نِہَرِ زُبَیدَہ

یہ دوسری صدی ہجری کا زمانہ تھا۔ دنیا کے چپے چپے میں اسلام کی کرنیں اپنی تابناک شعاعیں بکھیر رہی تھیں۔ وہی عرب جو کچھ عرصہ پہلے انتقام کی آگ میں جھلس رہے تھے آج اسلامی تعلیمات کی بدولت باہم بھائی بھائی بن چکے تھے، قبائل کے درمیان باہمی اختلافات بلاشبہ پائے جاتے تھے مگر محاذ جنگ پر جب اکٹھے ہوتے توسب ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے تھے۔ تلواروں کےسائے میں ان کی نمازیں ادا ہوتی تھیں اور جن ملکوں میں وہ جہاد کا پرچم لہراتے وہاں کے باشندوں کے ساتھ عدل و انصاف کرنا ان کی شان تھی۔

دوسری جانب مسلمان مبلغین بھی دعوت و تبلیغ کا کام جاری رکھے ہوئے تھے، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہونے لگا۔ دوسری صدی ہجری کے اواخر میں مملکت اسلامیہ کی باگ ڈور خلیفہ ہارون الرشید کے ہاتھ میں ہے، دنیا کے گوشے گوشے سے مسلمان بیت اللہ شریف کا حج اداکرنےکےلئےآرہےہیں۔ مکہ مکرمہ میں پانی ناپید ہے۔ حجاج کرام اور اہل مکہ بڑی مشکل سے کسی طرح پانی کا بندوبست کر پاتے ہیں۔اسی زمانہ میں ملکہ زُبَیدَہ  بنت جعفر فریضہ حج کی  ادائیگی کے لئے مکہ آتی ہیں۔ انہوں نے جب اہل مکہ اور حُجاج کرام کو پانی کی دشواری اور مشکلات میں مبتلا دیکھا تو انہیں سخت افسوس ہوا، چنانچہ انہوں نےاپنےاخراجات سے ایک عظیم الشان نہر کھودنے کا حکم دے کر ایک ایسا فقید المثال کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک عالم بشریت کو یاد رہے گا۔
ام جعفر زُبَیدَہ  بنت جعفر بن ابو جعفر منصور ہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن تھیں ان کا نام   امۃ العزیز   تھا۔ انکےدادامنصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے، ان کو   زُبَیدَہ    ( دودھ بلونےوالی متھانی ) کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔ یہ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ165 ھ میں ہوئی۔ ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پچاس ملین درہم ( 50,000,000 ) خرچ کئے۔ ہارون رشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیاوہ اس کے علاوہ تھا۔
ہارون رشید ملکہ زُبَیدَہ  سے بہت محبت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر پکارا: ھلمی یا ام نھر   ام نہر! ذرا ادھر آنا   زُبَیدَہ  نے بعد میں مشہور عالم اصمعی کو بلوا کر پوچھا: امیر المومنین مجھے   ام نہر   کہہ کر پکارتے ہیں، اس کے کیا معنی ہیں؟ اصمعی نے جواب دیا: چونکہ جعفر عربی لغت میں   نہر   کو کہتے ہیں اور آپ کی کنیت ام جعفر ہے، اس لئے نہر معنی مراد لے کے آپ کو اس نام سے پکارا ہو گا۔
زُبَیدَہ  بڑی ہی سمجھدار خاتون تھیں، حاشیہ برداروں کے کہنے پر کبھی فوری فیصلہ نہیں کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک شاعر نے ان کی خدمت میں چند اشعار سنائے، مگر ردیف و قافیہ اور الفاظ کی ترکیب میں شاید وہ اپنا مافی الضمیر اچھی طرح سے ادا نہیں کر سکا۔ شعر کے مفہوم سے ان کی عظمت کے بجائے گستاخی عیاں تھی۔ حشم و خدم نے شاعر کی عبارت کو ملکہ کی بے ادبی پر محمول کیا اور اس کو گرفتار کرنا چاہا مگر ملکہ نے ان سے کہا: اس کو نظر انداز کر دو، کیونکہ جس کی نیت اچھی بات کہنے کی ہو مگر اس سے لغزش ہو جائے، ایسا شخص اس آدمی سے بہتر ہے جس کی نیت بری ہو مگر وہ بات اچھی کہہ جائے۔  
ملکہ زُبَیدَہ  کی خدمت کے لئے ایک سو نوکرانیاں تھیں، جن کو قرآن کریم یاد تھا اور وہ ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتی تھیں۔ ان کے محل میں سے قرات کی گنگناہٹ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آتی رہتی تھی۔
زُبَیدَہ  نے پانی کی قلت کے سبب حجاج کرام اور اہل مکہ کو درپیش مشکلات اور دشواریوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو انہوں نے مکہ میں ایک نہر بنانے کا ارادہ کیا۔ اس سے پہلے بھی وہ مکہ والوں کو بہت زیادہ مال سے نوازتی رہتی تھیں اور حج و عمرہ کے لئے مکہ آنے والوں کے ساتھ ان کا سلوک بے حد فیاضانہ تھا۔ اب نہر کی کھدائی کا منصوبہ سامنے آیا تو مختلف علاقوں سے ماہر انجینئربلوائے گئے۔ مکہ مکرمہ سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے   جبال طاد   سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ایک نہر جس کا پانی   جبال قرا   سے   وادی نعمان   کی طرف جاتا تھا اسے بھی نِہَرِ زُبَیدَہ  میں شامل کر لیا گیا یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع تھا۔ علاوہ ازیں منیٰ کے جنوب میں صحرا کے مقام پر ایک تالاب بئر زُبَیدَہ  کے نام سے تھا جس میں بارش کا پانی جمع کیاجاتا تھا ، اس سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر میں لے جایا گیا، پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ کی طرف اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔ اس عظیم منصوبے پر سترہ لاکھ(17,00,000 ) دینار خرچ ہوئے۔
ملکہ زُبَیدَہ  نے انتہائی شوق اور جذبہ اخلاص کے تحت نہر کی کھدائی کرائی تھی۔ وہ حجاج کرام اور اہل مکہ کو پانی کی دشواریوں سے نجات دلانا چاہتی تھیں اور یہ کام اللہ کی خوشنودی کے لئے انہوں نے کیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب نِہَرِ زُبَیدَہ  کی منصوبہ بندی شروع ہوئی تو اس منصوبہ کا منتظم انجینئر آیا اور کہنے لگا: آپ نے جس کا حکم دیا ہے اس کے لئے خاصے اخراجات درکار ہیں، کیونکہ اس کی تکمیل کے لئے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹنا پڑے گا، چٹانوں کو توڑنا پڑے گا، نشیب و فراز کی مشکلات سے نمٹنا پڑے گا، سینکڑوں مزدوروں کو دن رات محنت کرنی پڑے گی، تب کہیں جا کر اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
یہ سن کر ملکہ زُبَیدَہ  نے جو جواب دیا وہ دلچسپ بھی ہے اور اس سے ان کی قوت فیصلہ اور منصوبے سے دلچسپی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے چیف انجینئر سے کہا: اعملھا ولو کانت ضربۃ فاس بدینار اس کام کو شروع کردو، خواہ کلہاڑے کی ایک ضرب پر ایک دینار خرچ آتا ہو۔اس طرح جب نہر کا منصوبہ تکمیل کو پہنچ گیا تو منتظمین اور نگران حضرات نے اخراجات کی تفصیلات ملکہ کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت ملکہ دریائے دجلہ کے کنارے واقع اپنے محل میں تھیں۔ ملکہ نے وہ تمام کاغذات لئے اور انہیں کھول کر دیکھے بغیر دریا برد کر دیا اور کہنے لگیں:   الٰہی! مجھے دنیا میں کوئی حساب کتاب نہیں لینی، تو بھی مجھ سے قیامت کے دن حساب نہ لینا۔  
ملکہ زُبَیدَہ  نے یہ عظیم الشان کام انجام دے کر حجاج کرام اور باشندگان مکہ کو پانی کی قلت کے سبب درپیش مشکلات کا مسئلہ حل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ اس نہر کو ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے۔
یہ واقعات وفیات الاعیان۔ البدایۃ والنھایۃ، کتاب الوافی بالوفیات، الاعلام اور تاریخ مکہ مکرمہ، محمد عبدالمعبود وغیرہ کتب سے مواد اکٹھا کر کے لکھا گیا ہے
Advertisements
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: