اُمِّ المٔومنین جُوَ یرَ یہ ؓ

برّہ نام، قبیلہ خزاعہ کے خاندان مُصطَلِق سے تھیں۔ نسب نامہ یہ ہے:
برّہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عائد بن مالک بن جذیمہ( مصطلق)۔
ہلا نکاح اپنے ابن عجم عمّ مسافع بن صفوان (ذی شغر) سے ہوا۔ حضرت جویریہ کے والد حارث بنو مصطلق کے سرادر تھے۔ انہوں نے قریش کے اشارے پر اپنے قبیلے کو مدینہ پر حملے کیلئے تیار کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنہ ۵ ہجری ۲ شعبان کو مجاہدین کی ایک جمعیت کے ہمراہ مدینے سے بنو مصطلق کی طرف روانہ ہوئے۔حارث کو مسلمانوں کی پیش قدمی کی اطلاع ملی تو وہ بھاگ گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مریسیع میں قیام کیا۔ یہاں کے لوگوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔ان کے گیارہ آدمی مارے گئے اور چھ سو کے قریب گرفتار ہوئے۔ ان اسیروں میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب مال غنیمت کی تقسیم ہوئی تو وہ حضرت ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں۔ چونکہ قبیلے کے رئیس کی بیٹی تھیں، لونڈی بن کر رہنا گوارا نہ ہوا۔ حضرت ثابت سے گزارش کی مجھ سے کچھ روپیہ لے کر چھوڑدو، وہ راضی ہو گئے اور ۱۹ اوقیہ سونے کا مطالبہ کیا۔
اب حضرت جویریہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: ’’ مصیبت زدہ ہوں، آزاد ہونا چاہتی ہوں ، ازراہ کرم میری مدد فرمائیے۔‘‘ کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ میں تمہارا زر مکاتبت ادا کردوں اور تم سے نکاح کرلوں۔‘‘ حضرت جویریہ فوراً راضی ہو گئیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا زر مکاتبت ادا کرکے ان سے نکاح کر لیا اور ان کا پہلا نام برّہ بدل کر جویریہ نام رکھا۔ ان کے حرم نبوی میں داخل ہوتے ہی صحابہ کرام نے قرابت نبوی کا پاس کرتے ہوئے تمام اسیران جنگ رہا کر دیئے۔ ابن اثیر کا بیان ہے کہ اس موقع پر بنو مصطلق کے سو خاندان آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہوئے۔ اس واقعہ سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’ میں نے جویریہ سے بڑھ کر کسی عورت کو اپنے قبیلے کیلئے باعث رحمت نہیں پایا۔‘‘

ابن اثیر کا بیان ہے کہ حضرت جویریہ کے والد کو خبر ملی کہ بیٹی لونڈی بنا لی گئی تو وہ بہت سا مال واسباب اونٹوں پر لاد کر بیٹی کی رہائی کیلئے عازم مدینہ ہوئے۔ راستے میں دو اونٹ جو ان کو بہت پسند تھے، عقیق کے مقام پر کسی گھاٹی میں چھپا دیئے اور باقی اسباب اور اونٹ لے کر مدینہ پہنچے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ’’ آپ میری بیٹی کو قید کر لائے ہیں، یہ تمام مال و اسباب لے لیں اور اسے رہا کردیں۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب سے اطلاع ملی کہ یہ شخص دو اونٹ چھپا آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ دو اونٹ جو تم چھپا آئے ہو وہ کہاں ہیں؟‘‘
حارث یہ سن کر حیران رہ گئے۔ اسی وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چومے اور بطیّب خاطر اسلام قبول کر لیا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ جویریہ لونڈی نہیں بنائی گئی ہیں بلکہ حرم نبوی میں داخل کرلی گئی ہیں تو بیحد مسرور ہوئے اور شاداں و فرحاں بیٹی سے مل کر گھر واپس گئے۔
ایک اور روایت کے مطابق حارث نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں رئیس عرب ہوں، میری بیٹی لونڈی نہیں بن سکتی، آپ اسکو آزاد کردیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بہتر یہ ہے کہ معاملہ تمہاری بیٹی پر چھوڑ دیا جائے۔‘‘ حارث نے بیٹی سے کہا کہ محمّد نے تیری مرضی پر رکھا ہے، دیکھنا مجھے ذلیل نہ کرنا۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ کی غلامی کو پسند کرتی ہوں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ حارث نے بیٹی کا زرفدیہ ادا کیا اور جب وہ آزاد ہوگئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔
حضرت جویریہ کو عبادت سے نہایت شغف تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لاتے تو انہیں اکثر عبادت میں مشغول پاتے۔ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صبح کے وقت مسجد میں عبادت کرتے دیکھا۔ دوپہر کو پھر ادھر سے گزرے تو حضرت جویریہ کو اسی حالت میں پایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ’’ کیا تم ہمیشہ اسی طرح عبادت کرتی ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ بیشک یا رسول اللہ۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ کلمات پڑھا کرو ان کو تمہاری نفلی عبادت پر ترجیح حاصل ہے۔

سُبْحَانَ اللہِ، سُبْحَانَ اللہِ عَدَدَ خَلْقِہِ سُبْحَانَ اللہِ عَدَدَ خَلْقِہِ سُبْحَانَ اللہِ رِضٰی نَفْسِہِ سُبْحَانَ اللہِ رِضٰی نَفْسِہِ سُبْحَانَ اللہِ زِنَتَہ عَرْشِہِ سُبْحَانَ اللہِ زِنَتَہ عَرْشِہِ سُبْحَانَ اللہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ سُبْحَانَ اللہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہ

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: ’’ کچھ کھانے کو ہے؟‘‘
عرض کیا: ’’ میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا، بس وہی موجود ہے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لے آؤ جس کو صدقہ دیا گیا تھا اس کو پہنچ چکا۔‘‘
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو عزت نفس کی بھی بہت خیال تھا۔ چنانچہ اسیر ہونے پر اپنی آزادی کیلئے انہوں نے حتٰی الامکان پوری کوشش کی۔
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے 65 سال کی عمر میں سنہ 50 ہجری میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے چند احادیث منقول ہیں جن کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل ہیں۔

Advertisements
1 comment
  1. M Kashif said:

    A/alykum
    Aap ki tehreer mai ye part hai k ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: ’’ کچھ کھانے کو ہے؟‘‘
    عرض کیا: ’’ میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا، بس وہی موجود ہے۔‘‘
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لے آؤ جس کو صدقہ دیا گیا تھا اس کو پہنچ چکا
    Ye theek hai bcoz hum ne tau suna hai k nabi pak sallallaho alaihi wassalam aur nabi(sallallaho alaihi wassalam) ki aal pr sadqa ki cheezain jaiz nhi???
    Plz if im wrong correct me
    Jazak ALLAH

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: