ماں کا شَخصیت کی تعمیر میں کردار

شَخصیت کی تعمیر و ترقی کا انحصار صحیح تعلیم وتربیت پر ہے ، صحیح تعلیم و تربیت ایسا عنصر ہے جو شَخصیت کے بنا اور تعمیر میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ یہ کام بچپن ہی سے  و تو زیادہ موثر اور دیر پا ہوتا ہے ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور شَخصیت کی تعمیرمیں صحیح رول ماں ہی ادا کرسکتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچہ کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے ۔ بچوں کی تعمیر و ترقی کا سر چشمہ ماں کی گود ہی ہے ، یہیں سے ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوتاہے ۔ اس پہلی درسگاہ میں جو کچھ وہ سیکھتے ہیں اس کی حیثیت پتھر کی لکیر سی ہوتی ہے۔یہ علم ایسا مضبوط اور مستحکم ہوتاہے جو زندگی بھر تازہ رہتاہے۔
کسی مفکر کا قول ہے:
 ابتدائی زندگی کے نقوش خواہ مسرت کے ہوں یا ملال کے ہمیشہ گہرے ہوتے ہیں ، یہی ابتدئی نقوش مسلسل ترقی کرتے رہتے ہیں۔
لہذا اگر ماں ابتداسے اپنے بچوں کو کلمہ توحید کی لوری دے تو یقینا وہی کلمہ ان کے دل و دماغ میں اتر جائے گا اور مستقبل میں تناور درخت کی شکل اختیار کرے گا ، اس کے بر خلاف اگر مائیں بچپن ہی سے اپنے بچوں کو غیر اسلامی باتیں سکھائیں یا بچوں کا اٹھنا بیٹھنا غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوجائے تو وہی باتیں ان کے دل و دماغ پر مرتسم ہوں گی ، اور بچے ان ہی لوگوں کا اثر قبول کریں گے پھر ایسے بچوں سے مستقبل میں خیرکی امید نہیں کی جاسکتی ۔ اسی لیے شیخ سعدی کوکہنا پڑا:
خشت اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
معمار جب پہلی اینٹ ( بنیاد ) کی ٹیڑھی رکھتا ہے تو اخیر تک دیوار ٹیڑھی ہی رہتی ہے
یہی وجہ ہے کہ رسول ﷺنے بچوں کی حفاظت اور تربیت کا ذمہ دار ماں کو ٹھہراتے ہوے فرمایا عورت اپنے شوہر کے گھر اور اولاد کی نگران کار ہے(بخاری)
عورتیں اس ذمہ داری سے اسی وقت بخوبی عہدہ بر آ ہو سکتی ہےں جبکہ وہ خود اسلامی تعلیمات کی پابند اور اسلام کے سانچے میں ڈھلی ہوں ، اس لئےکہ نیک اور صالح خاتون ہی راہ حق کے فدائیوں اور شیدائیوں کو تیار کر سکتی ہے ۔ نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمہیں اچھی اولاد دوں گا ایک عربی شاعر کہتاہے
الام مدرسة اذا اعددتھا اعددت شعباطیب الاعراقماں ایک مدرسہ ہے اگر آپ اسے تیار کرتے ہیں تو گویا آپ ایک اچھی نسل تیار کرتے ہیں
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بہترین ماں نے ہی حقیقت میں قوم وملت کو ایسے سپوت عطا کیے جنہوں نے تاریخ کو عظمت بخشی۔
حضرت حسن ؓاور حسین ؓجنہوں نے ایک نئی تاریخ بنائی‘ ان کی شَخصیت سازی میں بھی ان کی ماں حضرت فاطمہ ؓکا بڑا اہم کردار رہا ہے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بچوں کو رضائے الہی کی بنیاد پر ہر کام کرنے کی تاکید کیا کرتی تھیں ، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ بچپن میں دونوں بھائی کسی بات پر لڑ پڑے، جب معاملہ ماں کے سامنے پیش ہواتو ماں نے دونوں کی باتیں سننے کے بعد ایک کو بے قصور اور دوسرے کو قصوروار قرار دینے کے بجائے جو بات کہی وہ یقینا شَخصیت سازی کے باب میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔ انہوں نے کہا میں یہ نہیں جاننا چاہتی کہ کس نے کس پر ظلم کیا ہے ، میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ اللہ تعالی جھگڑا کرنے والوں کو نا پسند کرتاہے ۔ تم دونوں نے آپس میں لڑ جھگڑ کر اللہ تعالی کو ناراض کردیا ہے، دونوں میری نظروں سے دور ہوجاؤ جن سے اللہ ناراض ان سے میں بھی ناراض ۔
یہ سن کر دونوں بھائیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، دونوں نے آپس میں صلح کرلی، اور ماں سے معافی مانگتے ہوے درخواست کی کہ اللہ تعالی سے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی جائے ۔
ماں کی اسی تربیت کے نتیجہ میں حضرت حسن اؓور حسین ؓکی ایسی شَخصیت بنی کہ وہ تاریخ کے صفحات کا روشن باب بن گیے ۔
علامہ اقبال ؒکے نام سے کون واقف نہیں ، وہ اس صالح اور خدا ترس خاتون کے فرزند تھے جس کو اپنے شوہر کی کمائی مشتبہ لگی تو اس نے شوہر سے کمائی کا وہ ذریعہ چھوڑدینے کا مطالبہ کیا‘ کوئی دوسرا مشغلہ ہاتھ آنے سے پہلے اقبال پیدا ہوے تو ان کی پرورش کے لئےصالح ماں نے مشتبہ کمائی کے بجائے اپنے زیورات بیچ کر ایک گائے خریدی اور اس کا دودھ پلانا شروع کردیا۔ آج دنیا اسی بچہ کو شاعر مشرق علامہ اقبال ؒکے نام سے جانتی ہے، جن کی شاعری نے مسلمانوں کو ایک نئی دینی بیداری عطا کی۔
آج کی ماں پر ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں ، جو خاتون نیک ہو، اس کے اندر اللہ کی فرماں برداری، شکر و احسان، زہد و قناعت، اپنے شوہر کی اطاعت اور اولاد کی بہترین تربیت کا جذبہ ہو وہ کامیاب خاتون ہے اور یقینا اپنے شوہر کے لئےبہترین دولت ثابت ہوگی ۔
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
الدنیا کلھا متاع و خیرمتاع الدنیا المراة الصالحةدنیا پوری کی پوری پونجی ہے اور بہترین پونجی نیک بیوی ہے ۔
آج امت کی نئی نسل کا مستقبل خواتین اسلام کے ہاتھوں میں ہے ، ماوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صحابہ کرام، تابعین عظام اور اسلامی شخصیتوں کے عبرت آموز واقعات سنا ئیں ، ان میں ان کے نقش قدم پر چلنے کا شوق پیدا کریں ، تاکہ ان کے اندر دینی جذبہ پیدا ہو، ان میں اعلائے کلمة اللہ کی تڑپ اُبھرے اور نئی نسل اسلامی تعلیمات کا جیتا جاگتا نمونہ بن سکے ۔
Advertisements
2 comments
  1. بلاشبہ بچے کی تربیت پیدائش سے ہی شروع ہو جاتی ہے ۔ میں نے ایک تحقیقی کتاب شاید 1959ء میں پڑھی تھی جس میں لکھا تھا کہ بچہ پیدائش سے کچھ ماہ پیشتر ہی سیکھنا شروع کر دیتا ہے اسلئے والدین کو اپنے بولنے اور حرکات کو مہذب رکھنا چاہیئے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: