حضرت موسى علیہ السلام -9

بنى اسرائیل كى نافرمانی اصحاب سبت،سنیچر كى چھٹی
بنى اسرائیل كا ایك گروہ جو ایك سمندر (بظاہر بحیرہ احمر جو فلسطین كے پاس ہے)كے كنارے شہر”ایلہ”(جسے آج كل”ایلات”كہتے ہیں )میں  رہتے تھے،ان كى  آزمائش  كے لئے اللہ نے انہیں  حكم دیا تھا كہ ہفتہ كے روز مچھلى كا شكار نہ كریں ،سارے دنوں  میں  شكار كریں صرف ایك دن تعطیل كردیا كریں  لیكن ان لوگوں  نے اس حكم كى صریحاًمخالفت كى جس كے نتیجے میں  وہ درد ناك عذاب میں  مبتلا ہوئے جس كى تفصیل قرآن میں  بیان كى گئی ہے۔
قرآن میں  ارشاد ہوتا ہے:”جو یہودى تمہارے زمانہ میں  موجود ہیں  ان سے اس شہر كے ماجرے كے متعلق سوال كرو جو سمندر كے كنارے آباد تھا”۔اور انہیں  وہ زمانہ یاددلائو جبكہ وہ ہفتہ كے روز قانون الہى كى مخالفت كرتے تھے۔”(سورہ اعراف 162)
كیونكہ ہفتہ كے روز ان كى تعطیل كا دن تھا جس میں  ان كو یہ حكم ملا تھا كہ اس روز وہ اپنا كاروبار ترك كردیں  اور عبادت خدا میں  مشغول ہوں  لیكن انہوں  نے اس حكم كى طرف كوئی توجہ نہ دی۔
اس كے بعد قرآن كریم اس جملے كى جو اجمالى طور پر پہلے گزر چكا ہے اس طرح شرح كرتاہے كہ یاد كرو:” جب ہفتہ كے دن مچھلیاں  پانى كے اوپر ظاہر ہوتى تھیں  اور دوسرے دنوں  میں  وہ كم دكھلائی دیتى تھیں ”۔( سورہ اعراف آیت 162)
یہ بات واضح ہے كہ جو لوگ سمندر كے كنارے زندگى بسر كرتے تھے ان كى خوراك اور آمدنى كا بڑا ذریعہ مچھلى كاشكار ہوتا ہے،اور چونكہ ہفتہ كے روز مسلسل تعطیل ان كے درمیان رائج تھی، لہذا اس روز مچھلیاں  امن محسوس كرتى تھیں  اور وہ گروہ در گروہ پانى كى سطح پر ظاہر ہوتى تھیں  لیكن دوسرے دنوں  میں  چونكہ ان كا شكار كیا جاتا تھا اس لئے وہ گہرے پانى میں  بھاگ جاتى تھیں ۔ بہرحال یہ كیفیت چاہے كسى فطرى امر كے نتیجہ میں  ہو یا كوئی خلاف معمول الہى بات ہو اس سے ان لوگوں  كى  آزمائش  مطلوب تھى جیسا كہ قرآن بیان كرتا ہے:
”ہم نے اس طرح ان لوگوں  كى  آزمائش  كى اس چیز كے ذریعے جس كى وہ مخالفت كرتے تھے”۔( سورہ اعراف آیت 163)
جس وقت بنى اسرائیل اس بڑى  آزمائش  سے دوچار ہوئے جو ان كى زندگى كے ساتھ وابستہ تھى تو وہ تین گروہوں  میں  بٹ گئے:
اول:جن كى اكثریت تھی،وہ لوگ تھے جنہوں  نے اس فرمان الہى كى مخالفت پر كمر باندھ لی۔
دوم:جو حسب معمولى ایك چھوٹى اقلیت پر مشتمل تھا وہ گروہ اول كے مقابلے میں  امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كى شرعى ذمہ دارى ادا كرتا تھا۔
سوم:یہ وہ لوگ تھے جو ساكت اور غیر جانبدار تھے۔یہ نہ تو گنہگاروں  كے ساتھ تھے اور نہ انہیں  گناہوں  سے منع كرتے تھے۔
قرآن میں  اس گروہ نے دوسرے گروہ سے جو گفتگو كى ہے اسے نقل كیا گیا ہے۔
اس وقت كو یاد كرو جب ان میں  سے ایك گروہ نے دوسرے سے كہا:  تم ان لوگوں  كو كیوں  وعظ و نصیحت كرتے ہو جنہیں  آخر كار خدا ہلاك كرنے والا ہے یا درد ناك عذاب میں  مبتلا كرنے والا ہے۔
انہوں  نے جواب میں  كہا:ہم اس لئے برائی سے منع كرتے ہیں  كہ خدا كے سامنے اپنى ذمہ دارى كو ادا كردیں  اور وہ اس بارے ہم سے كوئی باز پرس نہ كرے۔
علاوہ ازیں  شاید ان كے دلوں  میں  ہمارى باتو ں كا كوئی اثر بھى ہوجائے اور وہ طغیان و سركشى سے ہاتھ اٹھالیں ۔( سورہ اعراف 164)
”آخر كار دنیا پرستى نے ان پر غلبہ كیا۔اور انہوں  نے خدا كے فرمان كو فراموش كردیا۔ اس وقت ہم نے ان لوگوں  كو جو لوگوں  كو گناہ سے منع كرتے تھے،نجات دی،لیكن گناہگاروں  كو ان كے گناہ كے سبب سخت عذاب میں  مبتلا كردیا”۔( سورہ اعراف آیت 165)
اس كے بعد انہیں  سزادیئے جانے كى كیفیت اس طرح بیان فرمائی گئی ہے:”انہوں  نے اس بات كے مقابلے میں  سركشى كى جس سے انہیں  روكا گیا تھا۔(لہذا)ہم نے ان سے كہا دھتكارےہوئے بندروں  كى شكل میں  ہوجائو”۔( سورہ اعراف آیت 166)
بنى اسرائیل نے كس طرح گناہ كیا تھا؟
اس امر میں  كہ بنى اسرائیل نے كس وقت قانون شكنى كی،مفسرین كے درمیان بحث ہے۔بعض روایات سے پتہ چلتا ہے كہ انہوں  نے ایك حیلہ اختیار كیا،انہوں  نے سمندر كے كنارے بہت سے حوض بنالئے تھے اور انہیں  نہروں  كے ذریعے سمندر سے ملا دیا تھا۔ہفتہ كے روز ان حوضوں  كے راستے كھول دیتے تھے پانى كے ساتھ مچھلیاں  ان حوضوں  كے اندر آجاتى تھیں ،غروب كے وقت جب واپس جانا چاہتى تھیں  تو واپسى كا راستہ بند كر دیتے تھے،جب اتوار كا دن ہوتا تھا تو پھر ان كا شكار كرلیتے تھے اور یہ كہتے تھے كہ ہم نے ہفتہ كے روز شكار تھوڑى كیا ہے بلكہ ہم نے تو صرف  انہیں  حوضوں  میں  محصور كرلیا تھا اصل شكار تو اتواركے روز ہوا ہے۔
بعض مفسرین نے یہ كہا ہے كہ وہ لوگ ہفتہ كے روز مچھلى پكڑنے كے كانٹوں  كو دریا میں  ڈال دیتے تھے اس كے بعد جب اس میں  مچھلیاں  پھنس جاتى تھیں  تو دوسرے روز انہیں  نكال لیتے تھے اور اس حیلہ سے ان كا شكار كرتے تھے۔
بعض روایات سے یہ بھى پتہ چلتا ہے كہ وہ بغیر كسى حیلہ كے بروز شنبہ بڑى ڈھٹائی كے ساتھ شكار میں  مشغول ہوتے تھے۔
ممكن ہے كہ یہ تمام روایات صحیح ہوں  اس طرح كہ ابتدا ء میں  حوضوں  یا قلابوں  كے ذریعے حیلے سے شكار كرتے ہوں ،جب اس طرح سے ان كى نظر میں  گناہ كى اہمیت كم ہوگئی ہو تو پھرانہوں  نے اعلانیہ گناہ كرنا شروع كردیا ہو اور ہفتہ كے دن كى حرمت كو ضائع كركے مچھلى كى تجارت سے مالدار ہوگئے ہوں ۔( آیا یہ مسخ جسمانى تھایا روحانی؟
”مسخ”یا دوسرے لفظوں  میں  ”انسانى شكل كا كسى حیوان كى شكل میں  تبدیل ہو جانا”مسلمہ طور پر ایك خلاف معمول
اور خلاف طبیعت بات ہے اگر چہ میوٹیشن(mutation
)
بعض حیوانات كا دوسرے حیوانات كى شكل اختیار كرلینا نادر طور پر دیكھا گیا ہے اور سائنس میں  تكامل حیات كى بنیاد بھى اس بات پر ركھى گئی
ہے،لیكن میوٹیشنmutationجہاں  دیكھا گیا ہے وہ بہت
نادر الموقع موارد ہیں ،وہ بھى حیوانات كى جزوى صفات میں  پایا جاتا ہے نہ كہ ان كى كلى صفات میں ،بلكہ
ایسا ہرگز نہیں  ہواكہ میوٹیشنmutation
كى وجہ سے ایك حیوان اپنى نوع مثلاً بندر سے بكرى بن گیا ہو۔ہاں  یہ ممكن ہے كہ كسى حیوان كى خصوصیات دگر گوں  ہو جائیں ،پھر یہ كہ یہ تبدیلى اس كى نسل میں  پیدا ہوتى ہے نہ كہ جو حیوان پیدا ہوگیا ہے اس كى شكل یك بیك بدل گئی ہو،بنا بریں  كسى انسان یا حیوان كى شكل كا بدل كر دوسرى نوع اختیار كرلینا ایك خلاف معمول بات ہے۔
ہم نے بارہا یہ بات كہى ہے كہ كچھ مسائل ایسے بھى ہیں  جو طبیعت اور عادت كے بر خلاف واقع ہوتے ہیں  جو كبھى تو پیغمبروں  كے معجزوں  كى صورت میں  اور كبھى بعض خارق العادت كاموں  كى صورت میں  بعض انسانوں  سے ظاہر ہوتے ہیں چاہے وہ انسان پیغمبر نہ بھى ہوں (ایسے افعال میں  اور معجزات میں  فرق ہوتا ہے)لہذا جب خارق العادت امور اور معجزات كے وقوع كو قبول كرلیا جائے تو مسخ ہو جانا یا ایك انسان كا دوسرے انسان كى صورت اختیار كرلینا كوئی خلاف عقل بات نہیں  ہے۔
اس طرح كا خارق العادت واقعہ رونماہونا نہ تو قانون علل و اسباب میں  كوئی مستثنى ہے اور نہ ہى عقل و خرد كے برخلاف بلكہ اس میں  صرف ایك”عادی”و طبیعى كلیہ كى شكست ہے جس كى نظیر ہم نے بعض استثنائی انسانوں  میں  بارہا دیكھى ہے۔)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: