خواتین کی تعلیم و تربیت-3

اَوّل الذکر رائے کی غلطی:
پہلے رائے رکھنے والوں سے تو میرا یہ کہنا ہے کہ آپ کا عورت کو تعلیم سے بالکل منع کر دینا یا صرف سادہ قرآن مجید کی تعلیم تک محدود رکھنا جادۂ مستقیم سے بہت دور ہے، کیونکہ یہ نہ تو اسلامی رائے ہے اور نہ ہی یہ عقل اور سائنس کا تقاضا ہے، خواہ تم اس اسلام کا نام دیتے رہو اور اسی پر تفریعات (فروعی مسائل) پیدا کرتے رہو (یہ اسلامی نہیں ہو سکتی) حتیٰ کہ آپ نے (اپنی رائے کو مضبوط کرنے کے لئے) محدثین کے نزدیک ایک کمزور ترین اور ساقط الاعتبار حدیث سے حجت پکڑی یہ تو بلحاظِ روایت ہے، اور اگر سند سے قطع نر صرف معنی کی طرف غور کریں تو وہ بھی اس حدیث کے بطلان کا غماز ہے، کیونکہ ازواج مطہرات امہات المؤمنین بھی خواندہ تھیں، ان کے علاوہ اور بھی کئی صحابیات تابعیات اسی طرح وہ محدثات و حافظات خواتین ۔۔۔ جن سے محدثین کرام روایات اخذ کرتے تھے۔ بھی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں حتیٰ کہ کتب اسماء الرجال (وہ کتابیں جن میں حدیث کے راویوں کے حالات زندگی پر تبصرہ ہوتا ہے) مثلاً تہذیب التہذیب، میزان الاعتدال، لسان المیزان، خلاصہ تذہیب الکمال اور ان سے پہلے طبقات ابن سعد اور کئی دوسری کتب تاریخ و رجال میں بے شمار عالم، فقیہ اور ادیب عورتوں کے حالات زندگی درج میں۔ اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ چار دانگ عالم میں اسلامی عظمت کا ڈنکا بج رہا تھا اور دشمنانِ اسلام ذلت اور شکست سے دو چار تھے۔
ہاں وہ متأخرین آباؤ اجداد جن کے اتباع میں آپ اپنی عورتوں کو جہالت کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے ہیں، وہ کبھی بھی اتباع کے اہل ہی نہ تھے، کیونکہ ان کا زمانہ جہالت کا دوسرا دور تھا، اور آج اسلام جن مصائب سے دو چار ہے وہ ان ہی کی کرم فرمائیوں کا نتیجہ ہے، اس کے باوجود میں یہ بات تسلیم کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں کہ آپ کےآباؤ اجداد میں اہل علم حضرات بھی ایسی نکمی باتیں کیا کرتے تھے اور یہ تسلیم کیونکر کروں کیونکہ ان کے دور میں بھی ادیب اور عالم عورتیں اگرچہ تعداد میں بہت کم تھیں لیکن خیر و برکت کا وجود بالکل عنقاء نہیں تھا۔ آپ کا یہ مزعومہ کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور جب عورت اس زبان سے ناواقف ہو، اور سخت قسم کے پردے میں ملبوس رہے تو ہر دو زبان کے شر سے محفوظ رہے گی، تو یہ سخت غلطی ہے، کیا آپ لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ جس عورت کی تربیت غلط ہو خواہ وہ گونگی بہری ہی کیوں نہ ہو اور کسی ڈبیہ میں ہی بند کیوں نہ ہو اس کی حفاظت نا ممکن ہو جاتی ہے لیکن جو لڑکی عفت اور پاکدامنی میں پروان چڑھتی ہو وہ پردوں میں رہ کر بھی بغیر کسی شک و شبہ کے برائی سے بچ جاتی ہے، چنانچہ خواتین (غلبۂ اسلام کے دور میں) میدانِ جنگ میں اپنے مردوں کے ساتھ ہوتیں، اوررسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواجِ مطہرات بھی غزوات اور حج میں ہم سفر ہوتیں، صحابہ کرامؓ کی بیگمات اپنے گھروں کی چار دیواری میں ہی پردہ نشین ہو کر ہی نہ بیٹھی رہتیں بلکہ ضرورت پڑنے پر گھروں سے باہر آجاتیں، گھوڑوں کو چارہ ڈالتیں،اپنی ملکیت میں محنت کرتیں، اور عورتیں رسول اللہ (ﷺ) کے بعد بھی جنگوں میں شریک ہوئیں، یہ سب کچھ کتب حدیث میں مذکور ہے، جنہیں ذکر کر کے مضمون کو طول نہیں دینا چاہئے اور یہ تمام امور ان عورتوں کے پختہ ایمان اور کمال عفت کی وجہ سے ان کے لئے نقصان دہ نہ ہوئے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ صرف تعلیم نہ تو عورت کو نیک بناتی ہے اور نہ ہی برائی کی طرف رغبت دیتی ہے۔ اگر وہ خود نیک ہوئی تو یہ تعلیم اس کو نیکی کے ہتھیاروں سے مسلح کر دے گی۔ اور اگر اس کی تربیت غلط ہوئی تو تعلیم کے بعد اور بگڑ جائیں گے، کیونکہ خواندگی اور لکھنے کا ڈھنگ ایک آلہ کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں اچھے برے ہر مقام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رہا سورۂ نورہ کی تعلیم، تو یہ اخلاق و آداب سکھانے کا بہترین گر ہے، یہ بیش قیمت ذخیرہ اور بہت بڑا خزانہ ہے، لیکن نوجوان لڑکی کو چاہئے کہ قرآن مجید کی دوسری سورتوں کی علیم سے بھی غافل نہ ہو، پھر تعلیم قرآن قرأت کے بغیر ناممکن ہے، جو معرفت معانی اور مفاہیم کے بغیر نتیجہ خیز نہیں اور یہ (یعنی معانی و تفسیر) صرف، نحو اور لغت کے علوم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے، جنہیں حاصل کرنے کے لئے پڑھنا لکھنا سیکھنا ضروری ہے، جس سے تم نے منع کیا تھا۔ اور یہ تناقض ہے جس کا تمہیں احساس بھی نہیں ایسے ہی لوگوں کے ہے: (صحیح کرے تو بھی ناواقفیت میں، غلط کرے تو بھی لاعلمی میں جہالت اور بیوقوفی اسی کا نام ہے۔)
تکلہ کی تعلیم یہ چیز تو اچھی ہے، لیکن معاشرہ میں اس سے زیادہ اہمیت کم از کم امور خانہ داری اصول حفظان صحت اور تیمار داری وغیرہ کو حاصل ہے۔آپ کا یہ کہنا بجا ہے کہ نوجوان لڑکی اِس زمانے میں اگر خواندہ ہو تو مخرب الاخلاق اخبارات اور رسائل پڑھ کر مختلف قسم کی بری چیزیں اس کے ذہن میں سرایت کر جاتی ہیں، لیکن ان پڑھ عورت کو بھی ایسی واقفیت سینما بینی سے حاصل ہو سکتی ہے، خواہ اپنے نگران کی غیر حاضری سے فائدہ اُٹھا کر ایک ہی فرصت میں حاصل کر سکے۔ یہی خبریں اسے ریڈیو کے ذریعے بھی پہنچ سکتی ہیں،
اسی طرح یہی خیالات مہمان خواتین کی آمدورفت اور گفت و شنید سے بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جب فضا ہی خراب ہو جائے تو عزلت پسند کو اس کی علیحدگی فائدہ نہیں دے گی۔دراصل کرنے کا کام جو ہے وہ یہ ہے کہ تعلیم نسواں کی کلیۃً مخالفت کی بجائے ان کے موجودہ نصاب تعلیم پر تنقید کر کے اور اصلاحی تجاویز پیش کر کےحکومت سے ایسے مکمل نصاب تعلیم کے نفاذ کا مطالبہ کریں جس میں نوجوان لڑکیوں کی صحیح تربیت کی ضمانت ہو، تو یہ نہایت ہی موزوں ہو گا۔
ڈاکٹر تقی الدین ہلالیؔ اور مولانا عبد السلام کیلانیؔ مدنی
جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: