حضرت موسى علیہ السلام -10

بنى اسرائیل كى گائے كا واقعہ
بنى اسرائیل میں سے ایك شخص نا معلوم طور پر قتل ہو جاتا ہے ۔اس كے قاتل كا كسى طرح پتا نہیں چلتا۔تاریخ اور تفاسیر سے جو كچھ ظاہر ہوتاہے وہ یہ ہے كہ قتل كا سبب مال تھا یا شادی۔
بعض مفسرین كہتے ہیں كہ بنى اسرائیل میں ایك ثروت مند شخص تھا۔ اس كے پاس بے پناہ دولت تھی۔اس دولت كا وارث اس كے چچا زاد بھائی كے علاوہ كوئی نہ تھا۔وہ دولت مند كافى عمر رسیدہ ہوچكا تھا۔اس كے چچازاد بھائی نے بہت انتظار كیا كہ وہ دنیا سے چلا جائے تاكہ اس كا وارث بن سكے لیكن اس كا انتظار بے نتیجہ رہا لہذا اس نے اسے ختم كردینے كا تہیہ كرلیا ۔بالاخر اسے تنہائی میں
پاكر قتل كردیا اور اس كى لاش سڑك پر ركھ دى اور گریہ وزارى كرنے لگا اورحضرت موسى علیہ السلام كى بارگاہ میں مقدمہ پیش كیا كہ بعض لوگوں نے میرے چچا زاد بھائی كو قتل كردیا ہے۔
بنابریں اس بات میں كوئی مضائقہ نہیں كہ كلمہ”مسخ”كا جو ظاہرى مفہوم ہے اسى كو مانا جائے جو قرآن میں آیا ہے نیزدیگر مفسرین نے بھى زیادہ تر یہى معنى مراد لئے ہیں ۔
بعض دیگر مفسرین كہتے ہیں كہ قتل كا سبب یہ تھا كہ اپنے چچا زاد بھائی كو قتل كرنے والے نے اس سے اس كى بیٹى كارشتہ مانگاتھا لیكن اس نے یہ درخواست رد كردى اور لڑكى كو بنى اسرائیل كے ایك نیك اور پاكباز جوان سے بیاہ دیا۔شكست خوردہ چچازاد بھائی نے لڑكى كے باپ كو قتل كرنے كا ارادہ كرلیا اور چھپ كر اسے قتل كردیا۔
بنى اسرائیل كے قبائل كے درمیان جھگڑا اور نزاع شروع ہوجاتا ہے ۔ ان میں سے ہر ایك دوسرے قبیلے اور دیگر لوگوں كو اس كا ذمہ دار گردانتا ہے اور اپنے كو برى الذمہ قرار دیتا ہے۔
جھگڑا ختم كرنے كے لئے مقدمہ حضرت موسى علیہ السلام كى خدمت میں پیش كیا جاتا ہے اور لوگ آپ سے اس موقع پر مشكل كشائی كى درخواست كرتے ہیں اور اس كا حل چاہتے ہیں ۔
چونكہ عام اور معروف طریقوں سے اس قضیہ كا فیصلہ ممكن نہ تھا اوردوسرى طرف اس كشمكش كے جارى رہنے سے ممكن تھا بنى اسرائیل میں ایك عظیم فتنہ كھڑا ہوجاتا ۔
لہذا جیسا كہ آپ ان آنے والى ابحاث میں پڑھیں گے حضرت موسى علیہ السلام پروردگار سے مدد لے كر اعجاز كے راستے اس مشكل كو كیونكر حل كرتے ہیں ۔
قرآن نے فرمایا:”یاد كرو اس وقت كو جب موسى نے اپنى قوم سے كہا تھا(قاتل كو تلاش كرنے كے لئے)پہلى گائے(جو تمہیں مل جائے اس)كو ذبح كرو”۔( سورہ بقر آیت 67)
اور اس ذبح شدہ گائے كا ایك حصہ اس مقتول كے جسم پر لگائو جس كا قاتل معلوم نہیں ہے تا كہ وہ زندہ ہوجائے اور اپنے قاتل كو بتائے۔
انہوں نے بطور تعجب كہا:”كیا تم ہم سے تمسخر كرتے ہو”۔
موسى علیہ السلام نے ان كے جواب میں كہا:”میں خدا سے پناہ مانگتاہوں كہ میں جاہلوں میں سے ہوجائوں ”۔( سورہ بقر آیت67)
یعنى استہزاء اور تمسخر كرنا نادان افراد اور جاہل افراد كا كام ہے۔اور خدا كا رسول یقینا ایسا نہیں ہے۔
بنى اسرائیل كے اعتراضات
اسكے بعد انہیں اطمینان ہوگیا كہ استہزاء مذاق نہیں بلكہ سنجیدہ گفتگو ہے تو ۔ ”كہنے لگے:اب اگر ایسا ہى ہے تو اپنے پروردگار سے كہیئےہ ہمارے لئے مشخص و معین كرے كہ وہ گائے كس قسم كى ہو”؟( سورہ بقر آیت 68)
بہر حال حضرت موسى علیہ السلام نے ان كے جواب میں فرمایا: ”خدا فرماتا ہے ایسى گائے ہو جو نہ بہت بوڑھى ہو كہ بے كار ہوچكى ہو اور نہ ہى جوان بلكہ ان كے درمیان ہو”۔( سورہ بقر آیت 68)
اس مقصدسے كہ وہ اس سے زیادہ اس مسئلے كو طول نہ دیں اور بہانہ تراشى سے حكم خدا میں تاخیر نہ كریں اپنے كلام كے آخر میں مزید كہا:”جو تمہیں حكم دیا گیا ہے۔
(جتنى جلدى ہو سكے)اسے انجام دو”۔( سورہ بقر آیت 68)
لیكن انہوں نے پھر بھى زیادہ باتیں بنانے اور ڈھٹائی دكھانے سے ہاتھ نہیں اٹھایا اور كہنے لگے: ”اپنے پروردگار سے دعا كرو كہ وہ ہمارے لئے واضح كرے كہ اس كا رنگ كیسا ہو”۔(سورہ بقر آیت 69)
موسى علیہ السلام نے جواب میں كہا:وہ گائے سارى كى سارى ز درنگ كى ہو جس كا رنگ دیكھنے والوں كو بھلا لگے۔
خلاصہ یہ كہ وہ گائے مكمل طور پر خوش رنگ اور چمكیلى ہو۔ایسى دیدہ زیب كہ دیكھنے والوں كو تعجب میں ڈال دے۔
تعجب كى بات یہ ہے كہ انہوں نے اس پر بھى اكتفاء نہ كیا اور اسى طرح ہر مرتبہ بہانہ جوئی سے كام لے كر اپنے آپ كو اور مشكل مىں ڈالتے گئے۔
پھر كہنے لگے اپنے پروردگار سے كہیئے كہ ہمیں واضح كرے كہ یہ گائے(كام كرنے كے لحاظ سے)كیسى ہونى چاہیئےیونكہ یہ گائے ہمارے لئے مبہم ہوگئی ہے”۔
حضرت موسى علیہ السلام نے پھر سے كہا:”خدا فرماتا ہے وہ ایسى گائے ہو جو اتنى سدھائی ہوئی نہ ہو كہ زمین جوتے اور كھیتى سینچے ،ہر عیب سے پاك ہو،حتى كہ اس میں كسى قسم كا دوسرا رنگ نہ ہو”۔
اب كہ بہانہ سازى كے لئے ان كے پاس كوئی سوال باقى نہ تھا جتنے سوالات وہ كرسكتے تھے۔سب ختم ہوگئے تو كہنے لگے:اب تو نے حق بات كہى ہے”۔”پھر جس طرح ہو سكا انہوں نے وہ گائے مہیا كى اور اسے ذبح كیا لیكن دراصل وہ یہ كا م كرنا نہیں چاہتےتھے”۔
”پھر ہم نے كہا كہ اس گائے كا ایك حصہ مقتول پر مارو”۔(تاكہ وہ زندہ ہو كر اپنے قاتل كا تعارف كرائے)( سورہ بقر آیت 69تا73)
بنى اسرائیل نے ان خصوصیات كى گائے تلاش كى اور اس كو ذبح كیااور اس كا خون مقتول كے جسم پر لگایا تو وہ زندہ ہوگیا اور اپنے قاتل (جو ا س كا چچا زاد بھائی تھا)كى شناخت كرادی۔
باپ سے نیكى كا صلہ
اس قسم كى گائے اس علاقے میں ایك ہى تھی،بنى اسرائیل نے اسے بہت مہنگے داموں خریدا، كہتے ہیں اس گائے كا مالك ایك انتہائی نیك آدمى تھا جو اپنے باپ كا بہت احترام كرتا تھا۔ ایك دن جب اس كا باپ سویا ہوا تھا اسے ایك نہ آیت نفع بخش معاملہ درپیش آیا،صندوق كى چابى اس كے باپ كے پاس تھى لیكن اس خیال سے كہ تكلیف اور بے آرامى نہ ہو اس نے اسے بیدار نہ كیا لہذا اس معاملے سے صرف نظر كرلیا۔
بعض مفسرین كے نزدیك بیچنے والا ایك جنس ستر ہزار میں اس شرط پر بیچنے كو تیار تھا كہ قیمت فوراًادا كى جائے اور قیمت كى ادائیگى اس بات پر موقوف تھى كہ خریدنے كے لئے اپنے باپ كو بیدار كركے صندوقوں كو چابیاں اس سے حاصل كرے،وہ ستر ہزار میں خریدنے كو تیار تھا لیكن كہتا تھا كہ قیمت باپ كے بیدار ہونے پر ہى دوں گا،خلاصہ یہ كہ سودا نہ ہو سكا،خدا وند عالم نے اس نقصان اور كمى كو اس طرح پورا كیا كہ اس جوان كے لئے گائے كى فروخت كا یہ نفع بخش موقع فراہم كیا،بعض مفسرین یہ كہتے ہیں كہ باپ بیدار ہواتو اسے واقعہ سے آگاہى ہوئی،اس نیكى كى وجہ سے اس نے وہ گائے اپنے بیٹے كو بخش دى اس طرح اسے وہ بے پناہ نفع میسر ہوا۔
مالدار شخص قارون ، بنى اسرائیل كا مغرورشخص
یہاں پر گفتگو بنى اسرائیل كے ایك اور مسئلے اور الجھن كى جاتى ہے مسئلہ یہ ہے كہ ان میں ایك سركش سرمایہ دار تھا اس كا نام قارون تھا جوغروروسركشى میں مست كردینے والى دولت كا مظہر تھا ،اصولى طور پر حضرت موسى علیہ السلام نے اپنى زندگى میں تین متجاوز طاغوتى طاقتوں كے خلاف جہاد كیا ایك فرعون تھا جو حكومت واقتدار كا مظہر تھا، دوسرا قارودن تھا جو ثروت ودولت كا مظہر تھا اورتیسرا سامرى تھا كہ جو مكرو فریب كا مظہر تھا اگرچہ حضرت موسى كا سب سے بڑا معركہ حكومت كے خلاف تھا لیكن دوسرے معركہ بھى اہم تھے اور وہ بھى عظیم تربیتى نكات كے حامل ہیں ۔
مشہور ہے كہ قاردن حضرت موسى علیہ السلام كا قریبى رشتہ دار تھا (چچا، یا چچازادبھائی یا خالہ زادبھائی ) اس نے توریت كا خوب مطالعہ كیا تھا پہلے وہ مومنین كى صف میں تھا لیكن دولت كا گھمنڈ اسے كفر كى آغوش میں لے گیا اور اسے زمین میں غرق كردیا اس غرورنے اسے پیغمبر خدا كے خلاف جنگ پر آمادہ كیا اور اس كى موت سب كے لئے باعث عبرت بن گئی۔ارشاد ہوتا ہے :
”قاورن موسى كى قوم میں سے تھا لیكن اس نے ان پر ظلم كیا ”۔( سورہ قصص آیت 76) 434
اس ظلم كا سبب یہ تھا كہ اس نے بہت سى دولت كمالى تھى اور چونكہ وہ كم ظرف تھا اور ایمان مضبوط نہ تھا اس لئے فراواں دولت نے اسے بہكادیا اور اسے انحراف واستكبار كى طرف لے گئی ۔
قرآن كہتا ہے :” ہم نے اسے مال ودولت كے اتنے خزانے دیے كہ انہیں اٹھانا ایك طاقتور گروہ كے لئے بھى مشكل تھا ”۔(سورہ قصص آیت 76)
قارون كے پاس اس قدر سونا چاندى اور قمیتى اموال تھے كہ ان كے صندوقوں كو طاقتور لوگوں كا ایك گروہ بڑى مشكل سے ایك جگہ سے دوسرى جگہ لے كر جاتا تھا ۔”
چارنصیحتیں
آیئےاس بحث سے آگے بڑھیں اور دیكھیں كہ بنى اسرائیل نے قارون سے كیا كہا: قرآن كہتا ہے: ”اس وقت كو یاد كرو جب اس كى قوم نے اس سے كہا : تم میں ایسى خوشى نہیں ہونى چاہئے جس میں تكبر اور غفلت ہوكیونكہ خدا غرور میں ڈوبے ہوئے خوشحال افراد كو پند و نصیحت نہیں كرتا ”۔(سورہ قصص آیت 76)
اس كے بعد چار اور قیمتی،سر نوشت ساز اور تربیتى نصیحتیں كرتے ہیں اس طرح كل پانچ ہوگئیں ۔
پہلے كہتے ہیں : ”اللہ نے جو كچھ تجھے دیا ہے اس سے دار آخرت حاصل كر”۔ (سورہ قصص آیت 77)
یہ اس طرف اشارہ ہے كہ بعض كج فہم افراد كے خیال كے برخلاف مال ودولت كوئی برى چیز نہیں ہے اہم بات یہ ہے كہ وہ كس راستے پر صرف ہورہا ہے اگر اس كے ذریعے دار آخرت كو تلاش كیا جائے تو پھر اس سے بہتر كیا ہوسكتا ہے لیكن اگر وہ غرور، غفلت ، ظلم وتجاوز اور ہوس پرستى كا ذریعہ بن جائے تو پھر اس سے بدتر بھى كوئی چیز نہیں ۔
دوسرى نصیحت انہوں نے مزید كہا: ”دنیا سے اپنے حصے كو نہ بھول جا ”۔( سورہ قصص آیت 77)
یہ ایك حقیقت ہے كہ ہر انسان كا اس دنیا میں ایك محدود حصہ ہے یعنى وہ مال جو اس كے بدن ،لباس اور مكان كے لئے دركار ہوتا ہے اور ان پر صرف ہوتا ہے اس كى مقدار معین ہے اور ایك خاص مقدار سے زیادہ اس كے لئے قابل جذب ہى نہیں ہوتا ۔
انسان كو یہ حقیقت فراموش نہیں كرنى چاہئے ۔
تیسرى نصیحت یہ ہے : ”جیسے خدا نے احسان كیا ہے تو بھى نیكى كر”۔ (سورہ قصص آیت 87)
یہ بھى ایك حقیقت ہے كہ انسان ہمیشہ اللہ كے احسان پر نظر لگائے ہوئے ہے اور اس كى بارگاہ سے ہر خیر كا تقاضاكر رہا ہے اور اسى سے ہر قسم كى توقع باندھے ہوئے ہے تو اس طرح سے وہ كیونكر كسى كے صریح تقاضے كو یازبان حال كے تقاضا كو نظر انداز كرسكتا ہے اور اس سے كیسے بے اعتناى برت سكتا ہے ”۔
آخر میں چوتھى نصیحت یہ ہے: ”كہیں ایسا نہ ہو كہ یہ مادى وسائل تجھے دھوكہ دیں اور تو انہیں گناہ اور دعوت گناہ میں صرف كردے،زمین میں ہرگز گناہ و فساد نہ كر كیونكہ اللہ مفسدین كو پسند نہیں كرتا”۔( سورہء قصص آیت 77)
صحیح طور پر معلوم نہیں كہ نصیحت كرنے والے یہ افراد كون تھے۔
البتہ یہ بات مسلم ہے كہ وہ اہل علم،پرہیزگار،زیرك بابصیرت اور جرا ت مند افراد تھے۔
قارون كا جواب
اب ہمیں یہ دیكھنا ہے كہ اس سركش و ستمگر بنى اسرائیل نے ان ہمدرد واعظین كو كیا جواب دیا۔
قارون تو اپنى اس بے حساب دولت كے نشے میں چور تھا اس نے اسى غرور سے كہا:”میں نے یہ سب دولت اپنے علم و دانش كے بل بوتے پر حاصل كى ہے”۔( سورہ قصص آیت 78)
تمہیں اس سے كیا كہ میں اپنى دولت كیسے خرچ كرتا ہوں ،جو میں نے كمایا اسے خود كمایا ہے تو پھر صرف كرنے میں بھى مجھے تمہارى راہنمائی كى كوئی ضرورت نہیں ۔
علاوہ ازیں خدا مجھے اس دولت كے لائق سمجھتا تھا تبھى تو اس نے مجھے عطا كى ہے اور اسے صرف كرنے كى راہ بھى اس نے مجھے بتائی ہے میں دوسروں سے بہتر جانتا ہوں ۔تمہیں اس میں دخیل ہونے كى ضرورت نہیں ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر زحمت میں نے كى ہے،تكلیف میں نے اٹھائی ہے،خون جگر پیا ہے تب كہیں یہ دولت جمع كى ہے،دوسروں كے پاس بھى ایسى لیاقت و توانائی ہوتى تو وہ زحمت و كوشش كیوں نہ كرتے۔ میں نے كوئی ان كا راستہ تو نہیں روك ركھا اور اگر ان میں اس كى لیاقت نہیں ہے تو پھر كیا ہى اچھا ہے كہ بھوكے رہیں اور مرجائیں ۔
یہى وہ بوسیدہ اور گھٹیا منطق ہے كہ جو عام طور پربے ایمان سرمایہ دار نصیحت كرنے والوں كے سامنے پیش كرتے ہیں۔
یہ نكتہ بھى قابل توجہ ہے كہ قرآن نے اس باب كو اجمالاً بیان كیا ہے كہ قارون كس علم كے بل پر دولت جمع كرتا تھا۔كیا وہ علم كیمیاء تھا،جیسا كہ بعض مفسرین نے كہا ہے یاپھرتجارت،زراعت،اور صنعت كا علم تھا یا پھر كیا وہ انتظامى صلاحیت اور علم كا حامل تھا یا یہ سب امور تھے۔
بعید نہیں كہ قرآن كا مفہوم وسیع ہو اور یہ ان سب امور كى طرف اشارہ كر رہا ہو۔(قطع نظر اس كے كہ اس بات میں كتنى حقیقت ہے كہ علم كیمیا كے ذریعے تانبے وغیرہ كو سونے میں تبدیل كیا جاسكتا ہے۔)
اس موقع پر قرآن قارون اور اس جیسے دیگر افراد كو ایك تیكھا جواب دیتا ہے:”كیا اسے معلوم نہ تھا كہ خدا نے اس سے پہلے كئی قوموں كو ہلاك كردیا جو اس سے زیادہ طاقتور تھیں ،علم میں بڑھ كر تھیں اور سرمایہ بھى ان كے پاس زیادہ تھا”۔( سورہ قصص آیت 78)
تو كہتا ہے كہ میرے پاس جو كچھ ہے وہ میرے علم كى بدولت ہے لیكن تو بھول گیا ہے كہ تجھ سے زیادہ علم والے اور زیادہ طاقتور افراد بھى تھے۔كیا وہ عذاب الہى سے بچ سكے ہیں ؟
نمائش ثروت كا جنون
عام طور پر دیكھا جاتاہے كہ مغرور دولت مند لوگ طرح طرح كے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایك نمائش ثروت كا جنون ہے۔ انھیں اس عمل سے خوشى حاصل ہوتى ہے كہ اپنى دولت كا لوگوں پر اظہار كریں ۔ مثلاًیہ كہ وہ اپنى گراں قیمت سوارى پر سوار ہوكے نكلیں اور برہنہ پا لوگوں كے درمیان سے گزریں ۔ان كے منہ پر گرد و غبار ڈالتے جائیں اور ان كى تحقیر كرتے جائیں ۔ انھیں اس عمل سے تسكین ہوتى ہے۔
لیكن دولت كى یہى نمائش ان كے لئے بلائے جان بن جاتى ہے۔ كیونكہ لوگوں كے دلوں میں ان كے خلاف كینہ پرورش پانے لگتا ہے اور جذبات نفرت پیدا ہوجاتے ہیں ۔ اور اكثر ایسا بھى ہوتا ہے كہ یہى شرمناك اور مكروہ عمل ان كى زندگى كو ختم كردیتا ہے یا ان كى دولت كو برباد كردیتا ہے۔
ممكن ہے كہ اس جنون آمیز عمل كا نتیجہ كسى قسم كى تحریك ہو۔مثلاًلالچى افراد میں مزید دولت حاصل كرنے كى ہوس میں اضافہ ہو۔اور سركش لوگوں میں فرمانبردارى كے جذبات پیدا ہوں ۔مگر اہل ثروت،نمائش دولت كے عمل كو اس تصوركے بغیر انجام دیتے ہیں ۔درحقیقت ان كا عمل بھى ایك قسم كى ہوس ہوتاہے۔اس میں كسى سوجھ كا كوئی دخل نہیں ہوتا۔
بہر حال قارون بھى اس قانون سے مستثنى نہ تھا۔ بلكہ جنون نمائش ثروت كا ایك واضح نمونہ تھا۔ قرآن میں ایك جملے كے ذریعے قارون كى اس كیفیت كو بیان كیا گیا ہے:”قارون پورى زیب وزینت سے اپنى قوم كے سامنے نكلا”۔( سورہ قصص آیت79)اس نے اپنى پورى قوت اور توانائی اس كام پر صرف كردى تھى كہ وہ اپنى تمام دولت و آرائش كى لوگوں كے سامنے نمائش كرے اور یہ بات محتاج ذكر نہیں كہ اتنى دولت كا مالك شخص جب نمود حشمت كا ارادہ كرے تو وہ كیا كچھ كر سكتا ہے۔

كتب تواریخ میں اس واقعے كے متعلق بہت سے افسانے اور داستانیں ذكر ہوئی ہیں ۔بعض مو رخین نے لكھا ہے كہ قارون چار ہزار خادموں كى قطار كے ساتھ بنى اسرائیل كے درمیان سےگزرا،جبكہ چار ہزار خادم گراں قیمت گھوڑوں پر سرخ پوشاكیں پہنے ہوئے سوار تھے۔اس كے ساتھ خوش گل كنیزیں بھى تھیں جو سفید خچروں پر سوار تھیں جن پر سنہرى زین كسے ہوئے تھے۔ ان كى پوشاكیں سرخ اور سب سونے كے زیورات پہنے ہوئی تھیں ۔بعض لوگوں نے اس كے خادموں كى تعداد ستر ہزار لكھى ہے اور اسى طرح كى اور باتیں بھى لكھى ہیں ۔
لیكن اگر ہم ان تمام بیانات كو مبالغہ آمیز بھى سمجھ لیں پھر بھى ہم اس حقیقت سے انكار نہیں كرسكتے كہ نمائش دولت كے لئے اس كے پاس بہت ساز و سامان تھا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: