حضورﷺ کی اولاد

مورخین اور محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ آپﷺکی 4 لڑکیاں ہوئیں اور اکثر کی تحقیق یہ ہے کہ ان میں سب سے بڑی حضرت زینبؓ ہیں پھر حضرت رقیہؓ پھر ام کلثومؓ پھر حضرت سیّدہ فاطمہؓ ۔ لڑکوں میں البتہ بہت اختلاف ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب حضرات بچپن ہی میں انتقال فرما گئے تھے اور عرب میں اس زمانہ میں تاریخ کا اہتمام کچھ ایسا نہ تھا۔ صحابہؓ جیسے جاں نثار بھی اس وقت تک کثرت سے نہیں ہوئے تھے جو ہر بات پوری پوری محفوظ رہتی۔ اکثر کی تحقیق یہ ہے کہ 3 لڑکے حضرت قاسمؓ، حضرت عبداللہؓ، حضرت ابراہیمؓ ہوئے۔ بعضوں نے کہا کہ چوتھےصاحبزادےحضرت طیبؓ اور پانچویں حضرت طاہرؓ تھے۔ اس طرح 5 ہوئے،بعض کہتے ہیں کہ طیب اور طاہرؓ دونوں ایک ہی صاحبزادے کے نام ہیں، اس طرح 4 ہوئے اور بعضوں نے2لڑکےاور بھی بتائے۔ مطیبؓ اور مطہرؓ اور لکھا ہے کہ طیب ؓاور مطیب ؓایک ساتھ پید ا ہوئے اور طاہرؓ اور مطہرؓ ایک ساتھ پیدا ہوئے، اس طرح 7 ہوئے لیکن اکثر کی تحقیق 3 لڑکوں کی ہےاورحضورﷺ کی ساری اولادحضرت ابرہیم ؓ کے سِوا حضرت خدیجہؓ ہی سے پیدا ہوئی۔ لڑکوں میں حضرت قاسمؓ سب سے پہلے پیدا ہوئے۔ لیکن اس میں اختلاف ہے کہ حضرت زینبؓ ان سے بڑی تھیں یا چھوٹی حضرت قاسمؓ نےبچپن ہی میں انتقال فرمایا۔ 2 سال کی عمر اکثر نے لکھی ہے اور بعضوں نے اس سے کم یا زیادہ بھی لکھی ہے۔ دوسرے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ جو نبوت کےبعدپیداہوئے اور اسی وجہ سےان کا نام طیبؓ اور طاہرؓ بھی پڑا اور بچپن ہی میں انتقال ہوا۔ ان کے انتقال پر بعضوں نے لکھاہے کہ حضرت قاسمؓ کے انتقال پر کفار بہت خوش ہوئے کہ آپکی نسل منقطع ہو گئی جس پر سورۂ اِنَّا اَعْطَیْنَا نازل ہوئی اور کفار کے اس کہنے کا کہ ’’جب نسل ختم ہو گئی توکچھ دنوں میں نام مبارک بھی مٹ جائے گا‘‘ یہ جواب ملاکہ آج 14500 برس بعد تک بھی حضورﷺ کے نام کے فدائی کروڑوں موجود ہیں۔ تیسرے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ تھے جو ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں با لا تفاق 7 ھ؁ میں پیدا ہوئے۔ یہ حضرت ماریہؓ کے پیٹ سےپیداہوئے۔ اور حضورﷺ کی سب سےآخری اولاد ہیں۔ حضورﷺ نے ساتویں دن ان کا عقیقہ کیا اور( 2 مینڈھے ذبح کئے )اور بالوں کے برابر چاندی صدقہ فرمائی اور بالوں کو دفن کرایا۔ ابوہِندبَیاضیؓ نے سر کے بال اُتارے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے باپ حضرت ابراہیم ؑ کے نام پر نام رکھا ہے اور 16 مہینے کی عمر میں ان صاحبزادہ نے بھی 10 ربیع الاوّل 10ھ؁ میں انتقال فرمایا بعضوں نے 18 مہینے کی  عمر بتلائی ہے۔
حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ ابراہیمؓ کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی تجویز ہو گئی۔ صاحبزادیوں میں سب سے بڑی حضرت زینبؓ ہیں اور جن مؤرّخین نے اس کے خلاف  قاسم ؓلکھا ہے غلط ہے۔حضور اقدس ﷺ کے نکاح سے پانچ برس بعد جب کہ آپ ﷺکی عمر شریف 30 برس کی تھی پید ا ہوئیں اور اپنے والدین کے آغوش میں جوان ہوئیں۔ مسلمان ہوئیں اور اپنے خالہ زادبھائی ابو العاص بن ربیع سے نکاح ہوا۔ غزوۂ بدر کے بعد ہجرت کی جس میں مشرکیں کی ناپاک حرکتوں سے زخمی ہوئیں اور اسی بیماری کا سلسلہ اخیر تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ
7 ھ؁ کے شروع میں انتقال فرمایا۔ ان کے خاوند بھی 6 ھ؁ یا 7ھ؁ میں مسلمان ہو کر مدینہ منوّرہ پہنچ گئے تھے، اور انہی کے نکاح میں رہیں۔ ان سے 2بچّے ہوئے 1لڑکا ایک لڑکی۔ لڑکے کا نام حضرت علیؓ تھا۔
جنہوں نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد بلوغ کے قریب حضورﷺ کی زندگی ہی میں انتقال فرمایا۔ فتح مکہ میں حضورﷺکے ساتھ اونٹنی پر جو سوارتھے وہ یہی حضرت علیؓ تھے۔ لڑکی کا نام حضرت اُمامہؓ تھا جن کے متعلق حدیث کی کتابوں میں کثرت سے قصہ آتا ہے کہ جب حضورﷺ نماز میں سجدہ کرتے تو یہ کمر پر سوار ہو جاتیں۔ یہ حضورﷺکے بعد تک زندہ رہیں۔ حضرت سیّدہ فاطمہؓ کے وصال کے بعد جو ان کی خالہ تھیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان سے نکاح کیا اور ان کے وصال کے بعد مغیرہؓ بن نوفل سے نکاح ہوا۔ حضرت علیؓ کے کوئی اولاد ان سے نہیں ہوئی البتہ مغیرہؓ سے بعضوں نے 1 لڑکا یحییٰ لکھا ہے۔ اور بعضوں نے انکار کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ نے خود وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد حضرت علیؓ کا نکاح بھانجی سے کر دیا جائے ان کا انتقال 50 ھ؁ میں ہوا۔ حضورﷺ کی دوسری صاحبزادی حضرت رقیہؓ تھیں جو اپنی بہن زینبؓ سے 3 برس بعد پیدا ہوئیں جب کہ حضورﷺ کی عمر شریف 33 برس کی تھی اور بعضوں نے حضرت رقیہ ؓ کوحضرت زینبؓ سے بڑا بتایا ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ یہ حضرت زینبؓ سے چھوٹی تھیں حضورﷺ کے چچا ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے نکاح ہوا تھا۔ جب سورۃ تبّت نازل ہوئی تو ا بو لہب نے ان سے اور ان کے دوسرے بھائی عتیبہ سے جس کے نکاح میں حضورﷺ کی تیسری صاحبزادی حضرت امِّ کلثومؓ تھیں، یہ کہا کہ میری ملاقات تم دونوں سے حرام ہے اگر تم محمد ﷺ کی بیٹیوںکوطلاق نہ دے دو اس پر دونوں نے طلاق دے دی۔ یہ دونوں نکاح بچپن میں ہوئے تھے رخصتی کی نوبت بھی نہیں آئی تھی ۔ اس کے بعدفتح مکہّ پر حضرت رقیّہؓ کے خاوند عُتبہ مسلمان ہو گئے تھے مگربیوی کو پہلے ہی طلاق دے چکے تھے اور حضرت رقیہؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے عرصہ ہوا ہو چکا تھا حضرت عثمان ؓ اور حضرت رقیہؓ نے دونوں مرتبہ حبشہ کی ہجرت کی تھی ، اس کے بعد جب حضورﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے بھی ہجرت کا حکم ہونے والا ہے اور میں مدینہ منورہ میری ہجرت کی جگہ ہو گی تو صحابہ ؓ نے مدینہ طیّبہ کی ہجرت شروع کر دی اسی سلسلہ میں حضورﷺ سے پہلے ہی یہ دونوں حضرات بھی مدینہ طیّبہ پہنچ گئے تھے حضور ﷺکی ہجرت کے بعد جب حضورﷺ بدر کی لڑائی میں تشریف لے جانے لگے تو حضرت رقیّہؓ بیمار تھیں اسی لئے حضورﷺ حضرت عثمان ؓ کوان کی تیماداری کے واسطے مدینہ چھوڑ گئے ۔بدر کی فتح کی خوشخبری مدینہ طیبہ میں اس وقت پہنچی جب یہ حضرات حضرت رقیہؓ کو دفن کر کے آرہے تھے۔اسی وجہ سے حضور اقدس ﷺانکےدفن میں شرکت نہ فرما سکے۔حضرت رقیّہؓ کے پہلے خاوند کے یہاں رخصتی بھی نہیں ہو سکی تو اولادکا کیا ذکر البتہ حضرت عثمان ؓ سے 1 صاحبزادہ جن کا نام عبداللہ ؓ تھا ،حبشہ میں پیدا ہوئے تھے جو اپنی والدہ کے انتقال کے بعد تک زندہ رہے اور 6سال کی عمر میں 4ھ؁ میں انتقال فرمایا اور بعض نے لکھا ہے کہ اپنی والدہ سے 1 سال پہلے انتقال کیا ۔ ان کے علاوہ کوئی اور اولاد حضرت رقیہؓ سے نہیں ہوئی ۔ حضور اقدسﷺ کی تیسری صاحبزادی حضرت اُمِّ کلثومؓ تھیں اس میں اختلاف ہے کہ ان میں اور حضرت فاطمہ ؓ میں سے کونسی بڑی تھیں اکثر کی رائے یہ ہے کہ حضرت اُمِّ کلثوم ؓ بڑی تھیں اوّل عُتیبہ بن ابی لہب سے نکاح ہوا مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ سورۃ تبت کے نازل ہونے پر طلاق کی نوبت آئی ،(حضرت رقیہؓ کے خاوند بعد میں مسلمان ہو گئے تھے )اور حضرت اُمِّ کلثوم ؓ کےخاوندعتیبہ نے طلاق دی اور حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں آکر نہایت گستاخی، بے ادبی اور نامناسب الفاظ بھی زبان سے نکالے ۔حضورﷺ نے بد دعا دی کہ یا اللہ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مسلّط فرما۔ ابو طالب اس وقت موجود تھے ، باوجود مسلمان نہ ہونے کے سہم گئے اور کہا کہ اس کی بد دعا سے تجھے خلاصی نہیں چنانچہ عتیبہ ایک مرتبہ شام کے سفر میں جا رہا تھا اس کا باپ ابو طالب باوجود ساری عداوت اور دشمنی کے کہنے لگا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کا فکر ہے قافلہ کے سب لوگ ہماری خبر رکھیں ایک منزل پر پہنچے وہاں شیر زیادہ تھے۔ رات کو تمام قافلہ کا سامان ایک جگہ جمع کیا اور اس کا ٹیلہ سا بنا کر اس پر عتیبہ کو سلایا اور قافلہ کے تمام آدمی چاروں طرف سوئے رات کو 1 شیر آیا اور سب کے منہ سونگھے۔ اس کے بعد 1 زقند لگائی اور اس ٹیلے پر پہنچ کر عتیبہ کا سر بدن سے جدا کر دیا اس نے 1 آواز دی مگر ساتھ ہی کام تمام ہو چکا تھا بعض مؤ رّخین نے لکھا ہے کہ مسلمان ہو گیا تھا اور یہ قصّہ پہلے بھائی کے ساتھ پیش آیا۔ بہر حال حضرت رقیہّؓ اورحضرت اُمِّ کلثوم ؓ کے پہلے شوہروں میں سے 1 مسلمان ہوئے ۔دوسرے کے ساتھ یہ عبرت کا واقعہ پیش آیا اسی واسطے اللہ والوں کی دشمنی سے ڈرایا جاتا۔
خود اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے۔
مَنْ عَاٰد لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ جو میرے کسی ولی کو ستائے میری طرف سے اس کو لڑائی کا اعلان ہے (حدیث قدسی) حضرت رقیہ ؓ کے انتقال کے بعد ربیع الاوّل 3ھ؁ میں حضرت اُمِّ کلثوم ؓ کا نکاح بھی حضرت عثمان ؓ سے ہوا حضور ؓ کا ارشاد ہے کہ میں نے اُ مِّ کلثوم ؓکا نکاح آسمانی وحی کے حکم سے حضرت عثمان ؓ سے کیا، بعض روایات میں حضرت رُقیہؓ اورحضرت اُمِّ کلثوم ؓ دونوں کے متعلق یہی ارشاد فرمایا ۔ پہلے خاوند کے یہاں تو رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی، اولاد کوئی حضرت عثمان ؓ سے بھی نہیں ہوئی ۔ اور شعبان 9ھ؁ میں انتقال فرمایا حضورﷺ نے ان کے انتقال کے بعد ارشاد رفرمایا کہ اگر میری 100لڑکیاں ہوتیں اور انتقال کرتیں تو اسی طرح ایک دوسری کے بعد سب کا نکاح عثمانؓ سے کرتا حضورﷺ کی چوتھی صاحبزادی جنتی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہؓ جو عمر میں اکثر مؤرّخین کے نزدیک سب سے چھوٹی ہیں نبوّت کے 1 سال بعدجب (حضورﷺکی عمر شریف 41 برس کی تھی) پیدا ہوئیں اور بعض نے نبوّت سے 5 سال پہلے 35سال کی عمر میں لکھا ہے کہتے ہیں ان کا نام فاطمہ ؓ الہام یا وحی سے رکھا گیا فَطم کے معنی روکنے کے ہیں یعنی جہنم کی آگ سے محفوظ ہیں 2ھ؁ محرم یا صفر یا رجب یا رمضان میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نکاح ہوا اور نکاح سے 7ماہ اور 15دن بعد رخصتی ہوئی یہ نکاح بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے ہوا کہتے ہیں کہ نکاح کے وقت آپ ؓکی عمر 15 سال 5ماہ کی تھی۔ اس سے بھی 41سال میں پیدائش یعنی پہلے قول کی تصدیق ہوتی ہے اور حضرت علی ؓ کی عمر 21 سال 5ماہ یا 24سال 1.5ماہ کی تھی ۔حضورﷺکو اپنی تمام صاحبزادیوں میں ان سے زیادہ محبت تھی جب حضورﷺسفر کو تشریف لے جاتے تو سب سے اخیر میں ان سے رخصت ہوتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے ان کے پاس تشریف لے جاتے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابوجہل کی لڑکی سےدوسرے نکاح کا ارادہ فرمایا تو ان کو رنج ہوا حضور ﷺ سے شکایت کی حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فاطمہ ؓ میرے بدن کا ٹکرا ہے جس نے اس کو رنج پہنچایا اس نے مجھے رنج پہنچایا۔ اس لئے حضرت علی ؓ نے ان کی زندگی میں کوئی نکاح نہیں کیا ۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کی بھانجی امامہؓ سے نکاح کیا ۔نبی اکرمﷺ کے وصال کے 6 مہینے بعد حضرت فاطمہ ؓ بیمار ہوئیں اور ایک روز خادمہ سے فرمایا کہ میں غسل کروں گی ، پانی رکھ دو غسل فرمایا، نئے کپڑے پہنے پھر فرمایا کہ میرا بسترہ گھر کے بیچ  میں کر دو ۔ اس پر تشریف لے گئیں اور قبلہ رُخ لیٹ کر داہنا ہاتھ رخسارکےنیچے رکھا اور فرمایا کہ بس اب میں مرتی ہوں ۔ یہ فرما کر وصال فرمایا حضور اکرم ﷺکی اولاد کا سلسلہ انہیں سے چلا اور انشاء اللہ قیامت تک چلتا رہے گا ۔ ان کی 6 اولاد 3لڑکے3لڑکیاں ہوئیں سب سے اوّل حضرت حسن ؓ نکاح سے دوسرے سال میں پیدا ہوئے پھر حضرت حسین ؓ تیسرے سال میں یعنی 4 ھ ؁ میں ، پھر حضرت محسّن ؓ ( یہ س کی تشدید کے ساتھ ہے ) پیداہوئےجنکاانتقال بچپن میں ہو گیا ۔صاحبزادیوں میں سے حضرت رقیہ ؓ کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا اسی وجہ سے بعض مؤرّخین نے ان کو لکھا بھی نہیں دوسری صاحبزادی حضرت اُمِّ کلثوم ؓ کا پہلا نکاح حضرت عمر ؓامیرالمومنین سے ہوا جن سے 1 صاحبزادے زید ؓ اور 1 صاحبزادی رقیہؓ پیدا ہوئیں حضرت عمر ؓ کے وصال کے بعد اُمِّ کلثومؓ کا نکاح عون بن جعفر ؓ سے ہوا ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ان کے انتقال کے بعد ان کے بھائی محمد بن جعفر ؓ سے ہوا ان سے 1 لڑکی پیدا ہوئی بچپن ہی میں انتقال کر گئیں ان کے انتقال کے بعد ان کے تیسرے بھائی عبداﷲ بن جعفر ؓ سے ہوا ان سے بھی کوئی اولاد نہیں ہوئی اور انہی کے نکاح میں حضرت اُمِّ کلثوم ؓ کا انتقال ہوا اور اس دن ان کے صاحبزادے زیدؓ کا بھی انتقال ہوا دونوں جنازے ساتھ ہی اٹھے اور کوئی سلسلہ اولاد کا ان سے نہیں چلا۔  یہ حضرت علی ؓ کے بھتیجے اور جعفر تیار ؓ کے صاحبزادے ہیں ۔حضرت فاطمہ ؓ کی تیسری صاحبزادی حضرت زینبؓ تھیں جن کا نکاح عبداللہ بن جعفرؓ سے ہوا اور دو صاحبزادے عبداللہ ؓ اور عون ؓ پیدا ہوئے اورا نھیں کےنکاح میں انتقال فرمایا ان کے انتقال کے بعد عبداللہ بن جعفر ؓ کا نکاح ان کی ہمشیرہ حضرت اُمِّ کلثومؓ سے ہوا تھا ۔یہ اولاد حضرت فاطمہ ؓ سے ہے ورنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دوسری بیویوں جوبعد میں ہوئیں اور بھی اولاد ہے مئورّخین نے حضرت علی ؓ کی تمام اولاد32لکھی ہے جن میں 16 لڑکے 16لڑکیاں اور حضرت امام حسن ؓ کے 15لڑکے 8لڑکیاں اور حضرت امام حسین ؓ کے 6لڑکے 3لڑکیاں ۔
رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُمْ وَاَرْضَاہُمْ اَجْمَعِیْنَ وَجَعَلْنَا بِہَدِیْہِمْ مُتَّبِعِیْنَ وَاﷲُ اعَلَمُ وَعِلْمُہٗ اَتَمَّ ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: