حضرت موسى علیہ السلام -8

گناہ عظیم اور كم نظیر توبہ
حضرت موسى علیہ السلام كے اس شدید رد عمل نے اپنا اثر دكھایا او جن لوگوں نے گوسالہ پر ستى اختیار كى تھى اور ان كى تعداد اكثریت میں تھى وہ اپنے كام سے پشیمان ہوئے ان كى شاید مذكورہ پشیمانى كافى تھی، قرآن نے یہ اضافہ كیا ہے :باقى رہتا ہے یہ سوال كہ اس ” غضب ” اور ذلت ” سے كیا مراد ہے؟ قرآن نے اس امر كى كوئی توضیح نہیں كى ہے صرف سربستہ كہہ كر بات آگے بڑھادى ہے۔ لیكن ممكن ہے اس سے ان بد بختیوں اور پریشانیوں كى جانب اشارہ مقصود ہوجو اس ماجرے كے بعد اور بیت المقدس میں ان كى حكومت سے پہلے انہیں پیش آئیں ۔
یا اس سے مراد اللہ كا وہ حكم ہو جو اس گناہ كے بعد انہیں دیا گیا كہ وہ بطور پاداش ایك دوسرے كو قتل كریں ۔
قرآن اس كے بعد اس گناہ سے توبہ كے سلسلے میں كہتا ہے:”اور یاد كرو اس وقت كو جب موسى نے اپنى قوم سے كہا :اے قوم تم نے بچھڑے كو منتخب كر كے اپنے اوپر ظلم كیا ہے ،اب جو ایسا ہوگیا ہے تو توبہ كرو اور اپنے پیدا كرنے والے كى طرف پلٹ آئو”۔
”تمہارى توبہ اس طرح ہونى چاہیئے كہ تم ایك دوسرے كو قتل كرو۔یہ كام تمہارے لئے تمہارے خالق كى بارگاہ میں بہتر ہے۔اس ماجرے كے بعد خدا نے تمہارى توبہ قبول كرلى جو تواب و ررحیم ہے”۔( سورہ بقرہ آیت 54)
اس میں شك نہیں كہ سامرى كے بچھڑے كى پرستش و عبادت كوئی معمولى بات نہ تھى وہ قوم جو خدا كى یہ تمام آیات دیكھ چكى تھى اور اپنے عظیم پیغمبر كے معجزات كا مشاہدہ كرچكى تھى ان سب كو بھول كر پیغمبر كى ایك مختصر سى غیبت میں اصل توحید اور آئین خداوندى كو پورے طور پر پائوں تلے رونددے اور بت پرست ہوجائے۔
اب اگر یہ بات ان كے دماغ سے ہمیشہ كے لئے جڑ سے نہ نكالى جاتى تو خطرناك حالت پیدا ہونے كا اندیشہ تھا اور ہر موقعے كے بعدا ور خصوصاًحضرت موسى علیہ السلام كى زندگى كے بعد ممكن تھا ان كى دعوت كى تمام آیات ختم كردى جاتیں اور اس عظیم قوم كى تقدیر مكمل طور پر خطرے سے دوچار ہوجاتی۔
اكٹھا قتل
یہاں شدت عمل سے كام لیا گیا اور صرف پشیمانى اور زبان سے اظہار توبہ پر ہرگز قناعت نہ كى گئی۔یہى وجہ ہے كہ خدا كى طرف سے ایسا سخت حكم صادر ہوا جس كى مثال تمام انبیاء كى طویل تاریخ میں كہیں نہیں ملتى اور وہ یہ كہ توبہ اور توحید كى طرف باز گشت كے سلسلے میں گناہگاروں كے كثیر گروہ كے لئے اكٹھا قتل كرنے كا حكم دیا گیا۔یہ فرمان بھى ایك خاص طریقے سے جارى ہونا چاہیئےھا اور وہ یہ ہوا كہ وہ لوگ خود تلواریں ہاتھ میں لے كر ایك دوسرے كو قتل كریں كہ ایك اس كا اپنا مارا جانا عذاب ہے اور دوسرا دوستوں اور شناسائوں كا قتل كرنا۔
بعض روایات كے مطابق حضرت موسى علیہ السلام نے حكم دیا كہ ایك تاریك رات میں وہ تمام لوگ جنہوں نے بچھڑے كى عبادت كى تھى غسل كریں كفن پہن لیں اور صفیں باندھ كر ایكدوسرے پرتلوار چلائیں ۔
ممكن ہے یہ تصور كیا جائے كہ یہ توبہ كیوں اتنى سختى سے انجام پذیر ہوئی كیا یہ ممكن نہ تھاكہ خدا ان كى توبہ كو بغیر اس خونریزى كے قبول كرلیتا۔
اس سوال كا جواب گذشتہ گفتگو سے واضح ہوجاتا ہے كیونكہ اصل توحید سے انحراف اوربت پرستى كى طرف جھكائو كا مسئلہ اتنا سادہ اور آسان نہ تھا كہ اتنى آسانى سے درگذر كردیا جاتا اور وہ بھى ان واضح معجزات اور خدا كى بڑى بڑى نعمتوں كے مشاہدے كے بعد ۔ در حقیقت ادیان آسمانى كے تمام اصولوں كو توحید اور یگانہ پرستى میں جمع كیا جاسكتا ہے۔اس اصل كا متزلزل ہونا دین كى تمام بنیادوں كے خاتمے كے برابر ہے اگر گائو پرستى كے مسئلے كو آسان سمجھ لیا جاتا تو شاید آنے والے لوگوں كے لئے سنت بن جاتا۔
خصوصاً بنى اسرائیل كے لئے جن كے بارے میں تاریخ شاہد ہے كہ ضدى اور بہانہ باز لوگ تھے۔ لہذا چاہئے تھا كہ ان كى ایسى گوشمالى كى جائے كہ اس كى چبھن تمام صدیوں اور زمانوں تك باقى رہ جائے اور اس كے بعد كوئی شخص بت پرستى كى فكر میں نہ پڑے۔
خداكى آیات كو مضبوطى سے پكڑ لو
عظیم اسلامى مفسر مرحوم طبرسی،ابن زید كا قول اس طرح نقل كرتے ہیں :جس وقت حضرت موسى علیہ السلام كوہ طور سے واپس آئے اور اپنے ساتھ توریت لائے تو اپنى قوم كو بتایا كہ میں آسمانى كتاب لے كر آیا ہوں جو دینى احكام اور حلال و حرام پر مشتمل ہے۔ یہ وہ احكام ہیں جنہیں خدا نے تمہارے لئے عملى پروگرام قرار دیا ہے۔اسے لے كر اس كے احكام پر عمل كرو۔ اس بہانے سے كہ یہ ان كے لے مشكل احكام ہیں ،یہودى نافرمانى اور سركشى پر تل گئے۔ خدا نے بھى فرشتوں كو مامور كیا كہ وہ كوہ طور كا ایك بہت بڑا ٹكڑا ان كے سروں پر لاكر كھڑا كردیں ،اسى اثناء میں  حضرت موسى علیہ السلام نے انہیں خبردى كہ عہد وپیمان باندھ لو،احكام خداپر عمل كرو،سركشى و بغاوت سے توبہ كرو تو تم سے یہ عذاب ٹل جائے گا ورنہ سب ہلاك ہو جائوگے۔
اس پر انہوں نے سر تسلیم خم كردیا۔ توریت كو قبول كیا اور خدا كے حضور میں سجدہ كیا۔جب كہ ہر لحظہ وہ كوہ طور كے اپنے سروں پر گرنے كے منتظر تھے لیكن بالآخر ان كى توبہ كى وجہ سے عذاب الہى ٹل گیا۔
یہ نكتہ یاد ركھناضرورى ہے كہ كوہ طور كے بنى اسرائیل كے سروں پر مسلط ہونے كى كیفیت كے سلسلے میں مفسرین كى ایك جماعت كا اعتقاد ہے كہ حكم خدا سے كوہ طور اپنى جگہ سے اكھڑ گیا اورسائبان كى طرح ان كے سروں پر مسلط ہوگیا۔
جبكہ بعض دوسرے مفسرین یہ كہتے ہیں كہ پہاڑمیں سخت قسم كا زلزلہ آیا ،پہار اس طرح لرزنے اور حركت كرنے لگا كہ كسى بھى وقت وہ ان كے سروں پر آگرے گا لیكن خدا كے لطف و كرم سے زلزلہ رك گیا اور پہاڑ اپنى جگہ پر قائم ہوگیا۔
یہ احتمال بھى ہو سكتا ہے كہ پہاڑ كا ایك بہت بڑا ٹكڑا زلزلے اور شدید بجلى كے زیر اثر اپنى جگہ سے اكھڑ كر ان كے سروں كے اوپر سے بحكم خدا اس طرح گزرا ہو كہ چند لحظے انہوں نے اسے اپنے سروں پر دیكھا ہو اور یہ خیال كیا ہو كہ وہ ان پر گرناچاہتا ہے لیكن یہ عذاب ان سے ٹل گیا اور وہ ٹكڑا كہیں دور جاگرا۔( كیا اس عہد وپیمان میں جبر كا پہلو ہے:اس سوال كے جواب میں بعض كہتے ہیں كہ ان كے سروں پر پہاڑ كا مسلط ہونا ڈرانے دھمكانے كے طور پر تھا نہ كہ جبر و اضطرار كے طور پر ورنہ جبرى عہد و پیمان كى تو كوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔لیكن زیادہ صحیح یہى ہے كہ اس میں
كوئی حرج نہیں كہ سركش او رباغى افراد كو تہدید و سزا كے ذریعے حق كے سامنے جھكادیا جائے۔یہ تہدید اور سختى جو وقتى طور پر ہے ان كے غرور كو توڑدے گی۔ انہیں صحیح غور و فكر پر ابھارے گى اور اس راستے پر چلتے چلتے وہ اپنے ارادہ و اختیار سے اپنى ذمہ داریاں پورى كرنے لگیں گے۔بہر حال یہ پیمان زیادہ تر عملى پہلوئوں سے مربوط تھا ورنہ عقائد كو تو جبرو اكراہ سے نہیں بدلا جاسكتا۔ )
ایئے ۔واقعہ كى تفصیل قرآن میں پڑھتے ہیں كہ:”اور (وہ وقت كہ)جب ہم نے تم سے عہد لیا اور كوہ طور كو تمہارے سروں كے اوپر مسلط كردیا اور تمہیں كہا كہ،جو كچھ (آیات و احكام میں )ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطى سے تھامو اور جو كچھ اس میں ہے اسے یاد ركھو (اور اس پر عمل كرو)شاید اس طرح تم پرہیزگار ہوجائو”۔( سورہ بقر آیت 63)
اس كے بعد پھر تم نے روگردانى كى اور اگر تم پر خدا كا فضل و رحمت نہ ہوتا تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے”۔( سورہ بقرہ آیت 64)
اس عہد و پیمان میں یہ چیزیں شامل تھیں :پروردگار كى توحید پر ایمان ركھنا،ماں باپ، عزیز و اقارب،یتیم اور حاجتمندو ں سے نیكى كرنا اور خونریزى سے پرہیز كرنا۔ یہ كلى طور پر ان صحیح عقائد اورخدائی پروگراموں كے بارے میں عہد و پیمان تھا جن كا توریت میں ذكر كیا گیا تھا۔
كوہ طوركوہ طورسے مراد یہاں اسم جنس ہے یا یہ مخصوص پہاڑ ہے۔اس سلسلے میں دو تفسیریں موجودہیں ۔بعض كہتے ہیں كہ طور اسى مشہور پہاڑ كى طرف اشارہ ہے جہاں حضرت موسى علیہ السلام پر
وحى نازل ہوئی۔
لیكن بعض كے نزدیك یہ احتمال بھى ہے كہ طور لغوى معنى كے لحاظ سے مطلق پہاڑ ہے۔ یہ وہى چیز ہے جسے سورہ اعراف كى آیہ171 میں ”جبل”سے تعبیر كیا گیا ہے:
توریت كیا ہے
توریت عبرانى زبان كا لفظ ہے، اس كا معنى ہے”شریعت”اور”قانون”۔یہ لفظ خداكى طرف سے حضرت موسى علیہ السلام بن عمران پر نازل ہونے والى كتاب كے لئے بولا جاتا ہے۔نیز بعض اوقات عہد عتیق كى كتب كے مجموعے كے لئے اور كبھى كبھى توریت كے پانچوں اسفار كے لئے بھى استعمال ہوتا ہے۔
اس كى وضاحت یہ ہے كہ یہودیوں كى كتب كے مجموعے كو عہد عتیق كہتے ہیں ۔اس میں توریت اور چنددیگر كتب شامل ہیں ۔
توریت كے پانچ حصے ہیں :
جنہیں سفر پیدائش ،سفر خروج،سفر لاویان،سفر اعداد اور سفر تثنیہ كہتے ہیں ۔ اس كے موضوعات یہ ہیں :
1)كائنات،انسان اور دیگر مخلوقات كى خلقت۔
2)حضرت موسى علیہ السلام بن عمران،گذشتہ انبیاء اور بنى اسرائیل كے حالات وغیرہ۔
3)اس دین كے احكام كى تشریح۔
عہد عتیق كى دیگر كتابیں در اصل حضرت موسى علیہ السلام كے بعد كے مو رخین كى تحریر كردہ ہیں ۔ ان میں حضرت موسى علیہ السلام بن عمران كے بعد كے نبیوں ،حكمرانوں اور قوموں كے حالات بیان كئے گئے ہیں ۔
یہ بات بغیر كہے واضح ہے كہ توریت كے پانچوں اسفار سے اگرصرف نظر كرلیا جائے تو دیگر كتب میں سے كوئی كتاب بھى آسمانى كتاب نہیں ہے۔ خود یہودى بھى اس كا دعوى نہیں كرتے۔یہاں تك كہ حضرت داو د علیہ السلام سے منسوب زبور جسے وہ ”مزامیر” كہتے ہیں ،حضرت داو د علیہ السلام كے مناجات اور پندو نصائح كى تشریح ہے۔
رہى بات توریت كے پانچوں سفروں كى تو ان میں ایسے واضح قرائن موجود ہیں جو اس بات كى نشاندہى كرتے ہیں كہ وہ بھى آسمانى كتابیں نہیں ہیں بلكہ وہ تاریخى كتاب ہیں جو حضرت موسى علیہ السلام كے بعد لكھى گئی ہیں كیونكہ ان میں حضرت موسى علیہ السلام كى وفات،ان كے دفن كى كیفیت اور ان كى وفات كے بعد كے كچھ حالات مذكور ہیں ۔
خصوصاً سفر تثنیہ كے آخرى حصے میں یہ بات وضاحت سے ثابت ہوتى ہے كہ یہ كتاب حضرت موسى بن عمران علیہ السلام كى وفات سے كافى مدت بعد لكھى گئی ہے۔
علاوہ ازیں ان كتب میں بہت سى خرافات اور ناروا باتیں انبیاء و مرسلین سے منسوب كردى گئی ہیں ۔بعض بچگانہ باتیں بھى ہیں جو ان كے خود ساختہ اور جعلى ہونے پر گواہ ہیں نیز بعض تاریخى شواہد بھى نشاندہى كرتے ہیں كہ اصلى توریت غائب ہوگئی اور پھر حضرت موسى علیہ السلام بن عمران علیہ السلام كے پیروكاروں نے یہ كتابیں تحریر كیں ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: