حدیث نبوی اور سائنس کے اعترافات

1-جنین کی ابتدائی نشوونما:
حدیث نبویﷺ
اِنَّ احَدَکُم یَجمَعُ خَلقُہ ، فِی بَطنِ اُمِّہ ا ربَعِینَ یَومًا-۔تم میں  سے ہر ایک کی تخلیق کے تمام اجزاء اس کی ماں  کے پیٹ میں  40دن تک (نطفے کی صورت ) میں  جمع رہتے ہیں ۔ (صحیح البخاری ، بدءالخلق ، باب ذکر الملائکة، حدیث  3208 ، صحیح مسلم ،  القدر ، باب کیفیة خلق الآدمی ، حدیث   2643)
اِذَا مَرَّ بِالنُّطفَةِ اثنَتَانِ وَاربَعُونَ لَیلَةً ، بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیھَا مَلَکاً ، فَصَوَّرَھَا وَخَلَقَ سَمعَھَا وَبَصَرَھَا وَجِلدَھَا وَلَحمَھَا وَعِظَامَھَا )  جب نطفہ کو قرار پائے 42راتیں  گزر جاتی ہیں  تو اللہ ایک فرشتے کو اس کے پاس بھیجتا ہے جو (اللہ کے حکم سے ) اس کی شکل و صورت بناتا ہے ، اور اس کے کان ، اس کی آنکھیں  ، اس کی جلد ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں  بناتا ہے۔ (صحیح مسلم ، القدر ، باب کیفیة خلق الآدمی…. حدیث   2645)
سائنس کا اعتراف :
جنین کے پہلے 40 دن اس کی تخلیق کے ناقابل شناخت مرحلے پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی ان دونوں احادیث میں  جس قطعیت اور صحت کے ساتھ جنین کی نشوونما کےمراحل بیان کیے گئے ہیں  ،ان میں پہلے 40دنوں  میں  بیشتر جنینی ارتقاء کا متعین ٹائم ٹیبل موجود ہے یہ احادیث مبارکہ جب ارشاد فرمائی گئیں  تھیں اس وقت کے میسر سائنسی علم کی بنا پر اس طرح بیان نہیں  کی جا سکتی تھیں ۔
اور مذہب کے درمیان کوئی تصادم نہیں ، Geniesاس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ صرف جینیات
درحقیقت، مذہب بعض روایتی سائنسی نقطہ نظر کو الہام سے تقویت پہنچا کر سائنس کی رہنمائی کر سکتا ہے اور یہ کہ قرآن میں  ایسے بیانات موجود ہیں  جو صدیوں  بعد درست ثابت ہوئے اور جو اس امر کا ثبوت ہیں  کہ قرآن میں  دی گئی معلومات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔
2-انگلیوں  کے پوروں  پر جراثیم کش پروٹین:
حدیث نبویﷺ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
اِذَا اَکَلَ اَحَدُکُم مِنَ الطَّعَامِ فَلَا یَمسَح یَدَہ حَتیٰ یَلعَقَھَا ا و یُلعِقَھَا جب تم میں  سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنا ہاتھ نہ پونچھے یہاں  تک کہ اسے (انگلیاں  ) چاٹ لے یا چٹوالے۔ (صحیح مسلم ، الاشربة ،
باب استحباب لعق الاصابع حدیث   2031)
سائنس کا اعتراف :
کھانے کے بعد انگلیاں  چاٹنے کا حکم پیغمبر اسلام ﷺ نے تقریباً 14 صدی پہلے دیا اور اس میں  جو حکمت کار فرما ہے اس کی تصدیق طبی سائنس داں  اس دور میں  کر رہے ہیں ۔انسان کی انگلیوں  کے پوروں  پر موجود خاص قسم کی پروٹین اسے دست ، قے اور ہیضے جیسی بیماریوں  سے بچاتی ہے۔ وہ بیکٹیریا جنہیں   ای کولائی  کہتے ہیں  ، جب انگلیوں  کی پوروں  پر آتے ہیں تو پوروں  پر موجود پروٹین ان مضر صحت بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے۔ اس طرح یہ جراثیم انسانی جسم پر رہ کر مضر اثرات  پیدا نہیں  کرتے، خاص طور پر جب انسان کو پسینہ آتا ہے تو جراثیم کش پروٹین متحرک ہو جاتی ہے۔ اگر یہ پروٹین نہ ہوتی تو بچوں  میں  ہیضے ، دست اور قے کی بیماریاں  بہت زیادہ ہوتیں ۔
اہل مغرب کھانے کے بعد انگلیاں  چاٹنے کے فعل کو غیرصحت مندانہ قدم قرار دے کر اس پر حرف گیری کرتے رہے ہیں  ، درحقیقت یہ عمل تو نہایت صحت مند ہے کیونکہ انگلیاں منہ کے اندر نہیں  جاتیں  اور یوں منہ کے لعاب سے آلودہ نہیں  ہوتیں ۔
نیز انگلیوں  کے پوروں  پر موجود پروٹین سے مضر بیکٹیریا بھی ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس چمچے یا کانٹے سے کھانا کھائیں  تو وہ بار بار منہ کے لعاب سے آلودہ ہوتا رہتا ہے اور یہ بے حد غیرصحت مند عمل ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے انگلیوں  کے پوروں پر جراثیم کش پروٹین پیدا کی ہے تو ہاتھ سے کھانا اور کھانے کے بعد انگلیاں  چاٹنا دونوں  صحت مند افعال ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کی مذکورہ بالا حدیث میں  انہی دو باتوں  پر عمل کی تلقین کی گئی ہے:
 (1 ) کھانا ہاتھ (دائیں  ) سے کھایا جائے
(2 ) ہاتھ پونچھنے سے پہلے انگلیاں  چاٹی جائیں ۔
دائیں  ہاتھ سے کھانے اور اس کے بعد انگلیاں  چاٹنے کی اس اسلامی روایت بلکہ سنت کو عربوں  نے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے جسے ماضی میں  یورپ والے غیر صحت منع عمل ٹھہراتے رہے ، مگراب ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ہرگز مضر عمل نہیں  بلکہ عین صحت مند اور فائدہ مند ہے۔
3-کتے کے چاٹنے پر برتن کو مٹی سے دھونا:
حدیث نبویﷺ
حضرت ابوہریرہ رضي اللہ عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 طُھُورُ اِنَائِ اَحَدِکُم اِذَا وَلَغَ فِیہِ الکَلبُ اَن یَّغسِلَہ سَبعَ مَرَّاتٍ اولَاھُنَّ بِالتُّرَابِ (صحیح مسلم ، الطھارة، باب حکم ولوغ الکلب ، حدیث   279)
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے
فَل یُرِقہُ  اسے چاہیے کہ اس(میں  موجود کھانا یا پانی ) کو بہا دے۔  (مسلم ، الطھارة، باب حکم ولوغ الکلب ، حدیث   279)
اور ترمذی کی روایت میںہے   :
او لَاھُنَّ ا و اخرَاھُنَّ بِالتُّرَابِ پہلی یا آ خری بار مٹی سے دھونا چاہیے ۔ (جامع الترمذی ، باب ما جاءفی سور الکلب،حدیث   91 )  
سائنس کا اعتراف :
کسی چیز کی محض ناپاکی سے صفائی کے لیے اسے 7 دفعہ دھونا ضروری نہیں  ، کسی چیز کو 7دفعہ دھونے کا فلسفہ محض صفائی کرنے سے مختلف ہے۔ کتے کی آنتوں میں  جراثیم اور تقریبا 4 ملی میٹرلمبے کیڑے ہوتے ہیں  جو اس کے فضلے کے ساتھ خارج ہوتے ہیں  اور اس کے مقعد کے گرد بالوں  سے چمٹ جاتے ہیں  ، جب کتا اس جگہ کو زبان سے چاٹتا ہے تو زبان ان جراثیم سے آلودہ ہو جاتی ہے ، پھر کتا اگر کسی برتن کو چاٹے یا کوئی انسان کتے کا بوسہ لے جیسا کہ یورپی اور امریکی عورتیں کرتی ہیں  تو جراثیم کتے سے اس برتن یا اس عورت کے منہ میں  منتقل ہو جاتے ہیں  اور پھر وہ انسان کے معدے میں  چلے جاتے ہیں ، یہ جراثیم آگے متحرک رہتے ہیں  اور خون کے خلیات میں  گھس کر کئی مہلک بیماریوں  کا باعث بنتے ہیں  چونکہ ان جراثیم کی تشخیص خوردبینی ٹیسٹوں  کے بغیر ممکن نہیں ۔ شریعت نے ایک عام حکم کے تحت کتے کے لعاب کو فی نفسہ ناپاک قرار دیا اور ہدایت کی کہ جو برتن کتے کے لعاب سے آلودہ ہو جائے اسے 7بار ضرور صاف کیا جائے اور ان میں  سے 1 بار مٹی کے ساتھ دھویا جائے ۔
4-مکّھی کے پروں میں بیماری و شفا ایک ساتھ:
حدیث نبویﷺ
حضرت ابوہریرہ رضي اللہ عنه سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِی شَرَابِ ا حَدِکُم فَلیَغمِسہُ ثُمَّ لِیَنزِعہُ فَاِنَّ فِی اِحدیٰ جَنَاحَیہِ دَائ وَفِی الاُخرٰی شِفَاء ۔اگر تم میں  سے کسی کے مشروب میں  مکّھی گر پڑے تو اسے چاہیے کہ اس کو مشروب میں  ڈبکی دے ، پھر اسے نکال پھینکے ، کیوں  کہ اس کے ایک پر میں  بیماری ہے تو دوسرے میں  شفا۔(صحیح البخاری ، بدءالخلق ، باب اذا وقع الذباب…. حدیث   3320)
سائنس کا اعتراف :
مکّھی اپنے جسم کے ساتھ کچھ جراثیم اٹھائے پھرتی ہے ، جیسا کہ نبی ﷺ نے 1400 سال پہلے بیان فرمایا، جب انسان جدید طب کے متعلق بہت کم جانتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ عضواور دیگر ذرائع پیدا کئے جو ان جراثیم کو ہلاک کر دیتے ہیں  ، مثلاً پنسلین،پھپھوندی اور سٹیفائلو کوسائی جیسے جراثیم کو مار ڈالتی ہے۔ ایک مکھی‘ بیماری (جراثیم ) کے ساتھ ساتھ ان جراثیم کا تریاق بھی اٹھائے پھرتی ہے۔ عام طور پر جب مکّھی کسی مائع غذا کو چھوتی ہے تو وہ اسے اپنے جراثیم سے آلودہ کر دیتی ہے لہٰذا اسے مائع میں  ڈبکی دینی چاہیے تا کہ وہ ان جراثیم کا تریاق بھی اس میں  شامل کر دے جو جراثیم کامداوا کرے گا۔
کے طور پر رہتے ہیں اور Paresis طفیلیوں  Yeast
Cellsمکّھی کے پیٹ میں  خامراتی خلیات
یہ خامراتی خلیات اپنی تعداد بڑھانے کے لیے مکّھی کی تنفس کی نالیوں میں  گھسے ہوتے ہیں  اور جب مکّھی مائع میں  ڈبوئی جائے تو وہ خلیات نکل کر مائع میں  شامل ہو جاتے ہیں ، اور ان خلیات کا مواد‘ ان جراثیم کا تریاق ہوتا ہے جنہیں  مکّھی اٹھائے پھرتی ہے۔  
نبی ﷺ نے حکم دیا کہ مکّھی خوراک میں  گر پڑے تو اسے اس میں  ڈبویا جائے ، اس طرح مکّھی مر جائے گی ، بالخصوص اگر غذا گرم ہو ، اگر غذا کے اندر مکّھی کی موت غذا کو ناپاک بنانے والی ہوتی تو نبی ﷺ اسے پھینک دینے کا حکم دیتے، اس کے برعکس نبی ﷺ نے اسے محفوظ بنانے کی ہدایت کی۔ شہد کی مکّھی ، بھڑ ، مکڑی اور دیگر کیڑے بھی گھریلو مکّھی کے ذیل میں  آتے ہیں
، کیوں  کہ اس حدیث سے ماخوذ حکم نبوی عام ہے۔ مردہ جانور ناپاک کیوں ہیں  ؟ اس کی توجیہ یہ ہے کہ ان کا خون ان کے جسموں  کے اندر رہتا ہے ، اس لیے کیڑے مکوڑے یا حشرات جن میں  خون نہیں  ہوتا وہ پاک ہیں ۔بعض اطباءنے بیان کیا ہے کہ بچھو اور بھڑ کے کاٹے پر گھریلو مکّھی مل دی جائے تو اس شفا کی وجہ سے آرام آ جاتا ہے جو اس کے پروں  میں  پنہاں ہے ، اگر گھریلو مکّھی کا سر الگ کر کے جسم کو آنکھ کے پپوٹے کے اندر رونما ہونے والی پھنسی پر ملا جائے تو ان شاءاللہ آرام آجائے گا ۔
 5-طاعون زدہ علاقے سے دور رہنے کا حکم اور اس کی حکمت 
حدیث نبویﷺ
حضرت اسامہ بن زید رضي اللہ عنه سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
الطَّاعُو نُ رِجز ، ارسِلَ عَلٰی بَنِی اِسرَائِیلَ ا و عَلٰی مَن کَانَ قَبلَکُم فَاِذَا سَمِعتُم بِہ بِا ر ضٍ فَلا تَقدَمُوا عَلَیہِ ، وَاِذَا وَقَعَ بِا ر ضٍ وَا نتُم بِھَا ، فَلا تَخرُجُوا فِرَاراً مِنہُ طاعون عذاب ہے ، جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر اور تم سے پہلوں پر نازل ہوا ، چنانچہ جب تم سنو کہ کسی علاقے میں  طاعون پھیلا ہوا ہے تو وہاں  نہ جاو اور جب وہ اس علاقے میں  پھوٹ پڑے جہاں تم مقیم ہو تو فرار ہو کر اس علاقے سے باہر مت جاو (صحیح مسلم ، الطب ، باب الطاعون ، حدیث   2218)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:   الطَّاعُو نُ شَھَادَة لِکُلِّ مُسلِمٍ طاعون ہر مسلم کے لیے شہادت ہے(صحیح البخاری ، الطب ، باب ما یذکر من الطاعون ، حدیث   5732 )  
سائنس کا اعتراف :
طاعون ایک مہلک گلٹی ہوتی ہے ،جو بہت شدید اور تکلیف دہ متعدی عارضہ ہے اور یہ تیزی سے متاثرہ حصے کے رنگ کو سیاہ ، سبز یا بھورے رنگ میں  تبدیل کر دیتا ہے پھر جلد ہی متاثرہ حصے کے اردگرد زخم نمودار ہونے لگتے ہیں ۔ طاعون عموماً جسم کے تین حصوں  ، بغلوں
، پر حملہ کرتا ہے۔
tissuesکان کے پیچھے اور ناک پھنک یا جسم کی نرم بافتوں
 حضرت انس رضي اللہ عنه کی روایت ہے کہ نبی ﷺ سے طاعون کے بارے میں  پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
 غُدَّة ،کَغُدَّةِ البَعِیرِ یَخرُجُ فِی المَرَاق وَالِابِطِ یہ ایک گلٹی ہے ، جو اونٹ کی گلٹی سے مشابہ ہے اور جو پیٹ کے نرم حصوں  اور بغلوں  میں نمودار ہوتی ہے (التمھید لابن عبدالبر 6/21)
اور Ulcers زخم Infection طاعون کے نتیجے میں جسم میں تعدیہ یا
عفونت
مہلک رسولیاں نمودار ہوتی ہیں ، اطباءاپنے مشاہدے کی رو سے انہیں  طاعون کی علامات قرار دیتے ہیں ۔طاعون کی وبا سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ جسم کو مضر رطوبتوں  سے نجات پانے میں  مدد دی جائے۔ اسے پرہیزی غذا ملے اور جسم کی خشکی عموماً محفوظ رہے۔ انسانی جسم میں مضر مادے ہوتے ہیں  جو بھاگ دوڑ اور غسل کرنے سے متحرک ہو جاتے ہیں  پھر وہ جسم کے مفید مادوں  سے مل کر کئی بیماریوں  کا باعث بنتے ہیں  ، اس لیے جب کسی جگہ طاعون حملہ آور ہو تو وہیں  ٹھہرنے میں  عافیت ہے تا کہ انسان کے جسم میں  مضر مادے متحرک نہ ہوں ۔
نبی ﷺ نے لوگوں  کو طاعون سے متاثرہ علاقے میں  نہ جانےد یا وہیں  ٹھہرنے کا جو حکم دیا ، اس میں  بڑی حکمت پنہاں  ہے ، اس کا مقصد یہ ہے:
1-آدمی نقصان اور نقصان کا باعث بننے والی شے سے بچ جائے۔
2-اپنی صحت برقرار رکھے ، کیوں کہ ضرورت زندگی کے حصول اور عاقبت کے تقاضے پورے کرنے کا دارومدار اسی پر ہے۔
3-آلودہ اور مضر ہوا میں سانس لے کر بیمار نہ پڑ جائے۔
4-طاعون سے متاثرہ لوگوں سے میل ملاپ سے احتراز کرے ، تا کہ خود اسے طاعون نہ آئے۔
5-جسم اور روح کی چھوت اور توہم سے تحفظ ہو ، جن کا نقصان صرف انہیں ہوتا ہے جو ان پر یقین رکھتے ہوں ۔
غرض یہ کہ طاعون سے متاثرہ علاقے میں  داخل ہونے کی ممانعت ایک احتیاطی تدبیر اور ایک طرح کی پرہیزی غذا ہے ، جو انسان کو نقصان کی راہ سے پرے رکھتی ہے ، اور یہ طاعون سے متاثرہ علاقہ چھوڑ کر جانے کا نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور اس کے فیصلوں کے آگے سرجھکانے کا سبق ہے۔ پہلا حکم تعلیم و تربیت ہے جب کہ دوسرا تسلیم و اطاعت اور تمام امور اللہ کی رضا پر چھوڑ دینے کا درس دیتا ہے۔
Advertisements
4 comments
  1. kauserbaig said:

    بہت اچھا معلوماتی مضمون ہے ماشاءاللہ ۔۔۔جزاک اللہ خیر

  2. Nauman faisal said:

    Jazakallah

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: