خواتین کی تعلیم و تربیت-4

ثانی الذکر رائے کی غلطی:
اس کے برعکس دوسری رائے پیش کرنے والے لوگوں نے افراط سے کام لیا ہے، اور شرعی اور اخلاقی حدود سے تجاوز کر گئے ہیں، ان کے دلائل کا بھی تجزیہ کرتے ہیں۔ اور ان کے دماغ میں جو لاطائل اور مردود بہانے ہیں ان کا پول کھولتے ہیں، جو مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔
آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ اقوام عالم دو طرح کی ہیں: کچھ ترقی پذیر اور خوش بخت ہیںِ اور دوسری ذلیل اور بد بخت ہیں۔
اور آپ کا یہ قول  کہ بخت آور اقوام اپنی محنت اور حالات کی مساعدت سے اس مقام دشوار پر پہنچے ہیں بھی صحیح ہے لیکن یہ ایک مجمل کلام ہے، جس کی تفصیل اور وضاحت ضروری ہے، کیونکہ اسی اجمال کے بل بوتے پر آپ کو مغالطہ دینے کا موقعہ ہاتھ آیا ہے، اور اس اجمال کی تفسیر یہ ہے کہ خود اقوام یورپ (جن کو آپ ترقی پذیر سمجھتے ہیں) کی عادات و اطوار ایک دوسری سے نہایت مختلف ہیں، جن کی بناء پر ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔
چنانچہ کیتھولک فرقہ کا مقلد شخص کسی پروٹسٹنٹ عقیدہ والی عورت سے شادی نہیں کر سکتا اور اگر کوئی شخص ایسی جرأت کر بیٹھے تو گرجا کی طرف سے اس پر عقاب محرومیت (جسے ہمارے ہاں حصہ پانی بند کہتے ہیں) نازل ہوتا ہے، اور یہ ایک بہت بڑی اجتماعی مصیبت ہوتی ہے، البتہ تحدید تغریر میں اختلاف ہے، حتیٰ کہ یہی سزا (بسا اوقات) بغیر کسی رو رعایت کے ایک دوسرے کی موت کا سبب بن جاتی ہے، عورتوں کے بارے میں بھی ان کے نظریات یکساں نہیں بلکہ متضاد ہیں، چنانچہ بعض نظریات تو عورت کی نگرانی اور مکمل حفاظت کرتے ہیں، جب کہ بعض دوسری اقوام قانونی طور پر سنِ بلوغت پر پہنچنے کے بعد اسے مطلق العنان سمجھ کر ہر طرح کی آزادی دے دیتے ہیں اور بعض قومیں مثلاً تینوں اس منطق کا سہارا لے کر کہ معاشرے کی خرابی ایک ہی جگہ پر منحصر رہے اور سارا معاشرہ گندا نہ ہوا ایک متعین اور محدود مقام کے لئے عصمت فروشی کو قانونی طور پر جائز قرار دیتے ہیں، یہ لوگ کسبیوں کے ساتھ کچھ نرمی کا سلوک کرتے ہیں اور بعض قومیں مثلاً جرمن اور برطانوی ایسی بھی ہیں جو قانونی عصمت فروشی کو حرام دیتے ہیں اور یہ بدکار عورتوں پر نہایت سختی کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ انہیں مکھیوں کی طرح قابل نفرین اور حقیر طبقہ خیال کرت ہیں۔ اس صورت میں کسی فاحشہ عورت کے لئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ شرفاء اور اصحاب مروت لوگوں سے ملاقات ھی ہو سکے۔
’’پھر زیر غور مسئلہ میں اقوام یورپ کا تساہل (بے پرواہی برتنا) ان کے تمدن اور ترقی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس تساہل کا ان دونوں مسئلوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں یہ تو ایک عادت ہے جو انہیں زمانہ جاہلیت و نادانی کے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملی ہے، اسی طرح بحر ابیض متوسط کے جوار میں ایسی غیر یورپین اقوام موجود ہیں جنہیں بربری کہتے ہیں جن کے ہاں اسلام کا صرف نام باقی ہے،
مثلاً آبمِ مکیلا، آیتِ سخمان، اشتیرن، آیتِ اسحاقاور آیتِہلودیوغیرہ، یہ لوگ اپنے رنگ اور ٹھنڈے خون کی وجہ سے شمالی یورپ کے باشندوں سے ملتے جلتے ہیں، ان میں غیرت کالعدم ہے۔ ان کے ہاں جب کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتا ہوا دیکھ لے تو ہوائی فائر کرتا ہے۔ غرض یہ نہیں ہوتی کہ ان دونوں میں سے کسی کو گزند پہنچے بلکہ رضایہ ہوتی ہے کہ اس وقوعہ کی اطلاع عام ہو جائے۔ ہوائی فائر سن کر لوگ ہر طرف سے اُمڈ آتے ہیں۔
خاوند کہتا ہے کہ لوگو! گواہ رہنا کہ فلاں شیخ کو میں نے اپنی بیوی کے ساتھ بدفعلی کرتے دیکھا ہے۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تیری تائید میں چشم دید واقعے کی گواہی دیں گے۔ پھر جب عام قبیلہ اکٹھا ہو جاتا ہے تو خاوند اسے عدلیہ میں لے جاتا ہے۔ جب اپنے پیشواؤں اور صاحب حیثیت لوگوں کے سامنے پیش ہو جاتا ہے تو اس پر دعویٰ دائر کر دیتا ہے، گواہ بھی آکر گواہی دے جاتے ہیں، ان سب چیزوں کے باوجود مجرم صاف مکر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ تو اس کے سر پر ایک طبق (تھال) رکھ دیتے ہیں جس کا مدعا یہ ہوتا ہے (اس جرم کی پاداش میں بطور جرمانہ اور سزا) خاوند کو ایک عدد مینڈھا اور چھ ریال دیدے، لیکن مجرم پھر بھی اپنے انکار پر مصر رہتا ہے، جس پر خاوند اسے قتل کرنے کےد ر پے ہو جاتا ہے مگر لوگ بیچ بچاؤ کر کے صلح کی کوشش کرتے ہیں، چنانچہ خاوند جرمانے کی ایک شق کو معاف کر دیتا ہے، خواہ مینڈھا یا چھ ریال کوئی ایک معاف کر دیتا ہے اور دوسری چیز لے لیتا ہے، (یعنی خاوند کے ہاں بیوی کی آبرو ریزی صرف چھ ریال یا مینڈھا کے عوض برداشت کی جا سکتی ہے) ہم دور کیوں جائیں، صحیح بخاری میں ہے ’’کہ ایک شخص کے ہاں کوئی نوکر تھا جس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، اس نے ایسے لوگوں سے مسئلہ پوچھا جن کے متعلق وہ گمان میں تا کہ یہ عالم ہیں۔ انہوں نے فتویٰ یہ دیا کہ نوکر عورت کے خاوند کو سو بکری دیدے جسے نوکر کے باپ نے اپنے بیٹے کی طرف سے ادا کر دیا۔ پھر اس نے حضور ﷺ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے فیصلے کو غلط گردانا اور فرمایا کہ بکریاں نوکر کے باپ کو واپس دلائی جائیں اور نوکر کو (۱۰۰) سو درے مارے جائیں اور ایک برس کی جلا وطنی کی مزید سزا دی جائے۔ عورت کے متعلق انیس نامی ایک شخص کو (معاملے کی تحقیق کے لئے) بھیج کر فرمایا کہ اگر وہ اقبال جرم کرے تو اسے رجم کر دو۔‘‘
مدعا یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے عربوں میں بھی ایسے بربری طرز کے فیصلے پائے جاتے تھے، جنہیں اسلام نے منسوخ کر دیا۔ بشر بہر حال بشر ہے، کوئی قوم کسی دوسری قوم سے صرف اخلاقِ انبیاء اور علومِ تمدن کے زیر اثر ہی ممتاز ہو سکتی ہے، اور جس شخص کو یہ دونوں چیزیں میسر ہوں اِسے بہت بڑی سعادت نصیب ہوئی۔
اقوام یورپ کا عورتوں کے بارے میں بے پرواہی برتنا ان کی جدید ترقی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سلسلے میں وہ اپنے اسلاف کے پیروکار ہیں۔ جسے انہوں نے اپنے عمل کے علاوہ تمثیلی کہانیوں (فلموں) کی اختراعات و تصنیفات سے برقرار رکھا ہے۔
عورت کی آزادی اِسے صرف بے نقاب کرنے یا آبرو کو خطرے میں ڈالنے پر ہی موقوف نہیں بلکہ پردہ نشینی کمال عفت اور پارسائی کے باوجود بھی عورت آزاد رہ سکتی ہے، جبکہ عصمت کی انتہائی بے راہ روی کے باوصف عورت غلامی کا شکار ہوتی ہے۔
ہمارے پہلے آباؤ اجداد جو اپنے عمل و اخلاق، تہذیب و تمدن اور معاشرتی ترقی کی بدولت، ساری دنیا کے پیشوا تھے، جن کی طرف ہماری نسبت ایک ناخلف کی ہی حیثیت سے ہو سکتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل عورتوں کے معاملہ میں درست تھا، کیونکہ ان کے ہاں عورت اگر ایک طرف معاشرے کی متحرک روح اور چاق و چوبند فرد تھی جو علم و عمل کے خانگی، زرعی اور جنگی میدانوں میں مردکےشریکِ کار ہوتی تو دوسری طرف ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود بھی وہ باپردہ رہتی جو اس کی شرافت و ناموش کا محافظ ہوتا، اگر کوئی شخص اِس کا کسی قسم کا حق دبا لیتا تو حق کے حصول سے اس کا حجاب کبھی مانع نہ ہوتا اور نہ ہی صلح و جنگ کے امور میں مرد کے ساتھ تعاون کرنے میں رکاوٹ بنتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف کیا مرد اور کیا عورتیں سب تہذیب و تمدن کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ قرآنی تعلیمات نے عورت کی ترقی میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ اسی مبارک کتاب کی پاکیزہ تعلیمات کا معجزہ تھا کہ عورت کی آبرو اور شرافت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اسے معاشرہ میں اعلیٰ مقام ملا۔
لیکن ہمارے پچھلے آباؤداجداد جب دین و دنیا کی علمی اور صحیح عملی راہ سے ہٹ جانے کی وجہ سے عفت اور خلق کے بلند معیار قائم کرنے سے عاجز آگئے اور شرع محمدی کی حدود نافذ کرنے سے قاصر رہے تو انہوں نے فرار اور چھپنے کی راہ اختیار کی اور (بقول شما) پردہ میں غلو کر کے عورتوں کو گھروں میں زندہ درگور کر دیا۔ اگر اشد ضرورت پڑنے پر نکلیں بھی تو انہیں صرف ایک آدھی آنکھ کھولنے کی اجازت دی ان کی آواز تک کو موجب شرم قرار دیا، ان کا محرموں اور خاوندوں کی موجودگی میں بھی مردوں سے خواہ وہ کتنے صالح ہوں بات تک کرنے کو بے حیائی پر محمول کیا۔ پھر معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ اسے لکھنے پڑھنے سے بھی محروم رکھا جس سے اس اِن کی وراثت، خرید و فروخت، شہادت اور وکالت کے حقوق اور دیگر ہر قسم کے تصریفات اور اختیارات ضائع ہو گئے جو انہیں اسلامی شریعت نے عنایت فرمائے تھے۔ ایسی عورتوں کی حالت زار زندوں کی بجائے مردوں سے زیادہ ملتی جلتی ہے، بلکہ معاملہ اس سے بھی تجاوز کر چکا ہے کہ کنواری لڑکیاں اوردوشیزائیں حجاب کی ناجائز سختیوں کے اندھیروں میں ایسی گم ہوئیں کہ انہیں ا نکے والدین اور بھائی بہنوں کے علاوہ دوسری کوئی عورت بھی نہیں دیکھ پاتی، اس طرح اس سنت مطہرہ پرمل جاتا رہا ہے۔ جس میں رسول خدا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
اِذَا اَرَادَ اَحَدُکُمْ اَنْ تَّیَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَلْیَنْظُرْ اِلَیْھَا فَاِنَّہ اَحْرٰی اَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَھُمَا’’جب کسی عورت سے نکاح مطلوب ہو تو اس قبل از نکاح دیکھ لے کیونکہ اس سے محبت بڑھنے کی زیادہ توقع ہے۔‘‘
یعنی اگر وہ تخلیہ کی ملاقات اور مقامِ تہمت سے گریزاں ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ لیں تو اس سے اتفاق پیدا ہونے کی زیادہ توقع ہے۔
اِن غیر شرعی تکلفات کے نتیجہ میں جو جرائم منظرِ عام پر آتے ہیں، وہ نہایت کثیر التعداد اور آئے دِن پیش آنے والے ہیں، چنانچہ نکاح شادی کے موقعوں پر فریب کاری اور دھوکہ دہی کی کافی مثالیں سامنے آتی ہیں، مثلاً کسی شخص کی دو بیٹیاں ہوں جن میں سے ایک خوبصورت جس کا نام لیلیٰ اور دوسری بدصورت جسے وعد ہوتے ہوں اگر کوئی خوبصورت سے نکاح کا پیغام دے کربھیجتا ہے۔ تو چونکہ نہ وہ انہیں پہچانتا ہے اور نہ ہی بڑھیا عورت انہیں جانتی ہے، جو اس کی طرف سے پیغام لے کر جاتی ہے تو اہلِ خانہ مغالطہ دے کر کہ خوبصورت وعد ہے، بدصورت سے نکاح کر دیتے ہیں، جس کا خمیازہ اِسے بھگتنا پڑتا ہے اور اس کا مال ضائع جاتا ہے۔
اگر اصحاب فہم و فراست اور نیک لوگ ایک تحریک کی شکل میں اس رواج کو ختم کرنے پر تل جائیں اور عورت کو وہی مقام دیں جو اسے دورِ نبوت میں نصیب تھا جس کا مظہر بعض دیہاتوں میں آج تک موجود ہے اور اس کے ساتھ نظر کی حفاظت کی تلقین بھی کریں تو ان کا تعاون نہایت ضروری ہو گا۔ لیکن وہ لوگ جو آزادیٔ نسواں کے داعی اور اس کے حقوق کے (نام نہاد) نگرا ہیں ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کی امت مسلمہ کے ِل میں کوئی عزت ہے اور نہ ہی اِن پر کوئی اعتماد ۔۔، کیونکہ ان کے پاس اخلاق ہے نہ غیرت، انہیں آبرو کا پاس ہے نہ عزت و ناموس کا کچھ لحاظ، عوام ان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اس تحریک کے در پردہ ایسے ارادے رکھتے ہیں جو بھیڑ بکریوں کے گلے میں بھیڑیے کے ہوتے ہیں۔
اور یہ چیز بھی ان لوگوں کو معلوم ہے کہ مستورات کو حجاب کی ناجائز پابندیوں سے اگرچہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن منہ کھلا چھوڑ کر، حسن و جمال کی نمائش کرتے ہوئے آبرو کی قدر و قیمت ختم کر دینے میں جن مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ ان کا کوئی کنارہ نہیں، عورت کی طرف سے ایسے اقدامات نہایت خطرناک اور دوزخ میں لے گرنے والوے کناروں پر استوار ہیں۔ عورت کی اِس مصیبت کا حل نہ تو کوئی ڈاکٹر کر سکا اور نہ ہی کوئی تعویز گنڈے کرنے والا، بلکہ لوگ اس کے معاملے میں دو گروہ بن گئے ایک افراط کی راہ پر چل نکلا اور دوسرا تفریط میں گم ہو گیا۔
خدا گواہ ہے اگر ہمیں یہ یقین ہوتا کہ تم (آزادیٔ نسواں کے دعویدارو)واقعی عورتوں کی ناگفتہ بہ حالت کی اصلاح میں فہم و فراست اور عقل و خرد کے مضبوط اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نیکی اورسعادت کو نصب العین بناؤ گے۔ اور یہ کوشش کرو گے کہ وہ مامتا کے زریں اصول میں کمال حاصل کرتے ہوئے نیک اولاد جنیں گی اور ان کی گھریلو زندگی خوشگوار وار سعادت سے لبریز ہو گی
تو ہم تمہاری امداد و نصرت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے۔
لیکن ہم نے تمہاری طبیعتوں کو اچھا اور تمہاری نیتوں کو فاسد پایا۔ تم فریب کاری اور دھوکہ دہی سے کام لے کر سادہ لوح دوشیزاؤں کی آبرو لوٹتے اور دنیا کے پرخطر مراحل کو سبز باغوں کے چکموں میں تبدیل کر کے ہر حیلے اور بہانے سے ان کا شکار کرتے ہو، تم انہیں زندگی کے ہر موڑ میں ایسی دشواریوں سے ہم کنار کرنا چاہتے ہو جو کسی دشمن کے ذہن میں بھی نہیں آتیں۔ اس لئے ہمارا یہ کہنا ہے کہ حجاب کی ناجائز، سختیاں تمہاری اس تحریک کے درپردہ برآمد ہونے والے خطرناک نتائج کی نسبت بہت ہلکی ہیں۔ پھر تمہارا یہ کہنا کہ یہ فریب کاریاں اور حیلہ تراشیاں، جن کا نتیجہ شریف خاندانوں کی بربادی ہوا ہے، تم نے اہلِ یورپ کی اقتدأ میں اختیار کیں یہ بھی نہایت تعجب خیز ہے، چنانچہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یورپ کے ترقی پذیر اس بے راہ روی کے موجد نہیں بلکہ یہ چیز انہیں اپنے (جاہل اور غیر شائستہ) اسلاف سے ورثہ میں ملی ہے، البتہ انہوں نے اس حالت کو تبدیل کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، چنانچہ رپورٹ ملاحظہ ہو۔
’’یہ چیز یقینی ہے کہ وہ ممالک جن میں اسلامی آداب و اخلاق ابھی باقی ہیں ان میں شادی کے نتائج شاندار رہتے ہیں۔ وہاں شادی شدہ عورتوں کی تعداد ۹۵ فیصد ہے اور یہ سب کچھ حجاب کی
پابندیوں کے باوجود صرف اسلامی ہدایات کا کرشمہ ہے۔‘‘
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہٹلر نے یہ دیکھا کہ جرمن میں شادی شدہ جوڑے چالیس فیصد سے زائد نہیں تو قانون پاس ہوا کہ جو شادی کرے ا سے پانچ ہزار مارک قرضہ یعنی اس زمانہ کے چار سو دینار دیئے جائیں گے۔جس کی ایک قسط ایک بچہ پیدا ہونے پر معاف اور پانچ بچوں کا باپ بننے پر مکمل قرضہ معاف ہو جائے گا۔
اور یہ بھی اعلان ہوا کہ ماؤں کو ہر سال فصل ربیع کے موقعہ پر انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ ان کیلئے قیمتی تحائف اور بہترین ہدیے مخصوص کر دیئے گئے اور ایک کم کے مطابق پانچ بچوں کے والدین کو تمام ٹیکس معاف کرنے کے علاوہ عمدہ ترین مالی امداد سے نوازا گیا۔
دوسری طرف غیر شادی شدہ مرد ہوں کہ عورتیں اگر وہ اچھی ملازمت پر فائز ہوں تو انہیں عالمی جنگ کے موقعہ پر اپنی آمدنی کا انتہائی حصہ بصورت ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔ ان سب احکام کے باوجود شہری ماحول میں شادی شدہ لوگوں کی تعداد چالیس فیصد سے نہ بڑھ سکی، ہاں دیہی علاقوں میں کچھ اضافہ ہوا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دیہات کا نظام ہی ایسا ہے کہ ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا۔
اگر کوئی یہ پوچھے کہ شہری ماحول میں قلت نکاح کا ذمہ دار کون ہے؟ تو بغیر کسی شک و شبہ کے کہوں گا کہ اِس کے ذمہ دار مرد ہیں۔ کیونکہ غیر شادی شدہ عورت خواہ امیر ہو خواہ غریب نکا ح کی خواہش میں بے قرار رہتی ہے۔ اس کے لئے موضوع نکاح سے بڑھ کر کوئی موضوع دلچسپ نہیں، خصوصاً ایسی بدنصیب عورت جو کسی شادی چور کے دام فریب میں گرفتار ہو چکی ہو۔ کیونکہ بہت سی
لڑکیاں فصل ربیع کے پھولوں کی مانند خوبورت، خوش و خرم اور ناز و نعمت میں پلی ہوئی تھیں، ایسے لوگوں نے انہیں بدبختی اور حرمان نصیبی کے دوزخ میں جھونک کر ان کی زندگی کا ستیاناس کردیا۔
کیا آزادیٔ نسواں کے دعویدار یہ جانتے ہیں کہ اہل یورپ میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک سے متعلقہ عورت بھی مرد کی حمایت، نگرانی اور اس کی سرپرستی کی دست نگر رہتی ہے۔ اس کی اس ضرورت کو مال، علم، شرافت، حسب و نسب اور کسی قسم کا جاہ و جلال پرا نہیں کرتے۔
اِس ضمن میں برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کا قصہ مشہور ہے کہ وہ ایک روز خاوند کے کمرے پر آئی، دروازہ پر دستک دی۔ اندر سے آواز آئی:’’کون ہے؟‘‘کہنے لگی: ’’میں ملکہ ہوں۔‘‘
جواب ملا:’’مجھے ملکہ کی ضرورت نہیں۔‘‘اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا، تلافی کرتے ہوئے کہنے لگی۔’’دروازہ کھولئے! میں آپ کی پیاری وکٹوریہ ہوں۔‘‘’’ہاں اب کھولتا ہوں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
تو اللہ نے ہر ذی روح مادہ کو خواہ بے زباں ہو یا ناطق اسے طبعی طور پر نر کا محتاج بنایا ہے۔ نیز اس کی طبیعت میں رب العزت نے مصنوعی نزاکت اور ناز و نخرہ بھی کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔ عورت خواہ انتہائی ترقی پذیر ملک اور تہذیب میں کیوں نہ پروان چڑھی ہو، کسی صورت میں بھی وہ مرد کی حمایت سے مستفنی نہیں رہ سکتی۔
اقوام یورپ میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم کا عورتوں سے ناروا سلوک، ان سے بے رحمی برتنا ان کی انتہائی حرص کا شاخصانہ ہے جس کا ذِکر دوسروں کے لئے درسِ عبرت ہونا چاہئے کیونکہ ان کے ہاں رواج ہے کہ جب تک کوئی لڑکی کم از کم ۵۰۰۰ مارک حق مہر نہ ادا کرے شادی نہیں کر سکتی۔ ہاں اس سے زائد خرچ کرنا چاہے تو اس کی کوئی قید و بند نہیں کیونکہ جس کی قسمت ساتھ دے اسے اپنے خرچ کے مطابق مناسب خاوند ملے گا۔ کیونکہ خاوند کسی عورت کے حسن و جمال، اس کی طبعی شرافت اور حسب و نسب سے متأثر ہو کر شادی نہیں کرتا بلکہ اس کے ہاں سب سے زیادہ اہمیت اس کے مال و متاع کو ہے۔ یہ عورت مال جمع کرنے کی غرض سے اپنی جوانی کا ایک بہت بڑا حصہ ملازمت میں گزار دیتی ہے، کیونکہ صرف اسی صورت میں اِسے شادی کی اُمید ہو سکتی ہے۔
برلن میں نوکرانی تیس مارک میں دستیاب ہوتی ہے۔ جبکہ چھوٹے شہروں میں کھانے سمیت بیس مارک میں مل جاتی ہے وہ حق مہر جوڑنے کی فکر میں اپنے آپ پر ہر نعمت حرام کر لیتی ہے۔ بعض اوقات اس کی تنخواہ پر ایک بوڑھی اور کمزور ماں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اس بھی چند ایک مارک بطور امداد دینا پڑتے ہیں۔
تو آپ اندازہ لائیں کہ وہ کتنے سال ملازمت کرے تاآنکہ اس کے پاس ہزاروں مارک اکٹھے ہو جائیں۔ جن کے بعد وہ اپنے جیسے کسی مفلوک الحال مرد سے شادی کی سوچ سکے، پھر بات اِسی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے تلاشِ خاوند کے لئے ناچ گھر اور سینما ہال وغیرہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی مرد سے بات چیت کا موقعہ مل جائے تو اِسے غنیمت سمجھتی ہے۔
رواج یہ ہے کہ مرد ہی عورت کو رقص کی دعوت دیتا ہے۔ کسی مرد کی تلاش میں چند پیسے جن کی اسے اشد ضرورت ہوتی ہے خرچ کر کے کسی اجتماعی جگہ مثلاً سینما ہال، قہوہ خانہ، ہوٹل یا ناچ گھر میں چلی جاتی ہے اگر کوئی نہ ملے تو نامراد واپس لوٹ کر اگلی فرصت کا انتظار کرنے لگتی ہے۔ کیونکہ اس کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ روزانہ چکر کاٹتی پھرے بلکہ اس کی بہترین حالت یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک روز اِسے اتنی فراغت مل جائے۔
اگر کسی نے دعوت دی بھی تو عین ممکن ہے کہ اس کا مذہب جدا ہو یا صرف دھوکہ دے رہا ہو۔ اور اگر کوئی شخص ہر لحاظ سے مناسب ہو تو اسے قبل از نکاح کچھ عرصہ اس سے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں کرنا ہونگی، پسند آجائے تو پھر سالہا سال منگنی میں ہی گزر جاتے ہیں۔ اس دوران خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں فریق ثانی وعدہ خلافی کر کے منگنی نہ توڑ ڈالے۔
حدیث میں آتا ہے:        ’’مَا خَلَا رُجُلٌ بِامْرَأۃٍ اِلّا کَانَ الشَّیْطَانُ ثَالِتَھُمَا‘‘جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوف میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘
رسول اکرم ﷺ نے ان عورتوں کو جن کے خاوند یا محرم پاس نہ ہوں ان کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے۔ آپ سے دیور جیٹھ یعنی خاوند کے بھائی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس کے ساتھ علیحدہ ہو سکتا ہے؟فرمایا:         ’’کہ وہ موت ہے‘‘یعنی اس کا خلوت میں اس سے ملاقات کرنا کسی غیر قریبی شخص کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے عورت کو خاوند یا محرم کے بغیر کسی دوسرے شخص کے ساتھ سفر کرنے کو ممنوع فرمایا ہے۔ ان تمام احکام کا مقصد صرف آبرو، حسب و نسب، دین اور رحم کے حقوق کی حفاظت اور آپس کے اختلافات کو ختم کرنا ہے۔
ہاں منگیتروں کا ایک دوسرے کو بغیر کسی مقامِ تہمت یا تخلیہ وغیرہ کے دیکھ لینا، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ نہایت ضروری ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے از خود اس کا حکم فرمایا ہے،
ان کا یہ کہنا کہ خوشگوار شادی کی بنیاد محبت ہے۔ یہ قابل تنقید ہے کیونکہ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔
جنسی تعلقات کی محبت، کھانے پینے کی محبت اور گھوڑ سواری کی محبت وغیرہ اور یہ محبت درحقیقت دل کا درد اور اس کا روگ ہے۔ جب تک اس کی تسکین نہ ہو بڑھتا رہتا ہے اور تسکین کی شکل یہی ہے کہ مطلوب سے اس کی غرض حاصل ہو جائے۔ جب مقصد حل ہو جاتا ہے تو یہ جوش ختم ہو جاتا ہے اور رغبت کمزور ہوجاتی ہے۔ اب اس کی وہ آنکھ نہیں رہتی۔ جس سے وہ اسے پہلے دیکھاکرتا تھا۔
یہی رغبت کمزور ہوتے ہوتے بالآخر ختم ہو جاتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بہت سے لوگ عورتوں کے عشق میں گرفتار تھے۔ انہوں نے ان سے شادی کی خاطر سب کچھ لٹا دیا لیکن جب ان کی خواہش پوری ہو گئی تو وہ ان سے بیزار ہو گئے۔ ان کے نزدیک ان کی قیمت ایک کوڑی بھی نہ رہی۔ وجہ یہ ہے کہ انکی محبت قلبی نہ تھی بلکہ محض جذباتی اور جنسی تھی۔ جس کی تسکین پر محبت بھی جاتی رہی۔
 کسی یورپی شخص سے سوال ہوا تھا کہ تجھے کونسی عورت پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی کے سوا ہر عورت کو پسند کرتا ہوں۔ اگر ایسی محبت بالکل ختم نہ بھی ہو تب بھی اس کا وہ جوش اور ولولہ ختم ہو جاتا ہے جو دیرپا رفاقت کے لئے ضروری ہے اور اگر اتفاق سے محبوب سنگ دل طبیعت کا، سخت اور بدمزاج ہو تو محبت کی جگہ بغض اور عداوت لے لیتے ہیں۔ محبت کی جملہ اقسام سے ایک قسم میلان زوجیت کی محبت ہے یہ محبت پہلی قسم محبت سے دیرپا ہوتی ہے۔ اگر اتفاق سے دونوں کی طبیعتیں مل جائیں تو ایام گزرنے پر یہ محبت پروان چڑھتی ہے۔ہمارا مقصد نہیں کہ حسن و جمال حقیقی محبت کا سبب نہیں ہوتا اور نہ ہم عورت کی ظاہری شکل و شباہت سے قطع نظر صرف اس کی روحانی اور اخلاقی خوبیوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے۔ بلکہ حقیقی محبت اس وقت تک کامل نہیں ہوتی، بلکہ حقیقی محبت اس تک کامل نہیں ہوتی جب تک کہ محبوب و مطلوب دوسری خوبیوں کے علاوہ خوبصورتی کے ساتھ مزین نہ ہو۔ اور ایسی محبت اس شرعی نکاح پر منحصر ہے۔ جس سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ہو اور دونوں لالچ یا مجبوری کے بغیر میاں بیوی بننے پر آمادہ ہو گئے ہوں۔ اگر ان کے اخلاق اور سوخِ عقیدہ بھی مل جائیں تو یہ چیز ان کی محبت کو نہایت طاقتور اور مضبوط کر دے گی اور اسلام نے اِسی کا حکم دیا ہے۔
اب رہا مذہب اسلام پر آپ کا  یہ اعتراض کہ اس میں عورت کی وراثت مرد کی وراثت سے نصف ہوتی ہے تو یہ ایک فضول اعتراض ہے کیونکہ اسلام میں مرد پر ایسی مالی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن سے عورت آزاد ہے مثلاً حق مہر کی ادائیگی، بیوی بچوں کا خرچ، غریب ماں باپ کی ذمہ داری اور یہ سب کچھ اس ذمہ داری کے علاوہ ہے جو ان کی حمایت و حفاظت اور ان کی طرف سے دفاع سے متعلق ہے۔ اس لئے اسے مال کی زیادہ ضرورت ہے بخلاف عورت کے کہ اسے مرد کی نسبت مال کی بہت تھوڑی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر تقی الدین ہلالیؔ   اور مولانا عبد السلام کیلانیؔ مدنی
Advertisements
2 comments
  1. Asif Siddiqui said:

    Please remove my id from your spam mail thanks

    Date: Tue, 12 Feb 2013 09:42:33 +0000
    To: masif1979@hotmail.com

    • میں نے تو آپ کو کئی میل نہیں بھیجی محترم
      آپ نے سبکرائب کیا ہو گا
      اپنا پاسورڈدیجئے کوشش کروں گی انسبکرائب کرنے کی

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: