حضرت اِشموئیل علیہ السلام-1

خدائے بزرگ و برتر نے ایك عبرتناك واقعہ كى طرف نشاندہى كى ہے كہ جس میں بنى اسرائیل كے ایك گروہ كى سر گذشت بیان كى گئی ہے جو حضرت موسى علیہ السلام كے بعد وقوع پذیر ہوئی۔

”قوم یہود” فرعون كے زیر اثر رہ كر بنى اسرائیل كمزور و ناتواں  ہو چكى تھی۔حضرت موسى علیہ السلام كى دانشمندانہ رہبرى كے نتیجے میں  انہیں  اس افسوسناك حالت سے نجات ملى اور انہوں  نے قدرت و عظمت حاصل كرلی۔ 


اس پیغمبر ﷺ كى بركت سے خداوندعالم نے انہیں بہت سى نعمات سے نوازا۔ان نعمات میں سے ایك صندوق عہد بھى تھا،یہودى اپنے لشكر كے آگے اسےاٹھائے ركھتے تھے۔اس سے ان میں  ایك طرح كا سكون قلب اور روحانى طاقت پیدا ہوتى تھی۔


بنى اسرائیل كو یہ قدرت و عظمت حضرت موسى علیہ السلام كے بعد ایك مدت تك حاصل رہى لیكن یہى كامیابیاں  اور نعمتیں  رفتہ رفتہ ان كے غرور و تكبر كا باعث بن گئیں  اور وہ قانون شكنى كرنے لگے۔اس كے نتیجے میں  انہیں  فلسطینیوں كے ہاتھوں  شكست اٹھانا پڑی،وہ اپنى قدرت و عظمت كھو بیٹھے اور صندوق عہد بھى ہاتھ سے گنوا بیٹھے، پھر اس قدر پراگندگى اور اختلاف كا شكار ہوئے كہ چھوٹے سے چھوٹے دشمنوں  سے بھى دفاع كے قابل نہ رہے۔ یہاں  تك كہ دشمنوں نے ان كے بہت سے لوگوں  كو ان كى سر زمین سے نكال دیا اور ان كى اولاد كو غلام اور قیدى بنالیا۔


كئی برس تك یہ كیفیت رہى یہاں  تك كہ خداوندعالم نے ان كى نجات اور ارشاد و ہد آیت كے لئے حضرت اِشموئیل علیہ السلام  كو پیغمبر بنا كر مبعوث فرمایا۔

بنى اسرائیل بھى دشمنوں  كے ظلم و جور سے تنگ آچكے تھے اور كسى پناہ گاہ كى تلاش میں تھے لہذا ان كے گرد جمع ہوگئے اور ان سے خواہش كى كہ وہ ان كے لئے رہبر اور امیر مقرر كردیں  تا كہ وہ اس كى قیادت میں  ہم آواز اور ایك جان ہوكر دشمن سے جنگ كریں  اورعزت رفتہ بحال ہو سكے۔

اِشموئیل علیہ السلام  ان كى اندرونى كیفیات اور سست ہمتى سے پورى طرح واقف تھے۔انہوں نے كہا:


”مجھے ڈر ہے كہ جب جہاد كا حكم آئے تو تم كہیں امیر و رہبر كے حكم سے روگردانى نہ كرو اور دشمن سے مقابلے اور جنگ سے پہلو تہى نہ كرو”۔


وہ كہنے لگے: 
”یہ كیسے ہو سكتا ہے كہ ہم امیر كے حكم سے منہ پھیر لیں اور اپنى ذمہ دارى نبھانے سے دریغ كریں  حالانكہ دشمن ہمیں  ہمارے وطن سے نكال چكا ہے، ہمارى زمینوں  پر قبضہ كر چكا ہے اور ہمارى اولاد كو قیدى بناچكاہے”۔

حضرت اِشموئیل  علیہ السلام  نے دیكھا كہ وہ اپنى بیمارى كى تشخیص كر چكے ہیں  اور اب انہیں  ایك طبیب كى ضرورت ہے۔ گویا وہ اپنى پسماندگى كے راز سے واقف ہو چكے ہیں ۔ اس پر حضرت اِشموئیل نے بارگاہ الہى كا رخ كیا اور قوم كى خواہش كو اس كے حضور پیش كیا،وحى ہوئی:

”میں  نے طالوت كو ان كى سر براہى كے لئے منتخب كیا ہے۔”
حضرت اِشموئیل  علیہ السلام  نے عرض كیا: 
خداوندا میں  نے ابھى تك طالوت كو دیكھا ہے نہ اسے پہچانتا ہوں  ۔ 


ارشاد ہوا: ”ہم اسے تمہارى طرف بھیجیں گے۔جب وہ تمہارے پاس آئے تو فوج كى كمان اس كے حوالے كردینا اور علم جہاد اس كے ہاتھ میں  دے دینا”۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: