وہ جو کعبہ گرانا چاہتے تھے-2

یہ دعائیں مانگ کر حضرت عبد المطلب اور ان کے ساتھی بھی پہاڑوں میں چلے گئے ، اور دوسرے روز ابرہہ مکّے میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا، اور لشکر منیٰ کے قریب وادی مُحَسّرمیں پہنچ گیا جو مکّہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہےتو ابرہہ کا خاص عظیم الجثّہ کوہ پیکر ہاتھی محمود، جو آگے آگے تھا، یکایک بیٹھ گیا۔ اس کو بہت تبر مارے گئے ، آنکھوں سےکچوکےدیےگئے ، یہاں تک کہ اسے زخمی کر دیا گیا، مگر وہ نہ ہلا، اسے جنوب، شمال، مشرق کی طرف موڑ کر چلانے کی کوشش کی جاتی تو وہ دوڑنے لگتا، مگر مکّے کی طرف موڑا جاتا تو وہ فوراًبیٹھ جاتا اور کسی طرح آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ اتنے میں پرندوں گے جھنڈ کے جھنڈ سمندر کے راستے سے آئے جن کی چونچوں میں 1اور پنجوں میں 2،2کنکریاں تھیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے ،کبوتر سے چھوٹے اور پاؤں سرخ رنگ کے تھے۔ اپنی چونچوں اور پنجوں میں سنگریزے لیے ہوئے آئے اور انہوں سے اس لشکر پر اُن سنگریزوں کی بارش کر دی۔ جس پر بھی یہ کنکر گرتے اس کا جسم گلنا شروع ہو جاتا۔ محمد بن اسحاق اور عکرمہ کی روایت ہے کہ یہ چیچک کا مرض تھا اور بلادِ عرب میں سب سے پہلے چیچک اسی سال دیکھی گئی۔ ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ جس پر کوئی کنکری گرتی اسے سخت کھجلی لاحق ہو جاتی اور کھجاتے ہی اس کی جلد پھٹتی اور گوشت جھڑنا شروع ہو جاتا۔ ابن عباس ؓ کی دوسری روایت یہ ہے کہ گوشت اورخون پانی کی طرح بہنے لگتا اور ہڈیاں نکل آتی تھیں۔ خود ابرہہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کا اجسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر رہا تھا اور جہاں سے کوئی ٹکڑا گرتا وہاں سے پیپ اور لہو بہنے لگتا۔ افراتفری میں ان لوگوں نے یمن کی طرف بھاگنا شروع کیا۔
نفیل بن حبیب خثعمی کو، جسے یہ لوگ بدرقہ بنا کر بلادِ خثعم سے پکڑ لائے تھے ، تلاش کر کے انہوں نے کہا کہ واپسی کاراستہ بتائے۔ مگر اس نے صاف انکار کر دیااس بھگدڑ میں جگہ جگہ یہ لوگ گر گر کر مرتے رہے۔
عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ سب کے سب اسی وقت ہلاک نہیں ہو گئے بلکہ کچھ تو وہیں ہلاک ہوئے اور کچھ بھاگتے ہوئے راستے بھر گرتے چلے گئے۔ ابرہہ بھی بلادخثعم پہنچ کر مرا۔ اللہ تعالیٰ نے حبشیوں کو صرف یہی سزا دینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ تین چار سال کے اندر یمن سے حبشی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ فیل کے بعد یمن میں ان کی طاقت بالکل ٹوٹ گئی، جگہ جگہ یمنی سردار علم بغاوت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ، پھر ایک یمنی سردار سیف بن ذی یزن نے شاہ ایران سے فوجی مدد طلب کر لی اور ایران کی صرف 1 ہزار فوج جو 6جہازوں کے ساتھ آئی تھی، حبشی حکومت کا خاتمہ کر دینے کے لیے کافی ہو گئی۔ یہ 575ء کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ مزدلفہ اور منٰی کے درمیان وادی مخصب کے قریب مُحَسّرکےمقام پر پیش آیا تھا۔ صحیح مسلم اور ابو داؤد کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ جب مزدلفہ سے منٰی کی طرف چلے تو مُحَسّر کی وادی میں آپ نے رفتار تیز کر دی۔ امام نووی اسکی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اصحاب الفیل کا واقعہ اسی جگہ پیش آیا تھا۔ اس لیے سنت یہی ہے کہ آدمی یہاں سے جلدی گزر جائے۔ موطا میں امام مالک روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺنےفرمایا کہ مزدلفہ پورا کاپورا ٹھیرنے کا مقام ہے ، مگر مُحَسّر کی وادی میں نہ ٹھیرا جائے۔ نفیل بن حبیب کے جو اشعار ابن اسحاق نے نقل کیے ہیں ان میں وہ اس واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے:
اے رُدَینَہ کاش تو دیکھتی، اور تو نہیں دیکھ سکے گی جو کچھ ہم نے وادی محصب کے قریب دیکھا میں نے اللہ کا شکر کیا جب میں نے پرندوں کو دیکھا اور مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں پتھر ہم پر نہ آ پڑیں ان لوگوں میں سے ہر ایک نفیل کو ڈھونڈ رہا تھا، گویا کہ میرے اوپر حبشیوں کا کوئی قرض آتا تھا ۔
یہ اتنا بڑا واقعہ تھا جس کی تمام عرب میں شہرت ہو گئی اور اس پر بہت سے شعراء نے قصائد کہے۔ ان قصائد میں یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ سب سے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اعجاز قرار دیا اور کہیں اشارۃً و کنایۃً بھی یہ نہیں کہا کہ اس میں اُن بُتوں کا بھی کوئی دخل تھا جو کعبہ میں پوجے جاتے تھے۔
مثال کے طور پر عبد اللہ ابن الزبغریٰ کہا ہے کہ 60 ہزار تھے جو اپنی سرزمین کی طرف واپس نہ جا سکے اور نہ واپس ہونے کے بعد ان کا بیمار (ابرھہ) زندہ رہا) یہاں ان سے پہلے عاد اور جرھم تھے اور اللہ بندوں کے اوپر موجود ہے جو اسے قائم رکھے ہوئے ہے اٹھو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور مکّہ و منٰی کی پہاڑیوں کے درمیان بیت اللہ کے کونوں کو مسح کرو جب عرش والےکی مدد تمہیں پہنچی تو اس بادشاہ کے لشکروں نے ان لوگوں کو اس حال میں پھیر دیا کہ کوئی خاک میں پڑا تھا اور کوئی سنگسار کیا ہوا تھا۔
نُفَیل جو اس واقعہ کا عینی شاہد ہے ،وہ کہتا ہے :
حَمَدْتُ اللہَ اِذَا اَبْصَرْتُ طَیراً میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جب پرندوں کو دیکھا
وَخِفْتُ حِجَارَۃً تُلْقَیْ عَلَیْنَا اورڈرا کہ کوئی پتھر لگ نہ جاۓ جس کی ہم پر بارش ہو رہی تھی اور ابرہہ کی مغلوبی کا ذکر اسطرح کرتا ہے :
اَیْنَ الْمَفَرُّ وَالْاِلٰہُ الطَّا لِبْ اب بھاگ کر کہاں جائیں جب کہ خدا تعاقب کر رہا ہے۔
وَالْاَشْرِمُ الْمَغْلُوْ بُ لَیْسَ الغَلِبْ اور نکٹا (ابرہہ ) مغلوب ہے غالب نہیں۔
(سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۵۳۔ ۵۴ )
یہی نہیں بلکہ حضرت ام ھانی اور حضرت زبیر بن العوام کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریش نے 10 سال (اور بروایت بعض سات سال) تک اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔ ام ھانی کی روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی، حاکم،ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی کتب حدیث میں نقل کی ہے۔ حضرت زبیر کا بیان طبرانی اور ابن مردویہ اور ابن عساقر نے روایت کیا ہے اور اس کی تائید مزید حضرت سعید بن المسیب کی اس مرسل روایت سے ہوتی ہے و خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں درج کی ہے۔ جس سال یہ واقعہ پیش آیا،اہل اسے اسے عام الفیل (ہاتھیوں کا سال) کہتے ہیں اور اسی سال رسول اللہ ﷺ کی ولادت مبارکہ ہوئی۔ محدثین اور مورخین کا اس بات پر قریب قریب اتفاق ہے کہ اصحاب الفیل کاواقعہ
محرم میں پیش آیا تھا اور حضور کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔ اکثریت یہ کہتی ہے کہ آپ کی ولادت واقعۂ فیل کے 50 دن بعد ہوئی۔ مقصودِ کلام جو تاریخی تفصیلات اوپر درج کی گئی ہیں ان کو نگاہ میں رکھ کر سورۂ فیل پر غور کیا جائے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس سورت میں اس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب الفیل پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کردینے پر کیوں اکتفا کیا گیا ہے۔ واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا۔ مکّے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔ تمام اہل عرب اس بات کے قائل تھے کہ ابرہہ کے اس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں نے مدد کے لیے دعائیں مانگی تھیں اور چند سال تک قریش کے لوگ اس واقعہ سےاس قدر متاثر رہے تھے کہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورۂ فیل میں ان تفصیلات کے ذکر کی حاجت نہ تھی، بلکہ صرف اس واقعے کی یاد دلانا کافی تھا، تاکہ
قریش کے لوگ خصوصاً، اور اہل عرب عموماً، اپنے دلوں میں اس بات پر غور کریں کہ محمد ﷺ جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آخر اس کے سوا اور کیا ہے کہ تمام دوسرےمعبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔ نیز وہ یہ بھی سوچ لیں کہ اگر اس دعوتِ حق کو دبانے کے لیے انہوں نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نےاصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں وہ گرفتار ہوں گے۔
ابابیل جمع کا صغیہ ہے اس کا واحد عرب لغت میں نہیں پایا گیا۔ابابیل کے معنی ہیں جھنڈ ، بہت سارے،بہت زیادہ۔ابنِ عباس ؓفرماتے ہیں کہ ان پرندوں کی چونچ پرندوں جیسی لیکن پاؤں کتوں جیسے تھے۔
اس واقعہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت کا غیر معمولی انتظام کیا۔ پرندوں کے ذریعہ سنگریزوں کی بارش اور وہ سنگریزے بھی ایسے جو بندوق کی گولی کا کام کریں ، خدا کی ایک معجزانہ نشانی تھی جو ظاہر ہوئی اور اس قسم کی نشانیاں خاص خاص مواقع پر ہی ظاہر ہوتی ہیں۔
لفظ ’’سجیل‘‘فارسی کے الفاظ سنگ اور گل کا ملغوبہ ہے اور اس سے مرد وہ کنکر ہیں جو پکی ہوئی مٹی سے بنے ہوں۔ آتش فشاں علاقے میں لاوے کی وجہ سے مڑی جو پتھر کی شکل اختیار کرلیتی ہے امید ہے کہ اسی کو سجیل کہا گیا ہے اور عجب نہیں کہ پرندے ان سنگ ریزوں کو اپنی چونچوں اور پنجوں میں قریب کے کسی آتش فشاں علاقہ سے لے آۓ ہوں اور انکےاندرزہریلا مادہ ہو یا اس کے ساتھ زہریلےجراثیم ہوں جس نے یکایک وبا کی شکل اختیار کر لی ہو۔ بہر صورت یہ عام پتھر نہیں تھے بلکہ خاص قسم کے سنگریزے تھے اسی لیے قرآن نےاس وضاحت کے ساتھ اس کا ذکر کیا کہ :
سجیل کی قِسم کے پتھرپرندوں کے سنگریزے گرانے کو سنگریزے پھینکنے (تَرْمَیْہِمْ ) سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ انہوں نے لشکر پر سنگریزوں کی ایسی بوچھار کر دی تھی کہ وہ پوری طرح اس کی زد میں آگیا۔ گو یہ تیر تھے جو نشانہ پر لگ گئے۔ اس صورتحال کے پیدا ہونے میں ہو سکتا ہے کہ ہوا کا بھی دخل رہا ہو یعنی اس وقت تیز ہوا چلی ہو۔ غالباً اسی وجہ سے بعض شعراءِعرب نے پرندوں کی اس سنگباری کو حاصِب (پتھر برسانے والی آندھی) سے تعبیر کیا ہے۔
کھائے ہوئےبھوسہ سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بھوسہ ایک بے وقعت چیز ہے اور پامال کیا جاتا ہے اسی طرح یہ لشکر جرّار بے وقعت اور پامال ہو کر رہا۔ بھوسے کو جب جانور کھا لیتا ہے تو اس کی نہایت مکروہ شکل بنتی ہے۔ ہاتھی والوں کی لاشوں کا بھی یہی حال ہوا اس لیے ان کو کھاۓ ہوۓ بھوسے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: