اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور-3

قول و فعل کا بگاڑ:
فکر و نظر کا بگاڑ قول و فعل کے بگاڑ کی بنیاد ہے کیونکہ انسان کا کردار نظریات کے خمیر سے اُٹھتا ہے۔ ماحول اور حالات اسے پختہ کر دیتے ہیں اور انسان کی اپنی کوشش اسے پائیدار بنا دیتی ہے۔ قول و فعل کے بگاڑ میں بے شمار چیزیں گنوائی جا سکتی ہیں لیکن قرآن پاک نے خیر شر کے جملہ پہلوؤں کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربٰی وینھٰی عن الفحشاء والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون’’بیشک اللہ تعالیٰ عدل و احسان اور قریبیوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اور فحشاء، منکر اور بغی سے روکتا ہے، اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے، تاکہ تم نصیحت مانو‘‘
مندرجہ بالا آیت میں تین قسم کی برائیاں بیان کی گئی ہیں اور وہ ہیں۔ الفحشاء، المنکر اور البغی، اب ہم تھوڑی سی بحث اس بات پر کریں گے، کہ فحشاء، منکر اور بغی میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں۔
الفحشاء:
یہ لفظ فحش سے نکلا ہے۔ الفواحش اس کی جمع ہے۔ جس کے معنی حدود فراموشی کے ہیں۔ زیادتی کر بیٹھنا، کسی بات سے تجاوز کرنا، گفتگو میں ادب و احترام کی حدود کو پھلانگ جانا (وغیرہ) بھی شاء ہی کے ضمن میں آتا ہے۔قرآن کریم میں فحشاء کے مقابلے میں عدل کا لفظ آیا ہے۔ لہٰذا فحش کے معنی حدودِ خداوندی سے تجاوز اور سرکشی کے ہیں، سورۃ الانعام میں ہے:
ولاتقربوا الزنٰی انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا۔ ’’ اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی اور بری راہ ہے۔‘‘
عورتوں کے زمن میں فاحشہ کا لفظ زنا کے لئے استعمال ہوا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے:
ولا تقربوا الفواحش ما ظہر منھا وما بطن’’تم فواہش کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ کھلے ہوں یا ڈھکے چھپے‘‘
غرض قرآن پاک میں فحش کا لفظ مختلف جگہوں پر مختلف معانی میں آیا ہے۔ نیز لفظ فواہش اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فاحشہ صرف زنا ہی نہیں بلکہ دوسرے بے حیائی کے کام بھی فاحشہ میں شامل ہیں۔ سعت کے ساتھ اس کا اطلاق فحش گوئی اور فحش کاری پر ہوتا ہے جس کی ہر نوع سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو باز رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔
المنکر:
فحشاء کے بعد جس چیز سے باز رہنے کی تاکید کی گئی ہے وہ منکر ہے۔ اس کے لغوی معنی ناشناسا کے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں معروف (شناسا) کا لفظ آیا ہے۔ جو کام ہر طبقہ میں ناپسند کیا جاتا ہے اور جس کا مرتکب سب کی نگاہوں میں گر جاتا ہے اس کو منکر کہا جاتا ہے۔رزائل کے لئے قرآن پاک میں سب سے عام لفظ منکر ہے۔ چنانچہ سورۃ المائدہ میں جن برائیوں سے روک ٹوک نہ کرنے پر بنی اسرائیل کو ملامت کی گئی ہے ان کو اسی لفظ منکر سے تعیر کیا گیا ہے۔کانوا لایتنا ھون عن منکر ’’وہ ایک دوسرے کو برائی سے منع نہ کرتے تھے۔‘‘ (المائدہ: ۷۹)
شیطان کی پیروی کو بھی فحشاء اور منکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یا ایھا الذین آمنوا لا تتبعوا خطٰوت الشیٰطن ومن یتبع خطٰوت الشیٰطن فانہ یامو بالفحشاء والمنکر’’اے ایمان والو شیطان کے نقش قدم پر مت چلو اور جس نے ایسا کیا بیشک وہ بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النور: ۲۱)
عرض المنکر ایک ایسا وسیع لفظ ہے جو ہر قسم کی برائیوں، بے حیائیوں، ناپسندیدہ اور غیر مانوس افعال کو محیط ہے اور اس سے بھی اجتناب کرنے کی قرآن مجید نے پرزور تاکید فرمائی ہے۔
انبغی:
ابن کثیر بغی کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔فاما البغی فھو عدوان علی الناس ’’یعنی لوگوں پر ظلم و زیادتی ’’بغی‘‘ ہے۔‘‘ (ابن کثیر ج ۲ ص ۸۲)
قرآن مجید میں ہے: خصمان بغٰی بغضنا علی بعض ’’ہم دو جھگڑنے والوں نے ایک دوسرے پر زیادتی کی ہے‘‘
ابن فارس نے اس کے دو معنی بیان کئے ہیں۔
۱۔ کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے بڑھنے کی کوشش کرنا۔
۲۔ بگڑ جانا۔ مطلق طلب کے معنوں میں بھی آتا ہے۔
جیسے ابتغاء رحمۃ۔’’فئۃ باغیۃ‘‘ اس جماعت کو کہتے ہیں جو حدود شکنی کرے اور نظامِ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔سورہ مریم میں ’’بغیّا‘‘ کا لفظ بدکاری کے معنوں میں آیا ہے۔
قالت انٰی یکون لی غلام ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا ’’بولیں کہ میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہو گا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔‘‘
ان یکفروا بما انزل اللہ بغیا’’یعنی جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس سے انکار کرتے ہیں، ضد کی وجہ سے۔‘‘ (البقرہ: ۹۰)
مذکورہ بالا آیات سے البغی کے جو معانی علم میں آتے ہیں وہ ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا، میانہ روی کی حد سے بڑھنے کی کوشش کرنا، کسی چیز کی طلب کے لئے انتہائی کوشش کرنا۔ حدود شکنی کرنا، بغاوت کرنا، بدکاری کرنا، ناجائز ضد کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ بھی تمام ایسی چیزیں ہیں جن سے مجتنب رہنے کی قرآن مجید نے تلقین فرمائی ہے۔
ان قرآنی اصطلاحات سے جو نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ فحشاء میں جس برائی کا ذِکر کیا گیا ہے۔ وہ صرف ایک فرد کی ذات تک محدود ہے۔ مثلاً زنا، برہنگی، جھوٹی تہمت، شراب نوشی، چوری وغیرہ، انہیں حدیث شریف میں بھی فواہش کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔منکر میں پوری جماعت کی معاشرتی زندگی شامل ہوتی ہے۔ ایسی زندگی جو ناپسندیدہ افعال، غیر مانوس حرکات، ظلم و ستم، سنگدلی، برائیوں اور بے حیائیوں سے عبارت ہو۔ ’’بغی‘‘ میں ایسی برائیاں شامل ہیں جو جماعت سے بھی آگے بڑھ کر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ مثلاً چوری، قتل، ڈاکہ، بدکاری وغیرہ اور اس نوع کے دوسرے افعال جن سے اجتماعی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
سید ابو الاعلیٰ موودی کے الفاظ میں الفحشاء، المنکر اور البغی کی تعریف:
فحشاء کا اطلاق تمام بیہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو، فحش ہے۔ مثلاً بخل، زنا، برہنگی و عریانی، فعل قوم لوط، محرمات سے نکاح کرنا، چوری،شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا، اور بد کلامی کرنا وغیرہ۔ اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے۔ مثلاً جھوٹا پروپیگنڈا، تہمت تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر،بدکاریوںپر اُبھارنے والے افسانے اورڈرامے، فلم، عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا۔ علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور اسٹیج پر عورتوں کاناچنا، تھرکنا اور جسم کی نمائش کرنا وغیرہ منکر سے مراد ہر وہ برائی ہے جس انسان بالعموم برا جانتے ہیں، ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیا ہے۔
بغی کے معنی ہیں، حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر ست درازی کرنا خواہ وہ خالق کے ہوں یا مخلوق کے۔
مندرجہ بالا بحث سے قول و فعل کے بگاڑ کی (الفحشاء، المنکر، البغی کے ضمن میں آنے والی) تمام صورتیں سامنے آجاتی ہیں اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ بالا خرابیاں ایسی ہیں جن کی بدولت افرادِ انسانی اور جماعتوں کو ہر وقت مادّی اور روحانی نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ جب یہ افعال کسی قوم میں جڑ پکڑ لیں اور ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہ ہو تو پوری قوم اس کی
لپیٹ میں آجاتی ہے اور سارا معاشرہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ قوم کی دینی اور دنیوی ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور سعادت و اقبال کا دروازہ اس پر اس وقت تک کے لئے بند ہو جاتا ہے جب تک وہ اپنی اصلاح نہ کر لے۔
اصلاح:
جب ہم نے بگاڑ کا تعین کر لیا اور اس کے تفصیلی عناصر سے بھی واقفیت حاصل کر لی تو اب ہمارے لئے اصلاحی اقدام کا تعین بھی نہایت آسان ہے، مضمون کے آغاز میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اصلاح نام ہے، دوستی یا ازالہ فساد کا۔ لہٰذا معاشرے میں جہاں جہاں بھی فساد ہو گا۔ اس کو درست کرنے کا نام اصلاح ہو گا۔
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام جہاں جماعتی فلاح کا ضامن ہے۔ وہاں افراد کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ بلکہ فرد کی اصلاح کو اصلاح کا نقطۂ آغاز قرار دیتا ہے۔ کیونکہ فرد معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ لہٰذا فرد کی اصلاح دراصل معاشرے کی اصلاح ہے۔
ہمارےے نزدیک اصلاح کے لئے درج ذیل اقدام نہایت مؤثرثابت ہو سکتے ہیں۔
۱۔ سب سے پہلے افراد کے ذہنوں میں خدا کا صحیح تصور اور عقیدۂ آخرت کی اہمیت پر زور دیا جائے۔ نیز شرک سے اجتناب کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ تاکہ لوگ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے افعال میں خداوند کریم کے سامنے جواب دہی کے تصور کو مردہ نہ ہونے دیں اور صحیح نصب العین اور اعلیٰ و ارفع اقدارِ حیات کے حصول کی خاطر کوشاں رہیں۔
۲۔ معاشرے کے اندر کسی ایسے ادارہ کی تشکیل کی جائے جو اصلاح و فساد کا تعین کرے اور ان تدابیر کو قابلِ عمل بنائے جن سے بگاڑ کی روک تھام ہو سکے۔ دینی نقطۂ نظر سے اس کو ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ امت مسلمہ کی خصوصیت میں یہی بات بیان فرمائی گئی ہے۔
کنتم خیر امت اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر’’تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘ (آل عمران: ۱۱۵)
امت کے ایک گروہ کیلئے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو فریضہ قرار دیا ہے۔
ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ھم المفلحون’’تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، اچھے کاموں کا حکم دے اور برائی سے روکے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۴)
اس طرح اگر امت مسلمہ اپنے فریضہ کو پہچانے، اس کا صالح عنصر مجتمع ہو جائے اور اس کا اپنا ذاتی اور اجتماعی رویہ خالص راستبازی، انصاف، حق پسندی، خلوص اور دیانت پر مضبوطی سے قائم ہو جائے تو منظم نیکی کے سامنے منظم بدی اپنے لشکروں کی کثرت کے باوجود شکست کھا جائے گی اور اگر خیر کے علمبردار سرے سے میدا ن میں ہی نہ آئیں تو میدان لا محالہ علمبردارانِ شر کے ہاتھ میں رہےگا۔
۳۔ حکومت کو ان صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے جو خیر کو قائم کریں اور شر کو روک سکیں۔ ’’النَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ‘‘ ایک پرانا مقولہ ہے اور غالباً حدیث نبوی سے ہی اخذ کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے:اَلْاِسْلَامُ وَالسُّلْطَانُ اَخَوَانِ تَوْأَمَانِ لَا یَصْلُحُ وَاحِدٌ مِّنْھُمَا اِلَّا بِصَاحِبِہ فَالْاِسْلَامُ اُسٌّ وَالسُّلْطَانُ حَارِسٌ وَّمَا لَا اُسَّلَہُ ھَادِمٌ وَّمَا لَا حَارِسَ لَہ ضَائِعٌ(کنز العمال)
اسلام اور حکومت و ریاست، دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے جس عمارت کی بنیاد نہ ہو ،گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لیا جاتا ہے۔
ایک اور حدیث ہے:
اِنَّ اللہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَا لَا یَزَعُ بِالْقُرْآنِ ’’اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سد باب کر دیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں ہو سکتا۔‘‘ (تفسیر ابن کثیرؒ ج ۳ ص ۵۹)
حدیث میں قوم کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ داری اس کے علماء اور امراء پر رکھی گئی ہے۔ کیونکہ زمامِ کار انہی لوگوں کے ہاتھ ہوتی ہے۔ اگر فرمانروا خدا پرست اور صالح ہوں تو زندگی کا سارا نظام خیر و صلاح پر چلے گا۔ اور حکومتِ وقت ‘‘ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کی سفارشات پر غور کرے گی۔
۴۔ معاشرے کا اجتماعی شعور بیدار کیا جائے کہ کوئی شخص بھی بگاڑ کی طرف مائل نہ ہو۔ اس کے شعور کی تعمیر و ترقی کے لئے ’’ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ مندرجہ ذیل طریق اختیار کر سکتا ہے۔
(الف) تعلیم و تبلیغ کے زریعے وہ تمام صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ جو دورِ حاضر میں نشر و اشاعت کے کام میں لائی جاتی ہیں۔ مثلاً اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن مذاکرات وغیرہ کے ذریعہ سے دینی اقدار اور اسلامی طرزِ حیات کی تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں یہ ذرائع عوامی رجحانات کو بدلنے اور نیا رخ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشرے کے اندر غلط رجحانات کی ترویج میں ان اداروں کا بڑا حصہ ہے۔
(ب) یہ ادارہ معیاری معاشرت کے لئے عمدہ نمونہ اور مثال پیش کرے جس کی نہج پر پورے معاشرے کو ڈھالا جا سکے۔ نبی کریم ﷺ نے جن اصولوں کو بیان کیا تھا، ان اصولوں پرمبنی ایک سوسائٹی مدینہ طیبہ میں تشکیل دی تھی اس معاشرہ کا ہر فرد ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔ لہٰذا اصلاح معاشرہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ نمونے کے چند افراد پر مشتمل ایک ایسی وحدت قائم ہونی چاہئے جس کو سامنے رکھ کر پورے معاشرے کو استوار کیا جا سکے۔
۵۔ معاشرے میں مسجد کی دینی اور سماجی حیثیت کو اجاگر کیا جائے اور اصلاح معاشرہ کے لئے مسجد کو مرکزی حیثیت دی جائے کیونکہ نظمِ اجتماعی کے لئے ایک مرکز کا ہونا ضروری ہے۔ جب تک مسلم سوسائٹی مسجد سے اپنا تعلق مضبوط نہیں کرتی اور مسجدیں پورے معاشرے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیتوں کی حامل نہیں بن جاتیں، اس وقت تک اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
۶۔ تعلیمی ادارے معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں۔ معاشرے کے اجتماعی شعور اور انفرادی تشخص کے ارتقاء کا دارومدار تعلیمی اداروں پر ہے جہاں اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اس لئے ایسے اساتذہ کا انتظام کیا جائے جو طالب علموں میں اسلامی اقدار کو راسخ کر دیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں نصابات کی بھی جانچ پڑتال کی جائے اور ایسی تمام چیزیں جو روحِ دین کے منافی ہوں، ان کو پڑھاتے وقت تنقیدی طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ طالب علم ان کی حقیقت سے واقف ہو جائیں، نیز ان داروں میں بنیادی دینی تعلیمات کا انتظام کیا جائے تاکہ طلباء اسلام کی اصلیت اور اس کی روح سے مکمل واقفیت حاصل کر سکیں۔
۷۔ دولت اور وسائلِ دولت پر تصرف اس طرح ہو کہ معاشرے میں معاشی نا انصافی، اسراف، بتذیر، بخل و ظلم اور ارتکازِ دولت نہ ہونے پائے۔ حکومت ان تمام ذرائع پر پابندی عائد کر دے جو عوامی بہبود کے لئے ضرر رساں ہیں۔ معاشی نظام میں سود، احتکار و اکتناز، رشوت اور لوٹ کھسوٹ کی تمام صورتیں قانوناً اور حکماً بند کر دی جائیں تاکہ معاشرہ طبقاتی معاشرت کا شکار نہ ہو۔
۸۔ معاشرے کی اصلاح کی خاطر حدود و تعزیرات کا نظام بھی قائم کیا جائے۔ جن کے ذریعے معاشرہ کو ان افراد سے محفوظ کیا جائے جو تعلیمی ترغیبات اور اخلاقی ذرائع سے اصلاح قبول نہ کریں اور معاشرے کے قانون کی خلاف ورزی کریں۔ حدود و تعزیرات کے نفاذ سے سماجی جرائم کا انسداد ہو گا اور معاشرہ غیر صالح عناصر کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ رہے گا۔
۹۔ سب سے آخر میں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کا پورا نظام اسلامی ہو جس میں افراد اور معاشرہ روحِ دین سے سرشار ہو اور غیر اسلامی نظریات سر نہ اُٹھا سکیں۔ نظام کی تشکیل اس طرح ہو کہ غیر اسلامی نظریات کی بجائے اسلامی تعلیمات کی گرفت مضبوط ہو۔لیکن اس کے ساتھ اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ ہر فرد ’’اپنی اصلاح آپ‘‘ کے اصول کو اپنائے اور دوسروں کی اصلاح کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کرے۔ اصلاح معاشرہ کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے ہوا ہے۔ اس سے وہ پیچیدگی دور ہو جائے گی جو دوسروں کی اصلاح کرنے کی صورت میں پیش آتی ہے۔ ’’اپنی اصلاح آپ‘‘ کے اصول کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ افراد کے سامنے معیار کا تصور واضح ہو گا اور ہر شخص اس معیار کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا چلا جائے گا۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: