مولانا عزیز زبیدیؒ-1

پیدائش
مولانا عزیز زبیدیؒ صاحب موضع ساون والی بستی، تحصیل علی پور، ضلع مظفرگڑھ میں یکم فروری ۱۹۲۱ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام قاری فتح محمد تھا۔ گھرانہ دیندار تھا، اوائل عمر میں ہی والد ِگرامی انتقال کرگئے۔بہت چھوٹی عمر میں آپ کو یہ صدمہ اُٹھاناپڑا۔آپ جٹ خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو صدیوں پہلے بستی ساون والی میں منتقل ہوگیا تھا۔
تعلیم وتربیت
مدرسہ ’قاسم العلوم‘ ملتان میں ابتدائی کلاس میں مولانا محمد شفیع سے تفسیر، فقہ، اُصولِ فقہ، نحو، منطق اور دوسرے فنون کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کی سکول کی تعلیم باریکسی کو کچھ معلوم نہیں ، البتہ تقریباً ۹؍سال کی عمر میں آپ نے درسِ نظامی میں داخلہ لے لیا اور ۳۷-۱۹۳۶ء میں آپ بخاری شریف کی تعلیم سے فارغ ہوئے، کچھ عرصہ مولانا عبدالتواب ملتانیؒ کے پاس بھی پڑھتے رہے۔ وہ آپ کو بہت پسند کرتے اور ہونہار شاگردوں میں تصور کرتے تھے۔مولانا سلطان محمود سے جلال پور پیروالہ میں پڑھتے رہے۔جلال پور میں آپ کی کلاس اس مدرسہ کا پہلا سال تھا۔۱۹۴۰ء میں آپ دارالعلوم زبیدیہ میں دورۂ حدیث کے لیے چلے گئے اور اسی کی نسبت سے زبیدی لکھاکرتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے اورینٹل کالج لاہور میں داخلہ لے لیا اور ۹؍ فروری ۱۹۴۵ء میں ۳۵۲ نمبروں سے مولوی فاضل کیا۔مولاناکہیں بھی رہے، خوب محنت سے پڑھتے رہے اور کبھی کسی اُستاد کوشکایت کاموقع نہ دیا۔ان کی محنت وذہانت سے سب اَساتذہ خوش تھے۔آپ جہاں بھی تحصیل علم کے لیے گئے،اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور دوسرے شاگردوں میں ہمیشہ ممتاز رہے ۔
اَساتذہ
آپ کے قابل ذکر اَساتذہ میں سے احمد اللہ صاحب دہلوی جوکہ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلویؒ کے شاگرد تھے، شامل ہیں ۔ ان سے خوب کسبِ فیض کیا اور ان کے علاوہ مولاناعبدالتواب ملتانی (مترجم بلوغ المرام) سے سنن اَربعہ پڑھیں ۔ مولانا سلطان محمودؒ بھی آپ کے اَساتذہ میں سے ہیں ۔ ان کے پاس آپ نے شرح الفیہ از عراقی وغیرہ پڑھیں ۔ان کے علاوہ مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔
قبول مسلک ِاہل حدیث اور شادی خانہ آبادی
آپ مولاناسلطان محمودؒسے ان دنوں علم حاصل کرنے میں مصروف تھے،آپ کی ذہانت پر مولاناسلطان محمود مطمئن تھے۔مولاناسلطان محمود کی دعوت پر آپ نے اہل حدیث مسلک قبول کیا اور تامرگ اسی مسلک کے پرچارک رہے۔انہی دنوں جب آپ مولاناسلطان محمودکے پاس حصولِ علم کے مراحل طے کررہے تھے،ایک آدمی آیا اور مولاناسلطان محمود سے کہنے لگا کہ میں اس لڑکے سے اپنی بیٹی کا رشتہ کرناچاہتا ہوں اور اس طرح زبیدی صاحب رشتۂ اِزدواج میں منسلک ہوگئے۔
منڈی واربرٹن آمد
آپ غالباً ۱۹۴۸ء میں واربرٹن کے ہائی سکول میں ملازمت ملنے پر منتقل ہوگئے۔ واربرٹن میں تقسیم کے وقت چھوڑی گئی سکھوں اور ہندوؤں کی بہت سی املاک بڑی بڑی عمارتوں کی صورت میں موجود تھیں ۔اس وقت کا ہائی سکول راجہ سندر داس کا گھر ہوا کرتا تھا اور وہیں سکول کی کلاسوں کا انعقاد ہوتا تھا۔مولانا کی واربرٹن آمد اور اس کے بعد ہونے والے واقعات سے قبل مناسب ہوگا کہ واربرٹن کی دعوتی لحاظ سے تاریخی حیثیت کا ذکر کیا جائے۔واربرٹن اس وقت چندہزار نفوس پرمشتمل ایک چھوٹا سا قصبہ تھا اور اس میں زیادہ تر مہاجر لوگ آبادتھے جو تقسیم کے وقت پاکستان ہجرت کرکے آئے تھے۔ اب تو اس کی آبادی کئی گنا زیادہ ہوگئی ہے۔ سنجیدہ خاندانوں کی اکثریت کی وجہ سے واربرٹن کا مذہبی ماحول دوسرے شہروں کی نسبت قدرے سلجھا ہوا تھا۔ اس شہر کی روایت ہے کہ یہاں کے باسی شروع سے ہی حقیقت پسند واقع ہوئے اور اہل حق کو اگر اس علاقہ میں ، جس کے مضافات میں دیہات ہی دیہات ہیں ، دین کی آبیاری کی جگہ نظر آئی تو یہی شہر واربرٹن تھا۔ ضلع شیخوپورہ(ننکانہ) میں اہل توحید نے اس سرزمین کو ہموار پایا اور اسے اپنی سرگرمیوں کامرکز بنانے کی کوشش کی۔مولانا نے اپنی دینی، تعلیمی و تبلیغی صلاحیتوں سے واربرٹن کے لوگوں کے دل جیت لیے تھے۔ لوگوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے آپ نے مسلک اہلحدیث کو متعارف کروانے کے لیے جماعت اِسلامی کو ذریعہ بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے بیسیوں لوگ آپ کے ہم نوا بن گئے
او لادِ خانہ
اولاد نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی بیوی نے آپ کو مشورہ دیاکہ وہ دوسری شادی کرلیں جس پر مولانانے تقریباً ۱۹۵۰ء میں دوسری شادی کرلی،دوسری بیوی کا تعلق ملتان سے تھا۔اس کے بطن سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام جاوید رکھا گیا۔ نباہ نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی علیحدگی ہوگئی۔شریف الطبع ہونے کے سبب مولانا نے خوش دلی سے بچہ اپنی بیوی کے حوالے کردیا۔ آج سے ۲۹سال پہلے ملک برادری کے گھرانے سے ایک بچہ متبنیٰ بنایاجس کا نام مرتضیٰ تھا۔ تامرگ یہی بیٹا ان کے ساتھ رہا،لیکن افسوس کہ مولانا کی طرح دینی علم حاصل نہ کر سکا۔آپ اکثر خواہش کا اظہار کرتے رہے کہ کاش!میری اولاد سے کوئی میری کتابوں کا وارث بنتا۔
جماعت کا قیام
مولانا زبیدی چونکہ جماعت اسلامی سے متاثر تھے اور اس کا پس منظر بقول حافظ احمد شاکر (مدیر ’الاعتصام‘) کچھ یوں تھا:’’جس زمانے میں مولانا حصولِ علم سے فارغ ہوئے، وہ سیاسی و ملّی تحریکات کا دور تھا۔ جمعیۃ علماے ہند، کانگریس، مسلم لیگ، اَحرار، جماعت ِاسلامی اور کمیونسٹ وغیرہ تحریکوں کا زور تھا۔ ہر بیدار مغز،صاحب ِعلم اور ملک وملت کا درد رکھنے والے باشعور نوجوان کسی نہ کسی تحریک سے متاثر ہوتے۔ان کا لٹریچر پڑھتے اور کسی نہ کسی تحریک سے متفق ہوجاتے یا اس کے ہم آہنگ ہوجاتے۔ تحریک قیامِ پاکستان شروع ہونے کے بعد نوجوان مزید مصروف ہوگئے اور اپنا اپنا میدانِ سعی و کاوش منتخب کرلیا۔دین کا علم اور اس سے تعلق رکھتے والے نوجوان جمعیۃ علماے ہند، احرار یا جماعت ِاسلامی میں سے کسی ایک کو پسند کرتے اور اس کی ’خدمت‘ میں مصروف ہوجاتے۔مولانا چونکہ اصحابِ علم میں سے تھے اور مطالعہ ہی ان کا اُوڑھنا بچھونا تھا اور لٹریچر صرف جماعت ِاسلامی ہی کا میسر تھا، اس لیے مولانا ان کا لٹریچر پڑھ کر جماعت ِاسلامی سے اس طرح متاثربلکہ اس پر فریفتہ ہوئے کہ اس کے بعد کوئی دوسری جماعت یامولانا مودودیؒ کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر ان کی نظر میں جچا ہی نہیں ۔ ان کے دل میں جو مقام جماعت اِسلامی کااور جوعقیدت مولانامودودی سے قائم ہوگئی،اس میں وہ کسی کو شریک و سہیم نہ کرسکے۔‘‘ ( ’الاعتصام‘ ۳۰؍مئی ۲۰۰۳)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: