرض لوگ اسى طرح كى باتیں  كرتے تھے۔
درحقیقت اس واقعے میں  امتحان كى ایك بہت بڑى بھٹى جل رہى تھی۔ اس بھٹى كے بیچ میں  قارون تھا۔ تا كہ وہ اپنى سركشى اور غرور كا امتحان دے۔ دوسرى طرف بنى اسرائیل كے دنیا پرست لوگ اس بھٹى كے گرد اگرد مقیم تھے۔لیكن قارون كے لئے ایك درد ناك عذاب تھا۔ ایسا عذاب جو ایسى نمائش  كے بعد ہوتا ہے۔ یہ عذاب اوج عظمت سے قصر زمین میں  لے جاتا ہے۔
لیكن اس دنیا طلب بڑے گروہ كے مقابلے میں  ایك اقلیت اہل علم صاحبان فكر،پرہیزگار اور با ایمان لوگوں  كى بھى وہاں  موجود تھى جن كا افق فكر ان مسائل سے بر تر اور بالا تر تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن كے نزدیك احترام شخصیت كا پیمانہ زر اور زور نہ تھا۔ ان كے نزدیك انسان كى قدر كا معیار اس كے مادى وسائل نہ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے كہ دولت و ثروت كى عارضى اور مضحكہ انگیز نمود و نمائش  پر تمسخر آمیز طور پر مسكرا دیتے تھے،اور اسے ایك بے مغز اور غیر حقیقى شئی سمجھتے تھے۔
چنانچہ قرآن میں  مذكور ہے كہ:وہ لوگ جنہیں علم و معرفت عطا ہوئی تھی،انھوں  نے كہا : ”تم پر افسوس ہےیہ تم كیا كہہ رہے ہو؟ جولوگ ایمان لائے ہیں  اور عمل صالح كرتے ہیں ،ان كے لئے خداكى طرف سے ثواب اور جزا بہتر ہے”۔( سورہ قصص آیت 80)ان الفاظ پر انھوں  نے یہ اضافہ كیا كہ یہ ثواب الہى صرف ان لوگوں  كا نصیب ہے جو صابرین ہیں ۔
قارون كے سامنے زكوة كا مسئلہ
قارون نے سركشى اورخدا كى نافرمانى كر كے اپنے آپ كو بہت بڑا سمجھ لیا تھا۔ مگر تواریخ اور روایات میں  اس كے متعلق كچھ اور ہى واقعہ بیان ہوا ہے جو قارون كى انتہائی بے شرمى كى علامت ہے۔اور وہ ماجرا یہ ہے كہ ایك روز حضرت موسى علیہ السلام نے قارون سے كہا كہ خدا نے مجھے یہ حكم دیا ہے كہ تیرے مال میں  سے زكوة لوں  جو محتاجوں كا حق ہے۔
جب قارون زكوة كى ادائیگى كے اصول سے مطلع ہوا اور اس نے حساب لگایا كہ اسے كتنى كثیر رقم دینا پڑے گى تو اس نے انكار كردیا اور اپنے آپ كو بچانے كے لئے حضرت موسى علیہ السلام كى مخالفت پر آمادہ ہوگیا۔ بنى اسرائیل كے دولت مندوں  كى ایك جماعت كے سامنے كھڑا ہوا اوركہا:
”اے لوگوموسى چاہتا ہے كہ وہ تمہارى دولت خود ہضم كرلے۔ اس نے تمہیں  نماز كا حكم دیا تم نے قبول كیا۔اس كے دوسرے احكامات بھى تم نے مان لئے ۔ كیا تم یہ بات بھى برداشت كر لوگے كہ اپنى دولت اسےدےدو؟”
قارون كى شیطانى فكر
اس وقت قارون كے ذہن میں  ایك شیطانى خیال آیا۔ اس نے كہا كہ میں  نے ایك بہت اچھى تدبیر سوچى ہے۔ میرا خیال ہے كہ اس كے خلاف ایك منافى عصمت سازش كرنى چاہئے۔ ہمیں  چاہیئےہ بنى اسرائیل میں  سے ایك فاحشہ عورت كو تلاش كركے موسى  علیہ السلام  كے پاس بھیج دیں ،وہ اس پر شرمناك تہمت لگادے۔ بنى اسرائیل نے اس تجویز كو پسند كیا۔ انھوں  نے ایك بدكار عورت كو تلاش كیا اور اس سے كہا كہ”تو جو كچھ مانگے گى تجھے دیں گے بشرطیكہ تو یہ گواہى دے كہ موسى  علیہ السلام  كا تجھ سے نامشروع تعلق تھا۔”
اس عورت نے بھى اس تجویز كومنظور كرلیا۔ ایك طرف تو یہ سازش ہوئی۔دوسرى طرف قارون حضرت موسى  علیہ السلام  كے پاس گیا اور ان سے كہا كہ”بہتر ہے كہ آپ بنى اسرائیل كو جمع كریں  اور انھیں  الہى احكامات سنائیں ۔”
حضرت موسى علیہ السلام نے یہ پیش كش منظور كر لى اور بنى اسرائیل كو جمع كیا۔
جب لوگ جمع ہوگئے تو انھوں  نے حضرت موسى علیہ السلام سے كہا كہ:”آپ ہمیں  خدا كے احكام سنائیں ۔”
حضرت موسى علیہ السلام نے فرمایا كہ خدا نے مجھے حكم دیا ہے كہ”بجز اس كے كسى كى پرستش نہ كرو”صلہ رحم بجا لائو،ایسا كرو اور ویسا كرو۔زنا كار آدمى كے لئے خدا نے حكم دیا ہے كہ اگر وہ زنائے محصنہ كرتا ہے تو اسے سنگسار كیا جائے۔
جب حضرت موسى علیہ السلام نے یہ الفاظ كہے تو بنى اسرائیل كے دولت مند سازشى لوگوں  نے كہا:”خواہ وہ مجرم تو خود ہى ہو؟”
حضرت موسى علیہ السلام نے جواب دیا۔”ہاں  ٹھیك ہے خواہ میں  خود ہى ہوں ۔”
اس مقام پر ان بے شرموں  نے،بے ادبى اور گستاخى كى حد كردى اور كہا كہ:
”ہم جانتے ہیں  كہ تو خود اس فعل كا مرتكب ہوا ہے۔اور فلاں  بدكار عورت سے تیرا تعلق رہا ہے۔”
پھر انھوں  نے اس عورت كو بلایا اور اس سے كہا كہ تو شہادت دے۔ حضرت موسى علیہ السلام نے اس عورت كى طرف رخ كیا اور كہا كہ”میں  تجھے خدا كى قسم دیتا ہوں  كہ تو اصل حال بیان كر۔”
جب اس بدكارہ عورت نے یہ بات سنى تو كانپ گئی ،اس كى حالت بدل گئی اوراس نے كہا:
”جب آپ مجھ سے سچ بات پوچھتے ہیں  تو میں  حقیقت حال بیان كرتى ہوں ۔ وہ یہ ہے كہ ان لوگوں  نے مجھے اس بات پر آمادہ كیا تھا كہ میں  آپ كو متہم كروں ،اس كے بدلے میں  انھوں  نے مجھے ایك كثیر رقم دینے كاوعدہ كیا تھا۔ مگر میں  گواہى دیتى ہوں  كہ آپ با عفت ہیں  اور اللہ كے رسول ہیں ۔”
ایك دوسرى رو آیت میں  مذكور ہے كہ اس عورت نے یہ بھى كہا كہ لعنت ہو مجھ پر ،میں  نے اپنى زندگى میں  بہت گناہ كئے ہیں  مگر كسى پیغمبر پر تہمت نہ لگائی تھی۔
اس كے بعد اس نے دولت كے دوتھیلے جو ان سازشیوں  نے اسے دئے تھے نكال كر سامنے ركھ دئے اور مذكورہ باتیں  كیں ۔
حضرت موسى علیہ السلام سجدے میں  گر گئے اور رونے لگے۔ اس موقع پر بد سیرت،سازشى قارون پر عذاب نازل ہوا۔ اسى رو آیت میں  یہ بھى مذكور ہے كہ خدا نے قارون كے غرق زمین كرنے كا حضرت موسى علیہ السلام كو اختیار دیا تھا۔
عذاب الہی
اس مقام پر قرآن مجید كے الفاظ یہ ہیں  : ”ہم نے اسے اور اسكے گھر كو زمین میں  غرق كردیا”۔( سورہ قصص آیت 81)
یہ درست ہے كہ جب منكرین كا طغیان اور سركشى اور ان كى جانب سے تہى دست مومنین كى تحقیر و تذلیل،اور پیمبر الہى كے خلاف سازش اپنى انتہا كو پہنچ جاتى ہے تو اس وقت دست قدرت الہى دراز ہوتا ہے۔اور ان متكبر گستاخوں  كى زندگیوں  كو ختم كردیتا ہے۔اور انھیں  ایسى سزادیتا ہے كہ ان كى افتاد سب لوگوں  كے لئے سبب عبرت بن جاتى ہے۔
قرآن میں كلمہ ”خسف” اس مقام پر زمین میں  گڑجانے اور زمین میں  پوشیدہ ہوجانے كے معنى میں  استعمال ہوا ہے۔ انسان كى پورى تاریخ میں  ایسے واقعات بارہا پیش آئے ہیں  كہ سخت زلزلہ آیا اور زمین شگافتہ ہوگئی اور اس نے شہر یا آبادیوں  كو نگل لیا۔ مگر اس مقام پر جس حادثہ ”خسف” كا ذكر ہے،یہ مختلف نوعیت كا ہے۔اس میں  فقط قارون اور اس كے خزانے ہى لقمہ زمین ہوئے۔
كیا عجب واقعات ہیں  كہ فرعون تو دریائے نیل كى موجوں  میں  غرق ہوجاتا ہے اور قارون شكم زمین میں  سما جاتا ہے۔اس مقام پر یہ امر ہے كہ پانى جو مایہ حیات ہے،وہ فرعون اور اس كے ہمكاروں كو نابود كرنے پرمامور ہوتا ہے۔اورزمین جو انسان كے لئے جائے راحت ہے وہ قارون اور اس كے ساتھیوں  كے لئے گورستان بن جاتى ہے۔
یہ مسلم ہے كہ قارون اپنے گھر میں  تنہا نہ تھا۔وہ اور اس كے اہل خاندان،اس كے ہم خیال،اور اس كے ظالم اور ستمگر دوست سب كے سب شكم زمین میں  سماگئے۔
”لیكن اس وقت اس كى مدد كے لئے كوئی جماعت نہ تھى جو اسے عذاب الہى سے بچا سكتى اور وہ خود بھى اپنى كوئی مدد نہ كرسكتا تھا”۔( سورہ قصص آیت 81)
نہ تو اس كے دستر خوان كے مفت خور،نہ اس كے دلى دوست،نہ اس كا مال و دولت،ان میں  سے كوئی شے بھى اسے عذاب الہى سے نہ بچا سكى اور وہ سب كے سب قعر زمین میں  سماگئے۔
كیا اچھا ہوا كہ ہم قارون كى جگہ نہ تھے
قرآن میں  ان لوگوں  كے بدل جانے كا ذكر ہے جو گزشتہ روز قارون كے جاہ و جلال اور كر و فر كو دیكھ كر وجد اور رشك كررہے تھے اور یہ آرزو كررہے تھے كہ كاش ہمیشہ كے لئے یا تھوڑى دیر كے لئے ہى یہ شان ہمیں  بھى نصیب ہوتی۔
واقعہ عجیب سبق آموز ہے چنانچہ فرمایا گیا:” جو لوگ گزشتہ روز یہ آرزو كررہے تھے كہ كاش ہم اس كى (قارون كی)جگہ ہوتے جب انھوں  نے اسے(قارون)اور اس كى دولت كو زمین میں  دھنستے ہوئے دیكھا تو كہنے لگے كہ ہمارے خیالات پر افسوس ہے(حق یہ ہے كہ)خدا اپنے بندوں  میں سے جس كے لئے چاہتا ہے روزى كو فراخ كردیتا ہے اور جس كے لئے چاہتا ہے تنگ كردیتا ہے”۔(سورہ قصص آیت 82)كلید رزق صرف اسى كے ہاتھ میں  ہے۔(انھوں  نے كہا)آج یہ بات ہم پر ثابت ہوگئی كہ جس آدمى كے پاس جو كچھ ہے وہ اس كى كوشش كا نتیجہ نہیں  ہے بلكہ وہ خدا كى دین ہے۔اس كى عطا كا انحصار اس امر پر نہیں  كہ وہ كسى سے راضى اور خوش ہے۔اور نہ كسى كى محرومى اس وجہ سے ہے كہ وہ شخص اللہ كى جناب میں  بے قدر ہے۔اللہ افراد اور اقوام كو دولت دے كر ان كا امتحان لیتا ہے اور ان كى سیرت او رفطرت كو آشكار كرتاہے۔
اس كے بعد وہ(رشك كرنے والے)سوچنے لگے كہ اگر گزشتہ روز خدا ان كى دعا كو قبول كرلیتا اور انھیں  بھى قارون جیسا ہى بنا دیتا تو ان كا كیسا عبرت نا ك انجام ہوتا۔لہذا انھوں  نے خدا كى اس نعمت كا شكر ادا كیا اور كہا كہ:” اگر خدا ہم پر احسان نہ كرتا تو وہ ہمیں  بھى زمین میں  غرق كردیتا۔”اور گویا كہ كافر ہر گز نجات نہیں  پائیں  گے”۔( سورہ قصص آیت 82)
اب ہم حقیقت كى نظر سے غرور و غفلت اور كفر و ہوس دنیا كا انجام اپنى آنكھوں  سے دیكھ رہے ہیں ۔ نیز ہم یہ سمجھ گئے ہیں  كہ یہ نمائش ى زندگیاں  جن كا منظر نہ آیت دل فریب ہوتا ہے ان كى حقیقت كتنى خوفناك ہے۔
اس ماجرے كے انجام سے یہ امر بخوبى واضح ہوجاتا ہے كہ آخر كار مغرور كافر اور بے ایمان قارون دنیا سے رخصت ہوا۔ ہر چند كہ اس كا شمار بنى اسرائیل كے دانشمندوں  اور توریت كے تلاوت كرنے والوں  میں  ہوتا تھا،نیز وہ حضرت موسى علیہ السلام كا رشتہ دار بھى تھا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: