اِمَام بخاریؒ

حافظ ابو احمد اعمش بیان کرتے ہیں کہ: ایک مرتبہ نیشاپور کی ایک مجلس میں اِمَام مسلم بن حجاج، اِمَام بخاری سے ملنے آئے۔ دوران مجلس کسی شخص نے یہ حدیث شریف پڑھی:
عن ابن جریع عن موسیٰ بن عقبۃ عن اسماعیل بن ابی صالح عن ابیہ عن ابی ھریرہ عن النبی ﷺ قال کفارۃ المجلس اذاقام العبد ان یقول سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت ستغفرک واتواب الیک۔
ابن جریح روایت کرتے ہیں موسیٰ بن عقبہ سے وہ روایت کرتے ہیں اسماعیل بن ابی صالح سے وہ روایت کرتے ہیں حضرت ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایاکہ:
مجلس کا کفارہ یہ ہے کہ جب بندہ کھڑا ہو تو وہ یہ کہے … اے اللہ!تیری ذات پاک ہے  اور تیرے ہی لئے تعریف ہے  اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں استغفار کرتا ہوں تجھ سے  اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔
اِمَام مسلم ؒ نے اس حدیث کو سن کر کہا: سبحان اللہ! کس قدر عمدہ حدیث ہے۔ دنیا میں اس کا ثانی نہیں ہے۔ یعنی یہ حدیث صرف اسی سند سے پائی جاتی ہے۔ پھر اِمَام بخاری سے پوچھا کیا آپ کو اس حدیث کی کسی  اور سند کا علم ہے ؟
اِمَام بخاری نے فرمایا: ہاں !لیکن وہ سند معلول ہے۔
اِمَام مسلم نے درخواست کی کہ مجھے وہ سند بتلائیں۔
اِمَام بخاری نے فرمایا: جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر نہیں کیا، تو اسے مخفی ہی رہنے دو۔
اِمَام مسلم نے اٹھ کر اِمَام بخاری کے سر کو بوسہ دیا  اور اس عاجزی سے مطالبہ کیا کہ اگر اِمَام بخاری نہ بتلاتے تو قریب تھا کہ اِمَام مسلم آبدیدہ ہو جاتے۔ بالآخر اِمَام بخاری نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو لکھو:
 حد ثناموسیٰ بن اسماعیل حدثنا وھیب حدثنا موسیٰ بن عقبۃ عن عون بن عبداللہ قال قال رسول اللہ ﷺ کفارۃ المجلس الحدیث۔۔۔
ہم سے حدیث بیان کی موسیٰ بن اسماعیل نے انھوں نے حدیث بیان کی وہیب سے انھوں نے حدیث بیان کی موسیٰ بن عقبہ سے انھوں نے روایت کی عون بن عبداللہ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایاکہ :مجلس۔۔۔۔۔
حضرت اِمَام مسلم اس حدیث کو سن کر بے حد مسرور ہوئے  اور بے اختیار کہنے لگے :
اے امام! میں شہادت دیتا ہوں کہ دنیا میں کوئی شخص آپ کا مماثل نہیں ہے  اور جو شخص آپ سے بغض رکھے وہ حاسد کے سوا  اور کچھ نہیں ہو گا۔ (تذکرۃ المُحَدِّثین،ص:۱۸۰)
اِمَام بخاری  ؒ کی قوت حفظ بیان کر نے کے لئے یہ امر کافی ہے کہ جس کتاب کو وہ ایک نظر دیکھ لیتے تھے وہ انھیں فوراً حفظ ہو جاتی تھی۔ تحصیل علم کے ابتدائی دور میں انھیں ستر ہزار احادیث حفظ تھیں۔ بعد میں جا کر یہ عدد تین لاکھ تک پہنچ گیا۔ جن میں سے ایک لاکھ احادیث صحیح  اور دو لاکھ غیر صحیح تھیں۔ ایک مرتبہ آپ بلخ گئے تو وہاں کے لوگوں نے فرمائش کی کہ آپ اپنے شیوخ سےایک ایک روایت بیان کریں تو آپ نے ایک ہزار شیوخ سے ایک ہزار احادیث زبانی بیان کر دیں۔
سلیمان بن مجاہد کہتے ہیں کہ ایک دن میں محمد بن سلام بیکندی کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔
محمد بن سلام نے کہا: اگر تم کچھ دیر پہلے میرے پاس آتے تو میں تم کو وہ بچہ دکھلاتا جسے ستر ہزار احادیث یاد ہیں۔
سلیمان نے اس مجلس سے اٹھ کر اِمَام بخاری کی تلاش شروع کر دی۔ بالآخر سلیمان نے اِمَام بخاری کو ڈھونڈ نکالا  اور پوچھا کیا تم ہی وہ شخص ہو جس کو ستر ہزاراحادیث حفظ ہیں۔
اِمَام بخاری نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ احادیث یاد ہیں اور میں جن صحابہ کرام سے احادیث روایت کرتا ہوں ، ان میں سے اکثر کی ولادت  اور وفات کی تاریخ  اور ان کی جائے سکونت پر اطلاع رکھتا ہوں۔ نیز میں کسی حدیث کو روایت نہیں کرتا، مگر کتاب اور سنت سے اس کی اصل پر واقفیت رکھتا ہوں۔      (تذکرۃ المُحَدِّثین،ص:۱۷۵،مُحَدِّثین عظام  اور ان کے علمی کارنامے،ص:۱۱۶)
اِمَام بخاری ؒ کو احادیث یاد کرنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ آپ کا حافظہ بے حد قوی تھا۔ چنانچہ دس سال ہی کی عمر میں آپ کا یہ حال تھا کہ مکتب میں جو حدیث سنتے اس کو یاد کر لیتے۔
مکتب سے فراغت پانے کے بعد پتہ چلا کہ اِمَام داخلی ؒ بہت بڑے عالم حدیث ہیں تو آپ ان کی خدمت میں آنے جانے لگے۔ ایک روز کا  واقعہ ہے کہ اِمَام داخلی اپنی کتابوں سے لوگوں کو احادیث سنارہے تھے کہ ان کی زبان سے نکلا:
سفیان عن ابی الزبیرعن ابراھیم۔ تو اِمَام بخاری فوراً بول اٹھے کہ ابوالزبیر تو ابراہیم سے روایت نہیں کرتے۔
اِمَام داخلی نے اِمَام بخاری کی بات کو تسلیم نہیں کیا تو اِمَام بخاری نے کہا کہ کتاب کے اصل نسخے میں دیکھنا چاہئے۔چنانچہ اِمَام داخلی نے مکان میں جا کر نسخہ کا مطالعہ کیا  اور پھر باہر آ کر فرمایا کہ اس لڑکے کو بلاؤ۔ اِمَام بخاری حاضر ہوئے تو اِمَام داخلی نے فرمایا کہ میں نے اس وقت جو پڑھاتا تھا وہ تو بے شک غلط تھا۔ اچھا! اب تم بتاؤ کہ صحیح کس طرح ہے ؟تو اِمَام بخاریؒ نے عرض کیا کہ صحیح:  سفیان عن الزبیر بن عدی عن ابراہیم  ہے۔
اِمَام داخلی حیران رہ گئے  اور فرمایا کہ واقعی تم سچ کہتے ہو۔ پھر قلم اٹھا کر اپنی کتاب کی تصحیح کر لی۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ اِمَام بخاری کی عمر صرف گیارہ سال کی تھی۔(اولیائے رجال الحدیث،ص:۹۳)
جب اِمَام بخاریؒ کی عمر سولہ برس کی ہوئی تو آپ نے عبداللہ بن مبارک کی تمام کتابیں یاد کر لیں  اور مُحَدِّث وکیع کے تمام نسخے بھی ازبر کر ڈالے۔ پھر اپنی والدہ  اور اپنے بھائی احمد بن اسماعیل کے ہمراہ حج کے لئے روانہ ہوئے۔حج سے فراغت ہوئی تو والدہ  اور بھائی وطن واپس چلے آئے  اور خود بلاد حجاز میں طلب حدیث کے لئے ٹھہر گئے  اور تمام علمی مرکزوں کا سفر کر کے ایک ہزار اسی شیوخ کی خدمتوں میں حاضری دے کر چھ لاکھ حدیثوں کو زبانی یاد کر لیا۔
علمِ حدیث کی طلب میں آپ نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بصرہ، کوفہ، مصر، واسط، الجزائر، شام، بلخ، بخارا، سرو، ہرات  اور نیشاپور وغیرہ علمی مرکزوں کا بار بار سفر فرمایا۔(اولیائے رجال الحدیث، ص:۹۴)
اِمَام بخاریؒ  علم و فضل کے ساتھ ساتھ بے حد متقی  اور پرہیز گار تھے۔ وہ حد درجہ محتاط  اور تہمت کے محل سے دور رہنے والے تھے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: