حضرت زید بن حارثہ ؓ

زید بن حارثہ ؓدراصل قبیلۂ کَلْب کے ایک شخص حا رِ ثہ بن شَراحیل کے بیٹے تھے اوراُن کی ماں سُعدیٰ بنت ثَعْلَبَہ قبیلۂ طَے کی شاخ بنی مَعْن سے تھیں ۔ جب یہ آٹھ سال کے بچے تھے اس وقت ان کی ماں انہیں اپنے میکے لے گئیں ۔ وہاں بنی ْ قَیْن بن جَسْر کے لوگوں نے ان کے پڑاؤ پر حملہ کیا اور لوٹ مار کے ساتھ جن آدمیوں کو وہ پکڑ لے گئے اُن میں زید بھی تھے۔ پھر انہوں نے طائف کے قریب عُکا ظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ خریدنے والے خَدِیجہ ؓکے بھتیجے حکیم بن حِزام تھے۔ انہوں نے مکّہ لا کراپنی پھوپھی صاحبہ کی خدمت میں نذر کردیا۔ نبی ﷺسے خدیجہ ؓکا جب نِکاح ہوا تو رسول اللہ ﷺنے ا ن کے ہاں زید کو دیکھااور ا ن کی عادات و اطوار آپ ﷺکو اس قدر پسند آئیں کہ آپ ﷺنے انہیں خدیجہ ؓسے مانگ لیا۔ اس طرح یہ خوش قسمت لڑکا اُس خیرالخلائق ہستی کی خدمت میں پہنچ گیا جسے چند سال بعد اللہ تعالیٰ نبی بنانے والا تھا۔ اس وقت زید کی عمر ۱۵ سال تھی۔ کچھ مدت بعد ا ن کی باپ اور چچا کو پتہ چلا کہ ہمارا بچّہ مکّہ میں ہے۔وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے نبی ﷺتک پہنچے اور عرض کیا کہ آپ جو فدیہ چاہیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں ، آپ ہمارا بچّہ ہمیں دے دیں ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ میں لڑکے کو بلاتا ہوں اور اسی کی مرضی پر چھوڑے دیتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے یا میرے پاس رہنا پسند کرتا ہے۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے گا تو میں کوئی فِدیہ نہ لوں گا اور اسے یوں ہی چھوڑدوں گا۔ لیکن اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ جو شخص میرے پاس رہنا چاہتا ہو اسے خواہ مخواہ نکال دوں ۔ انہوں نے کہا یہ تو آپ ﷺنے انصاف سے بھی بڑھ کر درست بات فرمائی ہے۔ آپ بچے کو بُلا کر پوچھ لیجیے۔ رسول اللہ ﷺنے زید ؓکو بُلااور ان سے کہا اِن دونوں صاحبوں کو جانتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ،یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا۔ آپ ﷺنے فرمایا ، اچھا ، تم ان کو بھی جانتے ہو اور مجھے بھی ۔ اب تمہیں پوری آزادی ہے کہ چاہو ان کے ساتھ چلے جاؤ اور چاہو میرے ساتھ رہو۔ انہوں نے جواب دیا میں آپ ﷺکو چھوڑ کر کسی کے پاس نہیں جانا چاہتا ۔ ان کے باپ اور چچا نے کہا، زید ، کیا تو آزادی پر غلامی کو ترجیح دیتا ہے،

اور اپنے ماں باپ اور خاندان کو چھوڑ کر غیروں کے پاس رہنا چاہتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اِس شخص کے جو اوصاف دیکھے ہیں اُن کا تجربہ کرلینے کے بعد میں اب دُنیا میں کسی کو بھی اس پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ زید کا یہ جواب سُن کر ان کے باپ اور چچا بخوشی راضی ہوگئے ۔ رسول اللہ ﷺنے اسی وقت زید کو آزاد کردیا اور حرم میں جاکر قریش کے ممعِ عام میں اعلان فرمایا کہ آپ سب لوگ گواہ رہیں ، آج سے زید میرا بیٹا ہے، یہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے۔ اسی بنا پر لوگ ان کو زید بن محمد ﷺکہنے لگے۔ یہ سب واقعات نبوّت سے پہلے کے ہیں پھر جب نبی ﷺاللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوّت پر سرفراز ہوئے تو چار ہستیاں ایسی تھیں جنہوں نے ایک لمحہ شک و تردُّد کے بغیر آپ ﷺسے نبوّت کا دعویٰ سُنتے ہی اسے تسلیم کرلیا۔ ایک خدیجہ ؓ، دوسرے زید ؓ ، تیسرے علی ؓ ، اور چوتھے ابوبکر ؓ ۔ اُس وقت زید ؓکی عمر
۳۰ سال تھی اور ان کو رسول اللہ ﷺکی خدمت میں رہتے ہوئے ۱۵ سال کزرچکے تھے۔
زید بن حارثہ ؓبڑی شان والے تھے اور حضور ﷺکو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان حب الرسول کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ ؓکو بھی حب بن حب کہتے تھے ۔ حضرت عائشہ ؓ عنہا کا فرمان ہے کہ جس لشکر میں انہیں حضور ﷺبھیجتے تھے اس لشکر کا سردارانہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ ﷺکے خلیفہ بن جاتے (احمد ) بزار میں ہے حضرت اسامہ ؓ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس حضرت عباس ؓاور حضرت علی ؓ آئے اور مجھ سے کہا جاؤ حضور ﷺسے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ میں نے آپ ﷺکو خبر کی آپ ﷺنے فرمایا جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں ! آپ ﷺنے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ یہ آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺذرا بتایے آپ ﷺکو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا میری بیٹی فاطمہ ؓ۔ انہوں نے کہا ہم حضرت فاطمہ ؓکے بارے میں نہیں پوچھتے ۔ آپﷺنے فرمایا پھر اسامہ بن زید بن حارثہ ؓ تعالیٰ عنہ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی ۔
ہجرت کے بعد ۴ہجری میں حضور ﷺنے زید ؓکا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن زینب ؓ امیمہ بنت جحش سے کرادیا تھا۔ دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک ڈوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں ۔ ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہو گئی۔ لیکن ان کی آپس میں بن نہ آ سکی۔حضرت زید ؓاور حضرت زینب ؓکے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے تھے۔ حضرت زید ؓنے بار بار شکایات پیش کرنے کے بعد آخر کار نبی ﷺکی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں ان کو طلاق دینا چاہتا ہوں ۔ آپ ﷺانہیں سمجھانے لگے کہ گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو۔ حضرت زینب ؓنے اگرچہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان کر ان کے نکاح جانا قبول کرلیا تھا ، لیکن وہ اپنے دِل سے اس احساس کو کسی طرح نہ مٹا سکیں کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں ،اُن کے اپنے خاندان کے پروردہ ہیں ، اور وہ عرب کے شریف ترین گھرانے کی بیٹی ہونے کے باوجود اس کم تر درجے کے آدمی سے بیاہی گئی ہیں ۔ اس احساس کی وجہ سے ازواجی زندگی میں انہوں نے کبھی حضرت زید ؓکو اپنے برابر کا نہ سمجھا، اور اسی وجہ سے دونوں کے درمیان تلخیاں بڑھتی چلی گئیں ۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں ۔ مسند احمد میں بھی ایک روایت حضرت انس سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غربت ہے اس لئے ہم نے اسے بھی رد کیا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ یہ آیت حضرت زینب بنت جحش اور حضرت زید بن حارثہ ؓ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اتری ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے پہلے ہی سے اپنے نبی ﷺکو خبر دے دی تھی کہ حضرت زینب ؓ آپ کے نکاح میں آئیں گی ۔ یہی بات تھی جسے آپ نے ظاہر نہ فرمایا اور حضرت زید کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں حضور ﷺاگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے ۔ وطر کے معنی حاجت کے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جب زید ان سے سیر ہوگئے اور باوجود سمجھانے بجھانے کے بھی میل ملاپ قائم نہ رہ سکا بلکہ طلاق ہو گئی۔
نبی ﷺکی خواہش تھی کہ زید ؓطلاق نہ دیں ، اس واقعے کی طرف قرآن کریم میں یوں اشارہ کیا گیا ہے۔
آیات کا ترجمہ:
یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا، کہ ’’اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر‘‘۔ اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا آپ سے نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں ۔
اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔ نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو۔ یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے
معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزرچکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ (یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں کے لیے)
جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔ (لوگو) محمد ﷺتمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں ، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔”
جب زید ؓنے زینب ؓکو طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺسے ان کا نکاح کر دیا جس کے پیچھے ایک عظیم حکمت کام کر رہی تھی۔
لیکن یہ تخیّل محض ایک قانونی حکم کے طور پر اتنی سی بات کردینے سے ختم نہیں ہوسکتا تھا کہ ۔۔’’ منہ بولا رشتہ کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے۔‘‘صدیوں کے جمے ہوئے تعصبّات اور اوہام محض اقوال سے نہیں بدل جاتے ۔ حکماً لوگ اس بات کو مان بھی لیتے کہ یہ رشتے حقیقی رشتے نہیں ہیں ، پھر بھی منہ بولی ماں اور منۃ بولے بیٹے کے درمیان منہ بولے بھائی اور بہن کے درمیان ، منہ بولے باپ اور بیٹی کے درمیان ، منہ بولے خسر اور بہو کے درمیان نکاح کو لوگ مکروہ سمجھتے رہتے۔ نیز ان کے درمیان خلا ملا بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا ۔ اس لیے ناگزیر تھا کہ یہ رسم عملاًتوڑی جائے ، اور خود رسول ﷺبنفسِ نفیس اس کو توڑیں ۔ کیوں کہ جو کام رسول ﷺنے خود کیا ہو، اور اللہ کے حکم سے کیا ہو، اس کے متعلق کسی مسلمان کے ذہن میں کراہت کا تصوّر باقی نہ رہ سکتا تھا۔ اسی بنا پر جنگِ احزاب سے کچھ پہلے نبی ﷺکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ آپ اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارِثہ ؓکی مطلقہ بیوی سے خود نکاح کرلیں ، اور اس حکم کی تعمیل آپ نے محاصرۂ بنی قریظہ کے زمانی میں فرمائی ۔ (غالباً تا خیر کی وجہ یہ تھی کہ عدّت ختم ہونے کا انتظار تھا، اور اسی دَوران میں جنگی مصروفیات پیش آگئی تھیں )۔
منافقین اور کفار جو احزاب اور بنو قریظہ کے غزوات میں تازہ تازہ شکست کھا چکے تھے اور میدان میں آ کر مقابلہ کرنے کی جرات نہ کر رہے تھے۔ انہیں اب پراپیگنڈے کا ایک ہتھیار مل گیا۔ ان کا اوّلین اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺنے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ ﷺکی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے ۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ’’ محمّدﷺتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ‘‘، یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا؟ تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد ﷺکا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں ۔
ان کا دوسرااعتراض یہ تھا کہ اچھا ، اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کرلینا زیادہ سے زیادہ بس جائز ہی ہوسکتا تھا، آخر اس کا کرنا کیا ضرور تھا۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا’’ مگر وہ اللہ کے رسول ﷺہیں ‘‘،
یعنی رسول ہونے کی حیثیت سے ان پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تمہاری رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے اس کے بارے میں تمام تعصّبات کا خاتمہ کردیں اور اس کی حلت کے معاملے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں ۔
پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا’’ اور وہ خاتم النبییں ہیں ‘‘، یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح اُن کے زمانے میں نافذ ہونے سے رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی یہ کسر پوری کردے، لہٰذا یہ اور بھی ضروری ہوگیا تھا کہ اس رسمِ جاہلیت کا خاتمہ وہ خود ہی کرکے جائیں ۔
اس کے بعد مزید زور دینے ہوئے فرمایا گیا کہ ’’ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے‘‘ یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ اس وقت محمد ﷺکے ہاتھوں اِس رسمِ جاہلیّت کو ختم کرادینا کیوں ضروری تھا اور ایسا نہ کرنے میں کیا قباحت تھی۔ وہ جانتا ہے کہ اب اُس کی طرف سے کوئی نبی آنے والا نہیں ہے لہٰذا اگر اپنے آخری نبی کے ذریعہ سے اُس نے اس رسم کا خاتمہ اب نہ کرایا تو پھر کوئی دوسری ہستی دُنیا میں ایسی نہ ہوگی جس کے توڑنے سے یہ تمام دُنیا کے مسلمانوں میں ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے۔ بعد کے مصلحین اگر اسے توڑیں گے بھی تو ان میں سے کسی کا فعل بھی اپنے پیچھے ایسا دائمی اور عالمگیر اقتدار نہ رکھے گا کہ ہر ملک اور ہر زمانے میں لوگ اس کااتباع کرنے لگین، اور ان میں سے کسی کی شخصیت بھی اپنے اندر اس تقدس کی حامل نہ ہوگی کہ کسی فعل کا محض اُس کی سُنت ہونا ہی لوگوں کے دِلوں سے کراہیت کے ہر تصوّرکا قلع قمع کردے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: