حضرت موسى علیہ السلام -7

بے نظیر غصہ
اس موقع پر حضرت موسى علیہ السلام كو غصہ كرنا چاہئے تھا اور ایك شدید ردّ عمل ظاہر كر ناچا ہئے تھا تاكہ بنى اسرائیل كے فاسد افكار كى بنیاد گر اكر اس منحرف قوم میں انقلاب برپا كردیں ،ورنہ تو اس قوم كو پلٹانا مشكل تھا۔
قرآن نے حضرت موسى علیہ السلام كا وہ شدید ردّ عمل بیان كیا ہے جو اس طوفانى و بحرانى منظركو دیكھنے كے بعد ان سے ظاہر ہوا ،موسى علیہ السلام نے بے اختیار نہ طور پر اپنے ہاتھ سے توریت كى الواح كو زمین پر ڈال دیا اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام كے پاس گئے اور ان كے سر اور داڑھى كے بالوں كو پكڑكر اپنى طرف كھینچا”(سورہ اعراف 150)
حضرت موسى علیہ السلام نے اس كے علاوہ ہارون علیہ السلام كو بڑى شدت سے سرزنش كى اور بآواز بلند چیخ كرپكارے:
كیا تم نے بنى اسرائیل كے عقائدكى حفاظت میں كوتاہى كى اور میرے فرمان كى مخالفت كى ؟”(سورہ طہ آیت 150)
درحقیقت حضرت موسى علیہ السلام كا یہ ردّ عمل ایك طرف تو ان كى اس واردات قلبی، بے قرارى اور شدید ناراضى كى حك آیت كرتا ہے تاكہ بنى اسرائیل كى عقل میں ایك حركت پیدا ہو اور وہ اپنے اس عمل كى قباحت كى طرف متوجہ ہوجائیں ۔
بنابریں اگرچہ بالفرض الواح توریت كا پھینك دینا قابل اعتراض معلوم ہوتا ہو، اور بھائی كى شدید سرنش نادرست ہو لیكن اگرحقیقت كى طرف توجہ كى جائے كہ اگر حضرت موسى علیہ السلام اس شدید اور پرہیجانى ردّ عمل كا اظہار نہ كرتے تو ہر گز بنى اسرائیل اپنى غلطى كى سنگینى اور اہمیت كا اندازہ نہیں كرسكتے تھے ،ممكن تھا كہ اس بت پرستى كے آثاربدان كے ذہنوں میں باقى رہ جاتے لہذا حضرت موسى علیہ السلام نے جو كچھ كیا وہ نہ صرف غلط نہ تھا بلكہ امر لازم تھا۔
حضرت موسى علیہ السلام اس واقعہ سے اس قدر ناراض ہوئے كہ تاریخ بنى اسرائیل میں كبھى اس قدر ناراض نہ ہوئے تھے كیونكہ ان كے سامنے بدترین منظر تھا یعنى بنى اسرائیل خدا پرستى كو چھوڑ كر گوسالہ پرستى اختیار كرچكے تھے جس كى وجہ سے حضرت موسى علیہ السلام كى وہ تمام زحمتیں جو انہوں نے بنى اسرائیل كى ہد آیت كے لئے كى تھیں سب برباد ہورہى تھیں ۔
لہذا ایسے موقع پر الواح كا ہاتھوں سے گرجانا اور بھائی سے سخت مواخذہ كرنا ایك طبعى امر تھا۔
اےمیرى ماں كے بیٹے میں بے گناہ ہوںاس شدید رد عمل اور غیظ وغضب كے اظہارنے بنى اسرائیل پر بہت زیادہ تربیتى اثر مرتب كیا اور منظر كو بالكل پلٹ دیا جبكہ اگر حضرت موسى علیہ السلام نرم زبان استعمال كرتے تو شاید اس كا تھوڑا سا اثر بھى مرتب نہ ہوتا ۔
اس كے بعد قرآن كہتا ہے : ہارون علیہ السلام نے موسى علیہ السلام كى محبت كو برانگیختہ كرنے كے لئے اور اپنى بے گناہى بیان كرنے كے لئے كہا:
”اے میرے ماں جائے:اس نادان امت كے باعث ہم اس قدر قلیل ہوگئے كہ نزدیك تھا كہ مجھے قتل كردیں لہذا میں بالكل بے گناہ ہوں لہذا آپ كوئی ایسا كام نہ كریں كہ دشمن ہنسى اڑائیں اور مجھے اس ستمگر امت كى صف میں قرار نہ دیں ”۔( سورہ اعراف آیت 151)
قرآن میں جو ” ابن ام” كى تعبیر آئی ہے جس كے معنى (اے میرى ماں كے بیٹے،كے ہیں )حالانكہ موسى علیہ السلام اورہارون علیہ السلام دونوں ایك والدین كى اولاد تھے یہ اس لئے تھا كہ حضرت ہارون چاہتے تھے كہ حضرت موسى كا جذبہ محبت بیدار كریں بہر حال حضرت موسى علیہ السلام كى یہ تدبیر كار آمد ہوئی اور بنى اسرائیل كو اپنى غلطى كا احساس ہوا اور انہوں نے توبہ كى خواہش كا اظہار كیا ۔”
اب حضرت موسى علیہ السلام كى آتش غضب كم ہوئی اور وہ درگاہ خداواندى كى طرف متوجہ ہوئے اور عرض كى :
”پروردگارا مجھے اور میرے بھائی كو بخش دے اور ہمیں اپنى رحمت بے پایاں میں داخل كردے، تو تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے”۔ (سورہ اعراف آیت 150)
اپنے لئے اور اپنے بھائی كے لئے بخشش طلب كرنا اس بناپر نہیں تھا كہ ان سے كوئی گناہ سرزد ہوا تھا بلكہ یہ پروردگار كى بارگاہ میں ایك طرح كا خضوع وخشوع تھا اور اس كى طرف بازگشت تھى اور بت پرستوں كے اعمال زشت سے اظہار تنفر تھا ۔( قران اور موجود ہ توریت كا ایك موازنہ)
جیسا كہ آیات سے معلوم ہوتا ہے كہ ” گوسالہ ” كو نہ تو بنى اسرائیل نے بنایا تھا نہ حضرت ہارون علیہ السلام نے ،بلكہ بنى اسرائیل میں سے ایك شخص سامرى نے یہ حركت كى تھی، جس پر حضرت ہارون علیہ السلام جو حضرت موسى علیہ السلام كے بھائی اور ان كے معاون تھے خاموش نہ بیٹھے بلكہ انہوں نے اپنى پورى كوشش صرف كی، انہوں نے اتنى كوشش كى كہ نزدیك تھا كہ لوگ انہیں قتل كردیتے ۔ لیكن عجیب بات یہ ہے كہ موجودہ توریت میں گوسالہ سازى اور بت پرستى كى طرف دعوت كو حضرت ہارون علیہ السلام كى طرف نسبت دى گئی ہے، چنانچہ توریت كے سفر خروج كى فصل 32 میں یہ عبارت ملتى ہے:
جس وقت قوم موسى نے دیكھا كہ موسى كے پہاڑسے نیچے اترنے میں دیر ہوئی تو وہ ہارون كے پاس اكٹھا ہوئے اور ان سے كہا اٹھو اور ہمارے لئے ایسا خدا بنائو جوہمارے آگے آگے چلے كیونكہ یہ شخص موسى جو ہم كو مصر سے نكال كریہاں لایا ہے نہیں معلوم اس پر كیا گذری، ہارون نے ان سے كہا: طلائی بندے (گوشوارے) جو تمہارى عورتوں اور بچوں كے كانوں میں ہیں انہیں ان كے كانوں سے اتار كر میرے پاس لاو ،پس پورى قوم ان گوشواروں كو كانوں سے جدا كر كے ہارون كے پاس لائی، ہارون نے ان گوشواروں كو ان لوگوں كے ہاتھوں سے لیا اور كندہ كرنے كے ایك آلہ كے ذریعے تصویر بنائی اور اس سے ایك گوسالہ كا مجسمہ ڈھالااور كہا كہ اے بنى اسرائیل یہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں سرزمین مصر سے باہر لایا ہے ”
اسى كے ذیل میں ان مراسم كوبیان كیا گیا ہے جوحضرت ہارون نے اس بت كے سامنے قربانى كرنے كے بارے میں بیان كئے تھے ۔
جو كچھ سطور بالا میں بیان ہوا یہ بنى اسرائیل كى گوسالہ پرستى كى داستان كا ایك حصہ ہے جو توریت میں مذكورہے اس كى عبارت بعینہ نقل كى گئی ہے حالانكہ خود توریت نے حضرت ہارون كے مقام بلندكومتعدد فصول میں بیان كیا ہے ان میں سے ایك یہ ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام كے معجزات حضرت ہارون علیہ السلام كے ذریعے ظاہر ہوئے تھے (فصل 8 از سفر خروج توریت ) اور ہارون علیہ السلام كا حضرت مو سى علیہ السلام كے ایك رسول كى حیثیت سے تعارف كروایا گیا ہے۔ (فصل 8 از سفر خروج)
طلائی گوسالہ سے كس طرح آواز پیدا ہوئی؟
سامرى جو كہ ایك صاحب فن انسان تھا اس نے اپنى معلومات سے كام لے كر طلائی گوسالہ كے سینے میں كچھ مخصوص نل (PIPE) اس طرح مخفى كردیئے جن كے اندر سے دبائو كى وجہ سے جب ہوا نكلتى تھى تو گائے كى آواز آتى تھى ۔
كچھ كاخیال ہے كہ گوسالہ كا منہ اس طرح كا پیچیدہ بنایا گیا تھا كہ جب اسے ہوا كے رخ پرركھا جاتاہے تھا تو اس كے منہ سے یہ آوازنكلتى تھی۔
قرآن میں پڑھتے ہیں كہ جناب موسى نے سامرى سے بازپرس شروع كى اور كہا :”یہ كیا كام تھا كہ جوتونے انجام دیا ہے اور اے سامرى : تجھے كس چیزنے اس بات پر آمادہ كیا۔
اس نے جواب میں كہا :”میں كچھ ایسے مطالب سے آگاہ ہوا كہ جو انہوں نے نہیں دیكھے اور وہ اس سے آگاہ نہیں ہوئے ”۔
بہركیف حضرت ہارون علیہ السلام جو حضرت موسى علیہ السلام كے جانشین برحق تھے اور ان كى شریعت كے سب سے بڑے عالم وعارف تھے توریت ان كے لئے مقام بلند كى قائل ہے اب ذراان خرافات كو بھى دیكھ لیجئے كہ انہیں ایك بت سازہى نہیں بلكہ ایك مئوسس بت پرستى كى حیثیت سے روشناس كرایا ہے بلكہ ”عذر گناہ بد تراز گناہ” كے مقولہ كے مطابق ان كى جانب سے ایك غلط عذر پیش كیا كیونكہ جب حضرت موسى علیہ السلام نے ان پر اعتراض كیا تو انہوں نے یہ عذر پیش كیا كہ چونكہ یہ قوم بدى كى طرف مائل تھى اس لئے میں نے بھى اسے اس راہ پرلگادیا جبكہ قرآن ان دونوں بلند پایہ پیغمبروں كو ہر قسم كے شرك اور بت پرستى سے پاك وصاف سمجھتا ہے ۔ صرف یہى ایك مقام نہیں جہاں قرآن تاریخ انبیاء ومرسلین كى پاكى وتقدس كا مظہرہے جبكہ موجودہ توریت كى تاریخ انبیاء ومرسلین كى ساحت قدس كے متعلق انواع واقسام كى خرافات سے بھرى ہوئی ہے ہمارے عقیدہ كے مطابق حقانیت واصالت قرآن اور موجودہ توریت وانجیل كى تحریف كو پہچاننے كا ایك
طریقہ یہ بھى ہے كہ ان دونوں میں انبیاء كى جو تاریخ بیان كى گئی ہے اس كا موازنہ كرلیا جائے اس سے اپنے آپ پتہ چل جائیگا كہ حق كیا ہے اور باطل كیا ہے ؟
میں نے ایك چیزخدا كے بھیجے ہوئے رسول كے آثار میں سے لى اور پھر میں نے اسے دور پھینك دیا اور میرے نفس نے اس بات كو اسى طرح مجھے خوش نما كركے دكھایا”(سورہ طہ آیت 96)
اس بارے میں كہ اس گفتگو سے سامرى كى كیا مراد تھی، مفسرین كے درمیان دوتفسیریں مشہور ہیں : پہلى یہ كہ اس كا مقصد یہ تھا كہ فرعون كے لشكر كے دریائے نیل كے پاس آنے كے موقع پر میں نے جبرئیل كو ایك سوارى پر سوار دیكھا كہ وہ لشكر كو دریا كے خشك شدہ راستوں پر ورود كےلئے تشویق دینے كى خاطران كے آگے آگے چل رہاتھا میں نے كچھ مٹى ان كے پائوں كے نیچے سے یاان كى سوارى كے پائوں كے نیچے سے اٹھالى اور اسے سنبھال كر ركھا اور اسے سونے كے بچھڑے كے اندارڈالا اور یہ صدا اسى كى بركت سے پیدا ہوئی ہے ۔
دوسرى تفسیر یہ ہے كہ میں ابتداء میں میں خدا كے اس رسول (موسى )كے كچھ آثار پر ایمان لے آیا اس كے بعد مجھے اس میں كچھ شك اور تردد ہوا لہذا میں نے اسے دور پھینك دیا اور بت پرستى كے دین كى طرف مائل ہوگیا اور یہ میرى نظر میں زیادہ پسندیدہ اورزیبا ہے ۔
سامرى كى سزا
یہ بات صاف طور پر واضح اور روشن ہے كہ موسى كے سوال كے جواب میں سامرى كى بات كسى طرح بھى قابل قبول نہیں تھی،لہذا حضرت موسى علیہ السلام نے اس كے مجرم ہونے كا فرمان اسى عدالت میں صادر كر دیا اور اسے اس گوسالہ پرستى كے بارے میں تین حكم دیئے۔
پہلا حكم یہ كہ اس سے كہا” تو لوگوں كے درمیان سے نكل جا اور كسى كے ساتھ میل ملاپ نہ كر اور تیرى باقى زندگى میں تیرا حصہ صرف اتنا ہے كہ جو شخص بھى تیرے قریب آئے گا تو اس سے كہے گا ” مجھ سے مس نہ ہو” ۔( سورہ طہ آیت 97)
اس طرح ایك قاطع اور دوٹوك فرمان كے ذریعے سامرى كو معاشرے سے باہر نكال پھینكا اور اسے مطلق گوشہ نشینى میں ڈال دیا ۔
بعض مفسرین نے كہا ہے كہ ” مجھ سے مس نہ ہو” كا جملہ شریعت موسى علیہ السلام كے ایك فوجدارى قانون كى طرف اشارہ ہے كہ جو بعض ایسے افراد كے بارے میں كہ جو سنگین جرم كے مرتكب ہوتے تھے صادر ہوتا تھا وہ شخص ایك ایسے موجود كى حیثیت سے كہ جو پلید ونجس وناپاك ہو، قرار پاجاتا تھا كوئی اس سے میل ملاپ نہ كرے اور نہ اسے یہ حق ہوتا تھا وہ كسى سے میل ملاپ ركھے ۔
سامرى اس واقعے كے بعد مجبور ہوگیا كہ وہ بنى اسرائیل اور ان كے شہر ودیار سے باہر نكل جائے اور بیابانوں میں جارہے اور یہ اس جاہ طلب انسان كى سزا ہے كہ جو اپنى بدعتوں كے ذریعے چاہتا تھا كہ بڑے بڑے گروہوں كو منحرف كركے اپنے گرد جمع كرے، اسے نا كام ہى ہونا چاہئے یہاں تك كہ ایك بھى شخص اس سے میل ملاپ نہ ركھے اور اس قسم كے انسان كےلئے یہ مكمل بائیكاٹ موت اور قتل ہونے سے بھى زیادہ سخت ہے كیونكہ وہ ایك پلید اور آلودہ وجود كى صورت میں ہر جگہ سے راندہ اور دھتكارا ہوا ہوتا ہے ۔
بعض مفسرین نے یہ بھى كہا ہے كہ سامرى كا بڑا جرم ثابت ہوجانے كے بعد حضرت موسى نے اس كے بارے میں نفرین كى اور خدا نے اسے ایك پر اسرار بیمارى میں مبتلا كردیا كہ جب تك وہ زندہ رہا كوئی شخص اسے چھو نہیں سكتا تھا اور اگر كوئی اسے چھولیتا تو وہ بھى بیمارى میں گرفتار ہوجاتا ۔یایہ كہ سامرى ایك قسم كى نفسیاتى بیمارى میں جو ہر شخص سے وسواس شدید اور وحشت كى صورت میں تھى ;گرفتار ہوگیا، اس طرح سے كہ جو شخص بھى اس كے نزدیك ہوتا وہ چلاتا كہ” مجھے مت چھونا”۔سامرى كے لئے دوسرى سزا یہ تھى كہ حضرت موسى علیہ السلام نے اسے قیامت میں ہونے والے عذاب كى بھى خبردى اور كہا تیرے آگے ایك وعدہ گاہ ہے، خدائی دردناك عذاب كا وعدہ كہ جس سے ہرگز نہیں بچ سكے گا ”(سورہ طہ آیت 97)
تیسرا كام یہ تھا كہ جو موسى علیہ السلام نے سامرى سے كہا: ” اپنے اس معبود كو كہ جس كى تو ہمیشہ عبادت كرتا تھا ذرا دیكھ اور نگاہ كر ہم اس كو جلا رہے ہیں اور پھر اس كے ذرات كو دریا میں بكھیردیں گے ”(تاكہ ہمیشہ كے لئے نابود ہوجائے)( سورہ طہ آیت 97)
( سامرى كون ہے ؟اصل لفظ ” سامری” عبرانى زبان میں ” شمرى ” ہے اور چونكہ یہ معمول ہے كہ جب عبرانى زبان كے الفاظ عربى زبان میں آتے ہیں تو ” شین” كا لفظ ”سین” سے بدل جاتا ہے ، جیسا كہ ” موشى ” ”موسی” سے اور ” یشوع” ” یسوع” سے تبدیل ہوجاتاہے اس بناء پر سامرى بھى ” شمرون ” كى طرف منسوب تھا’ اور” شمرون” ” یشاكر” كا بیٹا تھا، جو یعقوب كى چوتھى نسل ہے ۔اسى سے یہ بات بھى واضح ہوجاتى ہے كہ بعض عیسائیوں كا قرآن پر یہ اعتراض بالكل بے بنیادہے كہ قرآن نے ایك ایسے شخص كو كہ جو موسى علیہ السلام كے زمانے میں رہتا تھا اور وہ گوسالہ پرستى كا سر پرست بنا تھا ،شہر سامرہ سے منسوب ”سامری”كے طورپر متعارف كرایا ہے، جب كہ شہر سامرہ اس زمانے میں بالكل موجود ہى نہیں تھا ،كیونكہ جیسا كہ ہم بیان كرچكے ہیں كہ ”سامرى ” شمرون كى طرف منسوب ہے نہ كر سامرہ شہر كى طرف ۔
بہرحال سامرى ایك خود خواہ اور منحرف شخص ہونے كے باوجود بڑا ہوشیار تھا وہ بڑى جرا ت اور مہارت كے ساتھ بنى اسرائیل كے ضعف كے نكات اور كمزورى كے پہلوئوں سے استفادہ كرتےہوئے اس قسم كا عظیم فتنہ كھڑا كرنے پرقادر ہوگیا كہ جو ایك قطعى اكثریت كے بت پرستى كى طرف مائل ہونے كا سبب بنے اور جیسا كہ ہم نے دیكھا ہے كہ اس نے اپنى اس خود خواہى اور فتنہ انگیزى كى سزا بھى اسى دنیا میں دیكھ لى ۔” )
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: