سیاسیات کے سلسلے کے چند عام مسائل-3

گزشتہ سے پیوستہ 
عورتوں کی سربراہی:
عورتوں کے ان تجربات سے فائدہ اٹھانا کچھ برا نہیں، جوصرف وہی بتا سکتی ہیں لیکن یہ بات کہ ا نکو قوم کی لیڈر بھی بنا دیا جائے دین اسلام کی تعلیمات سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ جنگ جمل۳۶ ؁ھ میں ہوئی، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف سے حضرت ابو  بکر ؓ کو حضرت علی ؓ نہ کے خلاف لڑنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے انکار کردیا تھا چنانچہ حضرت ابو بکرۃ ؓ نہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:لقد نفعنی اللّٰہ بکلمۃ سمعتہا من رسول اللّٰہ ﷺ ایام الجمل بعد ما کدت ان ألحق باصحاب الجمل فا قاتل معھم قال لما بلغ رسول اللّٰہ ﷺ ان اھل فارس قد ملکوا علیھم  بنت کسری قال لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأۃ(بخاری باب کتاب النبی صلعم الی کسری و قیصر)جنگ جمل کے دن مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی بات سے نفع دیا جو میں نے حضور ﷺسے سنی تھی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ میں جمل والوں سے جا ملتا اور ان کے ساتھ ہو کر لڑائی کرتا۔ فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺکو یہ اطلاع ملی کہ اہل ایران نے کسری کی صاحبزادی کو اپنا حکمران  بنا لیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ: ایسی قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنی باگ دوڑ ایک عورت کے سپرد کر دی۔ یہ کہہ کر در اصل حضرت ابو بکرؓنے معذرت کی کہ چونکہ حضرت صدیقہؓ اس گروہ کی رہنما ہیں اس لئے اس حدیث کی رو سے اس میں شمولیت جائز نہیں۔
چنانچہ خود حضرت عائشہ ؓ بھی اپنی اس لغزش پر عمر بھی پچھتاتی رہی تیں۔ ابن سعد میں ہے کہ وہ کہا کرتی تھیں: ا کاش میں درخت ہوتی، اے کاش میں پتھر ہوتی، اے کاش میں روڑا ہوتی، اےکاش میں نیست و نابود ہوتی۔ (طبقات ابن سعد)
بخاری میں ہے کہ :انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے فرمایا تھا کہ مجھے حضور ﷺکے ساتھ دفن نہ کرنا بلکہ آپ کی دوسری بیویوں کے ساتھ دفن کرنا۔(لا قدفنی معھم وادفنی مع صواحبی بالبقیع لازکی بہ ابدا۔ بخاری باب ما جاء نی فی قبر النبی)مستدرک حاکم میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ میں نے آپ کے بعد ایک جرم کیا ہے (حاکم)
طبقات ابن سعد میں ہے کہ: جب وہ یہ آیت پڑھتی تھیں: وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ(اے پیغمبر کی بیویو، اپنے گھروں میں ٹھہری رہو) تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہو جاتا تھا۔
غرض یہ ہے کہ عورت کا دائرہ کار ’’گھر‘‘ ہے۔ قومی اقتدار، ملکی سیاست اور ملی نمائندگی نہیں ہے۔ جو عورتوں کو سیاست کے میدان میں لا رہے ہیں، ان کے لئے ان کو گھروں میں رکھنا مشکل ہو جائے گا اور سیاست میں اس قدر گندگی اور سٹراند پیدا ہو جائے گی کہ اس میں کسی شریف اور سنجیدہ انسان کے لئے سانس لینا دشوار ہوجائے گا۔
جمہوریت:
اسلامی میں جو جمہوریت ہے، اس سے مختلف ہے جس کا اس وقت غوغا اور چرچا ہے۔ مروج جمہوریت میں نمائندگانِ قوم، دستور ساز بھی ہوتے ہیں۔ قانون بھی دیتے ہیں گویا کہ وہ پوری قوم کے خدا ہوتے ہیں، العیاذ باللہ۔
اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے منشا کے نفاذ اور اتمام لئے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، غور کرتے ہیں، اور عصری حالات کے تقاضوں کے مطابق ملت اسلامیہ کو کتاب و سنت کی روشنی مہیا کرتے ہیں۔ ان میں نا اہلوں کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ سیاسی سمجھ بوجھ کے مالک، مجتہد، قرآنی علم و عمل کے حامل، دیانتدار اور قابل اعتبار لوگ ہوتے ہیں۔
اگر ان کی رائے قرآن و حدیث سے متصادم ہو جائے تو ترک کر دی جاتی ہے۔ اس میں اس امر کے لئے بھی گنجائش ہوتی ہے کہ صدر مملکت اور شورائیہ سے جب تک نا اہلی اور ناکامی سر زد نہ ہو تو تا آخر ان کی رہنمائی اور قیادت کو ہی برقرار دکھا جائے، آئے دن کی ادھیڑ پن سے، جس کی وجہ سے کروڑوں کے حساب سے وقت اور دولت لٹتی ہے، لاکھوں کے حساب سے بد دیانتی اور مکاری کے فنون ایجاد ہوتے ہیں اور ان گنت رقابتوں اور دشمنیوں کے لازوال بھوت نمودار ہوتے ہیں۔ نجات مل جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریہ، صرف ترجمان ہوتی ہے۔
شارع نہیں ہوتی، مرب میں جس کے اب مسلم مقل ہیں، جمہوریت کو ’’خدا اور رسول‘‘ کا درجہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ دستور سازی خدا کا حق ہے۔
نشہ نہیں،ترشی ہے:
اسلامی نقطۂ نظر سے ’’سیاست‘‘ نشۂ اقتدار کا نہیں بلکہ مسلم کے لئے ایک ایسی ترشیٔ فریضہ ہے، جس کے ہاتھوں ہمارے سربراہ کے دن کا چین، رات کا آرام، خوشی کی مسکراہٹ اور بے فکری کی گھڑیا کافور ہو جاتی ہیں۔ لوگ سوتے ہیں وہ جاگتا ہے۔ اس کے دورِ حکومت میں بندگان خدا ہنستے ہیں اور یہ اپنے فرائض کی بجا آوری کی فکر میں گھلتا اور روتا ہے۔
فرائض:
(الف)
اس کی زندگی پوری ملت اسلامیہ کے لئے پورا ’’اُسوۂ حسنہ‘‘ ہوتی ہے۔ بے داغ دامن، بے لاگ ذہن، بے لوث کردار، درد و سوز کا مجسمہ اور قول و عمل کے لحاظ سے ’’تفسیر قرآن‘‘ ہونا سربراہ کی صفات حسنہ کی بنیادی چیزیں ہیں ورنہ اسے ملت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام کی رہنمائی کے لحاظ سے نااہل اور اَن فٹ تصور کیا جاتا ہے۔
(ب)
اسلام کی نشر و اشاعت اسلامی مملکت کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کے دورِ اقتدار میں اسلام کا دائرہ نہیں بڑھا تو اسے ناکام دورِ خیال کیا جاتا ہے۔
(ج)
اسلامی مکارمِ اخلاق کا تحفظ اور اشاعت کا بندوبست کرنا حکومتِ الٰہیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
(د)
توحید کے اتمام اور شرک و بدعت کے استیصال کی طرف توجہ دینا اسلامی نمائندوں کا منصی فریضہ ہوتا ہے۔
(ر)
ملک کے کمزوروں کی داد رسی اور ان کی مشکلات اور مسائل کو حل کئے بغیر مملکت اسلامیہ کی اسمبلی پر بوجھ بنے رہنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاتی۔
(ق)
دولت اور وسائل دولت کی تقسیم کا عادلانہ نظام قائم کرنا، غیر جانبدار اور جاندار عدلیہ مہیا کرنا ارباب اقتدار کا بنیادی فرض ہوتا ہے تاکہ ملک سے جو رد ظلم کا سد باب اور حقوق العباد کی مناسب حفاظت کی جا سکے۔
(م)
پاکیزہ نظامِ تعلیم کا اہتمام کرنا تاکہ ملک سے ناخواندگی دور ہو، کتاب و سنت سے جہالت کا خاتمہ ہو، ملک و ملت کی دینی اور دنیوی ضروریات کے مناسب حال نوخیز نسل تیار ہو سکے۔
ختم شد
Advertisements
1 comment
  1. Nauman faisal said:

    Jazakallah,

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: